TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1798 - Chapter: The prayer and the supplication of the Prophet (saws) at night - The book of prayer - travellers - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 11 of 26 in this chapter
Chapter: The prayer and the supplication of the Prophet (saws) at night
رات کے وقت بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی نماز اور دعا
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَقَدْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لَيْلَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا لِأَنْظُرَ كَيْفَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، قَالَ: فَتَحَدَّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً، ثُمَّ رَقَدَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ
Ibn `Abbas reported: I slept one night in the house of Maimuna when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was there, with a view to seeing the prayer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) at night. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) entered into conversation with his wife for a short while, and then went to sleep, and the rest of the hadith is the same and in it mention is made of: He then got up, performed ablution and brushed his teeth.
شریک بن ابی نمر نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں ایک رات حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر سویا ، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تھے تاکہ میں دیکھوں کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وقت ا پنے گھر والوں کے ساتھ گفتگو فرمائی ، پھر آپ سوگئے ۔ ۔ ۔ آگے پوری حدیث بیان کی اور میں یہ بھی تھا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، وضو کیا اور مسواک کیا ۔
1798
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

3,781
1
Chapter: The night journey on which the messenger of Allah (saws) was taken up into the heavens and the prayers were enjoined
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو رات کے وقت آسمانوں پر لے جانا اور نمازوں کی فرضیت
Sahih Muslim
2
Chapter: Night prayers and the number of rak`ah offered by the Prophet (saws) at night, and that Witr is one rak`ah, and a one-rak`ah prayer is correct
رات کی نماز ‘رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی رات کی (نماز کی)رکعتوں کی تعداد اور اس بات کا بیان کہ وتر ایک رکعت ہے اور ایک رکعت صحیح نماز ہے
Sahih Muslim
3
(6) CHAPTER. Standing of the Prophet [for the Salat (prayer)] at night.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز میں اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ پاؤں سوج جاتے
Sahih Bukhari
4
(10) CHAPTER. How was the Salat (Tahajjud prayer) of the Prophet and how many Raka, he used to offer at night?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کی کیا کیفیت تھی ؟ اور رات کی نماز کیوں کر پڑھنی چاہیے ؟
Sahih Bukhari
5
(11) CHAPTER. The waking up of the Prophet from his sleep for the night prayer and what (how much) was cancelled from the night prayer.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رات میں اور سوجانا اور رات کی نماز میں سے جو منسوخ ہوا ( اس کا بیان )
Sahih Bukhari
6
(16) CHAPTER. The Salat (prayer) of the Prophet at night in Ramadan and (in) other months.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان اور غیر رمضان میں رات کو نماز پڑھنا
Sahih Bukhari
7
(45) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.): A man whom Allah gave the knowledge of the Quran and he read it [in Salat (prayer)] during the hours of the night and the day; and another man says, ‘If I have been given what this man has been given, I would do the same as he is doing.' So Allah's Messenger (p.b.u.h.) showed that his reciting the Quran in Salat in his action.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ ” ایک شخص جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور رات دن وہ اس مین مشغول رہتا ہے ۔
Sahih Bukhari
8
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
Sahih Muslim
9
Chapter: What Was Shown To The Prophet Of Paradise And Hell During The Eclipse Prayer
نماز کسوف کے دوران میں بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے سامنے جنت اور دوزخ کے جوحالات پیش کیے گئے
Sahih Muslim
10
CHAPTER: The Times Of The Prophet’s (saws) Prayers And How He Used To Pray Them.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوقات نماز کا بیان اور آپ نماز کیسے پڑھتے تھے ؟
Sunnan Abu Dawood
11
CHAPTER: The Time That The Prophet (saws) Would Pray At Night.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد پڑھنے کے وقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
12
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
13
(89) CHAPTER. The mosques which are on the way to Al-Madina and the places where the Prophet had offered Salat (prayers).
ان مساجد کا بیان جو مدینہ کے راستے میں واقع ہیں اور وہ جگہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ہے
Sahih Bukhari
14
(45) CHAPTER. Offering Salat (prayer) in front of the people with the sole intention of teaching them the Salat of the Prophet and his Sunna (legal ways etc.).
