TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9611 - عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان - ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 8 in this chapter
عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِیْنِِ، اَلتَّعَطُّرُ، وَالنِّکَاحُ، وَالسِّوَاکُ، وَالْحَیَائُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۷۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار امور رسولوں کی سنتیں ہیں، خوشبولگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور حیا کرنا۔
9611
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۹۶۱۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، حجاج بن ارطاۃ لیس بذاک القوی، وھو مدلس وقد عنعن، ومکحول عن ابی ایوب مرسل، بینھما فی ھذا الحدیث ابو الشمال بن ضباب، وھو مجھول، أخرجہ الترمذی: ۱۰۸۰(انظر: ۲۳۵۸۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… چاروں چیزیں ہماری شریعت میں مطلوب ہیں۔

Related Chapters

548
1
عدد سے شروع ہونے والی ثنائیات کا بیان
Musnad Ahmad
2
عدد سے شروع ہونے والی ثلاثیات کا بیان
Musnad Ahmad
3
عدد سے شروع ہونے والی خماسیات کا بیان
Musnad Ahmad
4
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
Musnad Ahmad
5
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
Musnad Ahmad
6
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
Musnad Ahmad
7
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
Musnad Ahmad
8
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
9
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
10
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
Musnad Ahmad
11
(20)Chapter: [What Has Been Related] About The Tasmiyah When Performing Wudu
باب: وضو کے شروع میں بسم اللہ کہنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
12
24)Chapter: What Has Been Related About Wiping The Head, That It Is To Begin With The Front Of The Head To Its Rear.
باب: سر کے اگلے حصہ سے مسح شروع کرنے اور پچھلے حصہ تک لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
13
(25)Chapter: What Has Been Related That It Is To Be Begun At The Rear Of The Head
باب: مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
14
(95)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mustahadah That She Can Combine Two Prayers With One Ghusl
باب: مستحاضہ ایک غسل سے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کر سکتی ہے
Jam e Tirmazi
15
(99)Chapter: What Has Been Related About Fondling Menstruating Woman
باب: حائضہ کے ساتھ بوس و کنار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
(100)Chapter: What Has Been Related About Eating With A Menstruating Woman And Leftovers
باب: حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays While Another Man Is With Him
باب: آدمی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہو تو مقتدی کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays With Two Men
باب: کوئی دو آدمیوں کے ساتھ (بطور امام) نماز پڑھ رہا ہو تو کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays And A Man And A Woman Are With Him
باب: آدمی نماز پڑھا رہا ہو اور اس کے ساتھ مرد اور عورتیں دونوں ہوں تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Is Said During The Opening Of The Salat
باب: نماز شروع کرتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
22
Chapter: [What Has Been Related] About Opening The Recitation With Al-Hamdulillahi Rabbil-Alamin (All Praise Is Due To Allah, The Lord Of All That Exits.)
باب: ”الحمدللہ رب العالمین“ سے قرأت شروع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers
باب: دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: About It Being Disliked For The People To Wait For The Imam While They Are Standing At The Beginning Of The Prayer
باب: نماز شروع کرنے کے وقت کھڑے ہو کر امام کے انتظار کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: That Starting From The Right Is Recommended In Purification
باب: وضو داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Combining Hajj And Umrah
باب: حج اور عمرہ کے ایک ساتھ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Beginning With As-Safa Before Al-Marwah
باب: سعی کی شروعات مروہ کے بجائے صفا سے کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Combining Maghrib and Isha At Muzdalifah
باب: مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کر کے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What has been related about it being disliked to enter upon women whose husbands are absent
باب: غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں ہونے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What has been related about the choice
باب: عورت کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے اختیار دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Oath Along With A Witness
باب: ایک گواہ کے ساتھ مدعی قسم کھانا دعویٰ کو ثابت کرنا ہے
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About A Man Having Relations With The Slave Girl Of His Wife
باب: بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Ahl Adh-Dhimmah Fighting With The Muslims, Are They To Recieve A Share Of The Spoils Of War ?
باب: مال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ذمیوں کے حصہ کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Eating With A Leper
باب: کوڑھی کے ساتھ کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Eating Melon With Fresh Dates
باب: تازہ کھجور کے ساتھ تربوز کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Eating Snake Cucumber With Fresh Dates
باب: کھجور کے ساتھ ککڑی کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Eating With Slaves (And Dependants)
باب: بال بچوں، خادم اور غلام کے ساتھ کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Spend While One Has A Smell On His Hand
باب: چکنائی کی بو والے ہاتھوں کے ساتھ سونے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Being Dutiful To Parents.
