TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6614 - Chapter: Whomever Is Cursed, Reviled Or Prayed Against By The Prophet (SAW) When He Does Not Deserve That, It Will Be Purification, Reward And Mercy For Him - The book of virtue, enjoining good manners, and joining of the ties of kinshio - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 16 in this chapter
Chapter: Whomever Is Cursed, Reviled Or Prayed Against By The Prophet (SAW) When He Does Not Deserve That, It Will Be Purification, Reward And Mercy For Him
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے کسی شخص پر لعنت کی ہو، برا کہا ہو یا اس کے خلاف بددعا کی ہو اور وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ اس کے لیے تزکیہ (برائی سے پاکیزگی)، اجر اور رحمت کا باعث بن جائے گی
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَكَلَّمَاهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَأَغْضَبَاهُ فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا فَلَمَّا خَرَجَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَصَابَ مِنْ الْخَيْرِ شَيْئًا مَا أَصَابَهُ هَذَانِ قَالَ وَمَا ذَاكِ قَالَتْ قُلْتُ لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا قَالَ أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا
A'isha reported that two persons visited Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and both of them talked about a thing, of which I am not aware, but that annoyed him and he invoked curse upon both of them and hurled malediction, and when they went out I said: Allah's Messenger, the good would reach everyone but it would not reach these two. He said: Why so? I said: Because you have invoked curse and hurled malediction upon both of them. He said: Don't you know that I have made condition with my Lord saying thus: O Allah, I am a human being and that for a Muslim upon whom I invoke curse or hurl malediction make it a source of purity and reward.
جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوضحیٰ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے ، مجھے معلوم نہیں کس معاملے میں انہوں نے آپ سے گفتگو کی اور آپ کو ناراض کر دیا ، آپ نے ان پر لعنت کی اور ان دونوں کو برا کہا ، جب وہ نکل کر چلے گئے تو میں نے عرض کی : کوئی شخص بھی جسے کوئی خیر ملی ہو ( وہ ) ان دونوں کو نہیں ملی ۔ آپ نے فرمایا : " وہ کیسے؟ " کہا : میں نے عرض کی : آپ نے ان کو لعنت کی اور برا کہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں علم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا شرط کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا ہے : اے اللہ! میں صرف بشر ہوں ، لہذا میں جس مسلمان کو لعنت کروں یا برا کہوں تو اس ( لعنت اور برا بھلا کہنے ) کو اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور حصولِ اجر کا ذریعہ بنا دے ۔ "
6614
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

135
1
(62) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Our invocation against the Jews will be accepted (by Allah), but their invocations against us will not be accepted.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ یہودکے حق میں ہماری ( جوابی دعا ئیں قبول ہوتی ہیں لیکن ان کی کوئی بددعا ہمارے حق میں قبول نہیں ہوتی ۔
Sahih Bukhari
2
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
Musnad Ahmad
3
(38) CHAPTER. The sin of a person who tells a lie against the Prophet .
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کا گناہ کس درجے کا ہے
Sahih Bukhari
4
(2) CHAPTER. Invocation of the Prophet : O Allah! Send (drought-famine) years on them (pagans of Makkah) like the (drought-famine) years of (Prophet) Yusuf (Joseph).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے کافروں پر بددعا کرناکہ الٰہی ان کے سال ایسے کر دے جیسے یوسف علیہ السلام کے سال ( قحط ) کے گزرے ہیں
Sahih Bukhari
5
(39) CHAPTER. The oath taken by the Mushrikun against the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشرکین کا عہد و پیمان کرنا
Sahih Bukhari
6
(7) CHAPTER. Invoking evil of the Prophet on the disbelievers of Quraish, (Shaiba, Utba, Al-Walid and Abu jahl, etc.) and (the mention of) their death.
