TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 402 - بَاب سنَن الْوضُوء - پاکیزگی کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 12 of 39 in this chapter
بَاب سنَن الْوضُوء
وضو کے طریقوں کا بیان
وَعَن سعيد بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ الله عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
سعید بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص وضو کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھے اس کا وضو نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
402
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
حسن ، رواہ الترمذی (۲۵) و ابن ماجہ (۳۹۸) [و لہ شاھد حسن عند ابن ماجہ : ۳۹۷ ، یاتی : ۴۰۴] ۔

Related Chapters

309
1
(1)Chapter: What Has Been Related That Salat Is Not Accepted Without Purification
باب: وضو (طہارت) کے بغیر نماز مقبول نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(3)Chapter: What Has been Related That The Key To Salat Is Purification
باب: وضو نماز کی کنجی ہے
Jam e Tirmazi
3
(20)Chapter: [What Has Been Related] About The Tasmiyah When Performing Wudu
باب: وضو کے شروع میں بسم اللہ کہنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
4
(21)Chapter: What Has Been Related About Al-Madmadah And AI-Istinshaq
باب: وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
(29)Chapter: What Has Been Related That The Ears Are Part Of The Head
باب: وضو میں دونوں کانوں کے سر میں داخل ہونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
6
(31)Chapter: What Has Been Related About: Protect The Heels From The Fire.
باب: وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
7
(32)Chapter: What Has Been Related About Wudu' One Time (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
8
(33)Chapter: What Has Been Reported About Wudu Two Times (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو کے دو دو بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
9
(34)Chapter: What Has Been Related About Wudu Three times (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو تین تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
10
(35)Chapter: What Has Been Related About Wudu One Time, Two Times And Three Times
باب: اعضائے وضو کو ایک ایک بار، دو دو بار اور تین تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
11
(36)Chapter: [What Has Been Related] About One Who performs Some Of Wudu, Two Times Each, And Some Of It Three
باب: وضو میں بعض اعضاء دو بار دھونے اور بعض تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
12
(37)Chapter: [What Has Been Related] About The Wudu Of he Prophet: How Was It Performed?
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا؟​
Jam e Tirmazi
13
(38)Chapter: [What Has Been Related] About An-Nadh After Wudu
باب: وضو کے بعد (شرمگاہ پر) پانی چھڑکنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
(39)Chapter: [What Has Been Related] About Performing Wudu Perfectly And Completely (Isbagh AI-Wudu)
باب: کامل طور سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
40)Chapter: [What Has Been Related] About Using a Towel after Wudu
باب: وضو کے بعد رومال سے بدن پونچھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
(41)Chapter: [About] What Is Said After Wudu
باب: وضو کے بعد کیا دعا پڑھی جائے؟
Jam e Tirmazi
17
(42)Chapter: On Wudu With A Mudd
باب: ایک مد پانی سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
(43)Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Be Wasteful With Water During Wudu
باب: وضو میں پانی کے بے جا استعمال کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
(44)Chapter: [What Has Been Related] About Performing Wudu For Every Salat
باب: ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
(46)Chapter: What Has Been Related About A Man And A Woman Performing Wudu From One Vessel
باب: مرد اور عورت دونوں کے ایک ہی برتن سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
(47)Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Use The Leftover Water Of A Woman
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
(56)Chapter: What Has Been Related About Wudu For Breaking Wind
باب: ہوا خارج ہونے سے وضو کے ٹوٹ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
(57)Chapter: [What Has Been Reported] About Wudu From Sleep
باب: نیند سے وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
25
(58)Chapter: [What Has Been Related] About Wudu From What Has Been Altered By Fire
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
26
(59)Chapter: [What Has Been Related] About Not Performing Wudu For What Has Been Altered By Fire
