مشکوۃ

Mishkat

دعاؤں کا بیان

مختلف اوقات کی دعاؤں کا بیان

بَاب الدَّعْوَات فِي الْأَوْقَاف


وَعَن عليّ: أَنَّهُ جَاءَهُ مُكَاتَبٌ فَقَالَ: إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ كتابي فَأَعِنِّي قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلٍ كَبِيرٍ دَيْنًا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ. قُلْ: «اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ جَابِرٍ: «إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ» فِي بَابِ «تَغْطِيَةِ الْأَوَانِي» إِن شَاءَ الله تَعَالَى

علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک مکاتب ان کے پاس آیا تو اس نے کہا : میں اپنی آزادی کے لئے طے شدہ رقم ادا کرنے سے عاجز ہوں لہذا آپ ؓ میری مدد فرمائیں ، انہوں نے فرمایا : کیا میں تجھے چند کلمات نہ سکھاؤں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے ، اگر تجھ پر کسی بڑے پہاڑ کے برابر قرض ہو گا تو اللہ اسے تجھ سے ادا کر دے گا ، کہو :’’ اے اللہ ! تو اپنی حلال کردہ چیز کے ذریعے اپنی حرام کردہ چیز سے مجھے کافی ہو جا اور اپنے فضل کے ذریعے اپنے علاوہ مجھے سب سے بے نیاز کر دے ۔‘‘ ہم جابر ؓ سے مروی حدیث ((اِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْکِلَابِ)) باب تغطیۃ الاوانی میں ان شاء اللہ ذکر کریں گے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۶۳ و قال : حسن غریب) و البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۴ ح ۱۷۷) [و صححہ الحاکم (۱ / ۵۳۸) و وافقہ الذھبی]0 حدیث : اذا سمعتم نباح الکلاب ، یاتی (۴۳۰۲) ۔