سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا، یہاں تک لوگ سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے۔ بالآکر سیدنا عمر بن خطاب ؓآئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! نماز پڑھائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، راوی نے اس قسم کی کوئی بات ذکر نہیں کی کہ انھوں نے وضو کیا تھا۔
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز عشاء کے لیے اقامت کہہ دی گئی یا ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا گیا، پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ سرگوشی کرنے لگے، یہاں تک کہ لوگ سونے لگ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور وضو کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام سو جاتے تھے اور پھر نیا وضو نہیں کرتے تھے۔
سیدنا علیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ سونے والا آدمی تھا، اس لیے جب میں مغرب پڑھتا اور مجھ پر میرے کپڑے ہوتے تو میں سو جاتا، پھر ایک دفعہ یحییٰ بن سعید نے علیؓ کی بات نقل کرتے ہوئے یہ کہا: تو میں عشاء سے پہلے سو جاتا پس جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رخصت دے دی۔