TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6462 - Chapter: The Prophet (SAW) Established Bonds Of Brotherhood Among His Companions (RA) - The book of the merits of the companions - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 4 in this chapter
Chapter: The Prophet (SAW) Established Bonds Of Brotherhood Among His Companions (RA)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو آپس میں بھائی بنانا:۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «آخَى بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ»
Anas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) established fraternity between Abu Ubaida b. Jarrah and Abu Talha.
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ۔
6462
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

541
1
(50) CHAPTER. How the Prophet established the bond of brotherhood between his Companions.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے درمیان کس طرح بھائی چارہ قائم کرایا تھا
Sahih Bukhari
2
(18) CHAPTER. The companions of the Prophet used to share the yields and fruits of their farms with each other gratis.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کھیتی باڑی میں ایک دوسرے کی مدد کس طرح کرتے تھے
Sahih Bukhari
3
(3) CHAPTER. The Prophet estabilished the bone of brotherhood (fraternity) between the Ansar and the Muhajirun (i.e., emigrants).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا
Sahih Bukhari
4
(29) CHAPTER. (The troubles which) the Mushrikun of Makkah caused the Prophet and his Companions to suffer.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہکرام رضیاللہعنہم نے مکہ میں مشرکین کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامناکیا ان کا بیان
Sahih Bukhari
5
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
Sahih Bukhari
6
(8) CHAPTER. (What is said regarding) the Qurra (the reciters of the Quran by heart) from among the Companions of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں قرآن کے قاری ( حافظ ) کون کون تھے ؟
Sahih Bukhari
7
(23) CHAPTER. What the Prophet and his Companions used to eat.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام رضیاللہعنہم کی خوارک کا بیان ۔
Sahih Bukhari
8
(17) CHAPTER. How the Prophet and his Companions used to live, and how they gave up their interest in the world.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے گزران کا بیان اور دنیا سے کنارہ کشی کا بیان
Sahih Bukhari
9
(57) CHAPTER. The Prophet and the people left the bedouin undisturbed till he finished urinating in the mosque.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک دیہاتی کو چھوڑ دینا جب تک کہ وہ مسجد میں پیشاب سے فارغ نہ ہوگیا
Sahih Bukhari
10
(37) CHAPTER. The Companions of the Prophet did not criticize each other for observing Saum (fast) or not observing Saum (fast) (on journeys).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم ( سفر میں ) روزہ رکھتے یا نہ رکھتے وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کیا کرتے تھے
Sahih Bukhari
11
(15) CHAPTER. The saying of Prophet : Slaves are your brothers, so feed them with the like of what you eat.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ” غلام تمہارے بھائی ہیں پس ان کو بھی تم اسی میں سے کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو “
Sahih Bukhari
12
(1) CHAPTER. The virtues of the Companions of the Prophet.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
13
(4) CHAPTER. The merits of Abu Bakr as next to those of the Prophet (in excellence).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضیاللہعنہ کی ( دوسرے صحابہ ) پر فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
14
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
Sahih Bukhari
15
(49) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Complete the emigration of my Companions,” and his lamentation for those (emigrants) who died in Makkah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کہ اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت قائم رکھ اور جومہاجر مکہ میں انتقال کر گئے ان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار رنج و غم
Sahih Bukhari
16
(29) CHAPTER. The invocation of the Prophet , “O Allah! (Let me join) the Highest Companions. (See Quran V.4:69)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرضالموت میں دعا کرنا کہ یا اللہ ! مجھ کو آخرت میں رفیق اعلیٰ ( ملائکہ اور انبیاء ) کے ساتھ ملا دے ۔
Sahih Bukhari
17
(8) CHAPTER. The Statement of Prophet “The Hour will not be established till two (huge) groups fight against each other, their claim being one and the same.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو ایسی جماعتیں آپس میں جنگ نہ کر لیں جن کا دعویٰ ایک ہی ہوگا
Sahih Bukhari
18
(27) CHAPTER. Something forbidden, by the Prophet (p.b.u.h.) is legally prohibited unless there is a proof that (later on) it was (made) legal. Similarly, his orders render things obigatory, as he said (to his Companions) when they finished their Ihram, Sleep with your wives.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے لوگوں کو منع کریں تو وہ حرام ہو گا مگر یہ کہ اس کی اباحت دلائل سے معلوم ہو جائے ۔