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
(60)Chapter: [What Has Been Related About] Wudu From Camel Meat
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
(61)Chapter: Wudu For Touching The Penis
باب: شرمگاہ (عضو تناسل) چھونے پر وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
29
(62)Chapter: [What Has Been Related About] Not Performing Wudu For Touching The Penis
باب: عضو تناسل کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا
Jam e Tirmazi
30
(63)Chapter: [What Has Been Related About] Not Performing Wudu For Kissing
باب: بوسہ لینے سے وضو کے نہ ٹوٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
(64)Chapter: [What Has Been Related About] Wudu For Vomit And Nosebleeds
باب: قے اور نکسیر سے وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
32
(65)Chapter: [What Has Been Related About] Wudu' With Nabidh
باب: نبیذ سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
(67)Chapter: It Is Disliked To Retum The Salam If One Does Not Have Wudu
باب: بغیر وضو سلام کا جواب دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
(79)Chapter: [What Has Been Related] About Wudu' After Ghusl
باب: غسل کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
(88)Chapter: : [What Has Been Related] About Wudu For The Person Who Is Junub When He Wants To Sleep
باب: جنبی جب سونا چاہے تو وضو کر لے
Jam e Tirmazi
36
(94)Chapter: What Has Been Related About The Mustahadah Performing Wudu For Every Prayer
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے
Jam e Tirmazi
37
(107)Chapter: What Has Been Related [About The Junub Person] When He Wants To Repeat (Sexual Relations) He Should Perform Wudu
باب: بیوی سے دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ کرنے پر جنبی وضو کر لے
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Call The Adhan Without Having Wudu
باب: بغیر وضو کے اذان دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: [What Has Been Related] About Wudu On Friday
باب: جمعہ کے دن وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Mentioned Of The Mark Of This Nation From The Traces Of Prostrations And Purification On The Day Of Resurrection
باب: قیامت کے دن امت محمدیہ کی پہچان سجدے اور وضو کے نشانات ہوں گے
Jam e Tirmazi
41
Chapter: That Starting From The Right Is Recommended In Purification
باب: وضو داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Mentioned About The Amount Of Water That IS Acceptable For Wudu
باب: وضو میں کس قدر پانی کا فی ہے؟
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Mentioned About The Permission For The Sexually Impure (Junub) Person To Eat And Sleep When He Performs Wudu
باب: جنبی وضو کر لے تو اس کو کھانے اور سونے کی اجازت ہے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Wudu' Before Meals And Afterwards
باب: کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: About Not Performing Wudu Before Eating
باب: کھانے سے پہلے وضو نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
باب: سابقہ موضوع سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Whoever Reports A Hadith Which Knows Is A Lie
باب: جان بوجھ کر جھوٹی موضوع حدیث بیان کرنے والے کی برائی کا بیان
Jam e Tirmazi
48
بَاب مَا يُوجب الْوضُوء
وجوب وضو کے اسباب کا بیان
Mishkat
49
آپ کے ارشاد تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے کا بیان
Musnad Ahmad
50
جس پانی سے وضو کیا جائے، اس کی طہارت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,538
Mishkat
650
وَعَن عبد الله بن زيد بن عبد ربه قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ قَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهِ فَقلت نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ لَهُ بَلَى قَالَ فَقَالَ تَقُولَ اللَّهُ أَكْبَرُ إِلَى آخِرِهِ وَكَذَا الْإِقَامَةُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ فَقَالَ: «إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْك» فَقُمْت مَعَ بِلَال فَجعلت ألقيه عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ قَالَ فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ وَيَقُول وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا أَرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْإِقَامَةَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَكِنَّهُ لَمْ يُصَرح قصَّة الناقوس
