TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9616 - عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان - ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 8 in this chapter
عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِیْ فَقَالَ: ((یَااَبَا سَعِیْدٍ! ثَلَاثَۃٌ مَنْ قَالَھُنَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قُلْتُ: مَاھُنَّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا، وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا اَبَاسَعِیْدٍ! وَالرَّابِعَۃُ لَھَا مِنَ الْفَضْلِ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ وَھِیَ الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے ابو سعید! تین کلمات ہیں، جس نے ان کو ادا کیا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے رسول ہونے پر راضی ہوا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو سعید! ایک چوتھی چیز بھی ہے، اس کی اتنی فضیلت ہے، جیسے آسمان سے زمین تک اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کرنا۔
9616
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۶۱۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۱۵۲۹ (انظر: ۱۱۱۰۲)

Related Chapters

548
1
عدد سے شروع ہونے والی ثنائیات کا بیان
Musnad Ahmad
2
عدد سے شروع ہونے والی ثلاثیات کا بیان
Musnad Ahmad
3
عدد سے شروع ہونے والی خماسیات کا بیان
Musnad Ahmad
4
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
Musnad Ahmad
5
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
Musnad Ahmad
6
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
Musnad Ahmad
7
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
Musnad Ahmad
8
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
9
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
10
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
Musnad Ahmad
11
(20)Chapter: [What Has Been Related] About The Tasmiyah When Performing Wudu
باب: وضو کے شروع میں بسم اللہ کہنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
12
24)Chapter: What Has Been Related About Wiping The Head, That It Is To Begin With The Front Of The Head To Its Rear.
باب: سر کے اگلے حصہ سے مسح شروع کرنے اور پچھلے حصہ تک لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
13
(25)Chapter: What Has Been Related That It Is To Be Begun At The Rear Of The Head
باب: مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
14
(95)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mustahadah That She Can Combine Two Prayers With One Ghusl
باب: مستحاضہ ایک غسل سے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کر سکتی ہے
Jam e Tirmazi
15
(99)Chapter: What Has Been Related About Fondling Menstruating Woman
باب: حائضہ کے ساتھ بوس و کنار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
(100)Chapter: What Has Been Related About Eating With A Menstruating Woman And Leftovers
باب: حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays While Another Man Is With Him
باب: آدمی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہو تو مقتدی کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays With Two Men
باب: کوئی دو آدمیوں کے ساتھ (بطور امام) نماز پڑھ رہا ہو تو کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays And A Man And A Woman Are With Him
باب: آدمی نماز پڑھا رہا ہو اور اس کے ساتھ مرد اور عورتیں دونوں ہوں تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Is Said During The Opening Of The Salat
باب: نماز شروع کرتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
22
Chapter: [What Has Been Related] About Opening The Recitation With Al-Hamdulillahi Rabbil-Alamin (All Praise Is Due To Allah, The Lord Of All That Exits.)
باب: ”الحمدللہ رب العالمین“ سے قرأت شروع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers
باب: دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: About It Being Disliked For The People To Wait For The Imam While They Are Standing At The Beginning Of The Prayer
باب: نماز شروع کرنے کے وقت کھڑے ہو کر امام کے انتظار کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: That Starting From The Right Is Recommended In Purification
باب: وضو داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Combining Hajj And Umrah
باب: حج اور عمرہ کے ایک ساتھ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Beginning With As-Safa Before Al-Marwah
باب: سعی کی شروعات مروہ کے بجائے صفا سے کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Combining Maghrib and Isha At Muzdalifah
باب: مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کر کے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What has been related about it being disliked to enter upon women whose husbands are absent
باب: غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں ہونے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What has been related about the choice
باب: عورت کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے اختیار دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Oath Along With A Witness
باب: ایک گواہ کے ساتھ مدعی قسم کھانا دعویٰ کو ثابت کرنا ہے
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About A Man Having Relations With The Slave Girl Of His Wife
باب: بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Ahl Adh-Dhimmah Fighting With The Muslims, Are They To Recieve A Share Of The Spoils Of War ?