کوئی شخص صرف یہ بتلانے کے لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیوں کر پڑھا کرتے تھے اور آپ کا طریقہ کیا تھا نماز پڑھائے تو کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
15
(122) CHAPTER. The order of the Prophet to a person who did not perform his bowing perfectly that he should repeat his Salat (prayer).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دینا جس نے رکوع پوری طرح نہیں کیا تھا
Sahih Bukhari
16
(5) CHAPTER. The Prophet's exhorting (the people) to Tahajjud and Nawafil without making them compulsory.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کی نماز اور نوافل پڑھنے کے لیے ترغیب دلانا لیکن واجب نہ کرنا
Sahih Bukhari
17
(3) CHAPTER. The Prophet seeking of Allah's forgiveness by daytime and at night.
دن اور رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار کرنا ۔
Sahih Bukhari
18
(48) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) called As-Salat (the prayer) a deed.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو عمل کہا ۔
Sahih Bukhari
19
Chapter: The Meaning of the Saying of Allah, The Mighty and Sublime: And indeed he saw him at a second descent (another time) ; And did the prophet (saws) see his lord on the night of the Isra?
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کاقول ہے :’’ وہ نور ہے ، میں اسے کہاں سے دیکھوں !‘‘ ایک اور قول ہے :’’ میں نے نور دیکھا‘‘
Sahih Muslim
20
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) for his ummah and his weeping out of compassion for them
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی اپنی امت کے لیے دعا اور ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ کا رونا
Sahih Muslim
21
Chapter: The prophet (saws) asked his Lord for permission to visit the grave of his mother
بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کے لیے اجازت مانگنا
Sahih Muslim
22
Chapter: Not appointing the family of the prophet (saws) in charge of charity
آل بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو صدقہ کی وصولی پر مقرر نہ کرنے کا بیان
Sahih Muslim
23
Chapter: The Masjid whose foundation was founded upon piety is the Masjid of the Prophet saws in Al-Madinah
جس مسجدکی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ‘وہ مدینہ کی مسجد نبوی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ہے
Sahih Muslim
24
Chapter: The Prophet (saws) wrote to Heraclius, the ruler of Syria, inviting him to Islam
شام کےباد شاہ ہرقل کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا نامئہ مبارک
Sahih Muslim
25
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) and his steadfastness in the face of the hypocrites' persecution
منافقوں کی اذیت رسانی پر نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی دعا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا صبر
Sahih Muslim
26
CHAPTER: Sending Salat Upon The Prophet (saws) After The Tashah-hud.
باب: تشہد کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
27
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Night Prayer Of The Prophet (S)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تہجد کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: How The Prophet Performed Voluntary Prayers During The Day
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دن میں نفل نماز کیسی ہوتی تھی؟
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Ate Upon
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Subsistence of the Prophet (s.a.w) And His Family
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی معاشی زندگی کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
32
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
33
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
34
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
35
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
36
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
Musnad Ahmad
37
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
38
عُسفان کے مقام پر بپا ہونے والے غزوۂ بنی لحیان کا بیان، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ خوف ادا کی تھی
Musnad Ahmad
39
(56) CHAPTER. The saying of the Prophet , “The earth has been made for me a Masjid (place for praying) and a thing to purify (to perform Tayammum).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے ( یعنی تیمم کرنے ) کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
40
(48) CHAPTER. If somebody is leading the Salat (prayer) and (in the meanwhile) the first (usual) Imam comes, the Salat is valid whether the former retreats or does not retreat.
ایک شخص نے امامت شروع کر دی پھر پہلا امام آ گیا اب پہلا شخص ( مقتدیوں میں ملنے کے لیے ) پیچھے سرک گیا یا نہیں سرکا ، بہرحال اس کی نماز جائز ہو گی اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
Sahih Bukhari
41
(104) CHAPTER. The recitation of the Quran in the Fajr prayer.
نماز فجر میں قرآن شریف پڑھنا اور ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الطور پڑھی
Sahih Bukhari
42
(146) CHAPTER. Whoever considered that the first Tashah-hud is not compulsory. As the Prophet stood up after the second Raka (without sitting for Tashah-hud) and did not perform it.