Sahih Bukhari
19
Chapter: The Presence Of The Prophet (SAW) Is A Source Of Security For His Companions And The Presence Of His Companions Is A Source Of Security For The Ummah
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بقا اپنے ساتھیوں کے لئے اور آپ کے ساتھیوں کی بقا امت کے لئے امان کی ضامن تھی:۔
Sahih Muslim
20
Chapter: The Prohibition Of Reviling The Companions (RA)
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو برا کہنا حرا م ہے۔
Sahih Muslim
21
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
22
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
Musnad Ahmad
24
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
25
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
Musnad Ahmad
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحابہ کرام سے غزوۂ بدر کے بارے میں مشاورت
Musnad Ahmad
27
عمرۂ حدیبیہ کا ذکر اور قریش کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو مکہ مکرمہ میں داخلہ سے روکنے اورصلح ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
28
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام کے مکہ مکرمہ میں داخلہ اور حصولِ فتح نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل مکہ کے ساتھ رحمت وشفقت اور عفوودرگزر کا بیان
Musnad Ahmad
29
ان صحابہ کا بیان جنھوں نے یہ روایت کی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ کے اندر نماز ادا نہیں کی
Musnad Ahmad
30
لڑائی کی تدبیروں، ابتدائی طور پر مسلمانوں کی شکست کے سبب اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اکابر صحابہ اور آلِ بیت کی ثابت قدمی کا بیان
Musnad Ahmad
31
غزوۂ تبوک میں صحابہ کرام کو سواریوں کی قلت وغیرہ سے جو سامنا رہا اس کا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صادر ہونے والے معجزات کا بیان
Musnad Ahmad
32
قیامِ تبوک کے دوران نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا صحابہ کرام کو فارس اورروم کی فتح کی بشارت دینے کا بیان اور ان خصوصیات کا بیان، جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تبوک میں نوازا اور تبوک سے واپسی پر منافقین کی ریشہ دوانیوں کا بیان
Musnad Ahmad
33
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
34
(9) CHAPTER. The Statement of the Prophet : It is probable that a person who receives a piece of information indirectly may comprehend it better than he who has heard it directly from its source.”
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل میں کہ بسا اوقات وہ شخص جسے ( حدیث ) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ ( حدیث کو ) یاد رکھ لیتا ہے ۔
Sahih Bukhari
35
(11) CHAPTER. The Prophet used to take care of the people in preaching by selecting a suitable time so that they might not run away (never made them averse or bored them with religious talk and knowledge all the time).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے نصیحت فرمانے اور تعلیم دینے کے بیان میں تاکہ انہیں ناگوار نہ ہو
Sahih Bukhari
36
(17) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Bestow on him (Ibn Abbas) the knowledge of the Book (the Quran).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ” اللہ اسے قرآن کا علم عطا فرمائیو ! “
Sahih Bukhari
37
(38) CHAPTER. The sin of a person who tells a lie against the Prophet .
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کا گناہ کس درجے کا ہے
Sahih Bukhari
38
(44) CHAPTER. The sprinkling of remaining water after performing ablution on an unconscious person by the Prophet .
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بیہوش آدمی پر اپنے وضو کا پانی چھڑکنے کے بیان میں
Sahih Bukhari
39
(56) CHAPTER. The saying of the Prophet , “The earth has been made for me a Masjid (place for praying) and a thing to purify (to perform Tayammum).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے ( یعنی تیمم کرنے ) کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
40
(122) CHAPTER. The order of the Prophet to a person who did not perform his bowing perfectly that he should repeat his Salat (prayer).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دینا جس نے رکوع پوری طرح نہیں کیا تھا
Sahih Bukhari
41
(3) CHAPTER. The Prophet used to wake his family up for the Witr prayer.
وتر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر والوں کو جگانا
Sahih Bukhari
42
(1) CHAPTER. Al-Istisqa and the going out of the Prophet to offer Istisqa prayer.
پانی مانگنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی کے لیے ( جنگل میں ) نکلنا
Sahih Bukhari
43
(2) CHAPTER. Invocation of the Prophet : O Allah! Send (drought-famine) years on them (pagans of Makkah) like the (drought-famine) years of (Prophet) Yusuf (Joseph).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے کافروں پر بددعا کرناکہ الٰہی ان کے سال ایسے کر دے جیسے یوسف علیہ السلام کے سال ( قحط ) کے گزرے ہیں
Sahih Bukhari
44
(11) CHAPTER. The saying that “The Prophet did not turn his cloak inside out during the invocation for rain on Friday.”
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن مسجد ہی میں پانی کی دعا کی تو چادر نہیں الٹائی
Sahih Bukhari
45
(17) CHAPTER. How the Prophet turned his back towards the people [while offering the SaIat (prayer) for rain].