کفار قریش ، شیبہ ، عتبہ ، ولید اور ابوجہل بنہشام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بددعا کرنا اور ان کی ہلاکت کا بیان
Sahih Bukhari
7
(34) CHAPTER. The statement of the Prophet : (O Allah!) If I should harm somebody, let that be a means of purification and mercy for him.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اے اللہ ! اگر مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو اس کے گناہوں کے لئے کفارہ اور رحمت بنا دے
Sahih Bukhari
8
(16) CHAPTER. The Prophet did not cauterize (the amputated limbs of) those who fought (against Allah and His Messenger) and of those who were renegades (reverted from Islam) (therefore they bled) till they died.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مرتد ڈاکوؤں کے ( زخموں پر ) داغ نہیں لگوایا ، یہاں تک کہ وہ مرگئے
Sahih Bukhari
9
(18) CHAPTER. The Prophet branded the eyes of those who fought (against Allah and His Messenger ).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتدین لڑنے والوں کی آنکھوں میں سلائی پھروانا
Sahih Bukhari
10
(8) CHAPTER. The Statement of Prophet “The Hour will not be established till two (huge) groups fight against each other, their claim being one and the same.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو ایسی جماعتیں آپس میں جنگ نہ کر لیں جن کا دعویٰ ایک ہی ہوگا
Sahih Bukhari
11
(7) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) : “Whosoever takes up arms against us, is not from us.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جو ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے
Sahih Bukhari
12
(7) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) : “Whosoever takes up arms against us, is not from us.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا
Sahih Bukhari
13
Chapter: The Saying of the prophet (saws): Whoever bears weapons against us is not one of us.
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان :’’ جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ‘‘
Sahih Muslim
14
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Lying Against The Messenger Of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے
Jam e Tirmazi
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب کی فضیلت اور پاکیزگی کے بیان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ
Musnad Ahmad
16
امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
Musnad Ahmad
17
(33) CHAPTER. Whoever does not care slanders made by ignorant people against the Amirs (leaders).
حکم ( بیوقوف اور غائب لوگوں کی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کو بیچ سکتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام بن نحام کے ہاتھ بیچ ڈالا
Sahih Bukhari
18
Chapter: Ila', Keeping away from one's wives and giving them the choice, And the saying of Allah, The Most High: But if you help one another against him
ایلاء اور عورتوںسے علیحدگی اختیار کرنا اور انھیں اختیار دینا ‘نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور اگر تم دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی ‘‘
Sahih Muslim
19
CHAPTER: A stern warning against lying about the Messenger of Allah (peace be upon him).
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی سخت وعید کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
20
Chapter: “My Lord, Aid Me And Do Not Aid Against Me...”
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دعائیں
Jam e Tirmazi
21
(2) CHAPTER. “And the fifth (testimony should be) the invoking of the Curse of Allah on him if he is of those who tell a lie (against her).” (V.24:7)
آیت ( ( والخامسۃ ان لعنۃ اللہ علیہ ) ) الایۃ کی تفسیر
Sahih Bukhari
22
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “And fear the Fitnah (trial and affliction) which affects not in particular (only) those among you who do wrong...” (V.8:25). And the warning of the Prophet against Al-Fitan.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانفال میں یہ فرمانا کہ
Sahih Bukhari
23
Chapter: What Has Been Related About 'The Proof Is Required From The Claimant And The Oath Is Required From The One The Claim Is Against'
باب: گواہی مدعی پر اور قسم مدعیٰ علیہ پر ہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Supplicating Against Locusts
باب: ٹڈی پر بددعا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
Musnad Ahmad
26
(4) CHAPTER. The talk of opponents against each other.
مدعی یا مدعی علیہ ایک دوسرے کی نسبت جو کہیں
Sahih Bukhari
27
(10) CHAPTER. Should one pick up a fallen thing, lest it should be spoilt or taken by somebody who does not deserve it?
