TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of tribulations and protents of the last hour - کتاب: فتنے اور علامات ِقیامت - Book 54 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 54 of Sahih Muslim, with 28 chapters and 182 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

182 Hadith · 28 Chapters
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Man Passes By Another Man's Grave And Wishes That He Was In The Place Of The Deceased, Because Of Calamity
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی،آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو آزمائش کی (شدت کی) بنا پر تمنا کرے گا کہ اس مرنے والے کی جگہ وہ ہو
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَتُقَاتِلُنَّ الْيَهُودَ فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: You will fight against the Jews and you will kill them until even a stone would say: Come here, Muslim, there is a Jew (hiding himself behind me) ; kill him.
محمد بن بشیر نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہود تم سے جنگ کریں گے اور تم انھیں اچھی طرح قتل کروگے یہاں تک کہ پتھر کہے گا : اے مسلمان! یہ یہودی ہے ، آگے بڑھ ، اس کو قتل کر ۔ "
7335
Sahih
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Man Passes By Another Man's Grave And Wishes That He Was In The Place Of The Deceased, Because Of Calamity
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی،آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو آزمائش کی (شدت کی) بنا پر تمنا کرے گا کہ اس مرنے والے کی جگہ وہ ہو
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي
Ubaidullah has reported this hadith with this chain of transmitters (and the Words are): There is a Jew behind me.
یحییٰ نے ہمیں عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ ر وایت کی اور اپنی حدیث میں کہا : " یہ یہودی میرے پیچھے ہے ۔ "
7336
Sahih
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Man Passes By Another Man's Grave And Wishes That He Was In The Place Of The Deceased, Because Of Calamity
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی،آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو آزمائش کی (شدت کی) بنا پر تمنا کرے گا کہ اس مرنے والے کی جگہ وہ ہو
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَقْتَتِلُونَ أَنْتُمْ وَيَهُودُ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي تَعَالَ فَاقْتُلْهُ
Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: You and the Jews would fight against one another until a stone would say: Muslim, here is a Jew behind me; come and kill him.
عمر بن حمزہ نے کہا : میں نے سالم کو کہتے ہوئے سنا : ہمیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اور یہود آپس میں جنگ کروگے ، یہاں تک کہ پتھر کہے گا : " اے مسلمان! یہ میرے پیچھے ایک یہودی ہے ، آگے بڑھ ، اسے قتل کردے ۔ "
7337
Sahih
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Man Passes By Another Man's Grave And Wishes That He Was In The Place Of The Deceased, Because Of Calamity
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی،آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو آزمائش کی (شدت کی) بنا پر تمنا کرے گا کہ اس مرنے والے کی جگہ وہ ہو
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُقَاتِلُكُمْ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ
Abdullah b. 'Umar reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The Jews will fight against you and you will gain victory over them until the stone would say: Muslim, here is a Jew behind me; kill him.
ابن شہاب نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہودی تم سے جنگ کریں گے ( آخرکار ) تمھیں ان پر تسلط عطا کردیا جائے گا ، یہاں تک کہ پتھر ( بھی ) کہے گا : اے مسلمان! یہ یہودی میرے پیچھے ہے ، اس کو قتل کردو ۔ "
7338
Sahih
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Man Passes By Another Man's Grave And Wishes That He Was In The Place Of The Deceased, Because Of Calamity
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی،آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو آزمائش کی (شدت کی) بنا پر تمنا کرے گا کہ اس مرنے والے کی جگہ وہ ہو
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ فَيَقْتُلُهُمْ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوْ الشَّجَرُ يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The last hour would not come unless the Muslims will fight against the Jews and the Muslims would kill them until the Jews would hide themselves behind a stone or a tree and a stone or a tree would say: Muslim, or the servant of Allah, there is a Jew behind me; come and kill him; but the tree Gharqad would not say, for it is the tree of the Jews.
