مشکوۃ

Mishkat

زکوۃ کا بیان

کس کو صدقہ دینا جائز نہیں

بَاب مِمَّن لَا تحل لَهُ الصَّدَقَة


وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يُقَسِّمُ الصَّدَقَةَ فَسَأَلَاهُ مِنْهَا فَرَفَعَ فِينَا النَّظَرَ وَخَفَضَهُ فَرَآنَا جَلْدَيْنِ فَقَالَ: «إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مكتسب» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

عبیداللہ بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں ، دو آدمیوں نے مجھے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ اس وقت صدقہ تقسیم فرما رہے تھے ، انہوں نے آپ سے صدقہ کی درخواست کی تو آپ نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا تو آپ ﷺ نے ہمیں طاقت ور دیکھ کر فرمایا :’’ اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن اس میں کسی مال دار شخص اور کمائی کی طاقت رکھنے والے شخص کے لیے کوئی حصہ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ بوداؤد و النسائی ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۱۶۳۳) و النسائی (۵ / ۹۹ ح ۲۵۹۹) ۔