عبداللہ بن زید بن عبدربہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز کے لیے جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم فرمایا تو میں نے خواب میں ایک شخص کو ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے دیکھا ، میں نے کہا : اللہ کے بندے ! کیا تم ناقوس بیچتے ہو ؟ اس نے کہا تم اسے کیا کرو گے ؟ میں نے کہا : ہم اس کے ذریعے نماز کے لیے بلائیں گے ، اس نے کہا : کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ، ضرور بتاؤ ، راوی بیان کرتے ہیں ، اس نے کہا : تم اللہ اکبر سے آخر اذان تک کہو ، اور اسی طرح اقامت ، پس جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں اپنا خواب سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان شاءاللہ یہ سچا خواب ہے ، آپ بلال کے ساتھ کھڑے ہوں اور آپ نے جو دیکھا ہے وہ بلال کو سکھا دو ، وہ ان کلمات کے ساتھ اذان دے ، کیونکہ اس کی آواز آپ سے زیادہ بلند ہے ۔‘‘ چنانچہ میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو کر انہیں اذان کے کلمات سکھاتا رہا اور وہ ان کے ساتھ اذان دیتے رہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے اپنے گھر میں اذان کی آواز سنی تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، جو کچھ انہیں دکھایا گیا ہے بالکل وہی کچھ میں نے دیکھا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کا شکر ہے ۔‘‘ حسن ۔ ابوداؤد ، دارمی ، ابن ماجہ ، البتہ انہوں نے اقامت کا ذکر نہیں کیا ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ، لیکن انہوں نے واقعہ ناقوس کی صراحت نہیں کی ۔
Mishkat
1324
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ الله لَهُ ثمَّ قَرَأَ هَذِه الاية: (وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذكرُوا الله فاستغفروا لذنوبهم) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّ ابْنَ مَاجَه لم يذكر الْآيَة
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے مجھے حدیث بیان کی ، اور ابوبکر ؓ نے سچ فرمایا ، انہوں نے بیان کیا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب کوئی شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ، پھر وضو کر کے نماز پڑھ کر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (والذین اذا فعلوا ،،،، فاستغفروا لذنوبھم) ’’ اور وہ لوگ جب کوئی برا کام کر گزرتے ہیں یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھتے ہیں ، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں ، پھر اس سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، البتہ ابن ماجہ نے آیت ذکر نہیں کی ۔ اسنادہ حسن ۔
Mishkat
1327
وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى اللَّهِ أَوْ إِلَى أحد من بني آدم فَليَتَوَضَّأ فليحسن الْوُضُوءَ ثُمَّ لْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لْيُثْنِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى وَلْيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًى إِلَّا قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو اللہ سے کوئی حاجت و ضرورت ہو یا کسی انسان سے کوئی کام ہو تو وہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں پڑھے ، پھر اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کرے اور نبی ﷺ پر صلوٰۃ پڑھے پھر یوں دعا کرے :’’ اللہ حلیم و کریم کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، عرش عظیم کا رب پاک ہے ، ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ، میں تجھ سے ان اعمال و اسباب کی درخواست کرتا ہوں جو تیری رحمت اور تیری مغفرت کو واجب و مؤکد کر دیں ، میں ہر نیکی کو غنیمت جاننے اور ہر گناہ سے بچنے کی تجھ سے درخواست کرتا ہوں ، سب سے زیادہ رحم فرمانے والے ! میرے تمام گناہ معاف فرما دے ، میرے تمام غم دور کر دے اور ہر ضرورت جو تیری رضا کا باعث بنے اسے پورا فرما دے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔
Mishkat
2435
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَدَّعَ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَلَا يَدَعُهَا حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ يَدَعُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَآخِرَ عَمَلِكَ» وَفِي رِوَايَة «خَوَاتِيم عَمَلِكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي روايتهما لم يذكر: «وَآخر عَمَلك»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ کسی شخص کو الوداع کرتے تو آپ اس کا ہاتھ تھامے رکھتے حتیٰ کہ وہ آدمی خود نبی ﷺ کا ہاتھ چھوڑ دیتا ، اور آپ ﷺ یہ دعا پڑھتے :’’ میں تمہارے دین ، تمہاری امانت اور تمہارے آخری عمل کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ تیرے عملوں کے خاتمے کو ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، اور ان دونوں (ابوداؤد ، ابن ماجہ) کی روایت میں ((وَآخِرَ عَمَلِکَ)) کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Mishkat
5647
