TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 617 - Chapter: Starting on the right when purifying oneself and in other matters - The book of purification - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 3 in this chapter
Chapter: Starting on the right when purifying oneself and in other matters
طہارت و پاکیزگی اور ( اس سے متعلق) دیگر امور کا دائیں طرف سے آغاز کرنا
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ، فِي نَعْلَيْهِ، وَتَرَجُّلِهِ، وَطُهُورِهِ»
A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) loved to start from the right-hand side in his every act i. e. in wearing shoes, in combing (his hair) and in performing ablution.
اشعث کے ایک دوسرے شاگرد شعبہ نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ اپنے تمام معاملات میں ، اپنے جوتے پہننے ، اپنی کنگھی کرنے اور اپنے وضو کرنے میں دائیں طرف سے ابتدا کرنا پسند فرماتے تھے ۔
617
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

298
1
Chapter: That Starting From The Right Is Recommended In Purification
باب: وضو داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
2
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
Musnad Ahmad
3
(19) CHAPTER. Starting from the right side of one's head while taking a bath.
اس شخص کے متعلق جس نے اپنے سر کے داہنے حصے سے غسل کیا
Sahih Bukhari
4
(2) CHAPTER. One should mention the Name of Allah on starting to eat, and one should eat with his right hand.
کھانے کے شروع میں بسماللہ پڑھنا اوردائیں ہاتھ سے کھانا ۔
Sahih Bukhari
5
Chapter: The obligation of purifying oneself for the salat
نماز کے لیے پاکیزگی واجب ہے
Sahih Muslim
6
Chapter: The obligation of completely washing all the parts to be washed when purifying oneself
اعضائے طہارت کے تمام حصوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے
Sahih Muslim
7
Chapter: The prohibition of cleaning oneself with the right hand
دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے کی ممانعت
Sahih Muslim
8
Chapter: Starting with oneself, then one's family, then one's relatives, when spending
خرچ میں آغاز اپنی ذات سے کرے ‘پھر اپنے اہل سے‘ پھر قرابت داروں سے
Sahih Muslim
9
Chapter: Rejection of wrong rulings and of newly-invented matters
باطل فیصلوں کو منسوخ اور دین میں نئے نکالے گے امور کو مسترد کرنا
Sahih Muslim
10
Chapter: It is recommended to pass water and milk etc., to the right of the one who drinks first
دودھ،پانی یاکوئی اورمشروب تقسیم کرتے ہوئے ابتداء کرنے والے کی دائیں طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
11
Chapter: What Has Been Related About Placing The Right Hand Over The Left During the Salat
باب: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Turning From His Right And From His Left
باب: (کبھی) اپنے دائیں سے اور (کبھی) اپنے بائیں سے پلٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Those On The Right Have More Right To The Drink
باب: دائیں طرف والے مشروب کے زیادہ مستحق ہیں
Jam e Tirmazi
14
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
Musnad Ahmad
15
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
16
خوشبو، سرمہ اور ان سے متعلقہ امور کے ابواب خوشبو کے مستحب ہونے اور عمدہ ترین خوشبو کا بیان
Musnad Ahmad
17
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
Musnad Ahmad
18
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
Musnad Ahmad
19
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
Musnad Ahmad
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
Musnad Ahmad
21
غزوۂ بدر کی تاریخ، اس غزوہ میں مہاجرین وانصار کی تعداد اور اس غزوہ سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
Musnad Ahmad
22
جنگ، اس کے مقاتلین اور شہداء احد سے متعلقہ مختلف امور کابیان
Musnad Ahmad
23
صحابۂ کرام کے دورکی تحدید اور ان سے اور دوسرے حضرات سے متعلقہ تاریخی امور کا بیان
Musnad Ahmad
24
حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات
Musnad Ahmad
25
(15) CHAPTER. To wash the private parts with water after answering the call of nature.
پانی سے طہارت کرنا بہتر ہے
Sahih Bukhari
26
(18) CHAPTER. It is forbidden to clean the private parts with the right hand.
داہنے ہاتھ سے طہارت کرنے کی ممانعت ہے
Sahih Bukhari
27
(6) CHAPTER. Starting one's bath by scenting oneself with Hilab or some other scent.
اس بارے میں کہ جس نے حلاب سے یا خوشبو لگا کر غسل کیا تو اس کا بھی غسل ہوگیا
Sahih Bukhari
28
(11) CHAPTER. Pouring water with one's right hand over the left one, during the bath.
