TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 11725 - اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ - فضائل و مناقب کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 10 in this chapter
اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
۔ (۱۱۷۲۵)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَخْبَرَنِی وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَکَانَ وَاقِدٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَأَعْظَمِہِمْ وَأَطْوَلِہِمْ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَقَالَ لِی: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: إِنَّکَ بِسَعْدٍ أَشْبَہُ ثُمَّ بَکٰی وَأَکْثَرَ الْبُکَائَ، فَقَالَ: رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی سَعْدٍ، کَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِہِمْ، ثُمَّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشًا إِلٰی أُکَیْدِرَ دُومَۃَ، فَأَرْسَلَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِجُبَّۃٍ مِنْ دِیبَاجٍ مَنْسُوجٍ فِیہِ الذَّہَبُ، فَلَبِسَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ أَوْ جَلَسَ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ یَلْمِسُونَ الْجُبَّۃَ وَیَنْظُرُونَ إِلَیْہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَتَعْجَبُونَ مِنْہَا۔)) قَالُوْا: مَا رَأَیْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَمَنَادِیلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِی الْجَنَّۃِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۴۸)
محمد بن عمرو سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ نے مجھے بیان کیا، جبکہ وہ انتہائی حسین و جمیل ، عظیم الجثہ اور دراز قامت آدمی تھے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا، انہوںنے مجھ سے دریافت کیا کہ میں کون ہوں۔ میں نے عرض کیا:میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں۔ انھوں نے کہا: تم تو سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مشابہ ہو، اس کے بعد وہ رونے لگے اور بہت زیادہ روئے اور کہا: سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر اللہ کی رحمت ہو، وہ سب سے بڑھ کر جسیم اور طویل قامت تھے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دومہ کے والی اکیدر کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ارسال کیا، جس پر سونے کی کڑھائی کی گئی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے زیب تن فرمایا اور منبر پر کھڑے ہوئے یا بیٹھے، آپ نے کچھ گفتگو نہ کی اور ویسے ہی نیچے اتر آئے۔ لوگ اس جبہ کو ہاتھ لگا لگا کر دیکھنے لگے (اور اس کی عمدگی پرتعجب کرنے لگے)۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس جبہ پر تعجب کرتے ہو؟ صحابۂ کرام نے عرض کیا: جی کیوں نہیں، ہم نے اس سے اچھا کپڑا کبھی نہیں دیکھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جو کپڑا دیکھ رہے ہو، جنت میںسعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔
11725
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۷۲۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ مختصرا البخاری: ۲۶۱۶ معلقا ،ومسلم: ۲۴۶۹(انظر: ۱۲۲۲۳)

Related Chapters

354
1
غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے بعض مشترکہ واقعات اور سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ
Musnad Ahmad
2
سیدنا سعد بن ابی ذباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
3
سیدنا سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی کہا جاتا ہے
Musnad Ahmad
4
خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادۃ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
5
سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
6
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
7
وفدِ ثقیف اور قبیلہ بنو سعد کے نمائندے سیدنا ضمام بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آمد کا بیان
Musnad Ahmad
8
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف بھیجے جانے کا بیان
Musnad Ahmad
9
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف روانہ کئے جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
10
خادم رسول سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور دیگر خدام رسول کا تذکرہ
Musnad Ahmad
11
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
12
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
13
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
14
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
15
سیدنا براء بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
