TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زکوۃ کا بیان - زکوۃ کا بیان - Book 6 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 6 of Mishkat, with 9 chapters and 184 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

184 Hadith · 9 Chapters
بَابُ صَدَقَةِ الْمَرْأَةِ مِنْ مَالِ الزَّوْجِ
بیوی کا شوہر کے مال سے صدقہ کرنے کا بیان
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءُ قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كَلٌّ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا وَأَزْوَاجِنَا فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ؟ قَالَ: «الرطب تأكلنه وتهدينه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نے خواتین سے بیعت لی تو ایک با وقار (بلند قامت) خاتون کھڑی ہوئی گویا وہ مضر قبیلے کی خاتون تھی ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! ہم اپنے باپوں ، بیٹوں اور شوہروں پر بوجھ ہیں ، سو ان کے اموال میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تروتازہ چیزیں جو تم کھاتی ہو اور ہدیہ کرتی ہو ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۶۸۶) * زیاد بن جبیر عن سعد مرسل (انظر المراسیل لابن ابی حاتم ص ۶۱) ۔
1952
Zaeef
بَابُ صَدَقَةِ الْمَرْأَةِ مِنْ مَالِ الزَّوْجِ
بیوی کا شوہر کے مال سے صدقہ کرنے کا بیان
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ فَقَالَ: «لِمَ ضَرَبْتَهُ؟» فَقَالَ يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ فَقَالَ: «الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أأتصدق مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَالْأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابی اللحم کے آزاد کردہ غلام عمیر بیان کرتے ہیں ، میرے آقا نے گوشت بنانے کے متعلق مجھے حکم فرمایا تو اتنے میں ایک مسکین میرے پاس آیا میں نے اس میں سے کچھ اسے کھلا دیا ، میرے آقا کو اس کا پتہ چلا تو اس نے مجھے مارا ، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے یہ واقعہ ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اسے بلا کر فرمایا :’’ تم نے اسے کیوں مارا ؟‘‘ اس نے کہا : یہ میرا کھانا میرے حکم کے بغیر دیتا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اجر تم دونوں کو ملتا ہے ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے : انہوں نے کہا : میں مملوک تھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا : کیا میں اپنے مالکوں کے مال میں سے کوئی چیز صدقہ کر لیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، اجر تمہارے درمیان نصف نصف ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۸۲ / ۱۰۲۵) ۔
1953
Sahih
بَاب من لَا يعود فِي الصَّدَقَة
صدقہ واپس نہ لینے کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَبِيعُهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا تَشْتَرِهِ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كالعائد فِي قيئه»
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے کسی شخص کو فی سبیل اللہ ایک گھوڑا بطور سواری عطا کیا تو اس نے اسے ضائع کر دیا ، میں نے اسے خریدنا چاہا اور مجھے خیال ہوا کہ وہ اسے ارزاں نرخوں پر فروخت کر دے گا ، میں نے نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے خریدو ، نہ اپنا صدقہ واپس لو خواہ وہ اسے ایک درہم میں تمہیں عطا کرے ، کیونکہ اپنا صدقہ واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو اپنی قے چاٹ جاتا ہے ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ اپنا صدقہ واپس نہ لے ، کیونکہ اپنا صدقہ واپس لینے والا ، اپنی قے چاٹنے والے کی طرح ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۴۹۰) و مسلم (۷ / ۱۶۲۲) ۔ 4163-4165
1954
Sahih
بَاب من لَا يعود فِي الصَّدَقَة
صدقہ واپس نہ لینے کا بیان
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَت يَا رَسُول الله إِنِّي كنت تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ قَالَ: «وَجَبَ أَجَرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ» . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أفأصوم عَنْهَا قَالَ: «صومي عَنْهَا» . قَالَت يَا رَسُول الله إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ: «نعم حجي عَنْهَا» . رَوَاهُ مُسلم
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا جب ایک خاتون آپ کے پاس آئی ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی صدقہ کی تھی اور وہ (یعنی والدہ) وفات پا گئی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارا اجر واجب ہو گیا اور وہ بطور میراث تمہارے پاس واپس آ گئی ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر ایک ماہ کے روزے اس کے ذمے ہوں تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی طرف سے روزے رکھو ۔‘‘ اس عورت نے عرض کیا : اس نے تو حج بھی نہیں کیا تھا ، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، اس کی طرف سے حج کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۵۷ / ۱۱۴۹) ۔ 2697
1955
Sahih