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہوگی ، یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں کے خلاف جنگ لڑیں گے اور مسلمان ان کو قتل کریں گے حتیٰ کہ یہودی درخت یا پتھر کے پیچھے پیچھے کا اور پتھر یا درخت کہے گا : اے مسلمان!اے اللہ کے بندے!میرے پیچھے یہ ایک یہودی ہےآگے بڑھ ، اس کوقتل کردے ، سوائے غرقد کے درخت کے ( وہ نہیں کہے گا ) کیونکہ وہ یہود کا درخت ہے ۔ "
7339
Sahih
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Man Passes By Another Man's Grave And Wishes That He Was In The Place Of The Deceased, Because Of Calamity
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی،آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو آزمائش کی (شدت کی) بنا پر تمنا کرے گا کہ اس مرنے والے کی جگہ وہ ہو
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا و قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كِلَاهُمَا عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
Jabir b. Samura reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Before the Last Hour there would be many liars, and there is an addition in the hadith transmitted on the authority of Abu Ahwas of these words: I said to him: Did you hear it from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )? He said: Yes.
ابو الاحوص اور ابو عوانہ نے سماک سے اور انھوں نے ح ضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" قیامت سے پہلے کئی کذاب ہوں گے ۔ ابو الاحوص کی حدیث میں انھوں ( ابوبکر بن ابی شیبہ ) نے مزید کہا کہ میں نے ان سے پوچھا : کیا آپ نے یہ ( بات ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟انھوں نے کہا : ہاں ۔
7340
Sahih
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Man Passes By Another Man's Grave And Wishes That He Was In The Place Of The Deceased, Because Of Calamity
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی،آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو آزمائش کی (شدت کی) بنا پر تمنا کرے گا کہ اس مرنے والے کی جگہ وہ ہو
و حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ قَالَ سِمَاكٌ وَسَمِعْتُ أَخِي يَقُولُ قَالَ جَابِرٌ فَاحْذَرُوهُمْ
This hadith has been narrated on the authority of Simak with the same chain of transmitters. and Simak said: I heard my brother say that jabir had stated: Be on your guard against them.
اور ابن مثنیٰ اور ابن بشار نے مجھے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے اسی سند کےساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔ سماک نے کہا : میں نے اپنے بھائی کوکہتے ہوئے سنا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ان ( جھوٹوں ) سے بچ کررہو ۔
7341
Sahih
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Man Passes By Another Man's Grave And Wishes That He Was In The Place Of The Deceased, Because Of Calamity
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی،آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو آزمائش کی (شدت کی) بنا پر تمنا کرے گا کہ اس مرنے والے کی جگہ وہ ہو
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The Last Hour would not come until there would arise about thirty impostors, liars, and each one of them would claim that he is a messenger of Allah.
اعرج نے حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہوگی ، یہاں تک کہ دجالوں اور کذابوں کو بھیجا جائے گا جو تیس کے قریب ہوں گے ۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرتا ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے ۔ "
7342
Sahih
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Man Passes By Another Man's Grave And Wishes That He Was In The Place Of The Deceased, Because Of Calamity
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی،آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو آزمائش کی (شدت کی) بنا پر تمنا کرے گا کہ اس مرنے والے کی جگہ وہ ہو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ يَنْبَعِثَ
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira with a slight variation of wording.
ہمام بن منبہ نے حضر ت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے کہا : یہا ں تک کہ وہ ( شیطان کی طرف سے ) مبعوث بن کر آئیں گے ۔
7343
Sahih
Chapter: Ibn Sayyad
ابن صیاد کا تذکرۃ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَا بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَكُنْ الَّذِي تَرَى فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ
Abdullah reported: We were along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that we happened to pass by children amongst whom there was Ibn Sayyad. The children made their way but Ibn Sayyad kept sitting there (and it seemed) as if Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not like it (his sitting with the children) and said to him: May your nose he besmeared with dust, don't you bear testimony to the fact that I am the Messenger of Allah? Thereupon he said: No, but you should bear testimony that I am the messenger of Allah. Thereupon 'Umar b. Khattab said: Allah's Messenger, permit me that I should kill him. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If he is that person who is in your mind (Dajjal ), you will not be able to kill him.
