TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1791 - زکوۃ کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 20 of 22 in this chapter
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يَطْلُبُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أَصَابِعه» . رَوَاهُ أَحْمد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کسی ایک کا خزانہ روز قیامت گنجا اژدھا بن جائے گا ، اس (خزانے) کا مالک اس سے فرار اختیار کرے گا جبکہ وہ اسے چھوڑے گا نہیں حتیٰ کہ وہ اس کی انگلیوں سمیت اسے کھا جائے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔
1791
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۲ / ۵۳۰ ح ۱۰۸۶۷) [و صحیح البخاری (۴۶۵۹) باختلاف یسیرا] ۔

Related Chapters

0
No related chapter found.
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,234
Sahih Bukhari
6957
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ فَيَطْلُبُهُ ، وَيَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ ، قَالَ وَاللَّهِ لَنْ يَزَالَ يَطْلُبُهُ حَتَّى يَبْسُطَ يَدَهُ فَيُلْقِمَهَا فَاهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, On the Day of Resurrection the Kanz (Treasure or wealth of which, Zakat has not been paid) of anyone of you will appear in the shape of a huge bald headed poisonous male snake and its owner will run away from it, but it will follow him and say, 'I am your Kanz.' The Prophet added, By Allah, that snake will keep on following him until he stretches out his hand and let the snake swallow it.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن تم میں سے کسی کا خزانہ چتکبرا اژدھا بن کر آئے گا اس کا مالک اس سے بھاگے گا لیکن وہ اسے تلاش کر رہا ہو گا اور کہے گا کہ میں تمہارا خزانہ ہوں۔ فرمایا واللہ وہ مسلسل تلاش کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ شخص اپنا ہاتھ پھیلا دے گا اور اژدھا اسے لقمہ بنائے گا۔“
Silsila Sahih
1879
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنْ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ فَيَطْلُبُهُ وَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ. قَالَ: وَاللهِ لَنْ يَّزَالَ يَطْلُبُهُ حَتَّى يَبْسُطَ يَدَهُ فَيُلْقِمَهَا فَاهُ .
)ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا خزانہ (جمع کیا ہوا) قیامت کے دن ایک گنجے سانپ کی صورت میں آئے گا اس کا مالک اس سے بھاگے گا اور وہ اس کا تعاقب کرے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واللہ وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا حتی کہ وہ اپنا ہاتھ آگے کرے گا تو اسے منہ میں لقمہ بنا کر چبا ڈالے گا
Sahih Bukhari
4659
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger said, The Kanz (money, the Zakat of which is not paid) of anyone of you will appear in the form of bald-headed poisonous male snake on the Day of Resurrection.
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمہارا خزانہ جس میں زکوٰۃ نہ دی گئی ہو قیامت کے دن گنجے ناگ کی شکل اختیار کرے گا۔
Sunnan Ibn e Maja
1786
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ تَأْتِي الْإِبِلُ الَّتِي لَمْ تُعْطِ الْحَقَّ مِنْهَا تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَخْفَافِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَتَأْتِي الْبَقَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْغَنَمُ تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلَافِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ فَيَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ فَيَفِرُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ مَا لِي وَلَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَنَا كَنْزُكَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَا كَنْزُكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَتَقِيهِ بِيَدِهِ فَيَلْقَمُهَا .