وَعَن سعيد بن الْمسيب أَنه لقيَ أَبَا هريرةَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ. فَقَالَ سَعِيدٌ: أَفِيهَا سُوقٌ؟ قَالَ: نَعَمْ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ ثُمَّ يُؤْذَنُ لَهُمْ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا فَيَزُورُونَ رَبَّهُمْ وَيَبْرُزُ لَهُمْ عَرْشُهُ وَيَتَبَدَّى لَهُم فِي روضةٍ من رياضِ الجنَّة فَيُوضَع لَهُم مَنَابِر من نور ومنابرمن لُؤْلُؤٍ وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُم - وَمَا فيهم دنيٌّ - عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ وَالْكَافُورِ مَا يَرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ بِأَفْضَلَ مِنْهُمْ مَجْلِسًا» . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: «نَعَمْ هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟» قُلْنَا: لَا. قَالَ: كَذَلِكَ لَا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ وَلَا يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا حَاضَرَهُ اللَّهُ مُحَاضَرَةً حَتَّى يَقُولَ لِلرَّجُلِ مِنْهُمْ: يَا فلَان ابْن فلَان أَتَذكر يَوْم قلت كَذَا وَكَذَا؟ فيذكِّره بِبَعْض غدارته فِي الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي؟ فَيَقُولُ: بَلَى فَبِسِعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغْتَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ. فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ غَشِيتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ وَيَقُولُ رَبُّنَا: قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حَفَّتْ بِهِ الْمَلَائِكَةُ فِيهَا مَا لَمْ تَنْظُرِ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ وَلَمْ تَسْمَعِ الْآذَانُ وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا لَيْسَ يُبَاعُ فِيهَا وَلَا يُشْتَرَى وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا . قَالَ: فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ - وَمَا فيهم دنيٌّ - فيروعُه مَا يرى عَلَيْهِ من اللباسِ فِيمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَخَيَّلَ عَلَيْهِ مَا هُوَ أحسن مِنْهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا فَيَتَلَقَّانَا أَزْوَاجُنَا فَيَقُلْنَ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا لَقَدْ جِئْتَ وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ فَيَقُولُ: إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ وَيَحِقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
سعید بن مسیّب ؒ سےروایت ہے کہ وہ ابوہریرہ ؓ سے ملے تو ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : میں اللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ (بازار مدینہ کی طرح) مجھ کو اور آپ کو جنت کے بازار میں اکٹھا فرمائے ، سعید ؒ نے فرمایا : کیا وہاں بازار ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ جب جنت والے ، اس (جنت) میں داخل ہو جائیں گے تو وہ اپنے اعمال کے حساب سے وہاں قیام کریں گے ، پھر دنیا کے ایام سے جمعہ کے دن کی مقدار کے مطابق انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رب کی زیارت کریں گے اور وہ ان کے لیے اپنا عرش ظاہر فرمائے گا ، وہ (ان کا رب) ان کی خاطر جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچے میں تجلی فرمائے گا ، ان کے لیے نور کے موتیوں کے ، یاقوت کے ، زمرد کے ، سونے کے اور چاندی کے منبر لگائے جائیں گے ، ان میں سے ادنی ٰ درجے کا شخص ، اور ان میں سے کوئی بھی ادنی ٰ درجے کا نہیں ہو گا ، کستوری اور کافور کے ٹیلوں پر ہو گا ، اور وہ یہ محسوس نہیں کریں گے کہ کرسیوں والے نشست و برخواست میں ان سے افضل ہیں ۔‘‘ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، کیا تم سورج دیکھنے میں اور چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں شک کرتے ہو ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسی طرح تم اپنے رب کو دیکھنے میں شک نہیں کرو گے ، اور اس مجلس میں موجود ہر شخص سے اللہ (کسی ترجمان کے بغیر) مخاطب ہو گا ، حتی کہ وہ ان میں سے ایک آدمی سے کہے گا : اے فلاں بن فلاں ! کیا تجھے فلاں دن یاد ہے تو نے یہ اور یہ کہا تھا ، وہ دنیا میں اس کی بعض نافرمانیاں اور عہد شکنیاں اسے یاد کرائے گا تو وہ عرض کرے گا : رب جی ! کیا تو نے مجھے بخش نہیں دیا تھا ؟ وہ فرمائے گا ، کیوں نہیں ، ہاں میری مغفرت کی وسعت کی بدولت ہی تو اپنے اس مقام کو پہنچا ہے ، وہ اسی اثنا میں ہوں گے تو بادل کا ایک ٹکڑا اوپر سے انہیں ڈھانپ لے گا ، وہ ان پر خوشگوار بارش برسائے گا ، اور انہوں نے اس جیسی خوشبو کسی چیز میں نہیں پائی ہو گی ، ہمارا رب فرمائے گا : میں نے تمہارے اعزاز و اکرام کی خاطر جو تیار کر رکھا ہے ، تم اس کا قصد کرو اور (وہاں سے) جو تم چاہو ، وہ لے لو ، ہم ایک بازار میں جائیں گے ، اسے فرشتوں نے گھیر رکھا ہو گا ، اس میں ایسی ایسی چیزیں ہوں گی جسے آنکھوں نے دیکھا ہو گا نہ کانوں نے سنا ہو گا اور نہ ہی دلوں میں اس کا خیال آیا ہو گا ، ہم جو چاہیں گے وہ ہمارے لیے لایا جائے گا ، وہاں خرید و فٖروخت نہیں ہو گی ، اور اس بازار میں ، جنت والے ایک دوسرے کو ملیں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ بلند منزلوں والا آدمی توجہ کرے گا تو وہ اپنے سے کم تر سے ، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی کم تر نہیں ، ملاقات کرے گا تو وہ اس کے لباس کو دیکھے گا تو وہ اسے تعجب میں ڈال دے گا ، اس کی بات ختم نہیں ہو گی حتی کہ اسے خیال آئے گا کہ اس پر جو (لباس) ہے وہ اس (لباس) سے بہتر ہے ، اور یہ اس لیے ہے کہ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس (جنت) میں غمگین ہو ، پھر ہم اپنے گھروں کو واپس آئیں گے تو ہماری ازواج ہم سے ملاقات کریں گی تو وہ کہیں گی : خوش آمدید ، جب تم ہمارے پاس سے گئے تھے ، تو اب جبکہ تم ہمارے پاس آئے ہو ، اس سے زیادہ خوبصورت ہو ، ہم کہیں گے : آج ہم نے اپنے رب جبار کی ہم نشینی اختیار کی تو ہم پر لازم تھا کہ ہم اسی حالت میں واپس آتے جس حالت میں ہم واپس آئے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Mishkat