جریر نےاعمش سے ، انھوں نے ابو وائل سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم چند لڑکوں کے پاس سے گزرے ، ان میں ابن صیاد بھی تھا ، سب بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھ گیا ، تو ایسا لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تیرے ہاتھ خاک آلودہوں!کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ " حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کو قتل کردوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر یہ وہی ہے جو تمہارا گمان ہے تو تم اس کو قتل نہیں کرسکوگے ۔ "
7344
Sahih
Chapter: Ibn Sayyad
ابن صیاد کا تذکرۃ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا فَقَالَ دُخٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنْ يَكُنْ الَّذِي تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ
Abdullah reported: We were walking with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that Ibn Sayyad happened to pass by him. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: I have concealed for you (something to test you, so tell me that). He said: It is Dukh. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Be off. You cannot get farther than your rank, whereupon 'Umar said: Allah's Messenger, permit me to strike his neck. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Leave him; if he is that one (Dajjal) whom you apprehend, you will not be able to kill him.
ابو معاویہ نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ابن صیاد کے پاس سے گزرے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " میں تمہارے لیے ( دل میں ) ایک بات چھپائی ہے ۔ " وہ دُخَ ہے ۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " دور دفع ہوجا!تو اپنی حیثیت سے کبھی نہیں بڑھ سکےگا ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے چھوڑ دو ، اگر یہ وہی ہے جس کا تمھیں خوف ہے تو تم اس کو قتل نہیں کرسکوگے ۔ "
7345
Sahih
Chapter: Ibn Sayyad
ابن صیاد کا تذکرۃ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ مَا تَرَى قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ وَمَا تَرَى قَالَ أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْ كَاذِبَيْنِ وَصَادِقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُبِسَ عَلَيْهِ دَعُوهُ
Abu Sa'id reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) met him (Ibn Sayyad) and so did Abu Bakr and 'Umar on some of the roads of Medina. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Do you bear testimony to the fact that I am the Messenger of Allah? Thereupon he said: Do you bear testimony to the fact that I am the messenger of Allah? Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I affirm my faith in Allah and in His Angels and in His Books, and what do you see? He said: I see the throne over water. Whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: You see the throne of Iblis upon the water, and what else do you see? He said: I see two truthfuls and a liar or two liars and one truthful. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Leave him He has been confounded.
حریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : مدینہ کے ایک راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس ( ابن صیاد ) سے ملاقات ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ " اس نے کہا : کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا؛ " میں اللہ پر ، اس کےفرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لایا ہوں ، تجھے کیا نظر آتا ہے؟ " اس نے کہا : مجھے پانی پر ایک تخت نظر آتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھ رہے ہو ، تجھے اور کیا نظر آتا ہے؟ " اس نے کہا : میں دو سچوں اور ایک جھوٹے کویا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو د یکھتا ہوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اس کا معاملہ خود ) اس کے سامنے گڈ مڈ کردیاگیا ہے ۔ اسے چھوڑ د و ۔
7346
Sahih
Chapter: Ibn Sayyad
ابن صیاد کا تذکرۃ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْجُرَيْرِيِّ
Jabir b 'Abdullah reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) met Ibn Sa'id (Sayyad) and there were with him Abu Bakr and 'Umar and Ibn Sayyad was in the company of children. The rest of the hadith is the same.
معتمر کے والد ( سلیمان ) نے کہا : ہمیں ابو نضرہ نے حضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابن صائد سے ملاقات ہوئی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور ابن صائد ( دوسرے ) لڑکوں کے ساتھ تھا ، پھر جریری کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
7347
Sahih
Chapter: Ibn Sayyad
ابن صیاد کا تذکرۃ
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ صَائِدٍ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ لِي أَمَا قَدْ لَقِيتُ مِنْ النَّاسِ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ أَلَسْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ لَا يُولَدُ لَهُ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَقَدْ وُلِدَ لِي أَوَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَقَدْ وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ وَهَذَا أَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فَلَبَسَنِي
Abu Sa'id reported: I accompanied Ibn Sayyad to Mecca and he said to me: What I have gathered from people is that they think that I am Dajjal. Have you not heard Allah's Messenger (may peace upon him) as saying: He will have no children, I said: Yes, of course. Thereupon he said: But I have children. Have you not heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He would not enter Mecca and Medina? I said: Yes, of course. Thereupon he said I have been once in Medina and now I intend to go to Mecca. And he said to me at the end of his talk: By Allah, I know his place of birth his abode where he is just now. He (Abu Sa'id) said: This caused confusion in my mind (in regard to his identity).
