TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3554 - Chapter: The ruling on coitus interrupts ('Azl) - The book of marriage - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 11 of 18 in this chapter
Chapter: The ruling on coitus interrupts ('Azl)
عزل (انزال کے وقت علیحدہ ہو جانے کےبارے میں)شریعت کاحکم
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، سَمِعَهُ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: «مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ، وَإِذَا أَرَادَ اللهُ خَلْقَ شَيْءٍ، لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was asked about 'azl, whereupon he said: The child does not come from all the liquid (sermen) and when Allah intends to create anything nothing can prevent it (from coming into existence).
عبداللہ بن وہب نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے معاویہ بن صالح نے علی بن ابو طلحہ سے خبر دی ، انہوں نے ابو وداک سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں ( ابووداک ) نے ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا ، آپ نے فرمایا : "" ہر پانی ( منی کے قطرے ) سے بچہ پیدا نہیں ہوتا ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے کوئی چیز روک نہیں سکتی ۔ "" ( زید بن حباب نے معاویہ سے ، باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی
3554
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

51
1
Chapter: The ruling on one who seeks to divide the muslims when they are united
مسلمانوں کی جمیعت میں تفریق ڈالنے والے کےبارے میں شریعت کا فیصلہ
Sahih Muslim
2
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
Musnad Ahmad
3
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
Musnad Ahmad
4
(97) CHAPTER. The coitus interruptus.
عزل کا حکم کیا ہے ؟
Sahih Bukhari
5
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
Sahih Muslim
6
Chapter: The ruling on semen
منی کاحکم
Sahih Muslim
7
Chapter: Giving to those whose hearts have been inclined (towards Islam) and to those for whose faith there is fear if they are not given anything, and putting up with the one who asks rudely due to ignorance, and the Khawarij and rulings regarding them
جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہو اور جن کا ایمان نہ ہونے کی بنا پرضائع ہونے کا خطرہ ہو‘ان کو دینا ‘جہالت کی بناپر مذموم طریقے سے مانگنے والے کو برداشت کرنا ‘اور خوارج اور ان کے بارے میں احکام شریعت
Sahih Muslim
8
قتل و غارت کرنے اور مرتد ہو جانے والوں کے بارے میں(شریعت کا ) حکم
Sahih Muslim
9
Chapter: It is recommended to take the stones out of dates, and it is recommended for the guest to pray for the host and to ask a righteous guest to supplicate, and he should respond to that request
کھجور کھا تے وقت گٹھلیاں علیحدہ رکھنا مہمان کا کھانا کھلا نے والوں کے لیے دعا کرنا نیک مہمان سے دعا کی درخواست کرنا اور اس (مہمان) کی طرف سے اس درخواست کو قبول کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
10
Chapter: The Meaning Of Every Child Is Born In A State Of Fitrah And The Ruling On The Dead Children Of The Disbelievers And Of The Muslims.
(فرمان نبوی: ) ہر بچہ پیدا ہونے والے بچے کی ولادت فطرت پر ہوتی ہے کا مفہوم اور کافروں اور مسلمانوں کے فوت ہو جانے والے بچوں کا حکم؟
Sahih Muslim
11
Chapter: Verification Of Hadith And The Ruling On Writing Down Knowledge
حدیث کے بارے میں احتیاط وتحقیق اور علم کی کتابت کاحکم
Sahih Muslim
12
CHAPTER: Ruling on one who apostatizes.
باب: مرتد ( دین اسلام سے پھر جانے والے ) کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
13
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
Musnad Ahmad
14
شریعت میں کہانت کے حکم اور اس کے مصدر کا بیان، نیز بعض امور میں کاہن کی کیسے تصدیق کی جائے گی؟
Musnad Ahmad
15
زندہ جانور سے علیحدہ کئے ہوئے حصے کے مردار ہو نے اور ان ذبیحوں کا بیان، جن کو کھانا جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
16
(21) CHAPTER. Menstruating women should keep away from the Musalla.
حائضہ عورتیں عیدگاہ سے علیحدہ رہیں
Sahih Bukhari
17
(9) CHAPTER. Whoever thought it sufficient to invoke Allah for rain in the Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer).
پانی کی دعا کرنے میں جمعہ کی نماز کو کافی سمجھنا ( یعنی علیحدہ استسقاء کی نماز نہ پڑھنا اور اس کی نیت کرنا یہ بھی استسقاء کی ایک شکل ہے )
Sahih Bukhari
18
(79) CHAPTER. One should not feel shy of the truth in the order to comprehend (the knowledge of) the religion.
