TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4425 - Chapter: One who confesses to Zina - The book of legal punishments - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 17 in this chapter
Chapter: One who confesses to Zina
جس نے اپنے بارے میں زنا کا اعتراف کیا
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَصِيرٍ، أَشْعَثَ، ذِي عَضَلَاتٍ، عَلَيْهِ إِزَارٌ، وَقَدْ زَنَى، فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ، تَخَلَّفَ أَحَدُكُمْ يَنِبُّ نَبِيبَ التَّيْسِ، يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ، إِنَّ اللهَ لَا يُمْكِنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَكَالًا» أَوْ «نَكَّلْتُهُ»، قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: «إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ
Jabir b. Samura reported that there was brought to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) a short-statured person with thick uncombed hair, muscular body, having a mantle around him and he had committed adultery. He turned him away twice and then made pronouncement about him and he was stoned. Then Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: We set out for Jihad in the cause of Allah and one of you lagged behind and shrieked like the bleating of a male goat and one of then (goats' gave a small quantity of milk. In case Allah gives me power over one of them, I will punish him (in such a way that it may have a deterrent effect upon others). In another narration transmitted on the authority of Sa'id b Jubair (the words are), that He (the Holy Prophet) turned him away four times.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹے قد ، پراگندہ بالوں اور مضبوط پٹھوں والا ایک شخص لایا گیا ، اس ( کے جسم ) پر ایک تہبند تھا اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا ، آپ نے اسے دوبارہ لوٹایا ، پھر اسے ( رجم کرنے کا ) حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خطبہ دیتے ہوئے ) فرمایا : "" ہم جب بھی اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو تم لوگوں میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے ، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح جوش سے آوازیں نکالتا ہے اور عورتوں میں سے کسی کو ( آمادہ کرنے کے لیے ) معمولی سی چیز پیش کرتا ہے ۔ بلاشبہ اللہ جب بھی مجھے ان میں سے کسی ایک پر قابو دے گا تو میں لازما اسے ( لوگوں کے لیے ) عبرت بنا دوں گا ، یا عبرتناک سزا دوں گا کہا : میں نے یہ حدیث سعید بن جبیر کو بیان کی تو انہوں نے کہا : آپ نے اسے چار بار واپس کیا تھا
4425
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

767
1
جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا، یا اس پر زنا کی تہمت لگائی، جبکہ وہ بری ہو، اس کی سزا کا بیان
Musnad Ahmad
2
چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
Musnad Ahmad
3
(16) CHAPTER. Whoever performed the ablution of Janaba and then washed his body but did not wash once again the parts which were washed in ablution.
اس بارے میں کہ جس نے جنابت میں وضو کیا پھر اپنے تمام بدن کو دھویا ، لیکن وضو کے اعضاء کو دوبارہ نہیں دھویا
Sahih Bukhari
4
(28) CHAPTER. Can a ruler say to the one who confesses his crime of adultery, “Can't be that you have only touched the lady or winked at her?
کیا امام ( زنا کا ) اقرار کرنے والے سے یہ کہے کہ شایدتو نے چھوا ہو یا آنکھ سے اشارہ کیا ہو
Sahih Bukhari
5
Chapter: Stern warning against accusing a slave of fornication
اس کے بارے میں سخت وعید جس نے اپنے غلام پرزنا کی تہمت لگائی
Sahih Muslim
6
Chapter: Allah's Saying: These Two Opponents Dispute With Each Other About Their Lord
فرمان باری تعالیٰ: یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا کی تفسیر
Sahih Muslim
7
CHAPTER: If the man confess to zina but the woman does not.
باب: جب مرد زنا کا اقرار کرے اور عورت انکار کرے تو کیا ہو گا ؟
Sunnan Abu Dawood
8
CHAPTER: A slave girl commits zina and has not been married.
باب: غیر شادی شدہ لونڈی زنا کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
9
باب: حاکم اس شخص کو بلوا سکتا ہے جس کے بارے میں اس کو خبر ہے کہ اس نے زنا کیا ہے۔
Sunnan Nisai
10
(77)Chapter: Should A Woman Undo Her Hair For Ghusl?
باب: کیا عورت غسل کے وقت اپنے بال کھولے؟
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Kills His Son: Is He To Suffer Requital For Him Or Not ?