داود نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : مکہ کی طرف جاتے ہوئے ( راستے میں ) میرا اور ابن صیاد کاساتھ ہوگیا ۔ اس نے مجھ سے کہا : میں کچھ ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ میں دجال ہوں ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سناتھا : " اس کے بچے نہیں ہوں گے " ؟کہا : میں نے کہا : کیوں نہیں ! ( سناتھا ۔ ) اس نے کہا : میرے بچے ہوئے ہیں ۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے نہیں سنا تھا : " وہ ( دجال ) مدینہ میں داخل ہوگا اور نہ مکہ میں " ؟میں نے کہا : کیوں نہیں!اس نے کہا : میں مدینہ کے اندر پیدا ہوا ۔ اور اب مکہ کی طرف جارہا ہوں ۔ انھوں نے کہا : پھر اپنی بات کے آخر میں اس نے مجھ سے کہا : دیکھیں !اللہ کی قسم!میں اس ( دجال ) کی جائے پیدائش ، اس کے رہنے کی جگہ اور وہ کہاں ہے سب جانتا ہوں ۔ ( اس طرح ) اس نے ( اپنی حیثیت کے بارے میں ) مجھے الجھا دیا ۔
7348
Sahih
Chapter: Ibn Sayyad
ابن صیاد کا تذکرۃ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ صَائِدٍ وَأَخَذَتْنِي مِنْهُ ذَمَامَةٌ هَذَا عَذَرْتُ النَّاسَ مَا لِي وَلَكُمْ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ أَلَمْ يَقُلْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ يَهُودِيٌّ وَقَدْ أَسْلَمْتُ قَالَ وَلَا يُولَدُ لَهُ وَقَدْ وُلِدَ لِي وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ مَكَّةَ وَقَدْ حَجَجْتُ قَالَ فَمَا زَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَأْخُذَ فِيَّ قَوْلُهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْآنَ حَيْثُ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ قَالَ وَقِيلَ لَهُ أَيَسُرُّكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ قَالَ فَقَالَ لَوْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا كَرِهْتُ
Abu Sa'id Khudri reported: Ibn Sa'id said to me something for which I felt ashamed. He said: I can excuse others; but what has gone wrong with you, O Companions of Muhammad, that you take me as Dajjal? Has Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) not said that he would be a Jew whereas I am a Muslim and he also said that he would not have children, whereas I have children, and he also said: verily, Allah has prohibited him to enter Mecca whereas I have performed Pilgrimage, and he went on saying this that I was about to be impressed by his talk. He (however) said this also: I know where he (Dajjal) is and I know his father and mother, and it was said to him: Won't you feel pleased if you would be the same person? Thereupon he said: If this offer is made to me, I would not resent that.