باب: ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: Also About That
باب: ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
41
Chapter: About Being Dutiful To The Maternal Aunt
باب: خالہ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Consoling The Brother
باب: بھائی کے ساتھ مروت اور غم خواری کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Treating The Servant Well
باب: خادم اور نوکر کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Disciplining The Servant
باب: خادم کے ساتھ سلوک کرنے کے آداب کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Having Amicable Relations With People
باب: حسن معاشرت (یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے رہنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Keeping Consistent Relations
باب: (شریک حیات کے ساتھ) اچھی طرح نباہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
باب: بیٹی کے ساتھ پوتی کی وراثت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What has been Related About Adhering to the Jama'ah
باب: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہمیشہ رہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: Which Of The People Is The Best And Which Of Them Is The Worst
باب: لمبی عمر والا اچھے اعمال کے ساتھ سب سے اچھا آدمی ہے اور برے کام کے ساتھ سب سے برا​
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About A Man Shall Be With Whom He Loves
باب: انجام کار آدمی اپنے دوست کے ساتھ ہو گا
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

30
Musnad Ahmad
4969
۔ (۴۹۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَفَفْنَا یَوْمَ بَدْرٍ، فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَۃٌ اَمَامَ الصَّفِّ، فَنَظَرَ اِلَیْھِمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَعِیَ مَعِیَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۶۵)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے بدر والے دن صفیں بنائیں، کچھ لوگ صف سے آگے بڑھ گئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھا اور فرمایا: میرے ساتھ رہو، میرے ساتھ رہو (یعنی آگے نہ بڑھو)۔
Musnad Ahmad
5040
۔ (۵۰۴۰)۔ عَنْ مَجْمَعِ بْنِ جَارِیَۃَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَقُسِمَتْ خَیْبَرُ عَلَی أَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ لَمْ یُدْخِلْ مَعَہُمْ فِیہَا أَحَدًا إِلَّا مَنْ شَہِدَ الْحُدَیْبِیَۃَ، فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ سَہْمًا، وَکَانَ الْجَیْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَۃٍ، فِیہِمْ ثَلَاثُ مِائَۃِ فَارِسٍ، فَأَعْطَی الْفَارِسَ سَہْمَیْنِ، وَأَعْطَی الرَّاجِلَ سَہْمًا۔ (مسند أحمد: ۱۵۵۴۹)
۔ سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ خیبر کو اہل حدیبیہ پر تقسیم کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ کسی اور کو شامل نہیں کیا، بس صرف وہی جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے اٹھارہ حصے بنائے، لشکر کی تعداد پندرہ سو(۱۵۰۰) تھی، ان میں تین سو گھوڑ سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑ سوار کو دو حصے دیئے اور پیادہ کو ایک۔
Musnad Ahmad
5105
۔ (۵۱۰۵)۔ عَنْ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَامَ فِینَا رَسُول اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ حُنَیْنٍ، فَقَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِامْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ یَسْقِیَ مَائَ ہُ زَرْعَ غَیْرِہِ، یَعْنِی إِتْیَانَ الْحُبَالٰی مِنَ السَّبَایَا، وَأَنْ یُصِیبَ امْرَأَۃً ثَیِّبًا مِنَ السَّبْیِ حَتّٰی یَسْتَبْرِئَہَا یَعْنِی إِذَا اشْتَرَاہَا، وَأَنْ یَبِیعَ مَغْنَمًا حَتّٰی یُقْسَمَ۔)) الحدیث(مسند أحمد: ۱۷۱۲۲)
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حنین والے دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنا پانی دوسرے کی کھیتی کو پلائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ تھی کہ حاملہ قیدی خواتین سے مخصوص تعلق قائم نہ کیا جائے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بھی حلال نہیں ہے کہ آدمی خاوند والی قیدی خاتون سے مباشرت کرے، جب تک استبرائے رحم نہ کر لے، یعنی جب وہ ایسی خاتون خریدے تو استبرائے رحم سے پہلے اس سے خاص تعلق قائم نہ کرے، اور یہ بھی حلال نہیں ہے کہ آدمی تقسیم سے پہلے مالِ غنیمت کو بیچ دے۔
Musnad Ahmad
7173
۔ (۷۱۷۳)۔عَنْ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ قَالَ: کَانَتْ حَبِیْبَۃُ اِبْنَۃُ سَہْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْاَنْصَارِیِّ فَکَرِھَتْہُ وَکَانَ رَجُلًا دَمِیْمًا، فَجَائَ تْ اِلیَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَاَرَاہُ، فَلَوْ لَا مَخَافَۃُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَبَزَقْتُ فِیْ وَجْہِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتُرَدِّیْنَ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہُ الَّتِی اَصْدَقَکَ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ فَرَدَّتْ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہُ وَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا، قَالَ: فَکَانَ ذٰلِکَ اَوَّلَ خُلْعٍ کَانَ فِی الْاِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۹۳)
