TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3761 - Chapter - The book of invoking curses - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 19 of 27 in this chapter
Chapter
باب
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ لاَ ‏ ‏ ‏.‏ قَالَ سَعْدٌ بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Sa'd b. 'Ubada al-Ansari said: Messenger of Allah, tell me if a man finds his wife with another person, should he kill him? Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: No. Sa'd said: Why not? I swear by Him Who has honored you with the Truth. There upon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Listen to what your chief says.
ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے سعد بن عبادہ انصاریؓ ( انصار کے رئیس ) نے کہا یا رسول اﷲ ﷺ! اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے ساتھ کسی مرد کو پائے ( زنا کرتے ہوئے ) کیا اس کو مارڈالے؟ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا نہیں ۔ سعد نے کہا نہیں مار ڈالے قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ عزت دی ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ( اور صحابہ سے ) سنو تمہارے سردار کیا کہتے ہیں ( یعنی تعجب ہے ان سے کہ ایسی بات کہتے ہیں اﷲ تعالیٰ کے حکم کے سامنے طبیعت اور غصہ کو دخل نہ دینا چاہیے ) ۔
3761
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

0
No related chapter found.
No related chapter matched that.

Related Hadith

34
Sahih Muslim
206
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
It is reported on the authority of Qutaiba b. Sa'id who reported on the authority of Abu Huraira the hadith like that narrated from Zuhri with this exception that in the hadith narrated by 'Ala ' and Safwan b. Sulaim there is no mention of: People raise there eyes towards him, and in the hadith narrated by Hammam: The believers raise their eyes towards him, and such like words, so long as he plunders (is not) a believer, and these words were added: And no exploiter who makes an exploitation is a believer as long as he exploits It; therefore avoid and shun (these evils).
قتیبہ بن سعید ‘ عبد العزیز دراوردی ‘ علاء بن عبدالرحمٰن نے ابو ھریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ، انہوں نے نبی ﷺ سے ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
Sahih Muslim
126
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنِ الْعَلَاءِ، ح وحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيُؤْمِنُوا بِي، وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ»
It is reported on the authority of Abu Huraira that he heard the Messenger of Allah say: I have been commanded to fight against people, till they testify to the fact that there is no god but Allah, and believe in me (that) I am the messenger (from the Lord) and in all that I have brought. And when they do it, their blood and riches are guaranteed protection on my behalf except where it is justified by law, and their affairs rest with Allah. It is narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah said: I have been commanded that I should fight against people till they declare that there is no god but Allah, and when they profess it that there is no god but Allah, their blood and riches are guaranteed protection on my behalf except where it is justified by law, and their affairs rest with Allah, and then he (the Holy Prophet) recited (this verse of the Holy Qur'an): Thou art not over them a warden (lxxxviii, 22).
عبدالرحمٰن بن یعقوب نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا اله الا الله کی شہادت دیں اور مجھ پر اور جو ( دین ) میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لے آئیں ، چنانچہ جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نےمیری طرف سے اپنی جان و مال کو محفوظ کر لیا ، الا یہ کہ اس ( شہادت ) کاحق ہو اور ان کاحساب اللہ کے سپرد ہے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
564
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ»
Abu Huraira reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said. When any one of you awakes up from sleep and performs ablution, he must clean his nose three times, for the devil spends the night in the interior of his nose.
عیسیٰ بن طلحہ نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو تین ناک جھاڑے ، شیطان اس کی ناک کے بانسوں پر رات گزارتا ہے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
585
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ح، وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، جَمِيعًا عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ» بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِكٍ فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah (may peace The upon him) went out to the graveyard and said: Peace be upon you, the abode of the believing people. and If Allah so wills we shall join you.... (and so on and so forth) like the hadith narrated by Isma'il b. Ja'far except the words of Malik: Then some persons would be driven away from my Cistern.