باب: آدمی اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو کیا قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Supplicating When One Goes To His Bed
باب: آدمی جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کیا دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
13
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
Musnad Ahmad
14
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
15
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
باطل چیز پر جھگڑنے والے کے گناہ کا بیان، اگرچہ بظاہر اس کے لیے فیصلہ کر دیا گیا ہو اور اس چیز کا بیان کہ کیا قاضی اپنے علم کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں
Musnad Ahmad
17
زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
Musnad Ahmad
18
جس آدمی سے شراب کا نشہ یا اس کی بو محسوس کی جا رہی ہو، کیا اس پر حکم ثابت ہو جائے گی، اگرچہ وہ اعتراف نہ کرے؟
Musnad Ahmad
19
آدمی کا اپنے محبوب کو محبت کے بارے میں بتلانے کا بیان
Musnad Ahmad
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
Musnad Ahmad
21
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
22
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
23
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ محبت، آپ کے بارے میں ان کی غیرت اور سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ کی حیات ِ مبارکہ میں جو جو عمل کیا کرتی تھیں، بعد میں بھی ان کی حفاظت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
ان خواتین کا تذکرہ جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کیا،یا جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کر دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کییا وہ خواتین کہ جن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کا وعدہ کیا
Musnad Ahmad
25
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
Musnad Ahmad
26
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
Musnad Ahmad
27
(3) CHAPTER. Whoever raises his voice in (conveying) knowledge.
اس کے بارے میں جس نے علمی مسائل کے لیے اپنی آواز کو بلند کیا
Sahih Bukhari
28
(12) CHAPTER. Whoever fixed a special day for giving (a religious talk) to the students.
اس بارے میں کہ کوئی شخص اہل علم کے لیے کچھ دن مقرر کر دے ( تو یہ جائز ہے ) یعنی استاد اپنے شاگردوں کے لیے اوقات مقرر کر سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
29
(37) CHAPTER. It is incumbent on those who are present [in a religious meeting (or conference)] to convey the knowledge to those who are absent.
اس بارے میں کہ جو لوگ موجود ہیں وہ غائب شخص کو علم پہنچائیں ، یہ قول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جناب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔ ( اور بخاری کتاب الحج میں یہ تعلیق باسناد موجود ہے )
Sahih Bukhari
30
(12) CHAPTER. Defecating while sitting over two bricks.
اس بارے میں کہ کوئی شخص دو اینٹوں پر بیٹھ کر قضاء حاجت کرے ( تو کیا حکم ہے ؟ )
Sahih Bukhari
31
(19) CHAPTER. While passing urine one should not hold his penis with his right hand.
اس بارے میں کہ پیشاب کے وقت اپنے عضو کو اپنے داہنے ہاتھ سے نہ پکڑے
Sahih Bukhari
32
(35) CHAPTER. (What is said regarding) a man who helps his companion to perform ablution (by pouring water for him).
اس شخص کے بارے میں جو اپنے ساتھی کو وضو کرائے
Sahih Bukhari
33
(52) CHAPTER. Whether to rinse the mouth after drinking milk.
اس بارے میں کہ کیا دودھ پی کر کلی کرنی چاہیے ؟
Sahih Bukhari
34
(4) CHAPTER. Pouring water thrice on one's head.
اس کے بارے میں جو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہائے
Sahih Bukhari
35
(6) CHAPTER. Starting one's bath by scenting oneself with Hilab or some other scent.
اس بارے میں کہ جس نے حلاب سے یا خوشبو لگا کر غسل کیا تو اس کا بھی غسل ہوگیا
Sahih Bukhari
36
(9) CHAPTER. Can a Junub (a person who has yet to take a bath after the sexual act or wet dream) put his hands in a pot (containing water) before washing them if they are not polluted with a dirty thing except Janaba?
کیا جنبی اپنے ہاتھوں کو دھونے سے پہلے برتن میں ڈال سکتا ہے ؟ جب کہ جنابت کے سوا ہاتھ میں کوئی گندگی نہیں لگی ہوئی ہو ۔
Sahih Bukhari
37
(14) CHAPTER. Whoever scented himself and then took a bath while the effect of scent remained even after bathing .
اس بارے میں کہ جس نے خوشبو لگائی پھر غسل کیا اور خوشبو کا اثر اب بھی باقی رہا
Sahih Bukhari
38
(19) CHAPTER. Starting from the right side of one's head while taking a bath.
اس شخص کے متعلق جس نے اپنے سر کے داہنے حصے سے غسل کیا
Sahih Bukhari
39
(20) CHAPTER. Whosoever took a bath alone (in seclusion) completely naked.
اس شخص کے بارے میں جس نے تنہائی میں ننگے ہو کر غسل کیا ۔ اور جس نے کپڑا باندھ کر غسل کیا اور کپڑا باندھ کر غسل کرنا افضل ہے
Sahih Bukhari
40
(2) CHAPTER. The washing of the husband's head and the combing of his hair by a menstruating wife.