شریعت کی باتیں پوچھنے میں شرم نہیں کرنی چایئے ۔
Sahih Bukhari
19
(5) CHAPTER. If somebody does not seek authority of ruling, then Allah will surely help him (if he is given such authority).
جسے بن مانگے سرداری ملے تو اللہ اس کی مدد کرے گا
Sahih Bukhari
20
(8) CHAPTER. If somebody is assigned the authority of ruling some people but, he does not look after them in an honest manner!
حکومت اور سرداری کی حرص کرنا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
21
(8) CHAPTER. If somebody is assigned the authority of ruling some people but, he does not look after them in an honest manner!
جو شخص رعیت کا حاکم بنے اور ان کی خیرخواہی نہ کرے اس کا عذاب
Sahih Bukhari
22
Chapter: Clarifying the ruling of the action of an unbeliever if he accepts Islam after it
کافر کے اعمال کا حکم جب وہ ان کے بعد اسلام لے آئے
Sahih Muslim
23
Chapter: Obligation of believing that the message of our Prophet Muhammad (saws) is for all people, and the abrogation of all other religions
اس بات پر ایمان واجب ہے کہ ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی شریعت کے ذریعے سے باقی سب شریعتیں منسوخ کر دی گئیں
Sahih Muslim
24
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
Sahih Muslim
25
Chapter: Rulings on what was licked by a dog
جس برتن کو کتا جھوٹا کر دے ، اس کا حکم
Sahih Muslim
26
Chapter: The ruling on the urine of a nursing infant and how to wash it
شیر خوار بچے کے پیشاب کا حکم اور اس کو کیسے دھویا جائے
Sahih Muslim
27
Chapter: Ruling on the braids of a woman who is doing ghusl
غسل کرنے والی عورت کی چوٹیوں کا حکم
Sahih Muslim
28
Chapter: The Sutrah (Screen) For One Who Is Praying, And The Recommendation To Pray Facing A Sutrah. The Ruling On Passing In Front Of One Who Is Praying, And Preventing One Who Wants To Pass In Front. It Is Permissible To Lie Down In Front Of One Who Is Praying, Praying Towards One's Mount. The Command To Stand Close To The Sutrah. The Height Of The Suirah, And Related Matters
نمازی کا سترہ
Sahih Muslim
29
Chapter: What was narrated concerning one who finds relief and one from whom relief is found
آرام پانےوالا اور جس سے دوسرے آرام پائیں ‘ان کےبارے میں کیا کہا گیا؟
Sahih Muslim
30
Chapter: Clarifying that fasting begins at dawn, and a person may eat and other than that until dawn begins; And clarifying the dawn which has to do with the rulings concerning the beginning of fasting and the beginning of the time for the Subh Prayer, and other than that, which is the Second Dawn, which is called the True Dawn. The First Dawn, which is the False Dawn, has nothing to do with the rulings
روزے کاآغاز طلوع فجر سے ہوتا ہے اور فجر طلوع ہونے تک اس (روزہ دار )کے لیے کھانا وغیرہ جائز ہے
Sahih Muslim
31
Chapter: Rejection of wrong rulings and of newly-invented matters
باطل فیصلوں کو منسوخ اور دین میں نئے نکالے گے امور کو مسترد کرنا
Sahih Muslim
32
کسی چیز کے) ڈھکنے (یا تھیلی) اور (اس کے) بندھن کی شناخت رکھنا اور گمشدہ بکری اور اونٹ کے بارے میں شریعت کا حکم
Sahih Muslim
33
Chapter: Ruling on Fai' (Booty acquired without fighting)
فے کا حکم
Sahih Muslim
34
Chapter: The etiquette of eating and drinking, and rulings thereon
کھانے پینے کے آداب اور احکام
Sahih Muslim
35
Chapter: The Ruling On Lying On Ones Back With One Leg On Top Of The Other
چٹ لیٹنا اور اس حالت میں ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ(کھڑی کرکے اس ) پر رکھنا ممنوع ہے
Sahih Muslim
36
Chapter: Ruling On Using The Words 'Abd And Amah (For Slaves) And Mawla And Sayyid (For Masters)
عبداَمہ ،مَولی اور سید کے الفا ظ کا صحیح اطلا ق (استعمال )کرنے کا حکم
Sahih Muslim
37
Chapter: His Knowledge Of Allah And His Great Fear Of Him
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر اور آپ سے ایسے امور کے بارے میں بکثرت سوال کرنا جن کی ضرورت نہ ہو یا شریعت نے مکلف نہیں کیا اور پیش نہیں آئے اور اس طرح (کے بے مقصد سوالا ت )کو ترک کردینا
Sahih Muslim
38
Chapter: The Obligation To Follow Him (SAW)
شریعت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فر ما یا اس پر عمل واجب ہے جہاں آپ نے دنیوی امور کے بارے میں محض اپنی را ئے کا اظہار فرما یا ہے(اس پر عمل واجب نہیں )
Sahih Muslim
39
Chapter: It Is Recommend To Lower One's Voice When Saying Remembrance, Except In The Cases Where It Is Commanded To Raise The Voice Such As The Talbiyah Etc. It Is Recommend To Say A Great Deal, There Is No Power And No Strength Except With Allah
ذکر میں آواز دھیمی رکھنا مستحب ہے، سوائے ان مقامات کے جہاں شریعت میں اس کے لیے آواز بلند کرنے کا حکم وارد ہوا ہے، مثلا: تلبیہ (حج) وغیرہ اور لا حول ولا قوة الا بالله کثرت سے کہنا مستحب ہے
Sahih Muslim
40
CHAPTER: Intercourse Without Ejaculation.