باب: مال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ذمیوں کے حصہ کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Eating With A Leper
باب: کوڑھی کے ساتھ کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Eating Melon With Fresh Dates
باب: تازہ کھجور کے ساتھ تربوز کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Eating Snake Cucumber With Fresh Dates
باب: کھجور کے ساتھ ککڑی کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Eating With Slaves (And Dependants)
باب: بال بچوں، خادم اور غلام کے ساتھ کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Spend While One Has A Smell On His Hand
باب: چکنائی کی بو والے ہاتھوں کے ساتھ سونے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Being Dutiful To Parents.
باب: ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: Also About That
باب: ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
41
Chapter: About Being Dutiful To The Maternal Aunt
باب: خالہ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Consoling The Brother
باب: بھائی کے ساتھ مروت اور غم خواری کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Treating The Servant Well
باب: خادم اور نوکر کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Disciplining The Servant
باب: خادم کے ساتھ سلوک کرنے کے آداب کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Having Amicable Relations With People
باب: حسن معاشرت (یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے رہنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Keeping Consistent Relations
باب: (شریک حیات کے ساتھ) اچھی طرح نباہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
باب: بیٹی کے ساتھ پوتی کی وراثت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What has been Related About Adhering to the Jama'ah
باب: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہمیشہ رہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: Which Of The People Is The Best And Which Of Them Is The Worst
باب: لمبی عمر والا اچھے اعمال کے ساتھ سب سے اچھا آدمی ہے اور برے کام کے ساتھ سب سے برا​
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About A Man Shall Be With Whom He Loves
باب: انجام کار آدمی اپنے دوست کے ساتھ ہو گا
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

5
Musnad Ahmad
270
۔ (۲۷۰)۔عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اِلَّا حَدَّثْتُکُمْ بِہِ۔)) قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُذَافََۃَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ أَبِیْ؟ قَالَ: ((أَبُوْکَ حُذَافَۃُ۔)) فَقَالَتْ أُمُّہُ: مَا أَرَدْتَّ اِلٰی ہٰذَا؟ قَالَ: أَرَدْتُّ أَنْ أَسْتَرِیْحَ، قَالَ: وَکَانَ یُقَالُ فِیْہِ، (قَالَ حُمَیْدٌ: وَأَحْسِبُ ھٰذَا عَنْ أَنَسٍ) قَالَ: فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ عُمَرُ: رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّاوَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضِبِ اللّٰہِ وَغَضِبِ رَسُوْلِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۶۷)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قیامت کے دن تک کی جس چیز کے بارے میںتم مجھ سے سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب بیان کر دوں گا۔ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن حذافہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔ ان کی ماں نے ان سے کہا: اس سوال سے تیرا کیا ارادہ تھا؟ انھوں نے کہا: میرا ارادہ راحت حاصل کرنے کا تھا، اس کے بارے میں کچھ کہا جاتا تھا، لیکن اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو غصہ آگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھ کر سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے نبی ہونے پر راضی ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔
Musnad Ahmad
302
