TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1631 - بَاب مَا يُقَال عِنْد من حَضَره الْمَوْت - جنازوں کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 16 of 18 in this chapter
بَاب مَا يُقَال عِنْد من حَضَره الْمَوْت
نزع کے عالم میں مبتلا شخص کے پاس کیا کہنا چاہیے
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ أَتَتْهُ أُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنْ لَقِيتَ فُلَانًا فَاقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ. فَقَالَ: غَفَرَ اللَّهُ لَكِ يَا أُمَّ بِشْرٍ نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ؟» قَالَ: بَلَى. قَالَتْ: فَهُوَ ذَاكَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ والنشور
عبدالرحمن بن کعب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کعب ؓ کی وفات کا وقت ہوا تو ام بشر بنت براء بن معرور ؓ ان کے پاس آئیں ، تو انہوں نے کہا : ابوعبدالرحمن ! اگر تم فلاں (ان کے باپ براء کی روح) سے ملاقات کرو تو اسے میرا سلام کہنا ، انہوں نے کہا : ام بشیر ! اللہ آپ کو معاف فرمائے ، ہمیں اس کی فرصت کہاں ملے گی ، ام بشیر نے فرمایا : ابوعبدالرحمن ! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا :’’ مومنوں کی روحیں سبز پرندوں (کے جسم میں) جنت کے درختوں سے کھاتی ہوں گی ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہاں ! سنا ہے ۔ تو ام بشیر نے فرمایا : پس یہی وہ ہے ۔ ضعیف ۔
1631
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۱۴۴۹) و البیھقی فی کتاب البعث و النشور (۲۲۳ ۔ ۲۲۶) * محمد بن اسحاق مدلس و لم اجد یصریح سماعہ فالسند ضعیف ولاصل الحدیث شواھد عند احمد ۶ / ۴۲۴ ۔ ۴۲۵ و ۳ / ۴۵۵) و غیرہ ۔

Related Chapters

145
1
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
Musnad Ahmad
2
اگر کوئی چیز پسند آ جائے تو کیا کہنا چاہیے، نیز نظر زدہ آدمی کا علاج کیسے کیا جائے
Musnad Ahmad
3
(7) CHAPTER. The saying of a man to his brother (in Islam): Have a look at either of my wives (and if you wish), I will divorce her for you.
کسی شخص کا اپنے بھا ئی سے یہ کہنا کہ تم میری جس بیوی کو بھی پسند کر لو میں اسے تمہارے لئے طلاق دے دوں گا ۔ اس کو عبد الر حمٰن بن عوف نے بھی روایت کیا ہے ۔
Sahih Bukhari
4
Chapter: What Saying Has Been Prohibited Regarding The Hadith Of the Prophet (SAW)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی حدیث سن کر کیا کہنا منع ہے؟
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About What One Says When Seeing An Afflicted Person
باب: جب کوئی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
6
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
Musnad Ahmad
7
(48) CHAPTER. Whosoever left some optional things simply for the fear that some people may not be able to understand them and may fall into something more difficult.
اس بارے میں کہ کوئی شخص بعض باتوں کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ کہیں لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس سے زیادہ سخت ( یعنی ناجائز ) باتوں میں مبتلا نہ ہو جائیں
Sahih Bukhari
8
(9) CHAPTER. What to say while going to the lavatory (water closet).
بیت الخلاء جانے کے وقت کیا دعا پڑھنی چاہیے ؟
Sahih Bukhari
9
(33b) CHAPTER. If a dog drinks from the utensil of any one of you then it is essential to wash it seven times.
جب کتا برتن میں پی لے ( تو کیا کرنا چاہیے )
Sahih Bukhari
10
(52) CHAPTER. Whether to rinse the mouth after drinking milk.
اس بارے میں کہ کیا دودھ پی کر کلی کرنی چاہیے ؟
Sahih Bukhari
11
(10) CHAPTER. How was the Salat (Tahajjud prayer) of the Prophet and how many Raka, he used to offer at night?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کی کیا کیفیت تھی ؟ اور رات کی نماز کیوں کر پڑھنی چاہیے ؟
Sahih Bukhari
12
(7) CHAPTER. The saying of a man to a woman at the grave, “Be patient.”
کسی مرد کا کسی عورت سے قبر کے پاس یہ کہنا کہ صبر کر
Sahih Bukhari
13
(82) CHAPTER. Preacher delivering a lecture at a grave and the sitting of his companions around him.
قبر کے پاس عالم کا بیٹھنا اور لوگوں کو نصیحت کرنا اور لوگوں کا اس کے اردگرد بیٹھنا
Sahih Bukhari
14
(120) CHAPTER. The saying of a man: “I will go round (i.e., have sexual relations with) all my wives tonight.”
کسی مرد کا یہ کہنا کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آؤں گا ۔
Sahih Bukhari
15
(33) CHAPTER. The Saying of Imam (ruler) to those who are involved in a case of Lian: “Surely one of you two is a liar; so will one of you repent (to Allah)?”
حاکم لعان کرنے والوں سے یہ کہناتم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو کیا وہ توبہ کرتا ہے ؟
Sahih Bukhari
16
(98) CHAPTER. The saying of somebody to another: “Marhaba (i.e., welcome).