پڑی ہوئی چیز کا اٹھا لینا بہتر ہے ایسا نہ ہو وہ خراب ہو جائے یا کوئی غیر مستحق اس کو لے بھاگے
Sahih Bukhari
28
(45) CHAPTER. (The superiority of) the one keeps a horse (for the purpose of Jihad in Allah's Cause), as is indicated by the Statement of Allah: [And make ready against them all you can of power,] including steeds of war (tanks, planes, missiles, artillery etc,)... (V.8:60)
جو شخص جہاد کی نیت سے ( گھوڑا پالے ) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ( ( و من رباط الخیل ) ) کی تعمیل میں
Sahih Bukhari
29
(17) CHAPTER. The proof of the fact that Khumus is for the lmam (i.e., ruler), and taht he has the right to give thereof to some of his relatives to exclusion of others. Whatr the Prophet (p.b.u.h) distributed to Bani Al-Muttalib and Bani Hashim from the Khumus of the Khaibar booty.
اس کی دلیل کہ خمس میں امام کو اختیار ہے وہ اسے اپنے بعض ( مستحق ) رشتہ داروں کو بھی دے سکتا ہے
Sahih Bukhari
30
(8) CHAPTER. The invocation of the Imam against those who break their covenant (with the Muslims).
وعدہ توڑنے والوں کے حق میں امام کی بددعا
Sahih Bukhari
31
(5) CHAPTER. “The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger, and do mischief in the land is only that they shall be killed or crucified or their hands and feed be cut off from opposite sides...” (V.5:33)
آیت ( ( انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ) ) الخ کی تفسیر
Sahih Bukhari
32
(5) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily! Those who brought forth the slander (against Aishah ا the wife of the Prophet ) are a group among you.” (V.24:11)
آیت ( ( ان الذین جاء وا بالافک عصبۃ ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
33
(21) CHAPTER. One should appeal to Allah with determination, for nobody can force Him against His Will.
اللہ پاک سے اپنا مقصد قطعی طورسے مانگے اس لئے کہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں ہے
Sahih Bukhari
34
(58) CHAPTER. To invoke Allah against Al-Mushrikun.
مشرکین کے لئے بددعا کرنا
Sahih Bukhari
35
(15) CHAPTER. The Chapter of (the punishement for) those who wage war (against Allah and His Messenger) from the people who are disbelievers and from those who have turned renegades (converted from Islam). And the Statement of Allah: The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger, and do mischief in the land is only that they shall be killed or crucified, or their hands and their feet be cut off on the opppsite sides, or be exiled from the land... (V.5:33)
اور اللہ نے ( سورۃ المائدہ : 33 ) میں فرمایا کہ
Sahih Bukhari
36
(5) CHAPTER. (An example of hateful) compulsion (i.e., to do a thing against one's will is from being under coercion).
اکراہ کی برائی کا بیان
Sahih Bukhari
37
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “And fear the Fitnah (trial and affliction) which affects not in particular (only) those among you who do wrong...” (V.8:25). And the warning of the Prophet against Al-Fitan.
صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر بیان کرنا
Sahih Bukhari
38
(7) CHAPTER. What is said against judging (in religion) made on the basis of one's own opinion or by Qiyas (without referring to the Quran or Sunna).
دین کے مسائل میں رائے پر عمل کرنے کی مذمت ‘ اسی طرح بے ضرورت قیاس کرنے کی برائی
Sahih Bukhari
39
(15) CHAPTER. The Statement of Allah: “… And Allah warns you against Himself (i.e., punishment)...” (V.3:28)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ آلعمران میں
Sahih Bukhari
40
(41) CHAPTER. The Statement of Allah: “And you have not been hiding yourselves, lest your ears, and your eyes and your skins testify against you, but you thought that Allah knew not much of what you were doing.” (V.41:22)
سورۃ حم سجدہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان
Sahih Bukhari
41
Chapter: One in charge of a matter, who cheats his subjects, deserves the fire
اپنی رعایا سے دھوکا کرنےوالا حکمران آگ کا مستحق ہے
Sahih Muslim
42
Chapter: One who fights to show off and gain a reputation deserves Hell
جس شخص نے دکھاوے اور نام و نمود کے لیےجنگ کی وہ جہنم کا مستحق ہے
Sahih Muslim
43
Chapter: His Compassion Towards His Ummah, And His Intense Concern To Warn Them Against That Which May Harm Them
جب اللہ تعالیٰ کسی امت پررحمت کاارادہ فرماتا ہے تواس(امت) کے نبی کو ان سے پہلے اٹھا لیتاہے:۔
Sahih Muslim
44
Chapter: Glad Tidings That Whomever Allah Conceals In This World He Will Conceal Him In The Hereafter
جس کی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پردہ پوشی کی اس کے لیے بشارت ہے کہ وہ آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا
Sahih Muslim
45
CHAPTER: The Prohibition Of A Person Supplicating Against His Family And Wealth.
