TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 155 - مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 13 of 22 in this chapter
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
۔ (۱۵۵)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: أَخَذَ بِیَدِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِیْ: ((یَا أَبَا أُمَامَۃَ! اِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ مَنْ یَلِیْنُ لِیْ قَلْبُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۶۵۵)
سیدنا ابوامامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے فرمایا: ابو امامہ! بیشک بعض مؤمن ایسے ہیں کہ ان کے دل میرے لیے (بہت) نرم ہو جاتے ہیں۔
155
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، تفرد بہ بقیۃ بن الولید، وھو ضعیف عند التفرد ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۶۵۵(انظر: ۲۲۲۹۹)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …مؤمنوں کے درجے مختلف ہوتے ہیں، کوئی بہت جلدی مطیع ہونے والا اور خیر و بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والا ہوتا ہے، جبکہ بعض دوسرے لوگوں میں اس چیز کی رغبت کم ہوتی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَمِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ وَّمِنْھُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ} … پھر ہم نے ان لوگوں کو اس کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا، پھر بعضے تو ان میں سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ (سورۂ فاطر: ۳۲)

Related Chapters

769
1
باب: مومن کی صفات۔
Sunnan Nisai
2
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
3
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of The First Row
باب: پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tamin
باب: آمین کہنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Performing Many Bowings and Prostrations [And Its Virtues]
باب: رکوع اور سجدہ کثرت سے کرنے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sending Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Day Of Jumu'ah
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن غسل کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The One Who Works In Collecting Sadaqah In Truth
باب: صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Sahar
باب: سحری کھانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Virtue OF Fasting On The Day of Arafah
باب: عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Fasting
باب: روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Virtue For The Fasting Person When Others Are Eating In His Presence
باب: روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Revealed About One Who Provides The Food For A Fasting Person To Break His Fast
باب: روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Talbiyah And the Nahr (Sacrifice)
باب: تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Tawaf
باب: طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Black Stone, Its Corner, And The Maqam
باب: حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related Mentioning The Virtues Of 'Umrah
باب: عمرہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Umrah During Ramadan
باب: رمضان میں عمرہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Dying With Sweat On Ones Brow
باب: موت کے وقت مومن کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا ہے
Jam e Tirmazi
39
Chapter: Hope In Allah And Fear Of Ones Sins In The Presence Of Death
باب: مومن کی موت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
40
Chapter: The Virtue In The Calamity When One Patiently Seeks A Reward For It
باب: مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat For A Funeral
باب: نماز جنازہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: Something Else About The Virtue Of Consoling
باب: تعزیت کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About: The Believer's Soul Is Suspended By His Debt Until It Is Settled For Him
باب: مومن کی جان قرض کی وجہ سے اٹکی رہتی ہے جب تک کہ وہ ادا نہ ہو جائے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Marriage And Encouraging It
باب: شادی کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of That
باب: لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Planting
باب: درخت لگانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Killing A Believer
باب: مومن کے قتل ناحق پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Slaughtering