کسی شخص کا مرحبا کہنا
Sahih Bukhari
17
(100) CHAPTER. One should not say, 'Khabuthat nafsi' (i.e., I have been overcome by nausea).
آدمی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میرا نفس پلید ہو گیا
Sahih Bukhari
18
(103) CHAPTER. The saying of someone (to another): “Let my father and mother be sacrificed for you.
کسی شخص کا کہنا کہ ” میرے باپ اور ماں تم پر قربان ہوں “ اس میں زبیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے
Sahih Bukhari
19
(104) CHAPTER. The saying of somebody (to another): “May Allah sacrifice me for you.”
کسی کا یہ کہنا اللہ مجھے آپ پر قربان کرے اور حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم نے آپ پر اپنے باپوں اور ماؤں کو قربان کیا
Sahih Bukhari
20
(105) CHAPTER. The most beloved names to Allah.
اللہ پاک کوکون سے نام زیادہ پسند ہیں اورکسی شخص کا کسی کو یوں کہنا بیٹا
Sahih Bukhari
21
(117) CHAPTER. The description of something by a man as ‘nothing' while he means that it is not true.
کسی شخص کا کسی چیز کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ کچھ نہیں اور مقصد یہ ہو کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے
Sahih Bukhari
22
(7) CHAPTER. The statement of a man, “Without Allah, we would not have been guided.”
کسی شخص کا کہنا کہ اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم کو ہدایت نہ ہوتی
Sahih Bukhari
23
Chapter: It is disliked to delay the prayers beyond their proper times, and what a person should do if the Imam delays the prayer
۔ نماز کو اس کے سب سے بہتر وقت سے مؤخر کرنا مکروہ ہے اور اگر امام نماز میں تاخیر کر دے تو مقتدی کو کیا کرنا چاہیے
Sahih Muslim
24
CHAPTER: Visiting One Who Suffering From Ramad (Eyesore).
باب: آنکھ کی بیماری میں مبتلا شخص کی عیادت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER
باب: آدمی کا یہ کہنا کہ فلاں تمہیں سلام کہہ رہا ہے تو جواب میں کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
26
Chapter: [What Has Been Related] About Opening The Recitation With Al-Hamdulillahi Rabbil-Alamin (All Praise Is Due To Allah, The Lord Of All That Exits.)
باب: ”الحمدللہ رب العالمین“ سے قرأت شروع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: Something Else About That
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت جو کہنا ہے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About: Curtailing The Salam Is A Sunnah
باب: سلام زیادہ نہ کھینچ کر کہنا سنت ہے
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Beating And Abusing The Servant
باب: خادم کو مارنا پیٹنا اور اسے گالی دینا اور برا بھلا کہنا منع ہے
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What has been Related About 'The Most Virtuous Jihad Is a Just Statement Before A Tyrannical Ruler'
باب: ظالم بادشاہ کے سامنے حق کہنا سب سے بہتر جہاد ہے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Scholar Of Al-Madinah
باب: عالم مدینہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
بَابُ مَا عَلَى الْوُلَاةِ مِنَ التَّيْسِيرِ
اس بات کا بیان کہ حکام کو رعایا پر آسانی کرنی چاہیے
Mishkat
33
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
Musnad Ahmad
34
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
Musnad Ahmad
35
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
Musnad Ahmad
36
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
Musnad Ahmad
37
اس امر کا بیان کہ مدینہ منورہ پہنچ کر مہاجرین بخار میں مبتلاہو گئے
Musnad Ahmad
38
(36) CHAPTER. (What is said regarding) the fear of a believer that his good deeds may be annulled (lost) without his knowledge.
مومن کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں اس کے اعمال مٹ نہ جائیں اور اس کو خبر تک نہ ہو
Sahih Bukhari
39
(43) CHAPTER. To be quiet (and listen) to religious learned men.
اس بارے میں کہ عالموں کی بات خاموشی سے سننا ضروری ہے
Sahih Bukhari
40
(44) CHAPTER. When a religious learned man is asked, “Who is the most learned person,” it is better for him to attribute or entrust absolute knowledge to Allah and to say, “Allah is the Most Learned (than anybody else) .”
اس بیان میں کہ جب کسی عالم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگوں میں کو ن سب سے زیادہ علم رکھتا ہے ؟ تو بہتر یہ ہے کہ اللہ کے حوالے کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا یہ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کو ن سب سے بڑا عالم ہے ۔
Sahih Bukhari
41
(45) CHAPTER Whosoever, while standing, asked a religious learned man who was sitting (on a pulpit or a similar thing, about something).
کھڑے ہو کر کسی عالم سے سوال کرنا جو بیٹھا ہوا ہو ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
42
(11) CHAPTER. While urinating or defecating, never face the Qiblah except when you are screened by a building or a wall or something like that.
اس مسئلہ میں کہ پیشاب اور پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہیں کرنا چاہیے ۔ لیکن جب کسی عمارت یا دیوار وغیرہ کی آڑ ہو تو کچھ حرج نہیں
Sahih Bukhari
43
(26) CHAPTER. To clean the private parts with odd number of stones.
طاق عدد ( ڈھیلوں ) سے استنجاء کرنا چاہیے ۔
Sahih Bukhari
44
(27) CHAPTER. Washing both feet, and it is not sufficient to pass wet hands over the feet.