Abu Hurairah narrated that: the Messenger of Allah said: “The camels on which the dues (i.e. Zakat) were not paid will come, trampling their owners with their hooves. And cattle and sheep will come and trample at their owners with their hooves and butt them with their horns, And hoarded treasure will come in the form of a bald-headed snale, and will meet its owner on the Day of Resurrection. Its owner will flee from it two time, then it will come to him and he will flee again, and will say: 'What do I have to do with you?' and it will say: 'I am your hoarded treasure, I am your hoarded treasure.' He will try to shield himself with this hand and it will devour it.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن اونٹوں کی زکاۃ نہیں دی گئی وہ آئیں گے اور اپنے مالک کو اپنے پاؤں سے روندیں گے، اور گائیں اور بکریاں آئیں گی وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندیں گی اور اسے سینگوں سے ماریں گی، اور اس کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اپنے مالک سے قیامت کے دن ملے گا، اس کا مالک اس سے دور بھاگے گا، پھر وہ اس کے سامنے آئے گا تو وہ بھاگے گا، اور کہے گا: آخر تو میرے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ وہ کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، آخر مالک اپنے ہاتھ کے ذریعہ اس سے اپنا بچاؤ کرے گا لیکن وہ اس کا ہاتھ ڈس لے گا ۱؎۔
Sunnan Nisai
2450
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ مِمَّا ذَكَرَ،‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَأْتِي الْإِبِلُ عَلَى رَبِّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا هِيَ لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَتَأْتِي الْغَنَمُ عَلَى رَبِّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا، ‏‏‏‏‏‏تَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمِنْ حَقِّهَا أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ أَلَا لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ لَهُ رُغَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ،‏‏‏‏ فَأَقُولُ:‏‏‏‏ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ أَلَا لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِشَاةٍ يَحْمِلُهَا عَلَى رَقَبَتِهِ لَهَا يُعَارٌ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ،‏‏‏‏ فَأَقُولُ:‏‏‏‏ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيَكُونُ كَنْزُ أَحَدِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَطْلُبُهُ أَنَا كَنْزُكَ فَلَا يَزَالُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أُصْبُعَهُ .
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: '(On the Day of Resurrection) camels will come to their owner in the best state of health that they ever had (in this world) and if he did not pay what was due on them, they will trample him with their hooves. Sheep willcome to their owner in the best state of health that they ever had (in this world) and if he did not pay what was due on them, they will trample him with their cloven hooves and gore him with their horns. And among their rights are that they should be milked with water in the front of them. I do not want any one of you to come on the Day of Resurrection with a groaning camel on his neck, saying , O Muhammad, and I will say: I cannot do anything for you, I conveyed the message. I do not want any one of you to come on the Day of Resurrection with a bleating sheep on his neck, saying, O Muhammad, and I will say: I cannot do anything for you, I conveyed the message. And on the Day of Resurrection the hoarded treasure of one of you will be a blad-headed Shujaa[1]from which its owner will flee, but it will chase him (saying), I am your hoarded treasure, and it will keep (chasing him) until he gives it his finger to swallow. '
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہو گا اس سے بہتر حالت میں آئیں گے جس میں وہ ( دنیا میں ) تھے، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، اور بکریاں اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہو گا، اس سے بہتر حالت میں آئیں گی جس حالت میں وہ ( دنیا میں ) تھیں۔ وہ اسے اپنی کھروں سے روندیں گی، اور اپنی سینگوں سے ماریں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا حق یہ بھی ہے کہ انہیں اسی جگہ دوہا جائے جہاں انہیں پانی پلانے کا نظم ہو ۱؎، سن لو، قیامت کے دن تم میں کا کوئی اپنے اونٹ کو اپنی گردن پر لادے ہوئے نہ لائے وہ بلبلا رہا ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! ( بچائیے مجھ کو اس عذاب سے ) کہ میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تو تجھے بتا چکا تھا، سن لو! قیامت کے دن کوئی اپنی گردن پر بکری کو لادے ہوئے نہ آئے کہ وہ ممیا رہی ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! ( مجھے اس عذاب سے بچائیے ) کہ اس وقت میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تو تجھے پہلے ہی بتا چکا ہوں“۔ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا خزانہ ۲؎ قیامت کے دن گنجا سانپ بن کر سامنے آئے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، اور وہ اس کا برابر پیچھا کرتا رہے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں یہاں تک کہ وہ اس کی انگلی کو اپنے منہ میں داخل کر لے گا“۔
Mishkat
1774