باب: اپنے مال اور اپنی اولاد کے لیے بددعا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: One who prays against the one who wrongs him.
باب: ظالم کو بددعا دینا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
47
باب: مظلوم کی بددعا سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
(1)Chapter: What Has Been Related That Salat Is Not Accepted Without Purification
باب: وضو (طہارت) کے بغیر نماز مقبول نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
50
(3)Chapter: What Has been Related That The Key To Salat Is Purification
باب: وضو نماز کی کنجی ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

497
Silsila Sahih
3456
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَجُلَانِ فَكَلَّمَاهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَأَغْضَبَاهُ فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا فَلَمَّا خَرَجَا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَنْ أَصَابَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا مَّا أَصَابَهُ هَذَانِ ، قَالَ: وَمَا ذَاكِ؟ قَالَتْ قُلْتُ: لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا ، قَالَ: أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُّ عَلَيْهِ رَبِّي؟ قُلْتُ: اللهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَّأَجْرًا .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے کسی مسئلے میں آپ سے بات کی، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا بات تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ دلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو لعنت ملامت کی اور سب و شتم کیا۔ جب وہ چلے گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جتنی بھلائی ان دونوں کو ملی ہے شاید ہی کسی کو ملی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: آپ نے ان دونوں کو لعنت ملامت اور سب و شتم کی، آپ نے فرمایا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں نے اپنے رب سے کون سی شرط طے کی ہے؟ میں نے دعا کی ہے: اے اللہ میں بشر ہوں، جس بھی مسلمان کو میں نے لعنت کی یا اسے گالی دی تو یہ اس کے لئے پاکیزگی اور اجر کا باعث بنا دے۔
Jam e Tirmazi
169
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمُرُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا مَعَهُمَا . وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَأَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ،‏‏‏‏ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُمَرَ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُعْفِيٍّ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ قَيْسٌ أَوْ ابْنُ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي السَّمَرِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَرِهَ قَوْمٌ مِنْهُمُ السَّمَرَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ إِذَا كَانَ فِي مَعْنَى الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا لَا بُدَّ مِنْهُ مِنَ الْحَوَائِجِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَكْثَرُ الْحَدِيثِ عَلَى الرُّخْصَةِ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا سَمَرَ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ .
Umar bin Al-Khattab narrated: Allah's Messenger would talk during the night with Abu Bakr about matters concerning the Muslims while I was with them.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مسلمانوں کے بعض معاملات میں سے ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ رات میں گفتگو کرتے اور میں ان دونوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، اوس بن حذیفہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم نے عشاء کے بعد بات کرنے کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے عشاء کے بعد بات کرنے کو مکروہ جانا ہے اور کچھ لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، بشرطیکہ یہ کوئی علمی گفتگو ہو یا کوئی ایسی ضرورت ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو ۱؎ اور اکثر احادیث رخصت کے بیان میں ہیں، نیز نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”بات صرف وہ کر سکتا ہے جو نماز عشاء کا منتظر ہو یا مسافر ہو“۔
Jam e Tirmazi
2127
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ خَطَبَنَا عَلِيٌّ، فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، ‏‏‏‏‏‏صَحِيفَةٌ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشْيَاءٌ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ كَذَبَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ فِيهَا:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، ‏‏‏‏‏‏وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَرَوَى بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَهُ.