دونوں پاؤں دھونا چاہیے اور قدموں پر مسح نہ کرنا چاہیے ۔
Sahih Bukhari
45
(30) CHAPTER. Washing the feet, when one is wearing shoes; and it is not sufficient for one to pass a wet hand over the shoes (but one should take off the shoes and wash one's feet).
جوتوں کے اندر پاؤں دھونا چاہیے اور جوتوں پر مسح نہ کرنا چاہیے ۔
Sahih Bukhari
46
(1) CHAPTER. The performance of ablution before taking a bath.
اس بارے میں کہ غسل سے پہلے وضو کر لینا چاہیے
Sahih Bukhari
47
(3) CHAPTER. Taking a bath with a Sa of water or so. (One Sa = 3 kilograms approx.)
اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے
Sahih Bukhari
48
(7) CHAPTER. To rinse the mouth and to clean the nose by putting water in it and then blowing it out while taking the bath of Janaba.
اس بیان میں کہ غسل جنابت کرتے وقت کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے
Sahih Bukhari
49
(13) CHAPTER. A woman should rub her own body thoroughly during a bath after the menses.
اس بارے میں کہ حیض سے پاک ہونے کے بعد عورت کو اپنے بدن کو نہاتے وقت ملنا چاہیے
Sahih Bukhari
50
(10) CHAPTER. What may be used to cover the private parts of the body.
ستر کا بیان جس کو ڈھانکنا چاہیے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

556
Silsila Sahih
975
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ دَخلَتْ عليه أُمُّ مُبَشر بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنْ لَقِيتَ ابني فَاقْرَأْئه مِنِّي السَّلَامَ قَالَ: غَفَرَ اللهُ لَكِ يَا أُمَّ مُبَشر نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ بَلَى قَالَتْ: فَهُو ذَاكَ.
کعب بن مالک سے مروی ہے کہتے ہیں کہ جب کعب کی موت کا وقت قریب آیا تو ام مبشر بنت البراء بن معرور ان کے پاس آئیں اور کہا: اے ابوعبدالرحمن اگر تم فلاں شے ملو تو اسے سلام کہنا, کعب نے کہا: ام مبشر اللہ تمہیں معاف کرے ہم تو اس سے زیادہ مصروفیت میں ہیں۔ کہنے لگیں: ابوعبدالرحمن کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے نہیں سنا فرمارہے تھے: مومنین کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں جنت کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں کہنے لگیں: تو یہی بات تو میں کہہ رہی تھی۔
Sunnan Ibn e Maja
1449
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏جَمِيعًا عَنْمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ أَتَتْهُ أُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ لَقِيتَ فُلَانًا فَاقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ يَا أُمَّ بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ، ‏‏‏‏‏‏تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَهُوَ ذَاكَ.
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Ka’b bin Malik, about Ka’b: “When Ka’b was dying, Umm Bishr bint Bara’ bin Ma’rur came to him and said: ‘O Abu ‘Abdur-Rahman! If you meet so-and-so, convey Salam to him from me.’ He said: ‘May Allah forgive you, O Umm Bishr! We are too busy to think of that.’ She said: ‘O Abu ‘Abdur-Rahman! Did you not hear the Messenger of Allah (ﷺ) say: “The souls of the believers are in green birds, eating from the trees of Paradise”?’ He said: ‘Yes.’ She said: ‘That is what I mean.’”
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب ان کے والد کعب رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا، تو ان کے پاس ام بشر بنت براء بن معرور ( رضی اللہ عنہما ) آئیں، اور کہنے لگیں: اے ابوعبدالرحمٰن! اگر فلاں سے آپ کی ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام کہیں، کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام بشر! اللہ تمہیں بخشے، ہمیں اتنی فرصت کہاں ہو گی کہ ہم لوگوں کا سلام پہنچاتے پھریں، انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا: مومنوں کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوں گی، اور جنت کے درختوں سے کھاتی چرتی ہوں گی ، کعب رضی اللہ عنہ کہا: کیوں نہیں، ضرور سنی ہے، تو انہوں نے کہا: بس یہی مطلب ہے۔
Jam e Tirmazi
1070
حَدَّثَنِي أَبُو الْفَضْلِ مَكْتُومُ بْنُ الْعَبَّاسِ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ:‏‏‏‏ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا عَلَيَّ قَضَاؤُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ.
Abu Hurairah narrated: A deceased man would be brought to the Messenger of Allah while a debt was due upon him. So he would say: 'Has he left anything to pay off his debt?' If he was told that he had left something to pay it then he would pray (the funeral prayer) for him. Otherwise he would tell the Muslims: 'Pray for your companion.' So when Allah granted him the victories, he stood and said: 'I am more worthy in the case of the believers than they themselves are. So whoever among the believers dies and leaves a debt behind, then it is up to me to fulfill it. And whoever leaves wealth behind, then it is for his heirs.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی فوت شدہ شخص جس پر قرض ہو لایا جاتا تو آپ پوچھتے: ”کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر آپ کو بتایا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے اس کے قرض کی مکمل ادائیگی ہو جائے گی تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھاتے، ورنہ مسلمانوں سے فرماتے: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھ سکتا ) “، پھر جب اللہ نے آپ کے لیے فتوحات کا دروازہ کھولا تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: ”میں مسلمانوں کا ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حقدار ہوں۔ تو مسلمانوں میں سے جس کی موت ہو جائے اور وہ قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو کوئی مال چھوڑ کر جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے یحییٰ بن بکیر اور دیگر کئی لوگوں نے لیث بن سعد سے عبداللہ بن صالح کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
1670
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ ائْتُونِي بِالْكَتِفِ أَوِ اللَّوْحِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبَ:‏‏‏‏ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ خَلْفَ ظَهْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَلْ لِي مِنْ رُخْصَةٍ ؟ فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، هَذَا الْحَدِيثَ.
