مشکوۃ

Mishkat

دعاؤں کا بیان

رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کا بیان

بَاب سَعَة رَحْمَة الله


وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ قَدْ تَحَلَّبَ ثديُها تسْعَى إِذا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟» فَقُلْنَا: لَا وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لَا تَطْرَحَهُ فَقَالَ: «لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِها»

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے ، ان قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کی چھاتی سے دودھ نکل رہا تھا ، وہ دوڑتی پھرتی تھی ، جب وہ قیدیوں میں کوئی بچہ پاتی تو اسے پکڑ کر اپنے پیٹ سے لگاتی اور اسے دودھ پلاتی ، نبی ﷺ نے ہمیں فرمایا :’’ کیا تم گمان کر سکتے ہو یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، نہیں ، اگر وہ اسے نہ پھینکنے پر قادر ہو ، (تو وہ نہیں پھینکے گی) ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اپنے بندوں پر اس عورت سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنا یہ اپنے بچے پر مہربان ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۹۹۹) و مسلم (۲۲ / ۲۷۵۴) ۔ 6978