Ibrahim At-Taimi narrated from his father: 'Ali delivered a Khutbah for us in which he said: 'Whoever claims that we have some book to read other than Allah's Book and this paper, which include camel's ages and things related to (relatiation for) wounds, then he has lied. And he said in it: Al-Madinah is sacred, what is between 'Air to Thawr, so whoever introduces in it any innovation or shelters an innovator then upon him is the curse of Allah, the angels, and all people. On the Day of Judgment, Allah will not accept his compulsory nor optional good deeds. And whoever claims someone else to be his father, or claims Wala' for someone other than his Mawali, then upon him is the curse of Allah, the angels, and the people; his compulsory and optional good deeds shall not be accepted. The covenants of the Muslims are one, it covers the rest of them. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Some of them reported it similarly from Al-A'mash, from Ibrahim At-Taimi, from Al-Harith bin Suwaid from 'Ali. [Abu 'Eisa said:] It has been reported through more than one route from 'Ali [from the Prophet (ﷺ)].
یزید بن شریک تیمی کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا اور کہا: جو کہتا ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس صحیفہ - جس کے اندر اونٹوں کی عمر اور جراحات ( زخموں ) کے احکام ہیں - کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹ کہتا ہے ۱؎ علی رضی الله عنہ نے کہا: اس صحیفہ میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیر سے لے کر ثور تک مدینہ حرم ہے ۲؎ جو شخص اس کے اندر کوئی بدعت ایجاد کرے یا بدعت ایجاد کرنے والے کو پناہ دے، اس پر اللہ، اس کے فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نہ کوئی فرض عبادت قبول کرے گا اور نہ نفل اور جو شخص دوسرے کے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے یا اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کو اپنا مالک بنائے اس کے اوپر اللہ، اس کے فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اس کی نہ فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل، مسلمانوں کی طرف سے دی جانے والی پناہ ایک ہے ان کا معمولی شخص بھی اس پناہ کا مالک ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے «عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد عن علي» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث کئی سندوں سے علی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔
Jam e Tirmazi
2212
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَتَى ذَاكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا ظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلا، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
Imran bin Husain narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: In this Ummah there shall be collapsing of the earth, transformation and Qadhf. A man among the Muslims said: O Messenger of Allah! When is that? He said: When singing slave-girls, music, and drinking intoxicants spread.
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں «خسف»،‏‏‏‏ «مسخ» اور «قذف» واقع ہو گا“ ۱؎، ایک مسلمان نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کب ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”جب ناچنے والیاں اور باجے عام ہو جائیں گے اور شراب خوب پی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث «عن الأعمش عن عبدالرحمٰن بن سابط عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً مروی ہے، ۲- یہ حدیث غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
3067
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ:‏‏‏‏ يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Abdullah: When (the following) was revealed: It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong) (6:82) - That bothered some Muslims, so they said: 'O Messenger of Allah! Which of us has not wronged himself?' He said: 'It is not that, it is only Shirk, have you not heard what Luqman said to his son: O my son! Do not commit Shirk with Allah. Verily Shirk is a tremendous Zulm (wrong) (31:13).'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم ( شرک ) کی آمیزش نہ کی“ ( الأنعام ۸۲ ) ، نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بات گراں گزری، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کون ایسا ہے جس سے اپنی ذات کے حق میں ظلم و زیادتی نہ ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( تم غلط سمجھے ) ایسی بات نہیں ہے، اس ظلم سے مراد صرف شرک ہے، کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحت کی تھی؟ انہوں نے کہا تھا: «يا بني لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اے میرے بیٹے! شرک نہ کر، شرک بہت بڑا گناہ ہے“ ( لقمان: ۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sahih Bukhari
1870
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ ، حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ ، وَلَا عَدْلٌ ، وَقَالَ : ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ ، وَلَا عَدْلٌ ، وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : عَدْلٌ فِدَاءٌ .