Narrated Al-Bara' bin 'Azib: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Bring me a shoulder blade or tablet. Then he wrote: Not equal are those of believers who sit. 'Amr bin Umm Maktum who was behind him said: Is there an exemption for me? So the following was revealed: Except those who are disabled. There are narrations on this topic from Ibn 'Abbas, Jabir and Zaid bin Thabit. This Hadith is Hasan Sahih and it is a Hadith that is Gharib from the narration of Sulaiman At-Taimi from Abu Ishaq. And Shu'bah and Ath-Thawri reported this Hadith from Abu Ishaq.
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس «شانہ» ( کی ہڈی ) یا تختی لاؤ، پھر آپ نے لکھوایا ۱؎: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» ”یعنی جہاد سے بیٹھے رہنے والے مومن ( مجاہدین کے ) برابر نہیں ہو سکتے ہیں نابینا صحابی“، عمرو ابن ام مکتوم رضی الله عنہ آپ کے پیچھے تھے، انہوں نے پوچھا: کیا میرے لیے اجازت ہے؟ چنانچہ ( آیت کا ) یہ ٹکڑا نازل ہوا: «غير أول الضرر» “، ( معذورین کے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث بروایت «سليمان التيمي عن أبي إسحق» غریب ہے، اس حدیث کو شعبہ اور ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، جابر اور زید بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
3031
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، ‏‏‏‏‏‏جَاءَ عَمْرُو ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا تَأْمُرُنِي إِنِّي ضَرِيرُ الْبَصَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِيتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ عَمْرُو ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمُّ مَكْتُومٍ أُمُّهُ.
Narrated Al-Bara bin 'Azib: When the following was revealed: 'Not equal are those of the believers who sit (4:95)' 'Amr bin Umm Maktum came to the Prophet (ﷺ). He said: He was blind, so he said: 'O Messenger of Allah! What do you order me with? Indeed my vision is disabled.' So Allah [Most High] revealed this Ayah: 'Except those who are disabled.' So the Prophet (ﷺ) said: 'Bring me a shoulder bone and inkwell' - or 'Bring me a tablet and an inkwell.'
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» ”اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بیٹھے رہ جانے والے مومن برابر نہیں“ ( النساء: ۹۵ ) نازل ہوئی تو عمرو بن ام مکتوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ نابینا تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں، میں تو اندھا ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت: «غير أولي الضرر» نازل فرمائی، یعنی مریض اور معذور لوگوں کو چھوڑ کر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس شانہ کی ہڈی اور دوات لے آؤ ( یا یہ کہا ) تختی اور دوات لے آؤ کہ میں لکھا کر دے دوں کہ تم معذور لوگوں میں سے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس روایت میں عمرو بن ام مکتوم رضی الله عنہ کہا گیا ہے، انہیں عبداللہ بن ام مکتوم بھی کہا جاتا ہے، وہ عبداللہ بن زائدہ ہیں، اور ام مکتوم ان کی ماں ہیں۔
Jam e Tirmazi
3068
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏ثَلَاثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ:‏‏‏‏ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ سورة الأنعام آية 103 وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الشورى آية 51 وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْظِرِينِي وَلَا تُعْجِلِينِي أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ سورة التكوير آية 23، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَنَا وَاللَّهِ أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ عَنْ هَذَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ، ‏‏‏‏‏‏مَا رَأَيْتُهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي خُلِقَ فِيهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ سورة المائدة آية 67، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ قُلْ لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلا اللَّهُ سورة النمل آية 65 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ يُكْنَى أَبَا عَائِشَةَ وَهُوَ مَسْرُوقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا كَانَ اسْمُهُ فِي الدِّيوَانِ.
Narrated Masruq: I was reclining in the presence of 'Aishah when she said: 'O Abu 'Aishah! There are three things, whoever speaks of one of them, then he has uttered one of the worst lies against Allah. Whoever claims that Muhammad saw his Lord. Then he has uttered one the worst lies against Allah, Allah says: No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision, and He is the Most Subtle, Well-Acquainted with all things (6:103). It is not for any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation or from behind a veil (42:91).' I was reclining so I sat up an said: 'O Mother of the Believers! Take your time with me and do not be hasty with me! Did Allah Most High not say: And indeed he saw him at a second descent (53:13). (And) 'And indeed he saw him in the clear horizon (81:23).' She said 'By Allah! I was the first who asked the Messenger of Allah (ﷺ) about this. He said: That was only Jibril. I did not see him in the appearance he was created in except for these two times. I saw him descending from the heavens, and due to his tremendous size he filled what was between the heavens and the earth. And whoever claimed that Muhammad hid anything that Allah revealed to him, then he uttered one of the worst lies against Allah. Allah says: O Messenger! Proclaim what has been sent down to you from your Lord (5:67). And whoever claimed that he (ﷺ) knew what would be tomorrow, then he has uttered one of the worst lies against Allah. Allah says: Say: 'None in the heavens and in the earth knows the unseen but Allah (27:65).'
مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: اے ابوعائشہ! تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کسی نے ایک بھی کیا تو وہ اللہ پر بڑی بہتان لگائے گا: ( ۱ ) جس نے خیال کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ( معراج کی رات میں ) اللہ کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ کی ذات کے بارے میں بڑی بہتان لگائی۔ کیونکہ اللہ اپنی ذات کے بارے میں کہتا ہے «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير» ”کہ اسے انسانی نگاہیں نہیں پا سکتی ہیں، اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے ( یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سبھی کو دیکھ لیتا ہے ) اور اس کی ذات لطیف و خبیر ہے“، «وما كان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا أو من وراء حجاب» ”کسی انسان کو بھی یہ مقام و درجہ حاصل نہیں ہے کہ اللہ اس سے بغیر وحی کے یا بغیر پردے کے براہ راست اس سے بات چیت کرے“، ( وہ کہتے ہیں ) میں ٹیک لگائے ہوئے تھا اور اٹھ بیٹھا، میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے بولنے کا موقع دیجئیے اور میرے بارے میں حکم لگانے میں جلدی نہ کیجئے گا، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: «ولقد رآه نزلة أخرى» ”بیشک محمد نے اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا“ ( النجم: ۱۳ ) «ولقد رآه بالأفق المبين» ”بیشک انہوں نے اسے آسمان کے روشن کنارے پر دیکھا“ ( التکویر: ۲۳ ) تب عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: قسم اللہ کی! میں وہ پہلی ذات ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ تو جبرائیل علیہ السلام تھے ( ان آیتوں میں میرے دیکھنے سے مراد جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا تھا، اللہ کو نہیں ) ان دو مواقع کے سوا اور کوئی موقع ایسا نہیں ہے جس میں جبرائیل علیہ السلام کو میں نے ان کی اپنی اصل صورت میں دیکھا ہو۔ جس پر ان کی تخلیق ہوئی ہے، میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا ہے، ان کی بناوٹ کی بڑائی یعنی بھاری بھر کم جسامت نے آسمان و زمین کے درمیان جگہ کو گھیر رکھا تھا“، ( ۲ ) : اور دوسرا وہ شخص کہ جو اللہ پر جھوٹا الزام لگانے کا بڑا مجرم ہے جس نے یہ خیال کیا کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو چیزیں اتاری ہیں ان میں سے کچھ چیزیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپا لی ہیں۔ جب کہ اللہ کہتا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك» ”جو چیز اللہ کی جانب سے تم پر اتاری گئی ہے اسے لوگوں تک پہنچا دو“ ( النساء: ۶۷ ) ، ( ۳ ) : وہ شخص بھی اللہ پر جھوٹا الزام لگانے والا ہے جو یہ سمجھے کہ کل کیا ہونے والا ہے، محمد اسے جانتے ہیں، جب کہ اللہ خود کہتا ہے «قل لا يعلم من في السموات والأرض الغيب إلا الله» ”کہ آسمان و زمین میں غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3103
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عِنْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ أَتَانِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْيَمَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي لَأَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ:‏‏‏‏ كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُ فِيهِ الَّذِي رَأَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زَيْدٌ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ إِنَّكَ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَهُمَا صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعُسُبِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللِّخَافِ يَعْنِي الْحِجَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَصُدُورِ الرِّجَالِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ بَرَاءَةٌ مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ‏‏‏‏ 128 ‏‏‏‏ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ‏‏‏‏ 129 ‏‏‏‏ سورة التوبة آية 128-129 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Az-Zuhri: From 'Ubaid bin As-Sabbaq, that Zaid bin Thabit narrated to him, he said: 'Abu Bakr As-Siddiq sent for me - (regarding) those killed at Al-Yamamah - and 'Umar bin Al-Khattab was with him. He (Abu Bakr) said: 'Umar came to me and said: The fighting inflicted many casualties among the reciters of the Qur'an on the Day of Al-Yamamah, and I fear that there will be more casualties among the reciters in other parts of the land, such that much of the Qur'an may be lost. In my view, you should order that the Qur'an be collected.' Abu Bakr said to 'Umar: How can I do something which was not done my the Messenger of Allah (ﷺ)? 'Umar said: 'By Allah! It is something good.' 'Umar continued trying to convince me until Allah opened up my chest to that which He had opened the chest of 'Umar, and I saw it as he saw it. Zaid said: 'Abu Bakr said: You are a young wise man, and we have no suspicions of you. You used to write down the Revelation for the Messenger of Allah as the Qur'an was revealed. He (Zaid) said: 'By Allah! If they had ordered to move one of the mountains it would have been lighter on me than that.' He said: 'I said: How will you do something which was not done by the Messenger of Allah (ﷺ)? Abu Bakr said: By Allah! It is something good. Abu Bakr and 'Umar continued trying to convince me, until Allah opened up my chest for that, just as He had opened their chests, the chest of Abu Bakr and the chest of 'Umar. So I began searching for Qur'anic material from parchments, leaf stalks of date-palms and Al-Likhaf - meaning stones - and the chests of men. I found the end of Surah Bara'ah with Khuzaimah bin Thabit: Verily, there has come to you a Messenger from among yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty. He is eager for you; for the believers (he is) full of pity, kind, and merciful. But if they turn away, say: Allah is sufficient for me. There is no god but He, in Him I put my trust, and He is the Lord of the Mighty Throne (9:128 & 129).'