16
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
17
مؤذن رسول سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
18
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
19
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
20
سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
21
سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
22
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
23
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ماموں حرام بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
24
سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
25
سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
26
سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
27
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
28
سیدنا خبیب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
29
سیدنا خریم اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
30
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
31
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
32
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
33
سیدنا زاہر بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
34
سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
35
سیدنا زید بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
36
سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
37
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
Musnad Ahmad
38
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
39
سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
40
سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
41
سیدنا سمرہ بن فاتک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
42
سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
43
سیدنا ضرار بن ازور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
44
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
45
سیدنا طارق بن شہاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
46
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
47
سیدنا عامر بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
48
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
49
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
50
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1
Musnad Ahmad
10771
۔ (۱۰۷۷۱)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: أَخْبَرَتْنِی عَائِشَۃُ قَالَتْ: خَرَجْتُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو آثَارَ النَّاسِ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ وَئِیدَ الْأَرْضِ وَرَائِییَعْنِی حِسَّ الْأَرْضِ، قَالَتْ: فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَہُ ابْنُ أَخِیہِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ یَحْمِلُ مِجَنَّہُ، قَالَتْ: فَجَلَسْتُ إِلَی الْأَرْضِ فَمَرَّ سَعْدٌ وَعَلَیْہِ دِرْعٌ مِنْ حَدِیدٍ، قَدْ خَرَجَتْ مِنْہَا أَطْرَافُہُ فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلٰی أَطْرَافِ سَعْدٍ، قَالَتْ: وَکَانَ سَعْدٌ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِہِمْ، قَالَتْ: فَمَرَّ وَہُوَ یَرْتَجِزُ وَیَقُولُ: لَیْتَ قَلِیلًایُدْرِکُ الْہَیْجَاء جَمَلْ،مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ، قَالَتْ: فَقُمْتُ فَاقْتَحَمْتُ حَدِیقَۃً، فَإِذَا فِیہَا نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ، وَإِذَا فِیہِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَفِیہِمْ رَجُلٌ عَلَیْہِ سَبْغَۃٌ لَہُ یَعْنِی مِغْفَرًا، فَقَالَ عُمَرُ، مَا جَائَ بِکِ لَعَمْرِی وَاللّٰہِ! إِنَّکِ لَجَرِیئَۃٌ، وَمَا یُؤْمِنُکِ أَنْ یَکُونَ بَلَائٌ أَوْ یَکُونَ تَحَوُّزٌ، قَالَتْ، فَمَا زَالَ یَلُومُنِی حَتّٰی تَمَنَّیْتُ أَنَّ الْأَرْضَ انْشَقَّتْ لِی سَاعَتَئِذٍ فَدَخَلْتُ فِیہَا، قَالَتْ: فَرَفَعَ الرَّجُلُ السَّبْغَۃَ عَنْ وَجْہِہِ فَإِذَا طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ، یَا عُمَرُ! وَیْحَکَ إِنَّکَ قَدْ أَکْثَرْتَ مُنْذُ الْیَوْمَ وَأَیْنَ التَّحَوُّزُ أَوْ الْفِرَارُ إِلَّا إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَتْ: وَیَرْمِی سَعْدًا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مِنْ قُرَیْشٍ،یُقَالُ لَہُ: ابْنُ الْعَرِقَۃِ بِسَہْمٍ لَہُ، فَقَالَ لَہُ: خُذْہَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرَقَۃِ، فَأَصَابَ أَکْحَلَہُ فَقَطَعَہُ، فَدَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ سَعْدٌ فَقَالَ: اللَّہُمَّ لَا تُمِتْنِی حَتّٰی تُقِرَّ عَیْنِی مِنْ قُرَیْظَۃَ، قَالَتْ، وَکَانُوا حُلَفَائَہُ وَمَوَالِیَہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، قَالَتْ: فَرَقَیَٔ کَلْمُہُ وَبَعَثَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الرِّیحَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ، فَکَفَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ، وَکَانَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ قَوِیًّا عَزِیزًا، فَلَحِقَ أَبُو سُفْیَانَ وَمَنْ مَعَہُ بِتِہَامَۃَ، وَلَحِقَ عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ وَمَنْ مَعَہُ بِنَجْدٍ، وَرَجَعَتْ بَنُو قُرَیْظَۃَ فَتَحَصَّنُوا فِی صَیَاصِیہِمْ، وَرَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْمَدِینَۃِ، فَوَضَعَ السِّلَاحَ وَأَمَرَ بِقُبَّۃٍ مِنْ أَدَمٍ، فَضُرِبَتْ عَلٰی سَعْدٍ فِی الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: فَجَائَ ہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام، وَإِنَّ عَلٰی ثَنَایَاہُ لَنَقْعَ الْغُبَارِ، فَقَالَ: أَقَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ؟ وَاللّٰہِ! مَا وَضَعَتِ الْمَلَائِکَۃُ بَعْدُ السِّلَاحَ، اخْرُجْ إِلٰی بَنِی قُرَیْظَۃَ فَقَاتِلْہُمْ، قَالَتْ: فَلَبِسَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَأْمَتَہُ، وَأَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالرَّحِیلِ أَنْ یَخْرُجُوا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَرَّ عَلٰی بَنِی غَنْمٍ، وَہُمْ جِیرَانُ الْمَسْجِدِ حَوْلَہُ، فَقَالَ: ((مَنْ مَرَّ بِکُمْ؟)) فَقَالُوا: مَرَّ بِنَا دِحْیَۃُ الْکَلْبِیُّ، وَکَانَ دِحْیَۃُ الْکَلْبِیُّ تُشْبِہُ لِحْیَتُہُ وَسِنُّہُ وَوَجْہُہُ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَام، فَقَالَتْ: فَأَتَاہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَاصَرَہُمْ خَمْسًا وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً، فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُہُمْ وَاشْتَدَّ الْبَلَائُ، قِیلَ لَہُمْ، انْزِلُوا عَلٰی حُکْمِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، فَأَشَارَ إِلَیْہِمْ أَنَّہُ الذَّبْحُ، قَالُوا: نَنْزِلُ عَلٰی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((انْزِلُوا عَلٰی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ۔)) فَنَزَلُوا، وَبَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأُتِیَ بِہِ عَلٰی حِمَارٍ، عَلَیْہِ إِکَافٌ مِنْ لِیفٍ قَدْ حُمِلَ عَلَیْہِ، وَحَفَّ بِہِ قَوْمُہُ، فَقَالُوا: یَا أَبَا عَمْرٍو! حُلَفَاؤُکَ وَمَوَالِیکَ وَأَہْلُ النِّکَایَۃِ، وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ، قَالَتْ: وَأَنَّی لَا یُرْجِعُ إِلَیْہِمْ شَیْئًا وَلَا یَلْتَفِتُ إِلَیْہِمْ، حَتّٰی إِذَا دَنَا مِنْ دُورِہِمْ الْتَفَتَ إِلٰی قَوْمِہِ، فَقَالَ: قَدْ آنَ لِی أَنْ لَا أُبَالِیَ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: فَلَمَّا طَلَعَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قُومُوا إِلٰی سَیِّدِکُمْ۔)) فَأَنْزَلُوہُ، فَقَالَ عُمَرُ: سَیِّدُنَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: أَنْزِلُوہُ فَأَنْزَلُوہُ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((احْکُمْ فِیہِمْ۔)) قَالَ سَعْدٌ: فَإِنِّی أَحْکُمُ فِیہِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُہُمْ، وَتُسْبٰی ذَرَارِیُّہُمْ، وَتُقْسَمَ أَمْوَالُہُمْ، وَقَالَ یَزِیدُ بِبَغْدَادَ: وَیُقْسَمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَقَدْ حَکَمْتَ فِیہِمْ بِحُکْمِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُکْمِ رَسُولِہِ۔)) قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ: قَالَ: اللَّہُمَّ إِنْ کُنْتَ أَبْقَیْتَ عَلٰی نَبِیِّکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ حَرْبِ قُرَیْشٍ شَیْئًا فَأَبْقِنِی لَہَا، وَإِنْ کُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُمْ فَاقْبِضْنِی إِلَیْکَ، قَالَتْ: فَانْفَجَرَ کَلْمُہُ، وَکَانَ قَدْ بَرِئَ حَتّٰی مَا یُرٰی مِنْہُ إِلَّا مِثْلُ الْخُرْصِ، وَرَجَعَ إِلٰی قُبَّتِہِ الَّتِی ضَرَبَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَحَضَرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ، قَالَتْ: فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، إِنِّی لَأَعْرِفُ بُکَائَ عُمَرَ مِنْ بُکَائِ أَبِی بَکْرٍ، وَأَنَا فِی حُجْرَتِی، وَکَانُوا کَمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ} قَالَ عَلْقَمَۃُ: قُلْتُ: أَیْ أُمَّہْ! فَکَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ؟ قَالَتْ: کَانَتْ عَیْنُہُ لَا تَدْمَعُ عَلٰی أَحَدٍ وَلٰکِنَّہُ کَانَ إِذَا وَجِدَ فَإِنَّمَا ہُوَ آخِذٌ بِلِحْیَتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۱۰)