اس بارے میں کہ حائضہ عورت کا اپنے شوہر کے سر کو دھونا اور اس میں کنگھا کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
41
(13) CHAPTER. A woman should rub her own body thoroughly during a bath after the menses.
اس بارے میں کہ حیض سے پاک ہونے کے بعد عورت کو اپنے بدن کو نہاتے وقت ملنا چاہیے
Sahih Bukhari
42
(28) CHAPTER. When a woman having bleeding in between her periods notices signs of cleanliness from her menses.
جب مستحاضہ اپنے جسم میں پاکی دیکھے تو کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
43
(29) CHAPTER. The offering of a funeral prayer for a woman who had died during (or after) delivery and its (i.e., funeral prayer's) legal way of its performing.
اس بارے میں کہ نفاس میں مرنے والی عورت پر نماز جنازہ اور اس کا طریقہ کیا ہے ؟
Sahih Bukhari
44
(2) CHAPTER. What to do if neither water nor earth is available.
اس بارے میں کہ جب نہ پانی ملے اور نہ مٹی تو کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
45
(4) CHAPTER. Can a person blow off the dust from his hands in performing Tayammum (before passing them over his face).
اس بارے میں کہ کیا مٹی پر تیمم کے لیے ہاتھ مارنے کے بعد ہاتھوں کو پھونک کر ان کو چہرے اور دونوں ہتھیلوں پر مل لینا کافی ہے ؟
Sahih Bukhari
46
(35) CHAPTER. It is forbidden to spit on the right side while in Salat (prayers).
اس بارے میں کہ نماز میں اپنے دائیں طرف نہ تھوکنا چاہیے ۔
Sahih Bukhari
47
(41) CHAPTER. It is permissible to say, “Masjid (mosque) of Bani so-and-so?”
اس بارے میں کہ کیا یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسجد فلاں خاندان والو ں کی ہے
Sahih Bukhari
48
(45) CHAPTER. If someone enters a house, should he offer prayers where he likes, or as he is told? And he should not look out to seek information about the place or do spying.
اس بارے میں کہ جب کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو کیا جس جگہ وہ چاہے وہاں نماز پڑھ لے یا جہاں اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا جائے ( وہاں پڑھے ) اور فالتو سوال و جواب نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
49
(106) CHAPTER. If a small girl is carried on one's neck during As-Salat (the prayer).
اس بارے میں کہ نماز میں اگر کوئی اپنی گردن پر کسی بچی کو اٹھالے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
50
(8) CHAPTER. A person in Salat (prayer) is speaking in private to his Lord (Allah).
اس بارے میں کہ نماز پڑھنے والا نماز میں اپنے رب سے پوشیدہ طور پر بات چیت کرتا ہے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

939
Sahih Muslim
2485
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: أَهْدَتْ بَرِيرَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمًا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهَا، فَقَال: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ»
Anas b. Malik reported that Barira presented to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) a piece of meat which had been given to her as sadaqa. Upon this he (the Holy Prophet) said: That is a Sadaqa for her and a gift for us.
حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آزاد کردہ کنیز ) حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کچھ گو شت جو اس پر صدقہ کیا گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کیا تو آپ نے فر ما یا : " وہ اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہد یہ ہے ۔
Sahih Muslim
2486
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى -، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقِيلَ: هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ»
A'isha reported that (once) the Messenger of Allah (may peace be upon him, ) was presented with beef. It was said (by someone) that it had been given to Barira as Sadaqa. Upon this he (the Prophet) said: It is a Sadaqa for her and a gift for us.
اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گائے کا گو شت پیش کیا گیا اور بتا یا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بطور صدقہ دیا گیا تھا تو آپ نے فر ما یا : " وہ اس کے لیے صدقہ اورہما رے لیے ہدیہ ہے ۔
Sahih Muslim
2494
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، كُلُّهُمْ عَنْ دَاوُدَ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَلْيَصْدُرْ عَنْكُمْ وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ»
Jarir b. 'Abdullah said: 'When the collector of sadaqat (Zakat) comes to you, (you should see) that he goes away pleased with you.
حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تمھا رے پاس صدقہ وصول کرنے والا آئے تو وہ تمھارے ہاں سے اس حال میں لو ٹے کہ وہ تم سے خوش ہو ۔
Sahih Muslim
3014
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْيُ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: This is the 'Umra of which we have taken advantage. So he who has not the sacrificial animal with him should get out of the state of Ihram completely, for 'Umra has been incorporated in Hajj until the Day of Resurrection,
محمد بن جعفر نے اور عبید اللہ بن معاذ نے اپنے والد کے واسطے سے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ لفظ عبید اللہ کے ہیں ۔ ۔ ۔ کہا شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حکم سے ، انھوں نے مجا ہد سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " یہ عمرہ ( اداہوا ) ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا ہے ( اب ) جس کے پاس قربانی کا جا نور نہ ہو وہ مکمل طور پر حلال ہو جا ئے ۔ ( احرا م کھول دے ) یقیناً ( اب ) قیامت کے دن تک کے لیے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے ( دونوں ایک ساتھ ادا کیے جا سکتے ہیں )
Sahih Muslim
3228
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ، إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً، فَقَالَ: «عَقْرَى حَلْقَى، إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا» ثُمَّ قَالَ لَهَا: «أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَانْفِرِي»،
A'isha (Allah be pleased with her) reported: When Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) decided to march (for return journey), he found Safiyyah at the door of her tent, sad and downcast. He remarked. Barren, shaven-head, you are going to detain us, and then said: Did you perform Tawaf Ifada on the Day of Nahr? She replied in the affirmative, whereupon he said: Then march on.
حکم نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب روانگی کا رادہ کیا تو اچا نک ( دیکھا کہ ) حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر دل گیراور پر یشان کھڑی تھیں آپ نے فر ما یا : " تمھا را نہ کو ئی بال نہ بچہ ! ( پھر بھی ) تم ہمیں ( یہیں ) روکنے والی ہو ۔ پھر آپ نے ان سے پو چھا : " کیا تم نے قر بانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا ؟انھوں نے جواب دیا : جی ہاں آپ نے فر ما یا : " تو ( پھر ) چلو ۔ ( یعنی ان کے پاس جا کر ان سے بھی پو چھا اور تصدیق کی )
Sahih Muslim
3538
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ، هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ»
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When a woman spends the night away from the bed of her husband, the angels curse her until morning.
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے قتادہ سے سنا وہ زرارہ بن اوفیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جب کوئی عورت ( بلا عذر ) اپنے شوہر کے بستر کو چھوڑ کر رات گزارتی ہے ، تو فرشتے اس کے صبح کرنے تک اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں
Sahih Muslim
3902
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا نَخْلٍ اشْتُرِيَ أُصُولُهَا وَقَدْ أُبِّرَتْ، فَإِنَّ ثَمَرَهَا لِلَّذِي أَبَّرَهَا، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الَّذِي اشْتَرَاهَا
Nafi reported on the authority of Ibn Umar (Allah be pleased with them) that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Whichever tree is bought with its roots, and if it is fecundatedits fruit would belong to one who has grafted it except when the provision is laid down by the buyer.
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کھجور کا جو درخت خریدا گیا اور اس کی تابیر کی گئی تھی تو اس کا پھل اسی کے لیے ہے جس نے تابیر کی ، مگر یہ کہ وہ آدمی جس نے اسے خریدا ( سودے میں اس کی ) شرط طے کر لے
Sahih Muslim
4185
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: انْطَلَقَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ كَذَا وَكَذَا مِنْ مَالِي، فَقَالَ: «أَكُلَّ بَنِيكَ قَدْ نَحَلْتَ مِثْلَ مَا نَحَلْتَ النُّعْمَانَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي»، ثُمَّ قَالَ: «أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟» قَالَ: بَلَى، قَالَ: «فَلَا إِذًا
Nu'man b. Bashir (Allah be pleased with them) reported: My father took me to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger, bear witness that I have given such and such gift to Nu'man from my property, whereupon he (the Holy Prophet) said: Have you conferred upon all of your sons as you have conferred upon Nu'man? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Call someone else besides me as a witness. And he further said: Would it, please you that they (your children) should all behave virtuously towards you? He said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Then don't do that (i e. don't give gift to one to the exclusion of others).
داود بن ابی ہند نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد مجھے اٹھائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! گواہ رہیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال میں سے اتنا اتنا دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : " کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی جیسا عطیہ دیا ہے جیسا تم نے نعمان کو دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اس پر میرے سوا کسی اور کو گواہ بناؤ ۔ " پھر فرمایا : " کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ سب تمہارے ساتھ نیکی ( حسنِ سلوک ) کرنے میں برابر ہوں؟ " انہوں نے کہا : کیوں نہیں! آپ نے فرمایا : " تو پھر ( تم بھی ایسا ) نہ کرو
Sahih Muslim
4239
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ
Ibn Umar reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade (people) taking vows, and said: It does not (necessarily) bring good (in the form of substantial, and tangible results), but it is the meant whereby something is extracted from the miserly persons.
شعبہ نے ہمیں منصور سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے نذر سے منع کیا اور فرمایا : " بلاشبہ یہ کوئی خیر لے کر نہیں آتی ، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے ( کچھ ) نکلوایا جاتا ہے