اس شخص کی دلیل جو پہلے تشہد کو ( چار رکعت یا تین رکعت نماز میں ) واجب نہیں جانتا ( یعنی فرض ) کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں ۔
Sahih Bukhari
43
(3) CHAPTER. The Prophet used to wake his family up for the Witr prayer.
وتر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر والوں کو جگانا
Sahih Bukhari
44
(1) CHAPTER. Al-Istisqa and the going out of the Prophet to offer Istisqa prayer.
پانی مانگنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی کے لیے ( جنگل میں ) نکلنا
Sahih Bukhari
45
(17) CHAPTER. How the Prophet turned his back towards the people [while offering the SaIat (prayer) for rain].
استسقاء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف پشت مبارک کس طرح موڑی تھی ؟
Sahih Bukhari
46
(6) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Allah frightens Ibadahu (His devotees or slaves) with Kusuf (eclipse).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سورج گرہن کے ذریعہ ڈراتا ہے
Sahih Bukhari
47
(69) CHAPTER. The Prophet offered a two Raka prayer after his seven round (of Tawaf of the Kabah).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف کے ساتھ چکروں کے بعد دو رکعتیں پڑھنا
Sahih Bukhari
48
(94) CHAPTER. The order of the Prophet that people should be calm and patient on proceeding (from Arafat) and the waving of his lash towards them.
عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کو سکون و اطمینان کی ہدایت کرنا اور کوڑے سے اشارہ کرنا
Sahih Bukhari
49
(17) CHAPTER. The statement of the Prophet : “The Adhan of Bilal should not stop you from taking Sahur (late-night meals).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے
Sahih Bukhari
50
(3) CHAPTER. The expenditure of the wives of the Prophet (p.b.u.h) after his death.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی ازواج مطہرات کے نفقہ کا بیان
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

308
Sahih Muslim
3130
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ «يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِاللَّيْلِ، فَيَذْكُرُونَ اللهَ مَا بَدَا لَهُمْ، ثُمَّ يَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الْإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوْا الْجَمْرَةَ» وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: «أَرْخَصَ فِي أُولَئِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
Salim b. 'Abdullah reported that 'Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) used to send ahead of him the weak members of his household to stay during the night at Mash'ar al-Haram at Muzdalifa. They remembered Allah so long as they could afford, and then they proceeded before the stay of the Imam, and before his return. So some of them reached Mina for the dawn prayer and some of them reached there after that; and as they reached there, they stoned al-Jamra; and Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) used to say: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has granted this concession to them.
سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کے کمزور افراد کو پہلے روانہ کر دیتے تھے ۔ وہ لوگ رات کو مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ہی وقوف کرتے ، اور جتنا میسر ہو تا اللہ کا ذکر کرتے ، اس کے بعد وہ امام کے مشعر حرام کے سامنے وقوف اور اس کی روانگی سے پہلے ہی روانہ ہو جا تے ۔ ان میں سے کچھ فجر کی نماز اداکرنے ) کے لیے منیٰ آجا تے اور کچھ اس کے بعد آتے ۔ پھر جب وہ ( سب لو گ منیٰ آجا تے تو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان ( کمزور لوگوں ) کو رخصت دی ہے ۔
Sahih Muslim
4618
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عُمَارَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ أَقَلُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ، وَهَؤُلَاءِ أَتَمُّ حَدِيثًا
This hadith has been narrated on the authority of Bara' with another chain of transmitters, but this hadith is short as compared with other ahadith which are more detailed.