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ حبیبہ بنت سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ثابت بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نکاح میں تھیں، سیدنا ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خوش شکل نہ تھے، اس لیے سیدہ حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میرے سامنے اللہ تعالیٰ کا ڈر آڑے نہ آتا ہو تو میں ثابت کودیکھ کر اس کے چہرے پر تھوک دوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حبیبہ! کیا تو وہ باغ، جو ثابت نے حق مہر کے طور پر دیا تھا، وہ اسے واپس کر دو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ثابت کے ہاں پیغام بھیجا، وہ آئے، سیدہ حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کو وہ باغ لوٹا دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے درمیان جدائی کروا دی، یہ اسلام میں سب سے پہلا پیش آنے والا خلع تھا۔
Musnad Ahmad
8422
۔ (۸۴۲۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْاَنْصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہٖوَفِیْہٖ: اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَا عُمَرُ! اِنَّ الْقُرْآنَ کُلَّہُ صَوَابٌ مَا لَمْ یُجْعَلْ عَذَابٌ مَغْفِرَۃً اَوْ مَغْفِرَۃٌ عَذَابًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۷۹)
۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس کے آخر میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! قرآن مجید سارے کا سارا درست ہے، جب تک کہ عذاب کی جگہ مغفرت کا اور مغفرت کی جگہ عذاب کا لفظ نہ بولا جائے۔
Musnad Ahmad
8870
۔ (۸۸۷۰)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۳۵)
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورۂ اخلاص ایک تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔
Musnad Ahmad
8988
۔ (۸۹۸۸)۔ عَنِ النَّوَاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّہُ سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ ؟ فَقَالَ: ((اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ وَکَرِھْتَ اَنْ یَّطَّلِعَ النَّاسُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۸۳)
۔ سیدنا نواس بن سمعان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو یہ جواب دیا: نیکی تو حسنِ اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکے اور یہ بات تجھے ناپسند لگے کہ لوگ اس پر مطلع ہو جائیں۔
Musnad Ahmad
9059
۔ (۹۰۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۲۷)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔
Musnad Ahmad
9075
۔ (۹۰۷۵)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا ھِشَامٌ وَیَزِیْدُ، قَالَ: اَنَا ھِشَامٌ عَنْ حَفْصَۃَ، عَنْ اَبِی الْعَالِیَۃِ عَنِ الْاَنْصَارِیِّ، (قَالَ: یَزِیْدُ: رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ) قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ اَھْلِیْ اُرِیْدُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِذَا اَنَا بِہٖقَائِمٌوَرَجُلٌمَعَہُمُقْبِلٌعَلَیْہِ، فَظَنَنْتُ اَنَّ لَھُمَا حَاجَۃً، قَالَ: فَقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی جَعَلْتُ اَرْثِیْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ طُوْلِ الْقِیَامِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، لَقَدْ قَامَ بِکَ الرَّجُلُ حَتَّی جَعَلْتُ اَرْثِیْ لَکَ مِنْ طُوْلِ الْقِیَامِ، قَالَ: ((وَلَقَدْ رَاَیْتَہُ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((اَتَدْرِیْ مَنْ ھُوَ؟)) قُلْتُ: لا، قَالَ: ((ذَاکَ جِبْرِیْلُ علیہ السلام ، مَازَالَ یُوْصِیْنِیْ بِالْجَارِ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہُ سَیُوَرِّثُہُ۔)) ثُمَّ قاَلَ: ((اَمَا اِنَّکَ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَیْہِ رَدَّ عَلَیْکَ السَّلامَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۱۸)
۔ ایک انصاری آدمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملنے کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا، پس جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ ایک آدمی آپ پر متوجہ تھا، میں نے سمجھا کہ ان دونوں کی کوئی ضرورت ہو گی، اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ترس آنے لگا، بہرحال جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے آپ کو اتنی دیر کھڑے رکھا کہ مجھے تو آپ پر ترس آنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتا ہے کہ وہ کون تھا؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، انھوں نے مجھے ہمسائے کے بارے اتنی وصیتیں کیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو عنقریب وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو ان کو سلام کہتا تو وہ تیرے سلام کا جواب دیتے۔