باب: دخول سے انزال کے بغیر غسل کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: The Rulings Of Mourning For Woman Whose Husband Has Died.
باب: شوہر کی وفات پر بیوی کے سوگ منانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: What Has Been Related About The Ruling On The Land Of Khaibar.
باب: خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: The Ruling On The Land Of Yemen.
باب: یمن کی زمین کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Abrogation of the ruling that a guest may eat from the wealth of another.
باب: دوسرے کے مال سے مہمان نوازی کی حرمت جو سورۃ نساء میں تھی وہ سورۃ النور کی آیت سے منسوخ ہو گئی ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: The ruling regarding one who reviles the prophet (pbuh).
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: The ruling regarding hermaphrodites.
باب: ہجڑوں کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
47
انزال (منی نکلنے) سے غسل واجب ہو جاتا ہے
Sunnan Ibn e Maja
48
Chapter: The Ruling Of A judge Does Not Make What Is Permissible Forbidden
حاکم کا فیصلہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کرتا
Sunnan Ibn e Maja
49
Chapter: Ruling On Property Damaged By Livestock
مویشیوں نے اگر کسی کے کھیت اور باغ کو نقصان پہنچا دیا ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
50
Chapter: Ruling Concerning One Who Breaks Something
اگر کسی نے کوئی چیز توڑ دی تو اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

86
Sahih Muslim
3555
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ
A hadith like this has been transmitted by Abu Sa'id from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کی : میری ایک لونڈی ہے ، وہی ہماری خادمہ ہے اور وہی ہمارے لیے پانی لانے والی بھی ہے اور میں اس سے مجامعت بھی کرتا ہوں ۔ میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو ۔ تو آپ نے فرمایا : " اگر تم چاہو تو اس سے عزل کر لیا کرو ، ( لیکن ) یہ بات یقینی ہے کہ جو بچہ اس کے لیے مقدر میں لکھا گیا ہے وہ آ کر رہے گا ۔ " وہ شخص ( چند دن ) رکا ، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور عرض کی : وہ لونڈی حاملہ ہو گئی ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ جو اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے وہ آ کر رہے گا
Sahih Muslim
457
) وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُدْخِلُ اللهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ بِرَحْمَتِهِ، وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارِ، ثُمَّ يَقُولُ: انْظُرُوا مَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا قَدْ امْتَحَشُوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ، أَوِ الْحَيَا، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ إِلَى جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَوْهَا كَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً؟ ،
Abu Sa'id al-Khudri reported: Verily the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Allah will admit into Paradise those deserving of Paradise, and He will admit whom He wishes out of His Mercy, and admit those condemned to Hell into the Fire (of Hell). He would then say: See, he whom you find having as much faith in his heart as a grain of mustard, bring him out. They will then be brought out burned and turned to charcoal, and would be cast into the river of life, and they would sprout aj does a seed in the silt carried away by flood. Have you not seen that it comes out yellow (fresh) and intertwined?
مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے حضرت ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اہل جنت میں سے جسے چاہے گا اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا ، اور دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالے گا ، پھر فرمائے گا : دیکھو ( اور ) جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان پاؤ اس کو نکال لو ، ( ایسے ) لوگ اس حال میں نکالے جائیں گے کہ وہ جل بھن کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے ۔ انہیں زندگی یا شادابی کی نہر میں ڈالا جائے گا تو اس میں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح گھاس پھونس کا چھوٹا سا بیج سیلاب کے کنارے میں اگتا ہے تم نے اسے دیکھا نہیں کس طرح زرد ، لپٹا ہوا ، اگتا ہے ؟ ‘ ‘
Sahih Muslim
776
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ»
Abu Sa'id al-Khudri reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: Bathing is obligatory in case of seminal emission.
ابو سلمہ بن عبد الرحمان نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’پانی ، بس پانی سے ہے
Sahih Muslim
3001
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ: سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ، فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لَا؟ فَإِنْ قَالَ لَكَ: لَا يَحِلُّ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: لَا يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا بِالْحَجِّ، قُلْتُ: فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: بِئْسَ مَا قَالَ، فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: فَقُلْ لَهُ: فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ، وَمَا شَأْنُ أَسْمَاءَ وَالزُّبَيْرِ قَدْ فَعَلَا ذَلِكَ، قَالَ: فَجِئْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: فَمَا بَالُهُ لَا يَأْتِينِي بِنَفْسِهِ يَسْأَلُنِي؟ أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: فَإِنَّهُ قَدْ كَذَبَ، قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَجَّ» أَبُو بَكْرٍ فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ، ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ، وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلَا يَسْأَلُونَهُ؟ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَءُونَ بِشَيْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ، وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ لَا تَبْدَآنِ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ، ثُمَّ لَا تَحِلَّانِ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ مِنْ ذَلِكَ
Muhammad b. 'Abd al-Rahman reported: A person from Iraq said to him to inquire from 'Urwa b. Zubair for him whether a person who puts on Ihram for Hajj is allowed to put it off or not as he circumambulates the House. And if he says: No, it can't be put off, then tell him that there is a person who makes such an assertion. He (Muhammad b. 'Abd al-Rahman) then said: I asked him ( Urwa b. Zubair), where- upon he said: The person who has entered into the state of Ihram for Hajj cannot get out of it unless he has, completed the Hajj I (further) said (to him): (What) if a person makes that assertion? Thereupon he said: It is indeed unfortunate that he makes such an assertion. That person ('Iraqi) then met me and he asked me and I narrated to him (the reply of 'Urwa), whereupon he (the Iraqi) said: Tell him ('Urwa) that a person had informed him that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had done that; and why is it that Asma' and Zubair have done like this? He (Muhammad b. 'Abd al-Rahman) said: I went to him and made a mention of that to him, whereupon he ('Urwa) said: Who is he (the 'Iraqi)? I said: I do not know, whereupon he said: What is the matter that he does not come to me himself and ask me? I suppose he is an 'Iraqi. I said: I do not know, whereupon he said: He has told a lie. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) performed Hajj, and 'A'isha (Allah be pleased with her) has told me that the first thing with which he commenced (the rituals) when he arrived at Mecca was that he performed ablution and then circumambulated the Ka'ba. Then Abu Bakr performed Hajj and the first thing with which he commenced (the Hajj) as the circumambulation of the Ka'ba and nothing besides it. So did 'Umar. Then 'Uthman performed Hajj and I saw that the first thing with which he commenced the Hajj was the circumambulation of the Ka'ba and nothing besides it. Then Mu'awiya and Abdullah b. 'Umar did that. Then I performed Hajj with my father Zubair b. al-'Awwam, and the first thing with which he commenced (Hajj) was the circumambulation of the House. He then did nothing besides it. I then saw the emigrants (Muhajirin) and the helpers (Ansar) doing like this and nothing besides it. And the last one whom I saw doing like this was Ibn 'Umar. And he did not break it (the Hajj) after performing 'Umra. And Ibn 'Umar is with them. Why don't they ask him (to testify it)? And none amongst those who had passed away commenced (the rituals of Hajj) but by circumambulating the Ka'ba on their (first arrival) and they did not put off Ihram (without completing the Hajj), and I saw my mother and my aunt commencing (their Hajj) with the circumambulation of the House, and they did not put off Ihram. My mother informed me that she came and her sister, and Zubair and so and so for 'Umra, and when they had kissed the corner (the Black Stone, after Sa'i and circumambulation), they put off Ihram. And he (the 'Iraqi) has told a lie in this matter.