سفیان سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے ابواسحاق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ایک آدمی نے ان سے پوچھا : ابوعمارہ! ۔ ۔ اور ( آگے ) حدیث بیان کی ، ان کی حدیث ان سب ( ابوخیثمہ ، زکریا اور شعبہ ) کی حدیث سے ( تفصیلات میں ) کم ہے اور ان سب کی حدیث زیادہ مکمل ہے
Jam e Tirmazi
17
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ:‏‏‏‏ الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ،‏‏‏‏ وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا رِكْسٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَى قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مَعْمَرٌ،‏‏‏‏ وَعَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا فِيهِ اضْطِرَابٌ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ هَلْ تَذْكُرُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ شَيْئًا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ أَيُّ الرِّوَايَاتِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي إِسْحَاق أَصَحُّ ؟ فَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ،‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا ؟ فَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ وَكَأَنَّهُ رَأَى حَدِيثَ زُهَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَشْبَهَ وَوَضَعَهُ فِي كِتَابِ الْجَامِعِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا عِنْدِي حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ،‏‏‏‏ وَقَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ إِسْرَائِيلَ أَثْبَتُ وَأَحْفَظُ لِحَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق مِنْ هَؤُلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَمِعْت أَبَا مُوسَى مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا فَاتَنِي الَّذِي فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق إِلَّا لِمَا اتَّكَلْتُ بِهِ عَلَى إِسْرَائِيلَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَزُهَيْرٌ فِي أَبِي إِسْحَاق لَيْسَ بِذَاكَ لِأَنَّ سَمَاعَهُ مِنْهُ بِآخِرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا سَمِعْتَ الْحَدِيثَ عَنْ زَائِدَةَ وَزُهَيْرٍ فلا تبالي أن لا تسمعه من غيرهما إلا حديث أبي إسحاق، ‏‏‏‏‏‏وأبو إسحاق اسمه:‏‏‏‏ عمرو بن عبد الله السبيعي الهمداني،‏‏‏‏ وأبو عبيدة بن عبد الله بن مسعود لم يسمع من أبيه ولا يعرف اسمه
Abdullah said: Allah's Messenger went out to relieve himself. So he said: 'Bring me tree stones.' He said, So I came with two stones and a piece of dung. So he took the two stones, and left the dung. He said: 'It is Riks (a degenerative or filthy thing).
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: ”میرے لیے تین پتھر ڈھونڈ لاؤ“، میں دو پتھر اور ایک گوبر کا ٹکڑا لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے دونوں پتھروں کو لے لیا اور گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور فرمایا: ”یہ ناپاک ہے“ ۱؎۔ ( ابواسحاق سبیعی ثقہ اور مدلس راوی ہیں، بڑھاپے میں حافظہ میں اختلاط ہو گیا تھا اس لیے جن رواۃ نے ان سے اختلاط سے پہلے سنا ان کی روایت مقبول ہے، اور جن لوگوں نے اختلاط کے بعد سنا ان کی روایت ضعیف، یہ حدیث ابواسحاق سے ان کے تلامذہ نے مختلف انداز سے روایت کی ہے ) ۔ امام ترمذی نے یہاں: ابن مسعود کی اس حدیث کو بسند «اسرائیل عن ابی اسحاق عن ابی عبیدہ عن ابن مسعود» روایت کرنے کے بعد اسرائیل کی متابعت ۲؎ میں قیس بن الربیع کی روایت کا ذکر کیا ہے، پھر بسند «معمر و عمار بن رزیق عن ابی اسحاق عن علقمہ عن ابن مسعود» کی روایت ذکر کی ہے، پھر بسند «زکریا بن ابی زائدہ و زہیر عن ابی اسحاق عن عبدالرحمٰن بن یزید عن اسود بن یزید عن عبداللہ بن مسعود» روایت ذکر کی اور فرمایا کہ اس حدیث میں اضطراب ہے، نیز اسرائیل کی روایت کو صحیح ترین قرار دیا، یہ بھی واضح کیا کہ ابو عبیدۃ کا سماع اپنے والد ابن مسعود سے نہیں ہے پھر واضح کیا کہ زہیر نے اس حدیث کو بسند «ابواسحاق عن عبدالرحمٰن بن الاسود عن أبیہ عن عبداللہ بن مسعود» روایت کیا ہے، تو ان محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی صحیح میں اس کو جگہ دے کر اپنی ترجیح کا ذکر کر دیا ہے، جب کہ ترمذی کا استدلال یہ ہے کہ «اسرائیل و قیس عن أبی اسحاق» زیادہ صحیح روایت اس لیے ہے کہ اسرائیل ابواسحاق کی حدیث کے زیادہ حافظ و متقن ہیں، قیس نے بھی اسرائیل کی متابعت کی ہے، اور واضح رہے کہ زہیر نے ابواسحاق سے آخر میں اختلاط کے بعد سنا ہے، اس لیے ان کی روایت اسرائیل کی روایت کے مقابلے میں قوی نہیں ہے ۳؎۔
