TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 11863 - چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ - فضائل و مناقب کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
۔ (۱۱۸۶۳)۔ وَعَنْ اَبِی نَجِیْحِ نِ السُّلَمِیِّ یَعْنِیْ عَمْرَو بْنَ عَبَسَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِصْنَ الطَّائِفِ فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ یَقُوْلُ: ((مَنْ بَلَغَ بِسَہْمٍ فَلَہٗ دَرَجَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَبَلَغْتُ یَوْمَئِذٍ سِتَّۃَ عَشَرَ سَہْمًا۔ (مسند احمد: ۱۷۱۴۷)
ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں طائف کے قلعے کا محاصر کیا، اس دوران رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں دشمن کو ایک تیر مارا، اسے جنت میں ایک درجہ ملے گا۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اس دن سولہ تیرمارے۔
11863
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۸۶۳) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، اخرجہ ابوداود: ۳۹۶۵،والترمذی: ۱۶۳۸ (انظر: ۱۷۰۲۲)

Related Chapters

408
1
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
2
سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
Musnad Ahmad
3
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
4
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
5
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
Musnad Ahmad
6
سیدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قبولِ اسلام کا بیان
Musnad Ahmad
7
نجد کی جانب سیدنا محمد بن مسلمہ کی مہم، ثمامہ بن اثال کی گرفتاری اور اس کے قبولِ اسلام کا بیان
Musnad Ahmad
8
سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے قبول اسلام کا بیان
Musnad Ahmad
9
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدینہ منورہ آمد، ان کی بیعت اور قبولِ اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
10
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف روانہ کئے جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
11
خادم رسول سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور دیگر خدام رسول کا تذکرہ
Musnad Ahmad
12
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
13
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
Musnad Ahmad
14
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
15
سیدنا اسید بن حضیر کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
16
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
17
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
18
سیدنا براء بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
19
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
20
مؤذن رسول سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
21
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
22
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
23
سیدنا جعفر بن ابی طالب اور ان کی اولادکا تذکرہ
Musnad Ahmad
24
سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
25
سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
26
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
27
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ماموں حرام بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
28
سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
29
سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
30
سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
31
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
32
سیدنا خبیب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
33
سیدنا خریم اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
34
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
35
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
36
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
37
سیدنا زاہر بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
38
سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
39
سیدنا زید بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
40
سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
41
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
Musnad Ahmad
42
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
43
سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
44
سیدنا سعد بن ابی ذباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
45
سیدنا سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی کہا جاتا ہے
Musnad Ahmad
46
خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادۃ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