اس شخص سے متعلق جس نے غسل میں اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی گرایا
Sahih Bukhari
29
(21) CHAPTER. To screen oneself from the people while taking a bath.
اس بیان میں کہ لوگوں میں نہاتے وقت پردہ کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
30
(35) CHAPTER. It is forbidden to spit on the right side while in Salat (prayers).
اس بارے میں کہ نماز میں اپنے دائیں طرف نہ تھوکنا چاہیے ۔
Sahih Bukhari
31
(47) CHAPTER. While entering the mosque etc., one should start with the right foot.
مسجد میں داخل ہونے اور دوسرے کاموں میں بھی دائیں طرف سے ابتداء کرنے کے بیان میں
Sahih Bukhari
32
(57) CHAPTER. To stand on the right side of the Imam on the same line if only two persons (counting the Imam) are offering Salat (prayer) in congregation.
جب صرف دو ہی نمازی ہوں تو مقتدی امام کے دائیں جانب اس کے برابر کھڑا ہو
Sahih Bukhari
33
(58) CHAPTER. If a man stood on the left side of the Imam and the Imam drew him to his right side, then the Salat of none of them would be invalid.
اگر کوئی شخص امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اسے پھر دائیں طرف کر لے تو دونوں میں سے کسی کی بھی نماز فاسد نہیں ہوگی
Sahih Bukhari
34
(77) CHAPTER. If a person stands by the left side of the Imam, and the Imam draws him to the right from behind, his Salat (prayer) is correct.
اگر کوئی شخص امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اپنے پیچھے سے اسے دائیں طرف کر دے تو نماز ہو جائے گی
Sahih Bukhari
35
(159) CHAPTER. To leave or depart from the right and from the left after finishing from the Salat (prayers).
نماز پڑھ کر دائیں یا بائیں دونوں طرف پھر بیٹھنا یا لوٹنا درست ہے
Sahih Bukhari
36
(10) CHAPTER. To start from the right side while giving a bath to a dead body.
اس بیان میں کہ ( غسل ) میت کی دائیں طرف سے شروع کیا جائے
Sahih Bukhari
37
(16) CHAPTER. One should be lenient and generous in bargaining, and whoever demands his debts back should do so in a modest lenient manner.
خریدوفروخت کے وقت نرمی ، وسعت اور فیاضی کرنا اور کسی سے اپنا حق پاکیزگی سے مانگنا
Sahih Bukhari
38
(177) CHAPTER. Sprucing oneself up before receiving a delegation.
وفود سے ملاقات کے لئے اپنے کو آراستہ کرنا
Sahih Bukhari
39
(86) CHAPTER. To prepare the meals and to trouble oneself for the guest.
مہمان کے لئے پرتکلف کھانا تیار کرنا
Sahih Bukhari
40
(5) CHAPTER. Lying on one's right side.
دائیں کروٹ لیٹنا
Sahih Bukhari
41
(8) CHAPTER. Putting one's right hand under one's right cheek on sleeping.
سوتے میں دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھنا
Sahih Bukhari
42
(9) CHAPTER. Sleeping on the right side.
دائیں کروٹ پر سونا
Sahih Bukhari
43
(36) CHAPTER. To be taken to the right side in a dream.
خواب میں دائیں طرف لے جاتے دیکھنا
Sahih Bukhari
44
(3) CHAPTER. What is disliked of asking too many questions and of troubling oneself with what does not concern one.
بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے
Sahih Bukhari
45
Chapter: Clarifying that faith decreases with shortcoming in obedience, and the word Kufr may be used with regard to matters other than dsbelief in Allah, such as ingratitude for blessings and not fulfilling one's duties
اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے ، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور،مثلاً : اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے
Sahih Muslim
46
Chapter: Odd numbers when rinsing the nose and cleaning oneself with pebbles (istijmar)
طاق عدد میں ناک جھاڑنا اور طاق عدد میں ٹھوس چیز سے استنجا کرنا
Sahih Muslim
47
Chapter: Cleaning oneself after relieving oneself
استنجا کرنا
Sahih Muslim
48
Chapter: Cleaning oneself with water after defecating
قضائے حاجت کے بعد پانی سے استنجا کرنا
Sahih Muslim
49
Chapter: Covering oneself with a garment and the like while performing ghusl
غسل کرنے والے کا کپڑے وغیرہ کے ذریعے سے پردہ کرنا
Sahih Muslim
50
Chapter: It is disliked to offer salat in the presence of food that one wants to eat. It is disliked to offer salat while restraining the urge to relieve oneself, and so on
انسان جو کھانا فوراً تناول کرنا چاہتا ہے اس کی موجودگی میں اور فطری ضرورت روکتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

38
Sunnan Nisai
421
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ بِوَاسِطٍ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ .
It was narrated that 'Aishah said: The Prophet (ﷺ) used to like to start with the right as much as he could when purifying himself, putting on sandals and combing his hair - and he (the narrator) said in Wasit (a place in Iraq): And in all his affairs.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طہارت میں، جوتا پہننے میں، اور کنگھا کرنے میں جہاں تک ہو سکتا تھا داہنے کو پسند فرماتے۔
Sahih Muslim
1058
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: غَلَبَ عَلَى الْكُوفَةِ رَجُلٌ - قَدْ سَمَّاهُ - زَمَنَ ابْنِ الْأَشْعَثِ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَكَانَ يُصَلِّيَ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ. قَالَ الْحَكَمُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَقَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ: «كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُكُوعُهُ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَسُجُودُهُ، وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ» قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنَ مُرَّةَ فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَلَمْ تَكُنْ صَلَاتُهُ هَكَذَا.
Hakam reported: There dominated in Kufa a man whose name was men- tioned as Zaman b. al-Ash'ath, who ordered Abu 'Ubaidah b. 'Abdullah to lead people in prayer and he accordingly used to lead them. Whenever he raised his head after bowing, he stood up equal to the time that I can recite (this supplication): O Allah! our Lord! unto Thee be the praise which would fill the heavens and the earth, and that which will please Thee besides them I Worthy art Thou of all praise and glory. None can prevent that which Thou bestowest, and none can bestow that whichthou preventest. And the greatness of the great will not avail him against Thee. Hakam (the narrator) said: I made a mention of that to Abd al-Rahman ibn Abi Laila who reported: I heard al-Bara' b. 'Azib say that the prayer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and his bowing, and when he lifted his head from bowing, and his prostration, and between the two prostrations (all these acts) were nearly proportionate. I made a mention of that to 'Ar b. Murrah and he said: I saw Ibn Abi Laili (saying the prayer), but his prayer was not like this.
۔ عبید اللہ کے والجد معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا کہ ابن اشعث کے زمانے میں ایک شخص ( حکم نے اس کا نام لیا ) کوفہ ( کے اقتدار ) پر قابض ہو گیا ، اس نے ابو عبیدہ بن عبد اللہ ( بن مسعود ) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، وہ نماز پڑھاتے تھے ، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا : ’’ اے اللہ! ہمارب ! حمد تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور کے سوا جو چیز تو چاہے بھر جائے ۔ اے عظمت وثنا کے سزا وار! جو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی بھی دینے والا نہیں اور نہ ہی کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘ ( صرف تیری رحمت ہے جو فائدہ دے سکتی ہے ۔ ) حکم نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : میں نے براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہﷺ کی نماز ( قیام ) ، آپ کا رکوع اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے ، آپ کے سجدے اور دونوں سجدوں کے درمیان ( والا بیٹھنے ) کا وقفہ تقریباً برابر تھے ۔ شعبہ نے کہا : میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرہ سے کیا تو انہوں نے کہا : میں نے عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ کو دیکھا ہے ، ان کی نماز اس طرح نہیں ہوتی تھی ۔ ( وہ ثقہ تھے ۔ ان کی روایت قابل اعتماد ہے چاہے وہ اس پر پوری طرح عمل نہ کر سکتے ہوں
Sunnan Nisai
220
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي لَا أَطْهُرُ، ‏‏‏‏‏‏أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ خَالِدٌ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ:‏‏‏‏ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي .
It was narrated from 'Aishah that the daughter of Abu Hubaish said: O Messenger of Allah, I do not become pure, so should I stop praying? He said: No, that is a vein. Khalid said, in what I read from him, [1] And it is not menstruation, so when your period comes, stop praying, and when it goes, wash the blood from yourself and pray. [1] Meaning, before Hisham, from whom he narrates it.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابوحبیش  ( فاطمہ بنت ابوحبیش )  رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  نہیں، یہ تو ایک رگ  ( کا خون )  ہے ۔
Sunnan Nisai
367
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي لَا أَطْهُرُ، ‏‏‏‏‏‏أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ خَالِدٌ:‏‏‏‏ وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلِّي .
It was narrated from 'Aishah that the daughter of Abu Hubaish said: O Messenger of Allah, I do not become pure, so should I stop praying? He said: no, that is a vein. - (One of the narrators) Khalid said, in what I read from him - and it is not menstruation, so when your period comes, stop praying, and when it goes, wash the blood from yourself and pray.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  نہیں یہ تو رگ  ( کا خون )  ہے،  ( خالد کہتے ہیں: اور اس روایت میں جسے میں نے ہشام پر پڑھا ہے «وليست بالحيضة» کا جملہ نہیں ہے )  تو جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے  ( جسم )  سے خون دھو لو، پھر نماز پڑھو۔
Jam e Tirmazi
466
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ فَلْيُصَلِّ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَمِعْت أَبَا دَاوُدَ السِّجْزِيَّ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدًا يَذْكُرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ ضَعَّفَ 72 عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْكُوفَةِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يُوتِرُ الرَّجُلُ إِذَا ذَكَرَ وَإِنْ كَانَ بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ سفيان الثوري.
Zaid bin Aslam narrated from his father that: the Prophet said: Whoever sleeps past his Al-Witr then let him pray it in the morning.
زید بن اسلم (مرسلاً) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وتر پڑھے بغیر سو جائے، اور جب صبح کو اٹھے تو پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۲- میں نے ابوداود سجزی یعنی سلیمان بن اشعث کو سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن حنبل سے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ان کے بھائی عبداللہ میں کوئی مضائقہ نہیں، ۳- میں نے محمد ( محمد بن اسماعیل بخاری ) کو ذکر کرتے سنا، وہ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) سے روایت کر رہے تھے کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ( ان کے بھائی ) عبداللہ بن زید بن اسلم ثقہ ہیں، ۴- کوفہ کے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آدمی وتر پڑھ لے جب اسے یاد آ جائے، گو سورج نکلنے کے بعد یاد آئے۔ یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں ۲؎۔
Jam e Tirmazi
967
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ . وَفِي الْبَاب:‏‏‏‏ عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏وَالْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ثَوْبَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَبُو غِفَارٍ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وسَمِعْت مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ فَهُوَ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَأَحَادِيثُ أَبِي قِلَابَةَ إِنَّمَا هِيَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ فَهُوَ عِنْدِي عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ.
Thawban narrated that : the Prophet said: Indeed the Muslim remains in the Khurfah (harvest) of Paradise while he visits his brother Muslim.
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ برابر جنت میں پھل چنتا رہتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ثوبان کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوغفار اور عاصم احول نے یہ حدیث بطریق: «عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن أبي أسماء عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جس نے یہ حدیث بطریق: «عن أبي الأشعث عن أبي أسماء» روایت کی ہے وہ زیادہ صحیح ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوقلابہ کی حدیثیں ابواسماء ہی سے مروی ہیں سوائے اس حدیث کے یہ میرے نزدیک بطریق: «عن أبي الأشعث عن أبي أسماء» مروی ہے، ۵- اس باب میں علی، ابوموسیٰ، براء، ابوہریرہ، انس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
968
حَدَّثَنَا بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ مَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَنَاهَا . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى 12:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
(Another chain) from Thawban who narrated that: The Prophet said similarly, but he added in it: They said: 'What is the Khurfah of Paradise?' And he said: Its harvest.