۔ (۳۰۲)۔عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمفَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ مَرَرْتُ بِأَخٍ لِیْ مِنْ قُرَیْظَۃَ فَکَتَبَ لِیْ جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاۃِ، أَ لَا أَعْرِضُہَا عَلَیْکَ؟ قَالَ: فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَقُلْتُ لَہُ: أَ لَا تَرٰی مَا بِوَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَّمَدٍ رَسُوْلًا، قَالَ: فَسُرِّیَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ قَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَوْ أَصْبَحَ فِیْکُمْ مُوْسٰی ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوْہُ وَتَرَکْتُمُوْنِیْ لَضَلَلْتُمْ، اِنَّکُمْ حَظِّیْ مِنَ الْأُمُمِ وَ أَنَا حَظُّکُمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۵۸)
سیدنا عبد اللہ بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! قریظہ کے ایک بھائی کے پاس سے میرا گزر ہوا، پس اس نے میرے لیے تورات کی اہم اہم باتیں لکھ دیں، کیا میں ان کو آپ پر پیش کروں؟ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا چہرہ متغیر ہونا شروع ہو گیا، سیدنا عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر ؓ سے کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے چہرے پر کیا تبدیلی آئی ہے؟ سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے، محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے (غصے والی کیفیت) ختم ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے؟ اگر موسیؑ بھی تم میں آجائیں اور پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگ جاؤ تو گمراہ ہو جاؤ گے، بیشک تم امتوںمیں سے میرا حصہ ہو اور میں انبیاء میں سے تمہارا حصہ ہوں۔
Musnad Ahmad
8984
۔ (۸۹۸۴)۔ عَنْ شَیْبَۃَ الْحَضْرَمِیِّ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عُمَرَبْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ فَحَدَّثَنَا عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبِیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلاثٌ اَحْلِفُ عَلَیْھِنَّ، لا یَجْعَلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَنْ لَہٗسَہْمٌفِی الْاِسْلامِ کَمَنْ لا سَہْمَ لَہُ، فَاَسْہُمُ الْاِسْلامِ ثَلاثَۃٌ: الصَّلاۃُ وَالصَّوْمُ وَالزَّکَاۃُ، وَلایَتَوَلَّی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا فَیُوَلِّیَہُ غَیْرَہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلا یُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا اِلاَّ جَعَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَعَھُمْ، وَالرَّابِعَۃُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَیْھَارَجَوْتُ اَنْ لَا آثَمَ، لا یَسْتُرُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا اِلاَّ سَتَرَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔))، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ: اِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَۃَیَرْوِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاحْفَظُوْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۳۴)
۔ شیبہ حضرمی کہتے ہیں: ہم عمر بن عبد العزیز کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، عروہ بن زبیر نے ہم کو بیان کیا کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں، جس آدمی کا اسلام میں حصہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اس آدمی کی طرح نہیں کرے گا، جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، وہ تین چیزیںیہ ہیں: (۱) اسلام کے تین حصے ہیں: نماز، روزوہ اور زکوۃ، (۲) یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک آدمی سے محبت رکھے اور پھر قیامت کے دن اس کو کسی کے سپرد کر دے، (۳) بندہ جن لوگوں سے محبت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ان کے ساتھ ہی کر دے گا، اور اگر میں چوتھی چیز پر بھی قسم اٹھا لوں تو مجھے امید ہے کہ گنہگار نہیں ہوں گا اور وہ یہ ہے کہ جو آدمی دنیا میں کسی شخص پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس پر پردہ ڈالے گا۔ یہ حدیث سن کر عمر بن عبد العزیز نے کہا: جب تم ایسی حدیث سنو جس کو عروہ سیدہ عائشہ سے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کر رہی ہوں تو اس کو یاد کر لیا کرو۔
Musnad Ahmad
12840