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَأْخُذ بِلِهْزِمَتَيْهِ - يَعْنِي بشدقيه - يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ . ثُمَّ تَلَا هَذِه الْآيَة: (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ من فَضله) إِلَى آخر الْآيَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ جس شخص کو مال عطا فرمائے اور پھر وہ شخص اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو روز قیامت اس کے مال کو گنجے اژدھا کی صورت میں بنا دیا جائے گا ، اس کی آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ، اس کو اس کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا ، پھر وہ اسے جبڑوں سے پکڑ کر کہے گا : میں تیرا مال ہوں ، میں تیرا خزانہ ہوں ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جو لوگ بخل کرتے ہیں وہ یہ خیال نہ کریں ،،،،،‘‘ رواہ البخاری ۔
Sahih Bukhari
1403
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ ، مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي شِدْقَيْهِ ، ثُمَّ يَقُولُ أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ ، ثُمَّ تَلَا : وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ سورة آل عمران آية 180 .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Whoever is made wealthy by Allah and does not pay the Zakat of his wealth, then on the Day of Resurrection his wealth will be made like a baldheaded poisonous male snake with two black spots over the eyes. The snake will encircle his neck and bite his cheeks and say, 'I am your wealth, I am your treasure.' Then the Prophet recited the holy verses:-- 'Let not those who withhold . . .' (to the end of the verse). (3.180).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن قاسم نے بیان کیا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے اپنے والد سے بیان کیا ‘ ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ نہیں ادا کی تو قیامت کے دن اس کا مال نہایت زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کر لے گا۔ اس کی آنکھوں کے پاس دو سیاہ نقطے ہوں گے۔ جیسے سانپ کے ہوتے ہیں ‘ پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں سے اسے پکڑ لے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال اور خزانہ ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اور وہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ اپنے فضل سے دیا ہے وہ اس پر بخل سے کام لیتے ہیں کہ ان کا مال ان کے لیے بہتر ہے۔ بلکہ وہ برا ہے جس مال کے معاملہ میں انہوں نے بخل کیا ہے۔ قیامت میں اس کا طوق بنا کر ان کی گردن میں ڈالا جائے گا۔“
Sahih Bukhari
4565
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، سَمِعَ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ ، مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ ، لَهُ زَبِيبَتَانِ ، يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ ، يَقُولُ : أَنَا مَالُكَ ، أَنَا كَنْزُكَ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger said, Anyone whom Allah has given wealth but he does not pay its Zakat, then, on the Day of Resurrection, his wealth will be presented to him in the shape of a bald-headed poisonous male snake with two poisonous glands in its mouth and it will encircle itself round his neck and bite him over his cheeks and say, I am your wealth; I am your treasure. Then the Prophet recited this Divine Verse:-- And let not those who covetously withhold of that which Allah has bestowed upon them of His Bounty. (3.180)
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے ابوالنضر ہاشم بن قاسم سے سنا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور پھر اس نے اس کی زکٰوۃ نہیں ادا کی تو ( آخرت میں ) اس کا مال نہایت زہریلے سانپ بن کر جس کی آنکھوں کے اوپر دو نقطے ہوں گے۔ اس کی گردن میں طوق کی طرح پہنا دیا جائے گا۔ پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں کو پکڑ کر کہے گا کہ میں ہی تیرا مال ہوں، میں ہی تیرا خزانہ ہوں، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله‏» کی ”اور جو لوگ کہ اس مال میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دے رکھا ہے، وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ مال ان کے حق میں بہتر ہے۔“ آخر تک۔
Sahih Muslim
2706
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَسْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ» وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Allah the Exalted and Majestic said: Every act of the son of Adam is for him, except fasting. It is (exclusively) meant for Me and I (alone) will reward it. Fasting is a shield. When any one of you is fasting on a day, he should neither indulge in obscene language, nor raise the voice; or if anyone reviles him or tries to quarrel with him he should say: I am a person fasting. By Him, in Whose Hand is the life of Muhammad, the breath of the observer of fast is sweeter to Allah on the Day of judgment than the fragrance of musk. The one who fasts has two (occasions) of joy, one when he breaks the fast he is glad with the breaking of (the fast) and one when he meets his Lord he is glad with his fast.
عطاء نے ابو صالح الزیا ت سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ عزوجل نے فر ما یا : ابن آدم کا ہرعمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے ، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا ۔ اور روزہ ڈھال ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور وغل کرے ۔ اگر کو ئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے : میں روزہ دار ہوں ، میں روزہ دار ہوں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جا ن ہے!قیامت کے دن روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہو گی ۔ اور روزہ دار کے لیے دوخوشی کے موقع ہیں وہ ان دونوں پر خوش ہو تا ہے : جب وہ ( روزہ ) افطار کرتا ہے تو اپنے افطار سے خوش ہو تا ہے اور جب اپنے رب کو ملے گا تو اپنے روزے ( کی وجہ ) سے خوش ہو گا ۔ "