معتمر کے والد ( سلیمان ) ابونضرہ سے اور وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں ، کہا : مجھ سے ابن صائد نے ایک بات کہی تو مجھے اس کے سامنے شرمندگی محسوس ہوئی ۔ ( اس نے کہا : ) اس بات پر میں اور لوگوں کو معذور سمجھتا ہوں ، مکر اے اصحاب محمد! آپ لوگوں کا میرے ساتھ کیامعاملہ ہے ؟ "" کیا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا : "" دجال یہودی ہوگا ۔ "" اور میں مسلمان ہوچکا ہوں ۔ کہا : "" وہ لاولد ہوگا ۔ "" جبکہ میری اولاد ہوئی ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" اللہ نے مکہ ( میں داخلہ ) اس پر حرام کردیا ہے ۔ "" اور میں حج کرچکا ہوں ۔ ( حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : وہ ( ابن صائد ) مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا جن سے امکان تھا کہ اس کی بات میرے دل میں بیٹھ جاتی ، کہا : پھر وہ کہنے لگا : اللہ کی قسم! اس وقت میں یہ بات جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے میں اس کے ماں باپ کو بھی جانتا ہوں ۔ کہااس سے پوچھا گیا کہ کیا تمھیں یہ بات ا چھی لگےگی کہ تمھی وہ ( دجال ) آدمی ہو؟اس نے کہا ، اگر مجھ کو اس کی پیش کش کی جائے تو میں اسے ناپسند نہیں کروں گا ۔
7349
Sahih
Chapter: Ibn Sayyad
ابن صیاد کا تذکرۃ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا وَمَعَنَا ابْنُ صَائِدٍ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَبَقِيتُ أَنَا وَهُوَ فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا يُقَالُ عَلَيْهِ قَالَ وَجَاءَ بِمَتَاعِهِ فَوَضَعَهُ مَعَ مَتَاعِي فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ فَلَوْ وَضَعْتَهُ تَحْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَفَعَلَ قَالَ فَرُفِعَتْ لَنَا غَنَمٌ فَانْطَلَقَ فَجَاءَ بِعُسٍّ فَقَالَ اشْرَبْ أَبَا سَعِيدٍ فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ وَاللَّبَنُ حَارٌّ مَا بِي إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ عَنْ يَدِهِ أَوْ قَالَ آخُذَ عَنْ يَدِهِ فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا فَأُعَلِّقَهُ بِشَجَرَةٍ ثُمَّ أَخْتَنِقَ مِمَّا يَقُولُ لِي النَّاسُ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَسْتَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ كَافِرٌ وَأَنَا مُسْلِمٌ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ وَقَدْ تَرَكْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَعْذِرَهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مَوْلِدَهُ وَأَيْنَ هُوَ الْآنَ قَالَ قُلْتُ لَهُ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ
Abu Sa`id al-Khudri reported: We came back after having performed Pilgrimage or `Umra and lbn Sa'id was along with us. And we encamped at a place and the people dispersed and I and he were left behind. I felt terribly frightend from him as it was said about him that he was the Dajjal. He brought his goods and placed them by my luggage and I said: It is intense heat. Would you not place that under that tree? And he did that. Then there appeared before us a flock of sheep. He went and brought a cup of milk and said: Abu Sa`id, drink that. I said it is intense heat and the milk is also hot (whereas the fact was) that I did not like to drink from his hands or to take it from his hand and he said: Abu Sa`id, I think that I should take a rope and suspend it by the tree and then commit suicide because of the talks of the people, and he further said. Abu Sa`id he who is ignorant of the saying of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (he is to be pardoned), but O people of Ansar, is this hadith of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) concealed from you whereas you have the best knowledge of the hadith of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) amongst people? Did Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) not say that he (Dajjal) would be a non believer whereas I am a believer? Did Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) not say he would be barren and no child would be born to him, whereas I have left my children in Medina? Did Allah's Messenger (may peace upon him) not say: He would not get into Medina and Mecca whereas I have been coming from Medina and now I intend to go to Mecca? Abu Sa`id said: I was about to accept the excuse put forward by him. Then he said: I know the place where he would be born and where he is now. So I said to him: May your whole day be spent.
جریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ ہم حج یا عمرہ کو نکلے اور ہمارے ساتھ ابن صائد بھی تھا ۔ ایک منزل میں ہم اترے ، لوگ ادھر ادھر چلے گئے اور میں اور ابن صائد دونوں رہ گئے ۔ مجھے اس وجہ سے اس سے سخت وحشت ہوئی کہ لوگ اس کے بارے میں جو کہا کرتے تھے ( کہ دجال ہے ) ابن صائد اپنا اسباب لے کر آیا اور میرے اسباب کے ساتھ رکھ دیا ( مجھے اور زیادہ وحشت ہوئی ) میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اگر تو اپنا اسباب اس درخت کے نیچے رکھے تو بہتر ہے ۔ اس نے ایسا ہی کیا ۔ پھر ہمیں بکریاں دکھلائی دیں ۔ ابن صائد گیا اور دودھ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ابوسعید! دودھ پی ۔ میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اور دودھ گرم ہے اور دودھ نہ پینے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہ تھی کہ مجھے اس کے ہاتھ سے پینا برا معلوم ہوا ۔ ابن صائد نے کہا کہ اے ابوسعید! میں نے قصد کیا ہے کہ ایک رسی لوں اور درخت میں لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی دے لوں ان باتوں کی وجہ سے جو لوگ میرے حق میں کہتے ہیں ۔ اے ابوسعید! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اتنی کس سے پوشیدہ ہے جتنی تم انصار کے لوگوں سے پوشیدہ ہے ۔ کیا تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں جانتے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ دجال کافر ہو گا اور میں تو مسلمان ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال لاولد ہو گا اور میری اولاد مدینہ میں موجود ہے ۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال مدینہ میں اور مکہ میں نہ جائے گا اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ کو جا رہا ہوں؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( اس کی ایسی باتوں کی وجہ سے ) قریب تھا کہ میں اس کا طرفدار بن جاؤں ( اور لوگوں کا اس کے بارے میں کہنا غلط سمجھوں ) کہ پھر کہنے لگا البتہ اللہ کی قسم! میں دجال کو پہچانتا ہوں اور اس کے پیدائش کا مقام جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اب وہ کہاں ہے ۔ کہا : میں نے اس سے کہا : باقی سارا دن تیرے لئے تباہی اور ہلاکت ہو! ( تیرا اس سے اتنا قرب کیسے ہوا؟ )
7350
Sahih
Chapter: Ibn Sayyad
ابن صیاد کا تذکرۃ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ مَا تُرْبَةُ الْجَنَّةِ قَالَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ صَدَقْتَ
This hadith has transmitted on the authority of Abu Sa'id that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked Ibn Sa'id about the earth of Paradise. Thereupon he said: Abu'l-Qasim, It is like a fine white musk, whereupon he (the Holy Prophet) said: 'You have told the the truth.
ابومسلمہ نے ابو نضر ہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے فرمایا : " جنت کی مٹی کیسی ہے؟ " اس نے کہا : اے ابو القاسم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !باریک سفید ، کستوری ( جیسی ) ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو نے سچ کہا ۔ "
7351
Sahih
Chapter: Ibn Sayyad
ابن صیاد کا تذکرۃ
و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ
Abu Sa'id reported that Ibn Sayyad asked Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about the earth of Paradise. Whereupon he said: It is like white shining pure musk.
جریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کی مٹی کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " باریک سفید ، خالص کستوری ( کی طرح ) ہے ۔ "
7352
Sahih
Chapter: Ibn Sayyad
ابن صیاد کا تذکرۃ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ فَقُلْتُ أَتَحْلِفُ بِاللَّهِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Muhammad b. Munkadir reported: As I saw Jabir b. 'Abdullah taking an oath in the name of Allah that it was Ibn Sa'id who was the Dajjal I said: Do you take an oath in the name of Allah? Thereupon he said: I heard 'Umar taking an oath in the presence of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to this effect but Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not disapprove of it.