۔ (۱۲۸۴۰)۔ وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْاَشْجَعِیِّ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ: ((عَوْفٌ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ ،فَقَالَ: ((اُدْخُلْ))قَالَ: قُلْتُ: کُلٌّ اَوْ بَعْضِیْ قَالَ: ((بَلْ کُلُّکَ۔)) قَالَ: ((اُعْدُدْ یَاعَوْفُ! سِتًّا بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ، اَوَّلُھُنَّ مَوْتِیْ۔)) قَالَ: فَاسْتَبْکَیْتُ حَتّٰی جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَکِّتُنِیْ قَالَ: قُلْتُ: اِحْدٰی((وَالثَّانِیَۃُ فَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدَسِ۔)) قُلْتُ: اِثْنَیْنِ، ((وَالثَّالِثَۃُ مُوْتَانٌ یَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْیَاْخُذُھُمْ مِثْلَ قُعَاصِ الْغَنَمِ۔)) قَالَ: ((ثَلاَثًا وَالرَّابِعَۃُ فِتْنَۃٌ تَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ وَاَعْظَمُہَا۔)) قَالَ :((اَرْبَعًا وَالْخَامِسَۃُیَفِیْضُ الْمَالُ فِیْکُمْ حَتّٰی اَنَّ الرَّجُلَ لَیُعْطٰی الْمِائَۃَ دِیْنَارٍ فَیَتَسَخَّطُہَا۔)) قَالَ: ((خَمْسًا،وَالسَّادِسَۃُ ھُدْنَۃٌ تَکُوْنُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ بَنِیْ الْاَصْفَرِ فَیَسِیْرُوْنَ اِلَیْکُمْ عَلٰی ثَمَانِیْنَ غَایَۃً۔)) قُلْتُ: وَمَا الْغَایَۃُ؟ قَالَ: ((اَلرَّایَۃُ تَحْتَ کُلِّ رَاْیَۃٍ اِثْنَا عَشَرَ اَلْفًا، فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِیْنَیَوْمَئِذٍ فِیْ اَرْضٍ یُقَالُ لَھَا الْغُوْطَۃُ فِیْ مَدِیْنَۃٍیُقَالُ لَھَا دِمَشْقُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۸۵)
سیدنا عوف بن مالک اشجعی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور سلام کہا، آپ نے پوچھا : عوف ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: اندر آجاؤ۔ میں نے کہا: سارا آجاؤں یا کچھ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : پورے کے پورے ہی آجاؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عوف! قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہونے والے چھ بڑی بڑی علامتوں کو شمار کرو، پہلی علامت میری موت ہے۔ یہ سن کر میں رونے لگ گیا، پھر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے چپ کرانے لگ گئے، میںنے کہا: یہ ایک ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوسری بیت المقدس کی فتح ہے۔ میں نے کہا: یہ دوسری ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیسری علامت یہ ہے کہ میری امت میں اس قدر زیادہ موتیں ہوں، جیسے بکریاں موت کی وباء میںمرنے لگتی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ تیسری ہو گئی، اور چوتھی علامت یہ ہے کہ ایک بڑا فتنہ ہو گا، یہ چوتھی ہو گئی اور پانچواں یہ کہ دولت اس قدر عام ہوجائے گی کہ جب کسی کو ایک سو دینار دئیے جائیں گے تو وہ ان کو قلیل سمجھتے ہوئے غصے کا اظہار کرے گا۔ آپ نے فرمایا : یہ پانچویں ہوئی اور چھٹی علامت یہ ہو گی کہ تمہارے اور بنو الاصفر کے درمیان صلح ہوگی،لیکن وہ (عہد توڑ کر) اسی جھنڈوں کے نیچے چل کر آئیں گے۔ میں نے کہا: غایہ سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد جھنڈا ہے، ہر جھندے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے، ان دنوں مسلمانوں کا مرکز دمشق میں غوطہ نامی مقام پر ہوگا۔
Musnad Ahmad
12938
۔ (۱۲۹۳۸)۔ وَعَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیٍّ عَنِ الْمَسْتَوْرِدِ الْفِہْرِیِّ اَنَّہُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَالرُّوْمُ اَکْثَرُ النَّاسِ، فَقَالَ لَہُ عَمْرُوبْنُ الْعَاصِ: أَبْصِرْ مَا تَقُوْلُ: قَالَ: اَقُوْلُ لَکَ مَاسَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: اِنْ تَکُنْ قُلْتَ ذٰاکَ، اِنَّ فِیْہِمْ لَخِصَالًا اَرْبَعًا، اِنَّہُمْ لَاَسْرَعُ النَّاسِ کَرَّۃً بَعْدَ فَرَّۃٍ، وَاِنَّہُمْ لَخَیْرُ النَّاسِ لِمِسْکِیْنٍ وَفَقِیْرٍ وَضَعِیْفٍ، وَاِنَّہُمْ لَاَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَۃٍ، وَالرَّابِعَۃُ حَسَنَۃٌ جَمِیْلَۃٌ وَاِنَّہُمْ لَاَمْنَعُ النَّاسِ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوْکِ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۸۵)
سیدنا مستورد فہری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:قیامت قائم ہوتے وقت رومیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی، سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: ذرا غور کرو، کیا کہہ رہے ہو؟ انہوںنے کہا: میں نے جوبات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، وہی تم سے کہہ رہا ہوں۔ یہ سن کر سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم یہی بات کہتے ہو تو پھر اس کی وجہ یہ ہے کہ رومیوں میں یہ چار اوصاف ہیں: (۱) اگر وہ میدانِ جنگ سے فرار ہوجائیں، تو (انتقامی) حملہ کرنے کے لیے بہت جلد واپس آتے ہیں، (۲)وہ غریبوں، فقیروں اور ضعیفوں کے حق میں دوسرے لوگوں کی بہ نسبت بہت بہتر ہیں، (۳) وہ لڑائی کے وقت سب سے زیادہ حوصلہ مند ثابت ہوتے ہیں اور (۴) یہ لوگ بادشاہوں کے مظالم کو سب سے بڑھ کر روکنے والے ہوتے ہیں۔