Narrated `Ali: We have nothing except the Book of Allah and this written paper from the Prophet (wherein is written:) Medina is a sanctuary from the 'Air Mountain to such and such a place, and whoever innovates in it an heresy or commits a sin, or gives shelter to such an innovator in it will incur the curse of Allah, the angels, and all the people, none of his compulsory or optional good deeds of worship will be accepted. And the asylum (of protection) granted by any Muslim is to be secured (respected) by all the other Muslims; and whoever betrays a Muslim in this respect incurs the curse of Allah, the angels, and all the people, and none of his compulsory or optional good deeds of worship will be accepted, and whoever (freed slave) befriends (take as masters) other than his manumitters without their permission incurs the curse of Allah, the angels, and all the people, and none of his compulsory or optional good deeds of worship will be accepted.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے ان کے والد یزید بن شریک نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس کتاب اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صحیفہ کے سوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ہے اور کوئی چیز ( شرعی احکام سے متعلق ) لکھی ہوئی صورت میں نہیں ہے۔ اس صحیفہ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ عائر پہاڑی سے لے کر فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس حد میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں میں سے کسی کا بھی عہد کافی ہے اس لیے اگر کسی مسلمان کی ( دی ہوئی امان میں دوسرے مسلمان نے ) بدعہدی کی تو اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے۔ نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل، اور جو کوئی اپنے مالک کو چھوڑ کر اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو مالک بنائے، اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل۔
Sahih Bukhari
3172
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيٌّ ، فَقَالَ : مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، فَقَالَ : فِيهَا الْجِرَاحَاتُ وَأَسْنَانُ الْإِبِلِ وَالْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا ، أَوْ آوَى فِيهَا مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ ، وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ مِثْلُ ذَلِكَ .
Narrated Ibrahim at-Tamimi's father: `Ali delivered a sermon saying, We have no book to read except the Book of Allah and what is written in this paper which contains verdicts regarding (retaliation for) wounds, the ages of the camels (given as Zakat or as blood money) and the fact that Medina is a sanctuary in between Air mountain to so-and-so (mountain). So, whoever innovates in it an heresy or commits a sin or gives shelter in it, to such an innovator will incur the Curse of Allah, the angels and all the people, and none of his compulsory or optional good deeds of worship will be accepted. And whoever (freed slave) takes as his master (i.e. befriends) other than his real masters will incur the same (Curse). And the asylum granted by any Muslim is to be secured by all the other Muslims, and whoever betrays a Muslim in this respect will incur the same (Curse).
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ (یزید بن شریک تیمی) نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے خطبہ دیا، جس میں فرمایا کہ کتاب اللہ اور اس ورق میں جو کچھ ہے، اس کے سوا اور کوئی کتاب ( احکام شریعت کی ) ایسی ہمارے پاس نہیں جسے ہم پڑھتے ہوں، پھر آپ نے فرمایا کہ اس میں زخموں کے قصاص کے احکام ہیں اور دیت میں دئیے جانے والے کی عمر کے احکام ہیں اور یہ کہ مدینہ حرم ہے عیر پہاڑی سے فلاں ( احد پہاڑی ) تک۔ اس لیے جس شخص نے کوئی نئی بات ( شریعت کے اندر داخل کی ) یا کسی ایسے شخص کو پناہ دی تو اس پر اللہ، ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل۔ اور یہ بیان ہے جو لونڈی غلام اپنے مالک کے سوا کسی دوسرے کو مالک بنائے اس پر بھی اس طرح ( لعنت ) ہے۔ اور مسلمان مسلمان سب برابر ہیں ہر ایک کا ذمہ یکساں ہے۔ پس جس شخص نے کسی مسلمان کی پناہ میں ( جو کسی کافر کو دی گئی ہو ) دخل اندازی کی تو اس پر بھی اسی طرح لعنت ہے۔
Sahih Bukhari
3179
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا كَتَبْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ .
Narrated `Ali: We did not, write anything from the Prophet except the Qur'an and what is written in this paper, (wherein) the Prophet said, Medina is a sanctuary from (the mountain of) Air to so and-so, therefore, whoever innovates (in it) an heresy or commits a sin, or gives shelter to such an innovator, will incur the Curse of Allah. the angels and all the people; and none of his compulsory or optional good deeds of worship will be accepted And the asylum granted by any Muslim Is to be secured by all the Muslims even if it is granted by one of the lowest social status among them. And whoever betrays a Muslim in this respect will incur the Curse of Allah, the angels and all the people, and his compulsory and optional good deeds of worship will not be accepted. And any freed slave will take as masters (befriends) people other than his own real masters who freed him without taking the permission of the latter, will incur the Curse of Allah, the angels and all the people, and his compulsory and optional good deeds of worship will not be accepted.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم تیمی نے، انہیں ان کے باپ (یزید بن شریک تیمی) نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بس یہی قرآن مجید لکھا اور جو کچھ اس ورق میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مدینہ عائر پہاڑی اور فلاں ( کدیٰ ) پہاڑی کے درمیان تک حرم ہے۔ پس جس نے یہاں ( دین میں ) کوئی نئی چیز داخل کی یا کسی ایسے شخص کو اس کے حدود میں پناہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی۔ نہ اس کا کوئی فرض قبول اور نہ نفل قبول ہو گا۔ اور مسلمان پناہ دینے میں سب برابر ہیں۔ معمولی سے معمولی مسلمان ( عورت یا غلام ) کسی کافر کو پناہ دے سکتے ہیں۔ اور جو کوئی کسی مسلمان کا کیا ہوا عہد توڑ ڈالے اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل! اور جس غلام یا لونڈی نے اپنے آقا اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا مالک بنا لیا، تو اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل!
Sahih Bukhari
6755
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ غَيْرَ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، قَالَ : فَأَخْرَجَهَا فَإِذَا فِيهَا أَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَأَسْنَانِ الْإِبِلِ ، قَالَ : وَفِيهَا الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ .
Narrated `Ali: We have no Book to recite except the Book of Allah (Qur'an) and this paper. Then `Ali took out the paper, and behold ! There was written in it, legal verdicts about the retaliation for wounds, the ages of the camels (to be paid as Zakat or as blood money). In it was also written: 'Medina is a sanctuary from Air (mountain) to Thaur (mountain). So whoever innovates in it an heresy (something new in religion) or commits a crime in it or gives shelter to such an innovator, will incur the curse of Allah, the angels and all the people, and none of his compulsory or optional good deeds will be accepted on the Day of Resurrection. And whoever (a freed slave) takes as his master (i.e. be-friends) some people other than hi real masters without the permission of his real masters, will incur the curse of Allah, the angels and all the people, and none of his compulsory, or optional good deeds will be accepted on the Day of Resurrection. And the asylum granted by any Muslim is to be secured by all the Muslims, even if it is granted by one of the lowest social status among them; and whoever betrays a Muslim, in this respect will incur the curse of Allah, the angels, and all the people, and none of his Compulsory or optional good deeds will be accepted on the Day of Resurrection.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ہمارے پاس کوئی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھیں، سوا اللہ کی کتاب قرآن کے اور اس کے علاوہ یہ صحیفہ بھی ہے۔ بیان کیا کہ پھر وہ صحیفہ نکالا تو اس میں زخموں ( کے قصاص ) اور اونٹوں کی زکوٰۃ کے مسائل تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ اس میں یہ بھی تھا کے عیر سے ثور تک مدینہ حرم ہے جس نے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی یا نئی بات کرنے والے کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے مولات قائم کر لی تو اس پر فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور مسلمانوں کا ذمہ ( قول و قرار، کسی کو پناہ دینا وغیرہ ) ایک ہے۔ ایک ادنی مسلمان کے پناہ دینے کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پس جس نے کسی مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو توڑا، اس پر اللہ کی، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