TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2138 - سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی - رات کی نماز اور وتر کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 6 in this chapter
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
۔ (۲۱۳۸) عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ بَاتَ عِنْدَ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وَھِیَ خَالَتُہُ قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِیْ عَرْضِ الْوِسَادَۃِ وَاضْطَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَھْلُہُ فِیْ طُوْلِھَا، فَنَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا انْتَصَفَ اللَّیْلُ أَوْ قَبْلَہُ بِقَلِیْلٍ أَوْ بَعْدَہُ بِقَلِیْلِ، اِسْتَیْقَظَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ یَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْہِہِ بِیَدِہِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَا الْآیَاتِ خَوَاتِیْمَ سُوْرَۃِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلٰی شَنٍّ مُعَلَّقَۃٍ فَتَوَضَّأَ مِنْہَا فَأَحْسَنَ وُضُوْئَہُ ثُمَّ قَامَ یُصَلِّیْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِیْ صَنَعَ، ثُمَّ ذَھَبْتُ فَقُمْتُ إِلٰی جِنْبِہِ فَوَضَعَ یَدَہُ عَلیَ رَأْسِیْ وَأَخَذَ أَذُنِیَ الْیُمْنَی فَفَتَلَھَا فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ رَکَعَتَیْنِ ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتّٰی أَتَاہُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الصُّبْحَ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس رات گزاری،یہ ان کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں: میں تکیے کی چوڑائی والی طرف میں لیٹ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کی لمبائی والی طرف میں لیٹ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوگئے، جب نصف رات یا اس سے تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد کا وقت ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ گئے اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نیند کو دور کرنے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی، بعد ازاں لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کی طرف گئے اور اس سے بڑے اچھے انداز میں وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جیسا وضو کر کے آپ کی ایک جانب کھڑا ہوگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑکر اسے بل دیا، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، اور پھر وتر پڑھ کر لیٹ گئے، حتیٰ کہ آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس مؤذن آیا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھے اورہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں اور پھر چلے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔
2138
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۱۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۳، ۹۹۲، ۱۱۹۸، ومسلم: ۷۶۳ (انظر: ۲۱۶۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کانوں کو مروڑنا، اس کی وجہ یہ تھی ان پر نیند غالب آ رہی تھی، اس سے بچوں کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ روایات میں صراحت آ رہی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا کان پکڑ کر اسے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ وہ پہلے آپ کی بائیں جانب آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ کان مروڑنے کی ظاہری وجہ تو یہ محسوس ہوتی ہے۔ و اللہ اعلم بالصواب۔ (عبداللہ رفیق)

Related Chapters

2,043
1
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
2
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
3
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
4
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
5
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ بنت الحارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، یہ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ تھیں
Musnad Ahmad
6
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
7
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث
Musnad Ahmad
8
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
9
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
10
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
Musnad Ahmad
11
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
12
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
14
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
16
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
Musnad Ahmad
17
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
Musnad Ahmad
18
فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
Musnad Ahmad
19
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
Musnad Ahmad
20
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
Musnad Ahmad
21
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس سے مطلع کرنا
Musnad Ahmad
22
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
Musnad Ahmad
23
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
Musnad Ahmad
24
اس بارے میں سیدنا ابو رزین لقیط بن عامر بن منتفق عقیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
25
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
Musnad Ahmad
26
بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
Musnad Ahmad
27
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، اور اس میں اصدقائ، انبیاء اور شہداء کی شفاعت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
28
(9) CHAPTER. The Statement of the Prophet : It is probable that a person who receives a piece of information indirectly may comprehend it better than he who has heard it directly from its source.”
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل میں کہ بسا اوقات وہ شخص جسے ( حدیث ) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ ( حدیث کو ) یاد رکھ لیتا ہے ۔
Sahih Bukhari
29
(37) CHAPTER. It is incumbent on those who are present [in a religious meeting (or conference)] to convey the knowledge to those who are absent.