محمد بن منکدرسے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ، وہ اللہ کی قسم کھاکر کہہ رہے تھے کہ ابن صائد دجال ہے ۔ میں نے کہا : آپ ( اس بات پر ) اللہ کی قسم کھا رہے ہیں؟انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس بات پر قسم کھاتے ہوئے دیکھا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انکار نہیں فرمایا تھا ۔
7353
Sahih
Chapter: Ibn Sayyad
ابن صیاد کا تذکرۃ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَيَّادٍ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تَرَى قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ
Abdullah b. Umar reported: 'Umar b. Khattab went along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in the company of some persons to Ibn Sayyad that he found him playing with children near the battlement of Bani Maghala and Ibn Sayyad was at that time just at the threshold of adolescence and he did not perceive (the presence of Holy Prophet) until Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) struck his back with his hands. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Ibn Sayyad, don't you bear witness that I am the messenger of Allah? Ibn Sayyad looked toward him and he said: I bear witness to the fact that you the messenger of the unlettered. Ibn Sayyad said to the Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Do you bear witness to the fact that I am the messenger of Allah? Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) rejected this and said: I affirm my faith in Allah and in His messengers. Then Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: What do you see? Ibn Sayyad said: It is a Dukh. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: May you be disgraced and dishonoured, you would not not be able to go beyond your rank. 'Umar b. Khattab said: Allah's Messenger, permit me that I should strike his neck. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If he is the same (Dajjal) who would appear near the Last Hour, you would not be able to overpower him, and if he is not that there is no good for you to kill him.
یونس نے ابن شہاب سے ر وایت کی کہ سالم بن عبداللہ نے انھیں بتایا ، انھیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند لوگوں میں ابن صیاد کے پاس گئے حتیٰ کہ اسے بنی مغالہ کے قلعے کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا ۔ اس کو خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم امییّن کے رسول ہو ( امی کہتے ہیں ان پڑھ اور بے تعلیم کو ) ۔ پھر ابن صیاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا کچھ جواب نہ دیا؟ ( اور اس سے مسلمان ہونے کی درخواست نہ کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مسلمان ہونے سے مایوس ہو گئے اور ایک روایت میں صاد مہملہ سے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لات سے مارا ) اور فرمایا کہ میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ وہ بولا کہ میرے پاس کبھی سچا آتا ہے اور کبھی جھوٹا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا کام گڑبڑ ہو گیا ( یعنی مخلوط حق و باطل دونوں سے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے پوچھنے کے لئے ایک بات دل میں چھپائی ہے ۔ ابن صیاد نے کہا کہ وہ دخ ( دھواں ) ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذلیل ہو ، تو اپنی قدر سے کہاں بڑھ سکتا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے چھوڑئیے میں اس کی گردن مارتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ( یعنی دجال ) ہے تو تو اس کو مار نہ سکے گا اور اگر یہ وہ ( دجال ) نہیں ہے تو تجھے اس کا مارنا بہتر نہیں ہے ۔
7354
Sahih

Chapters

28
01
Chapter: The Approach Of Tribulations And The Opening Of The Barrier Of Ya'juj And Ma'juj
فتنے قریب آگئے ،یاجوج ماجوج کی دیوار کھل گئی
5 Hadith
02
Chapter: The Earth Swallowing Up The Army That Aims To Attack The Ka'bah
بیت اللہ کا رخ کرکے والے لشکر کا زمین میں د ھنس جانا
5 Hadith
03
Chapter: Onset Of Tribulations Like Rainfall
بارش ٹپکنے کے نشانات کی طرح فتنوں کا نزول
7 Hadith
04