اس سند سے بھی ثوبان رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: عرض کیا گیا: جنت کا خرفہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کے پھل توڑنا“۔ ایک دوسری سند سے ایوب سے اور ایوب نے ابوقلابہ سے، اور ابوقلابہ نے ابواسماء سے، اور ابواسماء نے ثوبان سے اور ثوبان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خالد الحذاء کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، اور اس میں احمد بن عبدہ نے ابواشعث کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بعض نے یہ حدیث حماد بن زید سے روایت کی ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
1240
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ أَرْبَى بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِيعُوا الْبُرَّ بِالتَّمْرِ كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِيعُوا الشَّعِيرَ بِالتَّمْرِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ بِيعُوا الْبُرُّ بِالشَّعِيرِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ خَالِدٌ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ:‏‏‏‏ بِيعُوا الْبُرَّ بِالشَّعِيرِ كَيْفَ شِئْتُمْ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَرَوْنَ أَنْ يُبَاعَ الْبُرُّ بِالْبُرِّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا اخْتَلَفَ الْأَصْنَافُ فَلَا بَأْسَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يُبَاعَ مُتَفَاضِلًا إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ وَالْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِيعُوا الشَّعِيرَ بِالْبُرِّ كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ تُبَاعَ الْحِنْطَةُ بِالشَّعِيرِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
Narrated 'Ubadah bin As-Samit: That the Prophet (ﷺ) said: Gold for gold, kind for kind; silver for silver, kind for kind; dried-dates for dried-dates, kind for kind; wheat for wheat, kind for kind; salt for salt, kind for kind; and barley for barley, kind for kind. Whoever increases or seeks an increase, then he dealt with Riba. Sell gold for silver as you wish, hand to hand; and sell wheat for dried-dates as you wish, hand to hand; and sell barley for dried-dates as you wish, hand to hand. [He said:] There are narrations on this topic from Abu Sa'eed, Abu Hurairah, Bilal, And Anas. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of 'Ubadah bin As-Samit is Hasan Sahih. Some of them reported this Hadith from Khalid, with this chain, and he said: Sell wheat for barley as you wish, hand to hand. Some of them reported this Hadith from Khalid, from Abu Qilabah, from Ash'ath, from 'Ubadah from the Prophet (ﷺ). In that Hadith, they added that Khalid said: Abu Qilabah said: Sell wheat for barley as you wish, hand to hand. This Hadith is acted upon according to the people of knowledge, they do not think that one may sell wheat for wheat except when it is the same kind for the same kind, and (the same for) barely in exchange for barley, kind for kind. When the items are themselves different, then there is no harm in one being more than the other if it is hand to hand. This is saying of most of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others. It is the view of Sufyan Ath-Thawri, Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq. Ash-Shafi'i said: And the proof for that is the saying of the Prophet (ﷺ): 'Sell barley for wheat as you wish, hand to hand.' [Abu 'Eisa said:] Some of the people of knowledge considered it disliked that wheat be sold for barely unless it was kind for kind. This is the view of Malik bin Anas, but the first view is more correct.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے سے، چاندی کو چاندی سے، کھجور کو کھجور سے، گیہوں کو گیہوں سے، نمک کو نمک سے اور جو کو جو سے برابر برابر بیچو، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا معاملہ کیا۔ سونے کو چاندی سے نقداً نقد، جیسے چاہو بیچو، گیہوں کو کھجور سے نقداً نقد جیسے چاہو بیچو، اور جو کو کھجور سے نقداً نقد جیسے چاہو بیچو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کو خالد سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ گیہوں کو جو سے نقدا نقد جیسے چاہو بیچو، ۳- بعض لوگوں نے اس حدیث کو خالد سے اور خالد نے ابوقلابہ سے اور ابوقلابہ نے ابوالاشعث سے اور ابوالاشعث نے عبادہ سے اور عبادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: خالد کہتے ہیں: ابوقلابہ نے کہا: گیہوں کو جو سے جیسے سے چاہو بیچو۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی، ۴- اس باب میں ابوسعید، ابوہریرہ، بلال اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۵- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ لوگ گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے صرف برابر برابر ہی بیچنے کو جائز سمجھتے ہیں اور جب اجناس مختلف ہو جائیں تو کمی، بیشی کے ساتھ بیچنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ بیع نقداً نقد ہو۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا یہی قول ہے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ جو کو گیہوں سے نقدا نقد جیسے چاہو بیچو، ۶- اہل علم کی ایک جماعت نے جو سے بھی گیہوں کے بیچنے کو مکروہ سمجھا ہے، الا یہ کہ وزن میں مساوی ہوں، پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3789
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated Ibn 'Abbas: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Love Allah for what He nourishes you with of His Blessings, love me due to the love of Allah, and love the people of my house due to love of me.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلا رہا ہے، اور محبت کرو مجھ سے اللہ کی خاطر، اور میرے اہل بیت سے میری خاطر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