استسقاء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف پشت مبارک کس طرح موڑی تھی ؟
Sahih Bukhari
46
(26) CHAPTER. The statement of the Prophet : “I was granted victory with As-Saba [Easterly wind (which frightened my enemies)].”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ پروا ہوا کے ذریعہ مجھے مدد پہنچائی گئی
Sahih Bukhari
47
(6) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Allah frightens Ibadahu (His devotees or slaves) with Kusuf (eclipse).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سورج گرہن کے ذریعہ ڈراتا ہے
Sahih Bukhari
48
(3) CHAPTER. How long did the Prophet stay during his Hajj?
حج کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے دن قیام کیا تھا ؟
Sahih Bukhari
49
(5) CHAPTER. The Prophet's exhorting (the people) to Tahajjud and Nawafil without making them compulsory.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کی نماز اور نوافل پڑھنے کے لیے ترغیب دلانا لیکن واجب نہ کرنا
Sahih Bukhari
50
(10) CHAPTER. How was the Salat (Tahajjud prayer) of the Prophet and how many Raka, he used to offer at night?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کی کیا کیفیت تھی ؟ اور رات کی نماز کیوں کر پڑھنی چاہیے ؟
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

110
Jam e Tirmazi
2234
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَعَلَّهُ سَيُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مِثْلُهَا ، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي الْيَوْمَ أَوْ خَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جُزَيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏لَا أَعْرِفُهُ إِلا مِنْ حَدِيثِ خَالِدٍ الْحَدَّادِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ أَيْضًا عَنْ خَالِدٍ الحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ عِبْدُ اللهِ بْنِ الْجَرَّاحِ.
Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah said: I heard the Messenger of Allah(s.a.w): 'There was never a Prophet after Nuh but that he warned his people about the Dajjal, and indeed I shall warn you of him.' Then the Messenger of Allah(s.a.w) described him for us, and he said: Perhaps some of you who see me, or hear my words shall live to see him. They said: O Messenger of Allah! How will our hearts be on that day? He said: The same – that is, as today – or better.” (Hasan)
ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”نوح علیہ السلام کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کا حال بیان کیا اور فرمایا: ”ہو سکتا ہے مجھے دیکھنے والے یا میری بات سننے والے کچھ لوگ اسے پا لیں“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”آج کی طرح یا اس سے بہتر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوعبیدہ بن جراح کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن بسر، عبداللہ بن حارث بن جزی، عبداللہ بن مغفل اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
4546
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: «اللهُمَّ، إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ
It is narrated on the authority of Anas that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said on the day of the Battle of Uhud: O Allah, if Thou wilt (defeat Muslims), there will be none on the earth to worship Thee.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( جنگِ ) احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بار بار ) یہ فرما رہے تھے : " اے اللہ! اگر تو یہ چاہتا ہے تو ( آج کےبعد ) زمین میں تیری عبادے نہ کی جائے گی ۔ " ( تیری عبادت کرنے والی آخری امت ختم ہو جائے گی
Jam e Tirmazi
965
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، ‏‏‏‏‏‏وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَأَسَدِ بْنِ كُرْزٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Aishah narrated that: The Messenger of Allah said: The believer is not afflicted by the prick of a thorn or what is worse (or greater) than that, except that by it Allah raises him in rank and removes sin from him.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، ابوعبیدہ بن جراح، ابوہریرہ، ابوامامہ، ابو سعید خدری، انس، عبداللہ بن عمرو بن العاص، اسد بن کرز، جابر بن عبداللہ، عبدالرحمٰن بن ازہر اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1145
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ:‏‏‏‏ لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ:‏‏‏‏ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا مِثْلَ الَّذِي قَضَيْتَ ، ‏‏‏‏‏‏فَفَرِحَ بِهَا ابْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْجَرَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ كلاهما، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا حَتَّى مَاتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَهَا الْمِيرَاثُ وَلَا صَدَاقَ لَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ، ‏‏‏‏‏‏لَكَانَتِ الْحُجَّةُ فِيمَا رُوِيَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُوِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ رَجَعَ، ‏‏‏‏‏‏بِمِصْرَ، ‏‏‏‏‏‏بَعْدُ عَنْ هَذَا الْقَوْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بِحَدِيثِ بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ.