Chapter: If Two Muslims Confront One Another With Their Swords
جب ود مسلمان اپنی اپنی تلوار کے ساتھ آمنے سامنے آجائیں
6 Hadith
05
Chapter: (Parts of) This Ummah Will Destroy One Another
اس امت کی ہلاکت آپس میں ایک دوسرے کے ہاتھوں ہوگی
4 Hadith
06
Chapter: The Prophet's Foretelling Of What Will Happen Until The Hour Begins
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیامت تک جو ہونے والا ہے اس کی خبر دینا
6 Hadith
07
Chapter: The Tribulation That Will Come like Waves Of The Ocean
اس فتنے کے بارے میں جو سمندر کی طرح موجزن ہو گا
4 Hadith
08
Chapter: The Hour Will Not Begin Until The Euphrates Uncovers A Mountain Of Gold
قیامت نہیں آئے گی۔،یہاں تک کہ دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کرے گا
6 Hadith
09
Chapter: The Conquest Of Constantinople, The Emergence Of The Dajjal And The Descent Of 'Eisa bin Mariam
قسطنطنیہ کی فتح ،دجال کا ظہور اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول
1 Hadith
10
Chapter: The Hour Will Begin When The Byzantines Are The Most Prevalent Of People
قیامت قائم ہوگی تو لوگوں میں رومی (عیسائی) سب سے زیادہ ہوں گے
2 Hadith
11
Chapter: Fighting The Byzantines, And A Great Deal Of Killing When Ad-Dajjal Emerges
دجال کے ظہور سے پہلے سخت خونریزی کے عالم میں رومیوں (عیسائیوں)کی چڑھائی
3 Hadith
12
Chapter: Conquests Of The Muslims Before The Appearance Of Ad-Dajjal
دجال سے پہلے حاصل ہونے والی مسلمانوں کی فتوحات
1 Hadith
13
Chapter: The Signs Which Will Appear Before The Hour
قیامت سے پہلے(ظاہر) ہونے والی نشانیاں
4 Hadith
14
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Fire Emerges From The Land Of The Hijaz
قیامت قائم نہیں ہوگی،یہاں تک کہ ارض حجاز سے ایک آگ نکلے گی
1 Hadith
15
Chapter: The Inhabitants Of Al-Madinah And How Far It Will Be Developed Before The Hour
قیامت سے پہلے مدینہ کی سکونت اور اس کی آباد کاری
2 Hadith
16
Chapter: Tribulation From The East, From Where The Horns Of The Shaitan Appear
مشرق سے ،جہاں سے شیطان کے دونوں سینگ نمودار ہوتے ہیں،فتنوں کا ظہور
6 Hadith
17
Chapter: The Hour Will Not Begin Until Daws Worship Dhul-Khalasah
قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ (قبیلہ) دوس ذوالخلصہ کی عبادت کرے گا
3 Hadith
18
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Man Passes By Another Man's Grave And Wishes That He Was In The Place Of The Deceased, Because Of Calamity
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی،آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو آزمائش کی (شدت کی) بنا پر تمنا کرے گا کہ اس مرنے والے کی جگہ وہ ہو
43 Hadith
19
Chapter: Ibn Sayyad
ابن صیاد کا تذکرۃ
17 Hadith
20
Chapter: Ad-Dajjal
مسیح دجال کابیان
14 Hadith
21
Chapter: Description Of Ad-Dajjal; Al-Madinah Is Forbidden To Him; He Will Kill A Believer And Bring Him Back To Life
دجال کا حال مدینہ میں اس کا داخلہ حرام ہونا اور مومن کو قتل کرنا اور اسے زندہ کرنا
3 Hadith
22
Chapter: Ad-Dajjal Is Very Insignificant Before Allah
دجال اللہ کے نزدیک انتہائی حقیرہے
3 Hadith
23
Chapter: The Emergence Of Ad-Dajjal And His Stay On Earth, And The Descent Of 'Eisa Who Will Kill Him. The Death Of The People Of Goodness And Faith, And The Survival Of The Worst Of People, And Their Idol-Worship. The Trumpet Blast, And The Resurrection Of Those Who Are In Their Graves
دجال نکل کر زمین میں رہے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتر کر اسے قتل کریں گے بھلائی اور ایمان والے لوگ رخصت ہو جا ئیں گے۔بدترین لوگ اور شیطان کی پوجا کرنے والے باقی رہ جائیں گے۔ اور صورپھونکا جائے گا اور جوقبروں میں ہیں انھیں اٹھا دیا جائے گا
5 Hadith
24
Chapter: Al-Jassasah
جساسہ کا قصہ
6 Hadith
25
Chapter: The Rest Of The Ahadith About Ad-Dajjal
دجال کے متعلق بقیہ احادیث
8 Hadith
26
Chapter: The Virtue Of Worship At Times Of Turmoil
قتل عام میں عبادت کرنے کی فضیلت
2 Hadith
27
Chapter: The Approach Of The Hour
قیامت کا قریبی زمانہ
12 Hadith
28
Chapter: Between The Blasts (Of The Trumpet)
دوبار صور پھونکنے کے درمیان کا وقفہ
3 Hadith
No chapter matched that.