Jam e Tirmazi
203
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأُنَيْسَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ وَسَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْأَذَانِ بِاللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ أَجْزَأَهُ وَلَا يُعِيدُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا أَذَّنَ بِلَيْلٍ أَعَادَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادِيَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ، ‏‏‏‏‏‏مَا رَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ،‏‏‏‏ وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ أَذَّنَ بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ مُنْقَطِعٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَعَلَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ أَرَادَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَغَيْرِ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَالزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَلَوْ كَانَ حَدِيثُ حَمَّادٍ صَحِيحًا لَمْ يَكُنْ لِهَذَا الْحَدِيثِ مَعْنًى، ‏‏‏‏‏‏إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ،‏‏‏‏ فَإِنَّمَا أَمَرَهُمْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ أَنَّهُ أَمَرَهُ بِإِعَادَةِ الْأَذَانِ حِينَ أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لَمْ يَقُلْ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ:‏‏‏‏ حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْطَأَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
Salim narrated from his father (Ibn Umar) that : the Prophet said: Indeed Bilal calls the Adhan in the night, so eat and drink until you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان نہ سن لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، انیسہ، انس، ابوذر اور سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۳- رات ہی میں اذان کہہ دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر رات باقی ہو تبھی مؤذن اذان کہہ دے تو کافی ہے، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں، مالک، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ رات میں اذان دیدے تو اسے دہرائے ۱؎، یہی سفیان ثوری کہتے ہیں، ۴- حماد بن سلمہ نے بطریق «ایوب عن نافع عن ابن عمر» روایت کی ہے کہ بلال رضی الله عنہ نے رات ہی میں اذان دے دی، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ پکار کر کہہ دیں کہ بندہ سو گیا تھا۔ یہ حدیث غیر محفوظ ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے بطریق نافع عن ابن عمر روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں، اور عبدالعزیز بن ابی رواد نے نافع سے روایت کی ہے کہ عمر رضی الله عنہ کے مؤذن نے رات ہی میں اذان دے دی تو عمر نے اسے حکم دیا کہ وہ اذان دہرائے، یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ نافع اور عمر رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور شاید حماد بن سلمہ، کی مراد یہی حدیث ۲؎ ہو، صحیح عبیداللہ بن عمر دوسرے رواۃ کی روایت ہے جسے ان لوگوں نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور زہری نے سالم سے اور سالم نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، ۵- اگر حماد کی حدیث صحیح ہوتی تو اس حدیث کا کوئی معنی نہ ہوتا، جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، آپ نے لوگوں کو آنے والے زمانے کے بارے میں حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں“ اور اگر آپ طلوع فجر سے پہلے اذان دے دینے پر انہیں اذان لوٹانے کا حکم دیتے تو آپ یہ نہ فرماتے کہ ”بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں“، علی بن مدینی کہتے ہیں: حماد بن سلمہ والی حدیث جسے انہوں نے ایوب سے، اور ایوب نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور عمر نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے غیر محفوظ ہے، حماد بن سلمہ سے اس میں چوک ہوئی ہے۔
Jam e Tirmazi
303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى ابْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُوَ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ كَيْسَانُ،‏‏‏‏ وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ يُكْنَى أَبَا سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَيْسَانُ عَبْدٌ كَانَ مُكَاتَبًا لِبَعْضِهِمْ.