اس بارے میں کہ جو لوگ موجود ہیں وہ غائب شخص کو علم پہنچائیں ، یہ قول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جناب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔ ( اور بخاری کتاب الحج میں یہ تعلیق باسناد موجود ہے )
Sahih Bukhari
30
Chapter: The Obligation of Transmitting on Authority of Trustworthy Narrators and Abandoning the Liars
ثقہ راویوں سے حدیث بیان کرنا، کذابوں کو ترک کرنا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ باندھنے سے احتراز کرنا واجب ہے۔
Sahih Muslim
31
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط
Sunnan Ibn e Maja
32
: جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔
Sunnan Ibn e Maja
33
وتر کے سلسلے میں سعید بن جبیر کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی حدیث میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Judge
باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About What The Messenger Of Allah (saws) Left Behind
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ترکہ کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Sword Of The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی تلوار کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Garment The Messenger Of Allah (saws) Like Most To Wear
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پسندیدہ کپڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Ate Upon
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Which Meat The Messenger Of Allah (saws) Used To Like Most
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا گوشت زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Which Drink Was The Most Beloved To The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Lying Against The Messenger Of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے
Jam e Tirmazi
43
Chapter: Regarding Refraining From What Was Prohibited By The Messenger of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ
Jam e Tirmazi
44
Chapter: “Humiliated is a Man Before Whom I am Mentioned...”
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو …“
Jam e Tirmazi
45
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
46
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
47
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
48
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
49
سیدنا عثمان بن عفانؓسے مروی کیفیت
Musnad Ahmad
50
سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Musnad Ahmad
2069
۔ (۲۰۶۹) عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ قَالَ: أَجْمَعَ أَبِیْ عَلَی الْعُمْرَۃِ، فَلَمَّا حَضَرَ خُرُوْجُہُ، قَالَ: أَیْ بُنَیَّ! لَوْ دَخَلْنَا عَلَی الْأَمِیْرِ فَوَدَّعْنَاہُ، قُلْتُ: مَاشِئْتَ، قَالَ: فَدَ خَلْنَا عَلٰی مَرْوَانَ وَعِنْدَہُ نَفَرٌ فِیْہِمْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَذَکَرُوْا الرَّکَعَتَیْنِ الَّتِیْیُصَلِّیْھِمَا ابْنُ الزُّبَیْرِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فََقَالَ لَہُ مَرْوَانُ: مِمَّنْ أَخَذْتَہُمَا یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِی بِہِمَا أَبُوھُرَیْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ، فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلٰی عَائِشَۃَ: مَا رَکْعَتَانِ یَذْ کُرُھُمَا ابْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ أَبَا ھُرَیْرَۃَ أَخْبَرَہُ عَنْکِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْہِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہِ أَخْبَرَتْنِیْ أُمُّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فأَرْسَلَ إِلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ: مَارَکْعَتَانَ زَعَمَتْ عَائِشَۃُ أَنَّکِ أَخْبَرْتِیْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْہِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: یَغْفِرُ اللّٰہُ لِعَائِشَۃَ، لَقَدْ وَضَعَتْ أَمْرِیْ عَلٰی غَیْرِ مَوْضِعِہِ، صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ وَقَدَ أُتِیَ بِمَالٍ، فَقَعَدَ یَقْسِمُہُ حَتّٰی أَتَاہُ الْمُؤَذِّنُ بِالْعَصْرَ، فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَیَّ وَکَانَ یَوْمِیْ، فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ، فَقُلْنَا: مَاھَاتَانِ الرَّ کْعَتَانِیَارَسُولَ اللّٰہِ؟ أُمِرْتَ بِہِمَا؟ قَالَ: ((لَا، وَلٰکِنَّھُمَا رَکْعَتَانِ کُنْتُ أَرْکَعُہُمَا بَعْدَ الظُّہْرِ فَشَغَلَنِی قَسْمُ ھٰذَا الْمَالِ حَتّٰی جَائَ نِی الْمُؤَذِّنُ بِالْعَصْرِ فَکَرِھْتُ أَنْ أَدَعَہُمَا۔)) فَقَالَ ابْنُ الزُّبِیْرِ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَلَیْسَ قَدَ صَلاَّھُمَا مَرَّۃً وَاحِدَۃً؟ وَاللّٰہِ! لَا أَدَعُہُمَا أَبَدًا، وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: مَارَأَیْتُہُ صَلاَّھُمَا قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَھَا۔ (مسند احمد: ۲۷۰۹۵)