47
اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
48
سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
49
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
Musnad Ahmad
50
سیدنا سمرہ بن فاتک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

24
Musnad Ahmad
10911
۔ (۱۰۹۱۱)۔ عَنْ اَبِی نَجِیْحٍ السُّلَمِیِّ قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِصْنَ الْطَائِفِ اَوْ قَصْرَ الطَّائِفِ، فَقَالَ: ((مَنْ بَلَغَ بِسَہْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَلَہٗدَرَجَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَبَلَغْتُ یَوْمَئِذٍ سِتَّۃَعَشَرَ سَہْمًا، ((وَمَنْ رَمٰی بِسَہْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَہُوَ لَہٗعِدْلُمُحَرَّرٍ،وَمَنْاَصَابَہٗشَیْبٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَہُوَ لَہٗنُوْرٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۴۸)
سیدنا ابونجیح سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں طائف کے قلعہ یا محل کا محاصرہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیر چلایا، اسے جنت میں ایک درجہ ملے گا۔ چنانچہ میں نے اس دن سولہ تیر چلائے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: اور جس نے اللہ کی راہ میں دشمن کو تیر مارا، اسے ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنے کے برابر ثواب ہو گا اور جو آدمی اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو گیا تو بڑھاپے کییہ سفیدی قیامت کے دن اس کے لیے نور کا سبب ہو گی۔
Musnad Ahmad
4892
۔ (۴۸۹۲)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِیِّ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْقَتْلُ ثَلَاثَۃٌ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَاتَلَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَتّٰی إِذَا لَقِیَ الْعَدُوَّ قَاتَلَہُمْ حَتّٰی یُقْتَلَ، فَذٰلِکَ الشَّہِیدُ الْمُفْتَخِرُ فِی خَیْمَۃِ اللّٰہِ تَحْتَ عَرْشِہِ، لَا یَفْضُلُہُ النَّبِیُّونَ إِلَّا بِدَرَجَۃِ النُّبُوَّۃِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلٰی نَفْسِہِ مِنْ الذُّنُوبِ وَالْخَطَایَا، جَاہَدَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَتّٰی إِذَا لَقِیَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتّٰی یُقْتَلَ، مُحِیَتْ ذُنُوبُہُ وَخَطَایَاہُ، إِنَّ السَّیْفَ مَحَّائُ الْخَطَایَا، وَأُدْخِلَ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شَائَ، فَإِنَّ لَہَا ثَمَانِیَۃَ أَبْوَابٍ، وَلِجَہَنَّمَ سَبْعَۃُ أَبْوَابٍ، وَبَعْضُہَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ، وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاہَدَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ حَتّٰی إِذَا لَقِیَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَتّٰی یُقْتَلَ، فَإِنَّ ذٰلِکَ فِی النَّارِ السَّیْفُ لَا یَمْحُو النِّفَاقَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۰۷)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سُلَمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ صحابۂ رسول میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل کی تین اقسام ہیں: (۱) وہ مؤمن آدمی جو اپنے جان و مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتال کرتا ہے، جب دشمن سے اس کی ٹکر ہوتی ہے تو وہ اس سے لڑائی کرتا ہے، یہاں تک کہ شہید ہو جاتا ہے، یہ وہ شہید ہے، جو اللہ کے عرش کے نیچے خیمۃ اللہ میں فخر کرنے والا ہو گا، انبیاء صرف نبوت کے درجے کی وجہ سے ایسے شہید سے فضیلت رکھتے ہوں گے، (۲) وہ مؤمن آدمی، جس نے اپنی جان پر گناہ کیے ہوتے ہیں اور وہ اپنے مال وجان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، جب وہ دشمنوں سے ملتا ہے تو ان سے قتال کرتا ہے، یہاں تک کہ شہید ہو جاتا ہے، ایسے شہید کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، بیشک تلوار گناہوں کو مٹا دینے والی ہے، ایسا شہید جنت کے جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا، جنت کے آٹھ دروازے ہیں، جن میں سے بعض دروزے بعض سے افضل ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں، اور (۳) وہ منافق آدمی جو اپنے جان ومال سے قتال کرتا ہے، جب دشمن سے اس کی ٹکر ہوتی ہے تو وہ راہِ خدا میں لڑتا ہے، یہاں تک کہ قتل کر دیا جاتا ہے، یہ شخص جہنم میں ہو گا، کیونکہ تلوار نفاق جیسے گناہ کو نہیں مٹا سکتی۔
Musnad Ahmad
4906
۔ (۴۹۰۶)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِنِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّٔبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۰۱)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سُلَمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Musnad Ahmad
5200