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے موقع پر ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے انہیں بلا بھیجا، اتفاق کی بات کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ بھی وہاں موجود تھے، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: عمر بن خطاب میرے پاس آئے ہیں کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے بہت سے قراء ( حافظوں ) کی ہلاکت ہوئی ہے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر ان تمام جگہوں میں جہاں جنگیں چل رہی ہیں قراء قرآن کا قتل بڑھتا رہا تو بہت سارا قرآن ضائع ہو سکتا ہے، اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ مکمل قرآن اکٹھا کرنے کا حکم فرمائیں۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ سے کہا: میں کوئی ایسی چیز کیسے کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔ عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر کام ہے۔ وہ مجھ سے یہ بات باربار کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے مجھے بھی اس کام کے لیے شرح صدر عطا کر دیا جس کام کے لیے اللہ نے عمر کو شرح صدر عطا فرمایا تھا۔ اور میں نے بھی اس سلسلہ میں وہی بات مناسب سمجھی جو انہوں نے سمجھی۔ زید کہتے ہیں: ابوبکر رضی الله عنہ نے ( مجھ سے ) کہا: تم جوان ہو، عقلمند ہو، ہم تمہیں ( کسی معاملے میں بھی ) متہم نہیں کرتے۔ اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی لکھتے بھی تھے، تو ایسا کرو کہ پورا قرآن تلاش کر کے لکھ ڈالو، ( یکجا کر دو ) زید کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر مجھ سے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کہتے تو یہ کام مجھے اس کام سے زیادہ بھاری نہ لگتا، میں نے کہا: آپ لوگ کوئی ایسا کام جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے کیسے ( کرنے کی جرات ) کرتے ہیں؟ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے لیے بہتر ہے۔ اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما دونوں مجھ سے باربار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو بھی اس حق کے لیے کھول دیا جس کے لیے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے سینے کو اس نے کھولا تھا، تو میں نے پورے قرآن کی تلاش و جستجو شروع کر دی، میں پرزوں، کھجور کے پتوں، نرم پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے لے کر نقل کر کر کے یکجا کرنے لگا، تو سورۃ برأۃ کی آخری آیات «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمؤمنين رءوف رحيم فإن تولوا فقل حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» ”تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے، اس پر تمہاری تکلیف شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کا حریص ہے اور ایمان داروں کے حال پر نہایت درجہ شفیق اور مہربان ہے۔ پھر بھی اگر وہ منہ پھیر لیں تو اللہ مجھ کو کافی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے“ ( التوبہ: ۱۲۸ ) ۔ مجھے خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہ کے پاس ملیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3104
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَكَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّامِ فِي فَتْحِ أَرْمِينِيَةَ وَأَذْرَبِيجَانَ مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى حُذَيْفَةُ اخْتِلَافَهُمْ فِي الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ كَمَا اخْتَلَفَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ نَنْسَخُهَا فِي الْمَصَاحِفِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْكِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَتْ حَفْصَةُ إِلَى عُثْمَانَ بِالصُّحُفِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنِ انْسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّينَ الثَّلَاثَةِ، ‏‏‏‏‏‏مَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى نَسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ بَعَثَ عُثْمَانُ إِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِنْ تِلْكَ الْمَصَاحِفِ الَّتِي نَسَخُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ:‏‏‏‏ فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ، ‏‏‏‏‏‏كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ سورة الأحزاب آية 23 فَالْتَمَسْتُهَا فَوَجَدْتُهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ فَاخْتَلَفُوا يَوْمَئِذٍ فِي التَّابُوتِ وَالتَّابُوهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْقُرَشِيُّونَ:‏‏‏‏ التَّابُوتُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ زَيْدٌ:‏‏‏‏ التَّابُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَرُفِعَ اخْتِلَافُهُمْ إِلَى عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اكْتُبُوهُ التَّابُوتُ فَإِنَّهُ نَزَلَ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ:‏‏‏‏ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَرِهَ لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ نَسْخَ الْمَصَاحِفِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أُعْزَلُ عَنْ نَسْخِ كِتَابَةِ الْمُصْحَفِ وَيَتَوَلَّاهَا رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَقَدْ أَسْلَمْتُ وَإِنَّهُ لَفِي صُلْبِ رَجُلٍ كَافِرٍ، ‏‏‏‏‏‏يُرِيدُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلِذَلِكَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ:‏‏‏‏ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ اكْتُمُوا الْمَصَاحِفَ الَّتِي عِنْدَكُمْ وَغُلُّوهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 161 فَالْقُوا اللَّهَ بِالْمَصَاحِفِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ فَبَلَغَنِي أَنَّ ذَلِكَ كَرِهَهُ مِنْ مَقَالَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ رِجَالٌ مِنْ أَفَاضِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.
