ام بجید ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہے حتیٰ کہ مجھے حیا آتی ہے کہ میں اس کے ہاتھ پر رکھنے کے لیے گھر میں کوئی چیز نہیں پاتی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو خواہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے فرمایا :’’ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی ۔
عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں ، ام سلمہ ؓ کو گوشت کا ایک ٹکڑا بطور ہدیہ پیش کیا گیا جبکہ نبی ﷺ کو گوشت پسند تھا ، تو انہوں نے خادمہ سے فرمایا : اسے گھر میں رکھو شاید کہ نبی ﷺ اسے تناول فرمائیں ، اس نے اسے گھر کے طاق میں رکھا ، اور اتنے میں سائل دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا : اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے ، صدقہ کرو ۔ اہل خانہ نے بھی کہا : اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے (یعنی تمہارا بھلا ہو)، وہ سائل چلا گیا ، تو نبی ﷺ تشریف لے آئے ، آپ نے فرمایا :’’ ام سلمہ ! کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے کہ میں اسے کھا لوں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جی ہاں ، اور خادمہ سے فرمایا : جاؤ اور رسول اللہ ﷺ کے لیے وہ گوشت لاؤ ، وہ گئی تو وہاں طاق میں (گوشت کے بجائے) صرف ایک سفید پتھر پڑا ہوا تھا ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ وہ گوشت ، سفید پتھر بن گیا ، تم نے اسے سائل کو کیوں نہ دیا ؟‘‘ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں مقام و مرتبہ کے لحاظ سے بدترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟‘‘ عرض کیا گیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس سے اللہ کے نام پر سوال کیا جائے اور وہ نہ دے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عثمان ؓ سے اندر جانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے انہیں اجازت دے دی ، اور ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی ، تو عثمان ؓ نے فرمایا : کعب ! عبدالرحمن ؓ وفات پا گئے اور انہوں نے مال چھوڑا ہے ، اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ انہوں نے کہا : اگر تو وہ اس بارے میں اللہ کا حق ادا کیا کرتے تھے تو پھر کوئی حرج نہیں ، ابوذر ؓ نے لاٹھی اٹھائی اور کعب کو دے ماری ، اور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اگر میرے پاس اس پہاڑ برابر سونا ہو اور میں اسے خرچ کر دوں اور وہ مجھ سے قبول بھی ہو جائے اور پھر میں اپنے پیچھے چھ اوقیہ چھوڑ جاؤں ۔‘‘ عثمان ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ، کیا آپ نے اسے سنا ہے ؟ تین مرتبہ کہا ، انہوں نے فرمایا : ہاں ۔ ضعیف ۔
عقبہ بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے مدینہ میں نبی ﷺ کے پیچھے نماز عصر ادا کی تو آپ سلام پھیر کر کھڑے ہوئے اور تیزی کے ساتھ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی بعض ازواج مطہرات کے حجروں کی طرف تشریف لے گئے ، صحابہ کرام آپ کی اس تیزی اور جلدی سے پریشان ہو گئے جب آپ ان کے پاس واپس تشریف لائے اور آپ نے دیکھا کہ انہوں نے آپ کی تیزی پر تعجب کیا ہے ، آپ نے فرمایا :’’ مجھے سونے کی ایک ڈلی (ٹکڑا) یاد آ گئی جو ہمارے پاس تھی ، مجھے ناگوار گزرا کہ وہ مجھے اللہ کی یاد سے روکے رکھے ، لہذا میں نے اس کی تقسیم کا حکم فرما دیا ۔‘‘ بخاری ، اور صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے ، فرمایا :’’ میں نے صدقہ کی سونے کی ڈلی گھر چھوڑی تھی ، میں نے اسے رات بھر گھر رکھنا نا پسند کیا ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ، جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تو میرے پاس آپ کے چھ یا سات دینار تھے ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں انہیں تقسیم کر دوں ، لیکن نبی ﷺ کی تکلیف نے مجھے مصروف رکھا ، آپ نے ان کے متعلق پھر مجھ سے پوچھا :’’ آپ نے ان چھ یا سات دیناروں کا کیا کیا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! آپ کی تکلیف نے مجھے مصروف کر دیا ، انہوں نے وہ منگائے ، پھر انہیں اپنی ہتھیلی میں رکھا ، فرمایا :’’ اللہ کا نبی کیا گمان کرے کہ وہ اللہ عزوجل سے ملاقات کرے اور یہ اس کے پاس ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بلال ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو اس وقت کھجوروں کا ایک ڈھیر ان کے پاس تھا ، آپ نے فرمایا :’’ بلال ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میں نے کل کے لیے کچھ ذخیرہ کیا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم ڈرتے نہیں کہ کل روز قیامت تو اسے جہنم کی آگ دیکھے گا ، بلال ! خرچ کر اور عرش والی ذات سے مفلسی کا اندیشہ نہ کر ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سخاوت ، جنت میں ایک درخت ہے ، پس جو شخص سخی ہو گا تو وہ اس کی ایک شاخ کو پکڑ لے گا ، پھر شاخ اسے نہیں چھوڑے گی حتیٰ کہ وہ اسے جنت میں لے جائے گی ، جبکہ بخیلی و طمع جہنم کا ایک درخت ہے جو شخص بخیل ہو گا تو وہ اس کی ایک شاخ پکڑ لے گا ، اور وہ شاخ اسے نہیں چھوڑے گی حتیٰ کہ اسے جہنم میں لے جائے گی ۔‘‘ ضعیف ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صدقہ کرنے میں جلدی کیا کرو ، کیونکہ بلاء و مصیبت اس سے آگے نہیں پہنچ سکتی ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