۔ (۵۲۰۰)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِنِالسُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ جَزِّ اَعْرَافِ الْخَیْلِ وَنَتْفِ اَذْنَابِھَا، وَجَزِّ نَوَاصِیْھَا، وَقَالَ: ((اَمَّا اَذْنَابُھَا فَاِنَّھَا مُذَابُّھَا، وَاَمَّا عِرَافُھَا فَاِنَّھَا اِدْفَائُھَا، وَاَمَّا نَوَاصِیْھَا فَاِنَّ الْخَیْرَ مَعْقُوْدٌ فِیْھَا، (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَنَوَاصِیْھَا مَعْقُوْدٌ بِھَا الْخَیْرُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۹۰)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑے کی گردن کے بال، دم کے بال اور پیشانی کے بال کاٹنے سے منع کیا اور فرمایا: گھوڑوں کی دُمیں (مکھیوں وغیرہ کو) ہٹاتی ہیں، گردن کے بال ان کو سردی سے بچاتے ہیں اور پیشانیاں، کیا بات ہے ان کی کہ اللہ تعالیٰ نے روزِ قیامت تک خیر کو ان کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔
Musnad Ahmad
5207
۔ (۵۲۰۷)۔ عَنْ اَبِیْ نَجِیْحِ نِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ رَمٰی بِسَہْمٍ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَہُوَ عِدْلُ مُحَرَّرٍ، وَمَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ کَانَتْ لَہُ نُورًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَأَیُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وَفَائَ کُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِہِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِہِ مِنَ النَّارِ، وَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ أَعْتَقَتْ امْرَأَۃً مُسْلِمَۃً، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وَفَائَ کُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِہَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِہَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۴۷)
۔ سیدنا ابو نجیح سلمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک تیر پھینکا، اس کو آزاد شدہ غلام کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، جس کے اللہ کے راستے میں بال سفید ہو گئے تو یہ چیز اس کے لیے قیامت والے دن نور ہو گی، جس آدمی نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ آزاد ہونے والی کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ کی ہر ہڈی کو آگ سے آزاد کر دے گا، اسی طرح جس عورت نے مسلمان عورت کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ آزاد شدہ کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ خاتون کی ہر ہڈی کو آگ سے آزاد کر دے گا۔
Musnad Ahmad
5239
۔ (۵۲۳۹)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَکَمِ نِ السُّلَمِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنَہٗ فِیْ حَدِیْثٍ لَہٗ قَالَ: وَکَانَتْ لِی جَارِیَۃٌ تَرْعٰی غَنَمًا لِی فِی قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّۃِ، فَاطَّلَعْتُہَا ذَاتَ یَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَہَبَ بِشَاۃٍ مِنْ غَنَمِہَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی آدَمَ آسَفُ کَمَا یَأْسَفُونَ لٰکِنِّی صَکَکْتُہَا صَکَّۃً، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَظَّمَ ذٰلِکَ عَلَیَّ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَفَلَا أُعْتِقُہَا؟ قَالَ: ((ائْتِنِی بِہَا)) فَأَتَیْتُہُ بِہَا فَقَالَ لَہَا: ((أَیْنَ اللّٰہُ؟)) فَقَالَتْ: فِی السَّمَائِ، قَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ، قَالَ: ((أَعْتِقْہَا فَإِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: ((ہِیَ مُؤْمِنَۃٌ فَأَعْتِقْہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۱۶۵)
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: میری ایک لونڈی تھی، وہ احد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن جب میں نے اس پر چھاپہ مارا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری لے گیا تھا، میں انسان ہی ہوں اور انسانوں کی طرح غصے ہوتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو زور سے مارا، جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ واقعہ سنایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مارنے کو میرے حق میں بہت بڑا (جرم) خیال کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لاؤ۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمانوں میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مؤمنہ ہے۔ راوی نے ایک بار یوں روایت بیان کی: یہ مؤمنہ ہے، تو اس کو آزاد کر دے۔
Musnad Ahmad
5694