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میرے باپ نے عمرہ کرنے کا ارادہ کیا، جب ان کے سفر کے لئے نکلنے کا وقت آیا تو انھوں نے مجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! اگر ہم امیر (مروان بن حکم) کے پاس جائیں اور اس سے الوداع ہوں(تواچھا ہو گا)، میں نے کہا: جیسے آپ چاہیں، پھر ہم مروان کے پا س گئے اور اس وقت اس کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ان میں سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، انہوں نے ان دو رکعتوں کا تذکرہ کیا، جنہیں سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عصر کے بعد پڑھتے تھے، مروان نے ان سے کہا: اے ابن زبیر! آپ نے دو رکعتیں کس سے لی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حوالے سے مجھے ان کے بارے میں بتایا ہے، مروان نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف پیغام بھیجا کہ ان دو رکعتیں کی حقیقت کیا ہے، جو سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وساطت سے آپ کی طرف منسوب کر رہے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عصر کے بعد ان کو ادا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواباً یہ پیغام بھیجا کہ مجھے تو سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بتایا تھا، یہ سن کر مروان نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف پیغام بھیجا کہ ان دو رکعتوں کی کیا حقیقت ہے، جن کے متعلق سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے خیال کیا ہے کہ آپ نے انہیں بتایا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عصر کے بعد یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، انہوں نے کہا: اللہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو معاف فرمائے، انھوں نے میری خبر کو اس کے غیرمحل پر رکھ دیا ہے، بہرحال معاملہ اس طرح ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، اسی وقت آپ کے پاس کچھ مال لایا گیا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے تقسیم کرنے بیٹھ گئے، حتیٰ کہ مؤذن عصر کا پیغام لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عصر پڑھی اور پھر میری طرف آئے، کیونکہیہ میری باری کا دن تھا، اس وقت آپ نے ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ دو رکعتیں کیسی ہیں؟ آپ کو اِن کے متعلق کوئی نیا حکم دیاگیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بات یہ ہے کہ میں ظہر کے بعد جو دو رکعتیں پڑھا کرتا تھا، مال کی تقسیم نے مجھے ان سے مشغول کردیا، حتیٰ کہ مؤذن عصر کا پیغام لے کر میرے پاس آگیا، اب میں نے ان کو چھوڑنا ناپسند کیا۔ یہ سن کر سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے: اللہ اکبر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مرتبہ تو یہ رکعتیں پڑھی ہیں، لہٰذا اللہ کی قسم ہے کہ میں تو ان کو نہیں چھوڑوں گا، لیکن سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا کہ انھوں نے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے اس واقعہ سے پہلے یہ دو رکعتیں پڑھی ہوں یا بعد میں۔
Musnad Ahmad
2205
۔ (۲۲۰۵) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِّی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ اللَّیْلَۃَ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ، فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَہُ أَوْ فُسْطَاطَہٗفَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ، ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ طَوِ یَلَتَیْنِ، ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَھُمَا دُوْنَ اللَّتَیْنِ قَبْلَہُمَا، ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْن دُوْنَ اللّتَیْنِ قَبْلَھُمَا، ثُمَّ صَلّٰی رْکَعَتَیْنِ دُوْنَ اللَّتَیْنِ قَبْلَہُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَالِکَ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۲۰)
سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: میں آج رات ضرور بالضرور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز دیکھوں گا، پس میں نے آپ کی دہلیز پر یا خیمے کو تکیہ بنا اور دیکھنے لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں، پھر طویل دو رکعتیں ادا کیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، لیکنیہ پہلے والیوں سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، لیکن اپنے والی پہلے دو سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں،یہ بھی اپنے سے پہلے والی دو سے کم تھیں، پھر وتر ادا کیے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہو گئیں۔
Musnad Ahmad
3738
۔ (۳۷۳۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَ اَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَحَرَّمَ الطَّعَامَ، وَکَانَ لاَ یُؤَذَّنُ حَتّٰییَطْلُعَ الْفَجْرُ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۶۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب موذن اذان کہتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتیں ادا فرماتے اور (روزے دار کے لیے) کھانا حرام کر دیتے، اور جب تک صبحِ (صادق) طلوع نہ ہو جاتی تھی، اس وقت تک اذان نہیں دی جاتی تھی۔