محمد بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ ایک عراقی شخص نے ان سے کہا : میری طرف سے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیجئے جو حج کا تلبیہ پکارتا ہے ، جب وہ بیت اللہ کاطواف کرلےتو کیا احرام سے آزاد ہوجائےگا یانہیں؟اگر وہ تمھیں جواب دیں کہ وہ آزاد نہیں ہوگا تو ان سے کہناکہ ایک شخص ہے جو یہ کہتاہے ( محمد بن عبدالرحمان نے ) کہا : میں نے عروہ سے اس کی بابت سوال کیا توا نھوں نےکہا : جو شخص حج کا احرام باندھے ، وہ حج کیے بغیر احرام سے فارغ نہیں ہوگا ۔ میں ( محمد بن عبدالرحمان ) نے عرض کی کہ ایک شخص ہے جو یہی بات کہتا ہے انھوں نے فرمایا : کتنی بری بات ہے جو اس نے کہی ہے ۔ پھر میرا ٹکراؤ ( اس عراقی ) شخص سے ہوا تو اس نے مجھ سے ( اپنے سوال کے متعلق ) پوچھا ۔ میں نے اسے بتادیا ۔ اس ( عراقی ) نے کہا : ان ( عروہ ) سے کہو ، بلاشبہ ایک شخص خبر دے رہاتھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا حکم کیا تھا ( حکم دیا تھا ) حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیا معاملہ تھا؟انھوں نے ( بھی تو ) ایسا کیا تھا ۔ ( محمد بن عبدالرحمان نے ) کہا : میں ان عروہ کے پاس آیا اور ان کو یہ بات سنائی ۔ انھوں نے پوچھا : یہ ( سائل ) کون ہے؟میں نے عرض کی : میں نہیں جانتا ۔ انھوں نے کہا : اسے کیا ہے؟وہ خود میرے پاس آکرمجھ سے سوال کیوں نہیں کرتا؟میرا خیال ہے ، وہ کوئی عراقی ہوگا ۔ میں نے کہا : میں نہیں جانتا ۔ ( عروہ نے ) کہا : بلاشبہ اس نے جھوٹ بولاہے ۔ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےخبر دی کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا ، مکہ آکر آپ نے جو کام سب سے پہلے کیا ، یہ تھا کہ آپ نے وضوفرمایا اور پھر بیت اللہ کاطواف کیا ۔ پھر ان کے بعدحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی حج کیا ، انھوں نے بھی ، سب سے پہلے جو کیا ، یہی تھا کہ بیت اللہ کا طواف کیا اور اس کےسوا کوئی کام نہ کیا ( نہ بال کٹوائے نہ احرام کھولا ) ، پھرحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہی ایسا ہی کیا ۔ پھرحضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا ۔ میں نےانھیں دیکھا ، انھوں نے بھی سب سے پہلا کام جس سے آغاز کیا ، بیت اللہ کاطواف تھا ، پھر اس کےپھر اس کے علاوہ کوئی کام نہ ہوا ۔ پھرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورعبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( نے بھی ایسا ہی کیا ) پھر میں نے اپنے والد زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حج کیا ، انھوں نے بھی سب سے پہلے جس سے آغاز کیا بیت اللہ کاطواف تھا اور اس کے علاوہ کوئی نہ تھا ، پھر میں نے مہاجرین وانصار ( کی جماعت ) کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا ۔ اس کے بعد ( بال کٹوانا احرام کھولنا ) کوئی کام نہ ہوا ۔ پھر سب سے آخر میں جسے میں نے یہ کرتے دیکھا وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔ انہوں نے بھی عمرے کے ذریعے سے اپنے حج کو فسخ نہیں کیا ، اور یہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کے پاس موجود ہیں ۔ یہ انھی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟اور نہ گزرے ہوئے لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) میں سے کسی نے ( یہ کام ) کیا ۔ وہ ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) جب بھی بیت اللہ میں قدم رکھتے تو طواف سے پہلے اور کسی چیز سے ابتداء نہ کرتے تھے ( طوا ف کرنے کے بعد ) احرام نہیں کھولتے تھے ۔ میں نے اپنی والدہ اور خالہ کو بھی دیکھا ، وہ جب بھی مکہ آتیں طواف سے پہلے کسی اور کام سے آغاز نہ کرتیں ، اس کا طواف کرتیں ، پھر احرام نہ کھولتیں ( حتیٰ کہ حج پورا کرلیتیں ) میری والدہ نے مجھے بتایا کہ وہ ، ان کی ہمشیرہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) ، حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فلاں فلاں لوگ کسی وقت عمرہ کے لئے آئے تھے ، جب انھوں نے حجر اسود کا استلام کرلیا ( اور عمرہ مکمل ہوگیا ) تو ( اس کے بعد ) انھوں نے احرام کھولا ۔ اس شخص نے اس کے بارے میں جس بات کا ذکر کیا ہے ، اس میں جھوٹ بولا ہے ۔
Sahih Muslim
5970
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَعْقُوبَ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri through another chain of transmitters.