Abu Hurairah narrated: Allah's Messenger entered the Masjid, and a man entered and offered Salat. Then he came to give Salam to the Propet. He returned the Salam to him and said: 'Go back and perform Salat, for indeed you have not prayed.' So the man returned to pray as he had prayed. Then he came to give Salam to the Prophet. He returned Salam to him, then [Allah's Messenger] said: 'Go back and perform Salat, for indeed you have not prayed' until he had done that three times. So the man said to him: 'By the One who sent you with the Truth, I do not know any better than this, so teach me.' So he said [to him]: 'When you stand for Salat then say the Takbir, then recite what is easy for you of the Quran. Then bow until you are at rest while bowing, then rise up until you are at rest sitting. Do that in all of your Salat.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اتنے میں ایک اور شخص بھی داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی پھر آ کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”تم واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، چنانچہ آدمی نے واپس جا کر نماز پڑھی، جیسے پہلے پڑھی تھی، پھر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، یہاں تک اس نے تین بار ایسا کیا، پھر اس آدمی نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔ لہٰذا آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیجئیے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جب نماز کا ارادہ کرو تو «اللہ اکبر» کہو پھر جو تمہیں قرآن میں سے یاد ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں تمہیں خوب اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اچھی طرح کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ خوب اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اسی طرح سے اپنی پوری نماز میں کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن نمیر نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن «عن أبیہ» نہیں ذکر کیا ہے، ۳- یحییٰ القطان کی روایت میں «عبداللہ بن عمر عن سعید بن أبی المقبری عن أبیہ عن أبی ہریرہ» ہے، اور یہ زیادہ صحیح۔
Jam e Tirmazi
316
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي أُمَامَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، نَحْوَ رِوَايَةِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، ‏‏‏‏‏‏اسْتَحَبُّوا إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ أَنْ لَا يَجْلِسَ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ عُذْرٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ خَطَأٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ.
Abu Qatadah narrated that : Allah's Messenger said: When one of you comes to the Masjid, then let him perform two Rak'ah before sitting.
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن عجلان اور دیگر کئی لوگوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے جیسے مالک بن انس کی روایت ہے، ۳- سہیل بن ابی صالح ۲؎ نے یہ حدیث بطریق: «عامر بن عبد الله بن الزبير عن عمرو بن سليم الزرقي عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے، ۴ - یہ حدیث غیر محفوظ ہے اور صحیح ابوقتادہ کی حدیث ہے، اس باب میں جابر، ابوامامہ، ابوہریرہ، ابوذر اور کعب بن مالک سے بھی احادیث آئی ہیں، ہمارے اصحاب کا عمل اسی حدیث پر ہے: انہوں نے مستحب قرار دیا ہے کہ جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے، نہ بیٹھے الا یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو، ۵- علی بن مدینی کہتے ہیں: سہیل بن ابی صالح کی حدیث میں غلطی ہوئی ہے۔
Jam e Tirmazi
395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ وَهُوَ عَمُّ أَبِي قِلَابَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ،‏‏‏‏ وَأَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ أَيْضًا:‏‏‏‏ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ،‏‏‏‏ وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِطُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّشَهُّدِ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ يَتَشَهَّدُ فِيهِمَا وَيُسَلِّمُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَيْسَ فِيهِمَا تَشَهُّدٌ وَتَسْلِيمٌ وَإِذَا سَجَدَهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ إِذَا سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ.