یزید نے ہمیں بتلایا کہ ہمیں محمد بن عمر و نے اپنے والد سے اور انہوں نے اسے اس کے دادا علقمہ بن وقاص سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ میں خندق والے دن لوگوں کے نقوش پا پر چلتی ہوئی روانہ ہوئی۔ مجھے اپنے پیچھے زمین پر کسیکے چلنے کی آہٹ سنائی دی۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے اور ان کے ہمراہ ان کے برادر زادے سیدنا حارث بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ڈھال اُٹھائے ہوئے تھے۔ اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:انہیں دیکھ کر میں زمین پر بیٹھ گئی۔ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قریب سے گزرے تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے لوہے کی ایک زرہ زیب تن کی ہوئی تھی۔ ان کے بازو اور ٹانگیں زرہ سے باہر تھیں مجھے سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ان اعضاء کے متعلق خدشہ ہوا کہ کہیں دشمن ان پر حملہ نہ کر دے۔ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب لوگوں سے طویل القامت تھے۔ وہ قریب سے گزرے تو یہ رجز پڑھتے جا رہے تھے: لَیتَ قَلیلًایُدْرِکُ الہَیْجَائَ جَمَلٌمَا اَحْسَنَ الموتَ اِذَا حَانَ الْاَجَلْ۔ …1 (کاش کہ اونٹ لڑائی میں اپنی قوت وبہادری کے کچھ جوہر دکھا ئے موت کتنی اچھی ہے جس کا وقت آجائے وہ تو آنی ہی ہے۔)اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں: ان کے گزر جانے کے بعد میں اُٹھ کر ایک باغ میں چلی گئی۔ وہاں کچھ مسلمان موجود تھے، انہی میں عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے۔ وہاں ایک آدمی تھا جس کے سر پر خود یعنی لوہے کی ٹوپی تھی ! شعر کے الفاظ کی تحقیق اور مفہوم کی وضاحت کے لیے دیکھیں مسند احمد محقق۔ ج: ۴۲، ص: ۲۷۔ ساتھ ہی اس نے لوہے کا حفاظتی سامان باندھا ہوا تھا جس سے گردن اور زرہ کے سامنے والے حصہ کو محفوظ کیا ہوا تھا۔مجھے دیکھ کر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے آپ کیوں آئی ہیں؟ مجھے اپنی زندگی کی قسم! اللہ کی قسم! آپ بڑی دلیر ہیں۔ کیا آپ اس بات سے نہیں ڈریں کہ کوئی پریشانی آسکتیہےیا شدید لڑائی ہو سکتی ہے یا دشمن گرفتار کر سکتا ہے؟ سیّدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ وہ برابر مجھے سرزنش کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کا کاش اسی وقت میرے لیے زمین پھٹ جائے اور میں اس میں چلی جاؤں۔ اس مسلح آدمی نے اپنے چہرے سے اوزار ہٹائے تو دیکھا کہ وہ طلحہ بن عبیداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، وہ بولے عمر! بڑے افسوس کی بات ہے۔ آپ نے آج بہت زیادتی کر ڈالی۔ کہاں ہے لڑائی اور اللہ تعالیٰ کے سوا فرار کس کی طرف ہو سکتا ہے؟ سیّدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں۔ وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ ایک مشرک قریشی نے جس کا نام ابن العرقۃ تھا، نشانہ لے کر ان پر تیرچلا دیا۔ اور ساتھ ہی کہا میں ابن عرقہ ہوں، لے میری طرف سے یہ تیر،وہ تیر ان کے بازو کے اکحل نامی رگ پر آکر لگا۔ اور اسے کاٹ ڈالا۔ حضرت سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا یا اللہ تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک تو بنو قریظہ کے بارے میں میری آنکھوں کو ٹھندا نہ کر دے۔ سیّدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ بنو قریظہ جاہلیت کے دور میںیعنی قبل از اسلام ان کے حلیف اور ساتھی تھے، سیدہ اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ ان کے زخم سے خون بہنے لگا، اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر تیز آندھی بھیج دی اور اس نے لڑائی میں اہل ایمان کیکفایت کی، اللہ تعالیٰ بڑا ہی صاحب قوت اور سب پر غالب ہے۔ ابو سفیان اور اس کے ساتھی تہامہ کی طرف چلے گئے اور عیینہ بن بدر اور اس کے ساتھی نجد کی طرف چلے گئے اور بنو قریظہ واپس آکر اپنے قلعوں میں بند ہو گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ کی طرف واپس آئے، ہتھیار اُٹھا کر رکھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے مسجد میں چمڑے کا ایک خیمہ نصب کرنے کا حکم صادر فرمایا، اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ اسی دوران جبریل علیہ السلام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے ان کے دانتوں پر ابھی غبار کے آثار تھے۔ انہوں نے کہا ( اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہتھیار اتار کر رکھ دئیے؟ اللہ کی قسم! فرشتوں نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے۔ آپ بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوں اور ان سے قتال کریں۔ اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہتھیار سجا لئے اور لوگوں کو (بنو قریظہ کی طرف) روانگی کا حکم دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہوئے تو آپ بنو غنم کے پاس سے گزرے، وہ لوگ مسجد کے پڑوسی تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: ابھی تمہارے پاس سے کون گزر کر گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سے دحیہ کلبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گزر کر گئے ہیں، دحیہ کلبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی داڑھی، دانت اور چہرہ جبریل علیہ السلام سے مشابہت رکھتا تھا۔ اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو قریظہ کی طرف تشریف لے گئے اور پچیس(۲۵) راتوں تک ان کا محاصرہ کیا۔ جب ان کا محاصرہ سخت اور ان کی مصیبت بھی فزوں ہوئی تو ان سے کہا گیا کہ تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فیصلہ پر راضی ہو جاؤ۔انہوں نے ابو لبابہ بن عبدالمندر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مشاورت کی تو انہوں نے اشارے سے ان کو بتلا دیا کہ وہ تو تمہیں ذبح، قتل، کریں گے بنو قریظہ نے کہا کہ ہم سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تم انہی کے فیصلہ کو تسلیم کر لو۔ انہوں نے بھی اس پر رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغامبھیج کر بلوایا۔ ان کو لایا گیا تو وہ گدھے پر سوار تھے جس پر کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی کاٹھی تھی۔ انہیں گدھے پر سوار کیا گیا تھا اور ان کی قوم کے لوگ ان کے اردگرد تھے انہوں نے کہا اے بو عمرو ! وہ آپ کے حلیف اور دوست ہیں اور وہ بدعہدی بھی کر چکے ہیں ان کا مطلبیہ تھا کہ ذرا سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ ان کے سارے احوال سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ وہ ان کی باتیں خاموشی سے سنتے آئے اور ان کی کسی بات کا انہیں جواب نہ دیا۔ اور نہ ہی ان کی طرف انہوں نے دیکھا۔ جب وہ بنو قریظہ کے گھروں کے قریب پہنچے تو اپنی قوم کی طرف رخ کر کے کہا اب مجھ پر ایسا موقعہ آیا ہے کہ میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کروں۔ابو سعید ( راوی) کہتے ہیں کہ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے سیّدیعنی سردار کی طرف اُٹھ کر جاؤ اور پکڑ کر انہیں گدھے سے اتار و،یہ سن کر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے کہ ہمارا سیّد ( مالک، آقا) تو اللہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اتارو، انہیں اتارو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا تم ان کی بابت فیصلہ کرو۔ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا میں ان کے متعلق یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان میں سے جن لوگوں نے مسلمانوں سے قتال کیا انہیں قتل کر دیا جائے۔ اور ان کی اولادوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے اموال بطور مالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔ ان کا فیصلہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تم نے ان کے متعلق ایسا فیصلہ دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فیصلہ اور منشا کے عین مطابق ہے۔ اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں پھر سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دعا کییا اللہ ! اگر تیرے نبی اور قریش کے درمیان کوئی لڑائی ہونی باقی ہے تو مجھے اس لڑائی میں شرکت کے لیے زندہ رکھ اور اگر تیرے نبی اور قریش کے درمیان کوئی لڑائی ہونے والی نہیں تو مجھے اپنی طرف اُٹھا لے۔ ان کا زخم پھٹ گیا۔ حالانکہ وہ تقریباً ٹھیک ہو چکا تھا اور اس میں سے صرف ایک بالی، کان کے زیور کے بقدر زخمی باقی تھا۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے اس خیمہ کی طرف لوٹ آئے جو ان کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نصب کرایا تھا۔ اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے ہاں گئے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اپنے کمرے میں ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں کے رونے کی آوازوں کو الگ الگ شناخت کر رہی تھی۔ ان صحابہ کی آپس میں محبت ایسی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ {رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ} کہ یہ صحابہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے از حد شفیق ومہربان ہیں۔ علقمہ کہتے ہیں میں نے دریافت کیا اماں جان! ایسے مواقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس طرح کیا کرتے تھے؟ فرمایا ان کی آنکھیں کسی کی وفات پر آنسو نہیں بہاتی تھیں۔ لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمگین ہوتے تو اپنی داڑھی مبارک کو ہاتھ میں پکڑ لیتے تھے۔