باب: قربانی کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Freeing Slaves
باب: غلام اور لونڈی آزاد کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Jihad
باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

101
Musnad Ahmad
96
۔ (۹۶)۔عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا الْاِثْمُ؟ قَالَ: ((إِذَا حَکَّ فِی نَفْسِکَ شَیْئٌ فَدَعْہُ۔)) قَالَ: فَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((إِذَا سَائَ تْکَ سَیِّئَتُکَ وَ سَرَّتْکَ حَسَنَتُکَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۵۱۲)
سیدنا ابوامامہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا: گناہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکنے لگے تو اسے چھوڑ دے۔ اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تیری برائی تجھے بری لگے اور تیری نیکی تجھے خوش کر دے تو تو مؤمن ہو گا۔
Musnad Ahmad
115
۔ (۱۱۵)۔عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: إِنِّی لَتَحْتَ رَاحِلَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْ مَ الْفَتْحِ فَقَالَ قَوْلًا حَسَنًا جَمِیْلًا وَکَانَ فِیْمَا قَالَ: ((مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ فَلَہُ أَجْرُہُ مَرَّتَیْنِ وَلَہُ مَا لَنَا وَ عَلَیْہِ مَا عَلَیْنَا وَمَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ فَلَہُ أَجْرُہُ وَلَہُ مَا لَنَا وَ عَلَیْہِ مَا عَلَیْنَا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۵۸۹)
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری کے نیچے کھڑا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بڑی خوبصورت اور حسین باتیں ارشاد فرمائیں تھیں، ایک بات یہ بھی تھی: اہل کِتَابُ میں سے جو آدمی مسلمان ہو گا، اس کے دو اجر ہوں گے اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔ اور جو آدمی مشرکوں میں سے مسلمان ہو گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔
Musnad Ahmad
139
۔ (۱۳۹)۔عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((طُوْبٰی لِمَنْ رَأنِیْ وَ آمَنَ بِیْ وَ طُوْبٰی لِمَنْ آمَنَ بِیْ وَلَمْ یَرَنِیْ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۶۳۳)
سیدناابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور جو آدمی مجھ پر ایمان لایا، جب کہ اس نے مجھے دیکھا ہی نہیں، اس کے لیے سات دفعہ خوشخبری ہے۔
Musnad Ahmad
557
۔ (۵۵۷)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا جَائَ نِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَطُّ اِلَّا أَمَرَنِیْ بِالسِّوَاکِ، لَقَدْ خَشِیْتُ أَنْ أُحْفِیَ مُقَدَّمَ فِیَّ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۲۵)
سیدنا ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جبریلؑ جب بھی میرے پاس تشریف لائے، تو انھوں نے مجھے مسواک کرنے کا حکم دیا، میں تو اس بات سے ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ منہ کا سامنے والا حصہ ہی اکھاڑ دوں۔
Musnad Ahmad
578
۔ (۵۷۸)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیُّمَا رَجُلٍ قَامَ اِلَی وَضُوْئِہِ یُرِیْدُ الصَّلَاۃَ ثُمَّ غَسَلَ کَفَّیْہِ نَزَلَتْ خَطِیْئَتُہُ مِنْ کَفَّیْہِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَۃٍ، فَاِذَا مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ نَزَلَتْ خَطِیْئَتُہُ مِنْ لِسَانِہِ وَ شَفَتَیْہِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَۃٍ، فَاِذَا غَسَلَ وَجْہَہُ نَزَلَتْ خَطِیْئَتُہُ مِنْ سَمْعِہِ وَبَصَرِہِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَۃٍ، فَاِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ وَرِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ سَلِمَ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ ہُوَ لَہُ وَمِنْ کُلِّ خَطِیْئَتِہِ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ، قَالَ: فَاِذَا قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ رَفَعَ اللّٰہُ بِہَا دَرَجَتَہُ وَاِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۶۲۳)
سیدناابوامامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی نماز کے ارادے سے وضو کے پانی کی طرف کھڑا ہوتا ہے اور اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کی ہتھیلیوں سے گناہ ساقط ہو جاتے ہیں، جب وہ کلی کرتا ہے، ناک میں پانی چڑھاتا ہے اور ناک جھاڑتا ہے تو پانی کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی زبان اور ہونٹوں سے گناہ گر جاتے ہیں، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کے کانوں اور آنکھوں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور جب وہ کہنیوں سمیت اپنے بازو اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوتا ہے تو وہ اپنے ہر قسم کے گناہ اور ہر قسم کی خطا سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ پھر جب وہ نماز کے لیے کھڑا ہوتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے اور اگر بیٹھ جاتا ہے یعنی نماز نہیں پڑھتا تو گناہوں سے سالم ہو کر بیٹھتا ہے۔