۔ (۵۶۹۴۔) عَنْ أَبِی الْیَسَرِ السُّلَمِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْعُو فَیَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْہَدْمِ وَالتَّرَدِّی وَالْہَرَمِ (وَزَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْغَمِّ) وَالْغَرَقِ وَالْحَرِیقِ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ یَتَخَبَّطَنِی الشَّیْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَنْ أُقْتَلَ فِی سَبِیلِکَ مُدْبِرًا، وَأَنْ أَمُوتَ لَدِیغًا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۰۹)
۔ سیدنا ابو یسر سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُبِک…… وَأَنْ أَمُوتَ لَدِیغًا۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں گرنے والی دیوار یا مکان کے نیچے آ جانے سے، بلند جگہ سے گرنے سے، انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں غم سے، غرق سے، جلنے سے، اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں اس چیز سے کہ شیطان میری موت کے وقت مجھے خبطی بنا دے اور اس سے کہ میں تیرے راستے میں پیٹھ پھیرتے ہوئے قتل کر دیا جاؤں اور اس سے کہ ڈس دئیے جانے کی وجہ سے میں مر جاؤں)۔
Musnad Ahmad
8925
۔ (۸۹۲۵)۔ وَعَنْہَا اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَیَّ خُوَیْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمِ بْنِ اُمَیَّۃَ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ الْاَوْقَصِ السُّلَمِیِّۃُ، وَکَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ، قَالَتْ: فَرَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَذَاذَۃَ ھَیْئَتِھَا، فَقَالَ لِیْ: ((یَا عَائِشَۃُ! مَا اَبَذَّ ھَیْئَۃَ خُوَیْلَۃَ؟)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِمْرَاَۃٌ لا زَوْجَ لَھَا، یَصُوْمُ النَّھَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ، فَہِیَ کَمَنْ لَا زَوْجَ لَھَا، فَتَرَکَتْ نَفْسَھَا وَاَضَاعَتْھَا، قَالَتْ: فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ، فَجَائَ ہُ فَقَالَ: ((یَاعُثْمَانُ، اَرَغْبَۃً عَنْ سُنَّتِیْ؟)) قَالَ: فَقَالَ: لا، وَاللّٰہِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلٰکِنْ سُنَّتَکَ اَطْلُبُ، قَالَ: ((فَاِنِّیْ اَنَامُ وَاُصَلِّیْ، وَاَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاَنْکِحُ النِّسَائَ، فَاتَّقِ اللّٰہَ یَاعُثْمَانُ! فَاِنَّ لِاَھْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، فَصُمْ وَاَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۳۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدہ خویلہ بنت حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا میرے پاس آئیں، وہ سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی پراگندہ حالت دیکھی تو فرمایا: عائشہ! کس چیز نے خویلہ کی حالت کو اتنا بگاڑ دیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس عورت کا کوئی خاوند نہیں، اس بات کی تفصیلیہ ہے کہ اس کا خاوند دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو نماز پڑھتا ہے اور (اپنی بیوی کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا) تو یہ ایسی ہی ہو گئی کہ ا س کا کوئی خاوند ہی نہیں ہے، اس لیے اس نے اپنے نفس کو چھوڑ دیا ہے اور اس کو ضائع کر دیا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا، پس جب وہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عثمان! کیا میری سنت سے اعراض کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! بلکہ میں آپ کی سنت کا ہی طلبگار ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس بیشک میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ اے عثمان! اللہ تعالیٰ سے ڈر جا، پس بیشک تجھ پر تیرے اہل کا بھی حق ہے، اس لیے روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر اور نماز بھی پڑھ اور سویا بھی کر۔
Musnad Ahmad
9006
۔ (۹۰۰۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ، اَیْضًا قَالَ: اَتٰی رَجُلٌ اَبَاالدَّرْدَائٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اِنَّ امْرَاَتِیْ بِنْتُ عَمِّیْ وَاَنَا اُحِبُّھَا، وَاِنَّ وَالِدَتِیْ تَاْمُرُنِیْ اَنْ اُطَلِّقَھَا، فَقَالَ: لا آمُرُکَ اَنْ تُطَلِّقَھَا وَلا آمُرُکَ اَنْ تَعْصِیَ وَالِدَتَکَ، وَلٰکِنْ اُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْوَالِدۃَ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّۃٍ فَاْنْ شِئْتَ فَاَمْسِکْ وَاِنْ شِئْتَ فَدَعْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۹)
۔ (دوسری سند)ابو عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی میری چچازاد ہے اور میں اس سے محبت بھی کرتا ہوں، لیکن میری والدہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دو، انھوں نے کہا: نہ میں تجھے یہ حکم دیتا ہوں کہ تو اس کو طلاق دے دے اور نہ یہ کہتا ہوں کہ تو اپنے والدین کی نافرمانی کر، البتہ میں تجھے وہ حدیث بیان کر دیتا ہوں، جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک والدہ جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو روک لے اور اگر چاہتا ہے تو چھوڑ دے۔