اسماعیل کے بجائے ) عبدالعزیز دراوردی اور مالک نے علاء سے ، انہوں نے اپنےوالد عبد الرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا : ’’اے ایمان والی قوم کے دیار! تم سب پر سلامتی ہو ، ہم بھی اگر اللہ نےچاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں ۔ ‘ ‘ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی روایت کی طرح ہے ۔ ہاں مالک کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تو کچھ لوگوں کو میرے حوض سے ہٹایا جائے گا ۔ ‘ ‘ ( الا ، یعنی خبردار کے بجائے ف ، یعنی ’تو ‘ کا لفظ ہے ۔ )
Sahih Muslim
933
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ، وَزَادَ وَلَا تَرْفَعُوا قَبْلَهُ
Abu Huraira reported from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (a hadith) like it, except the words: Nor of those who err, say Amin and added: And don't rise up ahead of him.
۔ سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنیٰ روایت کی ، سوائے اس حصے کے : ’’ جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ‘ ‘ اور یہ حصہ بڑھایا : ’’ اور تم اس سے پہلے ( سر ) نہ اٹھاؤ ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
3352
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ وَقَرِيبَهُ: هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ، هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ فِيهَا خَيْرًا مِنْهُ، أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ، تُخْرِجُ الْخَبِيثَ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: A time will come for the people (of Medina) when a man will invite his cousin and any other near relation: Come (and settle) at (a place) where living is cheap, come to where there is plenty, but Medina will be better for them; would they know it! By Him in Whose Hand is my life, none amongst them would go out (of the city) with a dislike for it, but Allah would make his successor in it someone better than be. Behold. Medina is like furnace which eliminates from it the impurities. And the Last Hour will not come until Medina banishes its evils just as a furnace eliminates the impurities of iron.
۔ ہمیں عبدالعزیز یعنی دراوردی نے حدیث بیان کی ، انھوں نےعلاء سے انھوں نے ا پنے والد سے اور انھوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک وقت لوگوں پر ایسا آئے گا کہ آدمی اپنے بھتیجے اور اپنے قرابت والے کو پکارے گا کہ خوشحالی کے ملک میں خوشحالی کے ملک میں چلو ، حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا کاش کہ وہ جانتے ہوتے ۔ اور قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی شخص مدینہ سے بیزار ہو کر نہیں نکلتا مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر دوسرا شخص مدینہ میں بھیج دیتا ہے ۔ آگاہ رہو کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی مانند ہے کہ وہ میل کو نکال دیتا ہے اور قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ مدینہ اپنے شریر لوگوں کو نکال نہ دے گا جیسے کہ بھٹی لوہے کی میل کو نکال دیتی ہے ۔
Sahih Muslim
4241
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَنْذِرُوا، فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ
Abu Heraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do not take vows, for a vow has no effect against Fate; it is only from the miserly that something is extracted.
عبدالعزیز دراوردی نے ہمیں علاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نذر نہ مانا کرو ، نذر تقدیر کے معاملے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( مال ) نکلوایا جاتا ہے
Sahih Muslim
986
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith is narrated by Suhail with the same chain of transmitters.
عبد العزیز ، یعنی دراوردی نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی ہے ۔
Sahih Muslim
2027
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ كِلَاهُمَا عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ حَاتِمٍ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي السَّجْدَةِ الْأُولَى وَفِي الْآخِرَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ وَرِوَايَةُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِثْلُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ
This hadith is narrated by Abdullah b. Abu Rafi' with the same chain of transmitters but with this modification: That he recited Surah Jumu'a (lxii.) in the first rak'ah and The hypocrites came in the second rak'ah.
حاتم بن اسماعیل اور عبدالعزیز دراوردی دونوں نے ( اپنی اپنی سندکے ساتھ ) جعفر سے روایت کی ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مروان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قائم مقام گورنر بنایا ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانندہے ، سوائے اس کے کہ حاتم کی روایت ( ان الفاظ ) میں ہے : انھوں نے پہلی رکعت میں سورہ جمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ ۔ عبدالعزیز کی روایت سلیمان بن بلال کی ( سابقہ ) ر وایت کی طرح ہے ۔