29
عَن معَاذ بن جبل قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سفر فَأَصْبَحت يَوْمًا قَرِيبا مِنْهُ وَنحن نسير فَقلت يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدنِي عَن النَّار قَالَ لقد سَأَلتنِي عَن عَظِيمٍ وَإِنَّهُ لِيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْت ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةُ كَمَا يُطْفِئُ المَاء النَّار وَصَلَاة الرجل من جَوف اللَّيْل قَالَ ثمَّ تَلا (تَتَجَافَى جنُوبهم عَن الْمضَاجِع) حَتَّى بَلَغَ (يَعْمَلُونَ) ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ بِرَأْس الْأَمر كُله وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نتكلم بِهِ فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے ایک بہت بڑی بات کے متعلق پوچھا ہے ، لیکن وہ ایسے شخص کے لیے آسان ہے ، جس پر اللہ تعالیٰ اسے آسان فرما دے ، تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ، نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ابواب خیر کے متعلق نہ بتاؤں ؟ روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ، اور رات کے اوقات میں آدمی کا نماز پڑھنا (گناہوں کو مٹا دیتا ہے ) ۔‘‘ پھر آپ نے (سورۃ السجدہ کی آیت) تلاوت فرمائی :’’ ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں ۔‘‘ حتیٰ کہ آپ نے ’’ وہ عمل کیا کرتے تھے ‘‘ تک تلاوت مکمل فرمائی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں دین کی بنیاد اس کے ستون اور اس کی چوٹی کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دین کی بنیاد اسلام ہے ، اس کا ستون نماز اور اس کی چوٹی جہاد ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ان سب سے بڑی چیز کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، اللہ کے نبی ! ضرور بتائیں ، آپ نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا :’’ اسے روک لو ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ہم اس سے جو کلام کرتے ہیں کیا اس پر ہمارا مؤاخذا ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاذ ! تیری ماں تجھے گم پائے ۔ لوگوں کو ان کی زبانوں کی کاٹ ہی ان کے چہروں یا نتھنوں کے بل جہنم میں گرائے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ۔ رواہ احمد (۵/ ۲۳۱ ح ۲۲۳۶۶) والترمذی (۲۶۱۶) و ابن ماجہ (۳۹۷۳) و احمد (۵ / ۲۳۶ ، ۲۳۷ ، ۲۴۸) ۔
Mishkat
97
وَعَن أبي خزامة عَن أَبِيه قَالَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ: «هِيَ مِنْ قَدَرِ الله» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! راہنمائی فرمائیں ، دم جس کے ذریعے ہم دم کراتے ہیں ، دوائی ، جس کے ذریعے ہم علاج کرتے ہیں ، اور بچاؤ کی چیزیں (مثلاً ڈھال وغیرہ) جن کے ذریعے ہم بچاؤ کرتے ہیں ۔ کیا یہ اللہ کی تقدیر سے کچھ روک سکتی ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (اسباب اختیار کرنا) بھی اللہ کی تقدیر میں سے ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۳/ ۴۲۱ ح ۱۵۵۵۱ ، ۱۵۵۵۴) و الترمذی (۲۰۶۵) و ابن ماجہ (۳۴۳۷) ۔
Mishkat
102
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا؟ قَالَ: «نَعَمْ إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ يُقَلِّبُهَا كَيْفَ يَشَاءُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کثرت کے ساتھ یہ دعا کیا کرتے تھے : دلوں کو بدلنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ہم آپ پر اور آپ کی شریعت پر ایمان لا چکے ، تو کیا آپ کو ہمارے بارے میں اندیشہ ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’ ہاں ، کیونکہ دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں ، وہ جس طرح چاہتا ہے انہیں بدلتا رہتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۱۴۰) و ابن ماجہ (۳۸۳۴) و الحاکم (۱/ ۵۲۶) ۔
Mishkat
104
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَيُؤْمِنُ بِالْمَوْتِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَيُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ وہ چار چیزوں پر ایمان لے آئے ، وہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ، وہ موت اور موت کے بعد زندہ کیے جانے پر ایمان رکھتا ہو اور وہ تقدیر پر ایمان رکھتا ہو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۱۴۵) و ابن ماجہ (۸۱) و ابن حبان (الاحسان : ۱۷۸) و الحاکم (۱/ ۳۳) ۔