ابو اسامہ نے ابو حازم سے ، انھوں نے سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےاور ( دوسری سند کے ساتھ ابو حازم نے ) نعمان بن ابی عیاش سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یعقوب ( بن عبدالرحمان القاری ) کی حدیث کے مانند بیا ن کیا ۔
Sahih Muslim
218
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ»
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed: Do not detest your fathers; he who detested his father committed infidelity.
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے آباء سے بے رغبتی نہ کرو ، چنانچہ جس شخص نے اپنے والد سے انحراف کیا تویہ ( عمل ) کفر ہے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 2> </ہیڈنگ 2>
Sahih Muslim
414
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ، أَنَّهُ جَاءَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَقَدَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَأَخَّرَ وَزَادَ وَنَقَصَ
Anas b. Malik, while recounting the Night journey of the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), from the mosque of Ka'bah, reported: Three beings (angels) came to him in the mosque of the Ka'bah, while he was sleeping in the sacred mosque before it (the Command of Night Journey and Accension) was revealed to him. The rest of the hadith is narrated like that of Thabit. However, some portions have occurred before and some of them have occurred after; some have been added and some deleted.
شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر نے حدیث سنائی ( کہا ) : میں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ ہمیں اس رات کے بارے میں حدیث سنا رہے تھے جس میں رسول اللہ ﷺ کو مسجد کعبہ سے رات کے سفر پر لے جایا گیا کہ آپ کی طرف وحی کیے جانے سے پہلے آپ کے پاس تین نفر ( فرشتے ) آئے ، اس وقت آپ مسجد حرام میں سوئے تھے ۔ شریک نے ’’واقعہ اسراء ‘ ‘ ثابت بنانی کی حدیث کی طرح سنایا اور اس میں کچھ چیزوں کو آگے پیچھے کر دیا اور ( کچھ میں ) کمی بیشی کی ۔ ( امام مسلم نے یہ تفصیل بتا کر پوری ورایت نقل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ )
Sahih Muslim
548
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: تَوَضَّأَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، يَوْمًا وُضُوءًا حَسَنًا ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ: «مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، غُفِرَ لَهُ مَا خَلَا مِنْ ذَنْبِهِ»
Humran, the freed slave of Uthman reported: One day Uthman b. Affan performed the ablution well, and then said: I saw Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) perform ablution, the best ablution, and then observed: He who performed ablution like this and then went towards the mosque and nothing (but the love of) prayer urged him (to do so), all his previous (minor) sins would be expiated.
مخرمہ کےوالد بکیر ( بن عبد اللہ ) نے حمران ( مولیٰ عثمان ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بہت اچھی طرح وضو کیا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کودیکھا ، آپ نے بہت اچھی طرح وضوکیا ، پھر فرمایا : ’’جس نے اس طرح وضو کیا ، پھر مسجدکی طرف نکلا ، نماز ہی نے اسے ( جانے کے لیے ) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
559
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّهُ: «رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ثُمَّ اسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَالْأُخْرَى ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدِهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا» قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ
Abdullah b. Zaid b. 'Asim al-Mazini reported: He saw Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) perform the ablution. He rinsed his mouth then cleaned his nose, then washed his face three times, then washed his right hand thrice and then the other one, thrice. He then took fresh water and wiped his head and then washed his feet till he cleaned them.
ہارون بن سعید ایلی اور ابو طاہر نےحدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ہمیں ابن وہب نےحدیث سنائی ، انہوں نےکہا : مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ حبان بن واسع نے انہیں حدیث سنائی ( کہا : ) ان کے والد نے ان سے بیان کیا ( کہا : ) انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم مازنی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ نے وضو کیا تو کلی کی ، پھر ناک جھاڑی ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور اپنا دایاں ہاتھ تین بار اور دوسرا بھی تین بار دھویا اور سرکا مسح اس پانی سے کیا جو ہاتھ میں بچا ہوا نہیں تھا اور اپنے پاؤں دھوئے حتی کہ ان کو اچھی طرح صاف کر دیا ۔ ( اسی سند کے ایک راوی ) ابو طاہر نے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا : ہمیں ابن وہب نے عمروبن حارث سے یہ حدیث سنائی ۔