Narrated Az-Zuhri: from Anas who said: Hudhaifah bin Al-Yaman came to 'Uthman, at the time when the people of Ash-Sham and the people of Al-'Iraq were waging war to conquer Arminiyah and Adharbijan. Hudhaifah saw their (the people of Ash-Sham and Al-'Iraq) different forms of recitation of the Qur'an. So he said to 'Uthman: 'O Commander of the Believers! Save this nation before they differ about the Book as the Jews and the Christians did before them.' So he ('Uthman) sent a message to Hafsah (saying): 'Send us the manuscripts so that we may copy them in the Musahif (plural of Mushaf: a written copy of the Qur'an) then we shall return it to you.' So Hafsah sent the manuscripts to 'Uthman bin 'Affan. 'Uthman then sent order for Zaid bin Thabit, Sa'eed bin Al-'As, 'Abdur-Rahman bin Al-Harith bin Hisham, and 'Abdullah bin Az-Zubair to copy the manuscripts in the Musahif. 'Uthman said to the three Quraish men: 'In case you disagree with Zaid bin Thabit on any point in the (recitation dialect of the) Qur'an, then write it in the dialect of Quraish for it was in their tongue.' So when they had copied the manuscripts, 'Uthman sent one Mushaf from those Musahif that they had copied to every province. Az-Zuhri said: Kharijah bin Zaid [bin Thabit] narrated to me that Zaid bin Thabit said: 'I missed an Ayah of Surat Al-Ahzab that I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting: Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah, of them some have fulfilled their obligations, and some of them are still waiting (33:23) - so I searched for it and found it with Khuzaimah bin Thabit, or Abu Khuzaimah, so I put it in its Surah.' Az-Zuhri said: They differed then with At-Tabut and At-Tabuh. The Quraish said: At-Tabut while Zaid said: At-Tabuh. Their disagreement was brought to 'Uthman, so he said: 'Write it as At-Tabut, for it was revealed in the tongue of the Quraish.' Az-Zuhri said: 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah informed me that 'Abdullah bin Mas'ud disliked Zaid bin Thabit copying the Musahif, and he said: 'O you Muslims people! Avoid copying the Mushaf and the recitation of this man. By Allah! When I accepted Islam he was but in the loins of a disbelieving man' - meaning Zaid bin Thabit - and it was regarding this that 'Abdullah bin Mas'ud said: 'O people of Al-'Iraq! Keep the Musahif that are with you, and conceal them. For indeed Allah said: And whoever conceals something, he shall come with what he concealed on the Day of Judgement (3:161). So meet Allah with the Musahif.' Az-Zuhri said: It was conveyed to me that some men amongst the most virtuous of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) disliked that view of Ibn Mas'ud.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حذیفہ بن الیمان عثمان رضی الله عنہما کے پاس آئے، ان دنوں آپ شام والوں کے ساتھ آرمینیہ کی فتح میں اور عراق والوں کے ساتھ آذر بائیجان کی فتح میں مشغول تھے، حذیفہ رضی الله عنہ نے قرآن کی قرأت میں لوگوں کا اختلاف دیکھ کر عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے کہا: امیر المؤمنین! اس امت کو سنبھالئے اس سے پہلے کہ یہ کتاب ( قرآن مجید ) کے معاملے میں اختلاف کا شکار ہو جائے ( اور آپس میں لڑنے لگے ) جیسا کہ یہود و نصاریٰ اپنی کتابوں ( تورات و انجیل اور زبور ) کے بارے میں مختلف ہو گئے۔ تو عثمان رضی الله عنہ نے حفصہ رضی الله عنہا کے پاس پیغام بھیجا کہ ( ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے تیار کرائے ہوئے ) صحیفے ہمارے پاس بھیج دیں ہم انہیں مصاحف میں لکھا کر آپ کے پاس واپس بھیج دیں گے، چنانچہ ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے پاس یہ صحیفے بھیج دیے۔ پھر عثمان نے زید بن ثابت اور سعید بن العاص اور عبدالرحمٰن بن الحارث بن ہشام اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم کے پاس ان صحیفوں کو اس حکم کے ساتھ بھیجا کہ یہ لوگ ان کو مصاحف میں نقل کر دیں۔ اور تینوں قریشی صحابہ سے کہا کہ جب تم میں اور زید بن ثابت رضی الله عنہ میں اختلاف ہو جائے تو قریش کی زبان ( و لہجہ ) میں لکھو کیونکہ قرآن انہیں کی زبان میں نازل ہوا ہے، یہاں تک کہ جب انہوں نے صحیفے مصحف میں نقل کر لیے تو عثمان نے ان تیار مصاحف کو ( مملکت اسلامیہ کے حدود اربعہ میں ) ہر جانب ایک ایک مصحف بھیج دیا۔ زہری کہتے ہیں مجھ سے خارجہ بن زید نے بیان کیا کہ زید بن ثابت نے کہا کہ میں سورۃ الاحزاب کی ایک آیت جسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنتا تھا اور مجھے یاد نہیں رہ گئی تھی اور وہ آیت یہ ہے «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» ۱؎ تو میں نے اسے ڈھونڈا، بہت تلاش کے بعد میں اسے خزیمہ بن ثابت کے پاس پایا ۲؎ خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہ کہا یا ابوخزیمہ کہا۔ ( راوی کو شک ہو گیا ) تو میں نے اسے اس کی سورۃ میں شامل کر دیا۔ زہری کہتے ہیں: لوگ اس وقت ( لفظ ) «تابوهاور» تابوت میں مختلف ہو گئے، قریشیوں نے کہا «التابوت» اور زید نے «التابوه» کہا۔ ان کا اختلاف عثمان رضی الله عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: «التابوت» لکھو کیونکہ یہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ زہری کہتے ہیں: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بتایا ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے زید بن ثابت رضی الله عنہما کے مصاحف لکھنے کو ناپسند کیا اور کہا: اے گروہ مسلمانان! میں مصاحف کے لکھنے سے روک دیا گیا، اور اس کام کا والی و کارگزار وہ شخص ہو گیا جو قسم اللہ کی جس وقت میں ایمان لایا وہ شخص ایک کافر شخص کی پیٹھ میں تھا ( یعنی پیدا نہ ہوا تھا ) یہ کہہ کر انہوں نے زید بن ثابت کو مراد لیا ۳؎ اور اسی وجہ سے عبداللہ بن مسعود نے کہا: عراق والو! جو مصاحف تمہارے پاس ہیں انہیں چھپا لو، اور سنبھال کر رکھو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو کوئی چیز چھپا رکھے گا قیامت کے دن اسے لے کر حاضر ہو گا تو تم قیامت میں اپنے مصاحف ساتھ میں لے کر اللہ سے ملاقات کرنا ۴؎ زہری کہتے ہیں: مجھے یہ اطلاع و خبر بھی ملی کہ کبار صحابہ نے ابن مسعود رضی الله عنہ کی یہ بات ناپسند فرمائی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور یہ زہری کی حدیث ہے، اور ہم اسے صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
3350
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَامَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَعْدَ مَا بَايَعَ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَوَّدْتَ وُجُوهَ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ يَا مُسَوِّدَ وُجُوهِ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تُؤَنِّبْنِي رَحِمَكَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيَ بَنِي أُمَيَّةَ عَلَى مِنْبَرِهِ فَسَاءَهُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَا مُحَمَّدُ يَعْنِي نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ يَمْلِكُهَا بَعْدَكَ بَنُو أُمَيَّةَ يَا مُحَمَّدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْقَاسِمُ:‏‏‏‏ فَعَدَدْنَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هِيَ أَلْفُ شَهْرٍ لَا يَزِيدُ يَوْمٌ وَلَا يَنْقُصُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قِيلَ:‏‏‏‏ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ هُوَ ثِقَةٌ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَيُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ رَجُلٌ مَجْهُولٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Al-Qasim bin Al-Fadl Al-Huddani narrated from Yusuf bin Sa’d, who said: “A man stood up in front of Al-Hasan bin Ali, after he pledged to Mu’awiyah, so he said: ‘You have made fools of the believers.’ – or: ‘O you who has made fools of the believers’ – So he said: ‘Do not scold me so, may Allah have mercy upon you, for indeed the Prophet had a dream in which he saw Banu Umayyah upon his Minbar. That distressed him, so (the following) was revealed: Verily We have granted you Al-Kauthar (O Muhammad) meaning a river in Paradise, and (the following) was revealed: ‘Verily We have sent it down on the Night of Al-Qadr. And what will make you know what the Night of Al-Qadr is? The Night of Al-Qadr is better than a thousand months, in which Banu Umayyah rules after you O Muhammad.” Al-Qasim said: “So we counted them, and found that they were one-thousand months, not a day more nor less.”
یوسف بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص حسن بن علی رضی الله عنہما کے پاس ان کے معاویہ رضی الله عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لینے کے بعد گیا اور کہا: آپ نے تو مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دی، ( راوی کو شک ہے «سودت» کہا یا «يا مسود وجوه المؤمنين» ( مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دینے والا ) کہا، انہوں نے کہا تو مجھ پر الزام نہ رکھ، اللہ تم پر رحم فرمائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی امیہ اپنے منبر پر دکھائے گئے تو آپ کو یہ چیز بری لگی، اس پر آیت «إنا أعطيناك الكوثر» ”اے محمد! ہم نے آپ کو کوثر دی“، نازل ہوئی۔ کوثر جنت کی ایک نہر ہے اور سورۃ القدر کی آیات «إنا أنزلناه في ليلة القدر وما أدراك ما ليلة القدر ليلة القدر خير من ألف شهر» ”ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا، اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے“، نازل ہوئیں، اے محمد تیرے بعد بنو امیہ ان مہینوں کے مالک ہوں گے ۳؎ قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں: ہم نے بنی امیہ کے ایام حکومت کو گنا تو وہ ہزار مہینے ہی نکلے نہ ایک دن زیادہ نہ ایک دن کم ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس سند سے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- یہ بھی کہا گیا ہے کہ قاسم بن فضل سے روایت کی گئی ہے اور انہوں نے یوسف بن مازن سے روایت کی ہے، قاسم بن فضل حدانی ثقہ ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ثقہ کہا ہے، اور یوسف بن سعد ایک مجہول شخص ہیں اور ہم اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