Alqamah narrated that : Ibn Mas'ud was asked about a man who married a woman and he did not stipulate the dowry for her, and he did not enter into her until he died. So Ibn Mas'ud said: She gets the same dowry as other women, no less and no more, she has to observe the Iddah, and she gets inheritance. So Ma'qil bin Sinan Al-Ashja'I stood and said: The Messenger of Allah judged the same as you have judged regarding Birwa bint Washiq, a woman of ours. So Ibn Mas'ud was happy about that.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے شادی کی لیکن اس نے نہ اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اس سے صحبت کی یہاں تک کہ وہ مر گیا، تو ابن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: اس عورت کے لیے اپنے خاندان کی عورتوں کے جیسا مہر ہو گا۔ نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ اسے عدت بھی گزارنی ہو گی اور میراث میں بھی اس کا حق ہو گا۔ تو معقل بن سنان اشجعی نے کھڑے ہو کر کہا: بروع بنت واشق جو ہمارے قبیلے کی عورت تھی، کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا جیسا آپ نے کیا ہے۔ تو اس سے ابن مسعود رضی الله عنہ خوش ہوئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جراح سے بھی روایت ہے۔ ۳- یزید بن ہارون اور عبدالرزاق نے بسند «سفيان عن منصور» سے اسی طرح روایت کی ہے، ۴- ابن مسعود رضی الله عنہ سے یہ اور بھی طرق سے مروی ہے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۲؎ یہی ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۶- اور صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم صحابہ کہتے ہیں: جن میں علی بن ابی طالب، زید بن ثابت، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم بھی شامل ہیں کہتے ہیں کہ جب آدمی کسی عورت سے شادی کرے، اور اس نے اس سے ابھی دخول نہ کیا ہو اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا ہو اور وہ مر جائے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس عورت کو میراث میں حق ملے گا، لیکن کوئی مہر نہیں ہو گا ۳؎ اور اسے عدت گزارنی ہو گی۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے۔ وہ کہتے ہیں: اگر بروع بنت واشق کی حدیث صحیح ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہونے کی وجہ سے حجت ہو گی۔ اور شافعی سے مروی ہے کہ انہوں نے بعد میں مصر میں اس قول سے رجوع کر لیا اور بروع بنت واشق کی حدیث کے مطابق فتویٰ دیا۔
Jam e Tirmazi
3657
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَائِشَةَ:‏‏‏‏ أَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَسَكَتَتْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Abdullah bin Shaqiq: I said to 'Aishah: 'Which of the Companions of the Prophet (ﷺ) were the most beloved to the Messenger of Allah (ﷺ)?' She said: 'Abu Bakr.' I said: 'Then who?' She said: 'Then Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah.' He said: I said: 'Then who?'' He said: Then she was silent.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: صحابہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کون محبوب تھے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ انہوں نے کہا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: پھر ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا: پھر کون؟ تو وہ خاموش رہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3795
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ.
Narrated Abu Hurairah: narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: What an excellent man is Abu Bakr, what an excellent man is 'Umar, what an excellent man is Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah, what an excellent man is Usaid bin Hudair, what an excellent man is Thabit bin Qais bin Shammas, what an excellent man is Mua'dh bin Jabal, and what an excellent man is Mu'adh bin 'Amr bin Al-Jamuh.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے لوگ ہیں ابوبکر، عمر، ابوعبیدہ بن جراح، اسید بن حضیر، ثابت بن قیس بن شماس، معاذ بن جبل اور معاذ بن عمرو بن جموح“ ( رضی الله عنہم ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
Sahih Muslim
289
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُطِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: «لَيْسَ مِنَّا» وَلَمْ يَقُلْ «بَرِيءٌ»
This hadith is narrated on the authority of Abu Musa with this change only: That (the Holy Prophet) did not say that he had no concern but said: He is not one of us.
امام مسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے تین دیگر سندوں سے حضرت ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی مذکورہ بالا روایت بیان کی جن میں عیاض اشعری نے ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی زوجہ سے ، انہوں نے ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے واسطے سے رسول ا للہ ﷺ سے روایت کی او رباقی دو سندوں میں حضرت ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرنے والے صفوان بن محرز اور ربعی بن حراش ہیں جبکہ عیاض اشعری کی حدیث میں : ’’بری ہوں ‘ ‘ کے بجائے : ’’ ہم میں سے نہیں ‘ ‘ کےالفاظ ہیں ۔
Sahih Muslim
1291
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said two rak'ahs of the noon prayer and then gave salutation when a man from Band Sulaim came to him and said: Messenger of Allah. has the prayer been shortened, or have you forgotten? -and the rest of the hadith is the same.
علی بن مبارک نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو سلمہ نےحدیث سنائی ، کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی دور کعتیں پڑھائیں ، پھر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم کا ایک آدمی آپ کے قریب آیا اور عرض یک : اے اللہ کے رسول ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟.......اور آگے ( سابقہ ) حدیث بیان کی ۔
Sahih Muslim
2507
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The month may consist of twenty-nine days.
ابو سلمہ نے مجھے بتایا کہ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا : " مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے ۔ "