Abu Al-Muhallab narrated from Imran bin Husain that : the Prophet (S) led them in Salat he forgot (something) so he performed two prostrations, then the Tashah-hud, then the Salam.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبد الوھاب ثقفی، ھشیم اور ان کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بطریق: «خالد الحذاء عن أبي قلابة» یہ حدیث ذرا لمبے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے، اور وہ یہی عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر میں صرف تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی اٹھا جسے «خرباق» کہا جاتا تھا ( اور اس نے پوچھا: کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں ) ۳- سجدہ سہو کے تشہد کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے گا اور سلام پھیرے گا۔ اور بعض کہتے کہ سجدہ سہو میں تشہد اور سلام نہیں ہے اور جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے ( اختلاف تو سلام کے بعد میں ہے ) ۔
Jam e Tirmazi
697
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا أَنَّ الصَّوْمَ وَالْفِطْرَ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَعُظْمِ النَّاسِ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: The fast is the day the people fast, the breaking of the fast is the day the people break their fast, and the sacrifice is the day the people sacrifice.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صیام کا دن وہی ہے جس دن تم سب روزہ رکھتے ہو اور افطار کا دن وہی ہے جب سب عید الفطر مناتے ہو اور اضحٰی کا دن وہی ہے جب سب عید مناتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تشریح یوں کی ہے کہ صوم اور عید الفطر اجتماعیت اور سواد اعظم کے ساتھ ہونا چاہیئے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
732
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَسْمَعُ سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ، يَقُولُ:‏‏‏‏ أَحَدُ ابْنَيْ أُمِّ هَانِئٍ، حَدَّثَنِي فَلَقِيتُ أَنَا أَفْضَلَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وكانت أم هانئ جدته، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَنِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدَّتِهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَى بِشَرَابٍ فَشَرِبَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ نَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ . قَالَ شُعْبَةُ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ وَأَهْلُنَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ هَانِئٍ. وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ عَنْ هَارُونَ بْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ أَحْسَنُ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمِينُ نَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏وحَدَّثَنَا غَيْرُ مَحْمُودٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمِيرُ نَفْسِهِ أَوْ أَمِينُ نَفْسِهِ عَلَى الشَّكِّ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ شُعْبَةَ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ عَلَى الشَّكِّ. قَالَ:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أُمِّ هَانِئٍ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الصَّائِمَ الْمُتَطَوِّعَ إِذَا أَفْطَرَ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُحِبَّ أَنْ يَقْضِيَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ.
Simak bin Harb narrated: A person from the offspring of Umm Hani narrated to me - I met one of the most virtuous among them, and his name was Ja'dah, and Umm Hani was his grandmother - he narrated to me from his grandmother that the Messenger of Allah entered upon her and asked for some drink, and he drank. Then he offered it to her and she drank it. Then she said: O Messenger of Allah! I was fasting. So the Messenger of Allah said: The one fasting a voluntary fast is the trustee for himself; if he wishes he fasts, and if he wishes he breaks. Shu'bah (one of the narrators) said: I said to him (Ja'dah), 'Did you hear this from Umm Hani?' He said: 'No Abu Salih and our family informed us of it from Umm Hani.'
شعبہ کہتے ہیں کہ میں سماک بن حرب کو کہتے سنا کہ ام ہانی رضی الله عنہا کے دونوں بیٹوں میں سے ایک نے مجھ سے حدیث بیان کی تو میں ان دونوں میں جو سب سے افضل تھا اس سے ملا، اس کا نام جعدہ تھا، ام ہانی اس کی دادی تھیں، اس نے مجھ سے بیان کیا کہ اس کی دادی کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے تو آپ نے کوئی پینے کی چیز منگائی اور اسے پیا۔ پھر آپ نے انہیں دیا تو انہوں نے بھی پیا۔ پھر انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفل روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا امین ہے، چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے“۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: کیا آپ نے اسے ام ہانی سے سنا ہے؟ کہا: نہیں، مجھے ابوصالح نے اور ہمارے گھر والوں نے خبر دی ہے اور ان لوگوں نے ام ہانی سے روایت کی۔ حماد بن سلمہ نے بھی یہ حدیث سماک بن حرب سے روایت کی ہے۔ اس میں ہے ام ہانی کی لڑکی کے بیٹے ہارون سے روایت ہے، انہوں نے ام ہانی سے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شعبہ کی روایت سب سے بہتر ہے، اسی طرح ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ہے اور محمود نے ابوداؤد سے روایت کی ہے، اس میں «أمين نفسه» ہے، البتہ ابوداؤد سے محمود کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جو روایت کی تو ان لوگوں نے «أمير نفسه أو أمين نفسه» شک کے ساتھ کہا۔ اور اسی طرح شعبہ سے متعدد سندوں سے بھی «أمين أو أمير نفسه» شک کے ساتھ وارد ہے۔ ام ہانی کی حدیث کی سند میں کلام ہے۔ ۲- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا اگر روزہ توڑ دے تو اس پر کوئی قضاء لازم نہیں الا یہ کہ وہ قضاء کرنا چاہے۔ یہی سفیان ثوری، احمد، اسحاق بن راہویہ اور شافعی کا قول ہے ۱؎۔