Musnad Ahmad
706
۔ (۷۰۶)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَؓ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۷۰)
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تین تین بار ہاتھ دھوئے، تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سارا وضو تین تین دفعہ کیا۔
Musnad Ahmad
1021
۔ (۱۰۲۱)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَا مِنْ اِمْرَیئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُہُ صَلَاۃٌ مَکْتُوْبَۃٌ فَیَقُوْمُ فَیَتَوَضَّأُ فَیُحْسِنُ الْوُضُوْئَ وَیُصَلِّیْ فَیُحْسِنُ الصَّلَاۃَ اِلَّا غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ بِہَا مَاکَانَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ الصَّلَاۃِ الَّتِیْ کَانَتْ قَبْلَہَا مِنْ ذُنُوْبِہِ، ثُمَّ یَحْضُرُ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً فَیُصَلِّیْ فَیُحْسِنُ الصَّلٰوَۃَ اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ الصَّلٰوۃِ الَّتِیْ کَانَتْ قَبْلَہَا مِنْ ذُنُوْبِہِ، ثُمَّ یَحْضُرُ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً فَیُصَلِّیْ فَیُحْسِنُ الصَّلٰوۃَ اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ الصَّلٰوۃِ الَّتِیْ کَانَتْ قَبْلَہَا مِنْ ذُنُوْبِہِ)) (مسند أحمد: ۲۲۵۹۲)
سیدنا ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس مسلمان کے پاس فرضی نماز کا وقت ہو جاتا ہے، پس وہ کھڑا ہوتا ہے، وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے، پھر وہ نماز پڑھتا ہے اور اچھی نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس نماز کی وجہ سے اِس نماز اور اس سے پہلے والی نماز کے درمیان والے اس کے گناہ معاف کر دیتاہے، پھر اگلی فرضی نماز کا وقت ہو جاتا ہے، پس وہ نماز ادا کرتا ہے اور اچھی طرح نماز ادا کرتا ہے، اِس سے اُس کے اِس نماز اور اِس سے پہلے والی نماز کے درمیان کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، بعد ازاں اگلی فرضی نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور وہ نماز پڑھتا ہے اور اچھی نماز پڑھتا ہے، اِس سے اُس کے اِس نماز سے اِس سے پہلی والی نماز کے درمیان والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
Musnad Ahmad
1048
۔ (۱۰۴۸)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَشٰی اِلٰی صَلَاۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ وَھُوَ مُتَطَہِّرٌ کَانَ لَہُ کَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ وَمَنْ مَشٰی اِلٰی سُبْحَۃِ الضُّحٰی کَانَ لَہُ کَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاۃٌ عَلَی اَثْرِ صَلَاۃٍ لَا لَغْوَ بَیْنَہُمَا کِتَابٌ فِیْ عِلِّیِّیْنَ۔)) وَقَالَ أَبُوْ أُمَامَۃَ: اَلْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ اِلٰی ہٰذِہِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الْجِہَادِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۶۰)
سیدنا ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی باوضو ہو کر فرضی نماز کی طرف چلا، اس کے لیے اس حاجی کا اجر ہو گا، جس نے احرام پہن رکھا ہو، اور جو چاشت کی نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہے، اس کے لیے عمرہ کرنے والے کا اجر ہو گا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز، جبکہ ان کے درمیان کوئی لغو کام بھی نہ ہو، یہ ایسا عمل ہے جس کو عِلِّیِّیْن میں لکھ دیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو امامہ ؓ نے کہا: ان مسجدوں کی طرف صبح کو جانا اور شام کو جانا جہاد فی سبیل اللہ میں سے ہے۔
Musnad Ahmad
1070
۔ (۱۰۷۰)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَا أَذِنَ اللّٰہُ لِعَبْدٍ فِیْ شَیْئٍ أَفْضَلَ مِنْ رَکْعَتَیْنِ یُصَلِّیْہُمَا، وَاِنَّ الْبِرَّ لَیُذَرُّ فَوْقَ رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِیْ صَلَاتِہِ، وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ اِلَی اللّٰہِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْہُ۔)) یَعْنِیْ الْقُرْآنَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۶۲)
سیدنا ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بندے کی کسی ایسی چیز کو کان لگا کر نہیں سنا، جو اس کی ادا کی ہوئی دو رکعتوں سے زیادہ افضل ہو اور جب تک بندہ نماز میں رہتا ہے، اس کے سر پر نیکی چھڑکی جاتی ہے اور لوگوں نے کسی ایسے عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کیا، جو عمل اس چیز جیسا ہو، جو اللہ تعالیٰ سے صادر ہوئی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی مراد قرآن مجید تھی۔