TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رات کی نماز اور وتر کے ابواب - رات کی نماز اور وتر کے ابواب - Book 37 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 37 of Musnad Ahmad, with 5 chapters and 56 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

56 Hadith · 5 Chapters
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
۔ (۲۱۵۲) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ إِبْرَاھِیْمَ قَالَ سَأَلَتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: مَارَ أَیْتُہُ کَانَ یُفَضِّلُ لَیْلَۃً عَلٰی لَیْلَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۶۸)
۔ (دوسری سند) ابراہیم کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ کسی ایک رات کو کسی دوسری رات پر فضیلت دیتے ہوں۔
Takhreej
(۲۱۵۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابراہیم بن یزید النخعی لم یسمع من عائشۃ، وروایۃ مغیرۃ عنہ ضعیفۃ۔ أخرجہ ابن راھویہ فی مسندہ : ۱۶۳۷ (انظر: ۲۴۹۵۵)
Explanation
فوائد:… دوسری سند والی روایت ضعیف ہے، لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کییہ حدیث اس کا شاہد بن جاتی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان اور غیررمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ قیام نہیں کرتے تھے۔ (بخاری: ۱۱۴۷، ۲۰۱۳، مسلم: ۷۳۸) یعنی زیادہ تر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قیام گیارہ رکعت رہا۔ رہا مسئلہ قیام کی کیفیت کا، تو اس میں تبدیلی آ تی رہتی تھی، بسا اوقات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طویل قیام کرتے اور کبھی کبھار زیادہ لمبا نہیں کرتے تھے، البتہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اس معاملے میں سب سے زیادہ محنت کرتے تھے۔
2152
Zaeef
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
۔ (۲۱۵۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ فَإِذَا فَرَغَ مِنَ صَلَاتِہِ اِضْطَجَعَ، فَإِنْ کُنْتُ یَقْظَانَۃً تَحَدَّثَ مَعِیَ وَإِنْ کُنْتُ نَائِمَۃً نَامَ حَتّٰییَأْتِیَہُ الْمُؤَذِّنُ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۷۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کونماز پڑھتے تھے، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو لیٹ جاتے، لیکن اگر میں جاگ رہی ہوتی تو میرے ساتھ باتیں کرتے اور اگر میں سوئی ہوئی ہوتی تو آپ بھی سوجاتے، یہاں تک کہ مؤذن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آجاتا۔
Takhreej
(۲۱۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۶۱، ۱۱۶۸، ومسلم: ۷۴۳ (انظر: ۲۴۰۷۲)
2153
Sahih
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
۔ (۲۱۵۴) عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقِ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! إِنَّ نَاسًا یَقْرَأُ أَحَدُھُمُ الْقُرْآنَ فِیْ لَیْلَۃٍ مَرَّتَیْنِ أَوْثَلَاثًا؟ فَقَالَتْ: أُوْلَئِکَ قَرَئُ وْا وَلَمْ یَقْرَئُ وْا، کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُومُ اللَّیْلَۃَ التَّمَامَ، فَیَقْرَأُ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ وَسُوْرَۃَ آلِ عِمْرَانَ وَسُوْرَۃَ النِّسَائِ، ثُمَّ لَایَمُرُّ بِآیَۃٍ فِیْہَا اِسْتِبْشَارٌ إِلاَّ دَعَا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَرَغِبَ وَلَا یَمُرُّ بِآیَۃٍ فِیْہَا تَخْوِیْفٌ إِلاَّ دَعَا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۸۷)
مسلم بن مخراق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: اے ام المومنین! یقینا کچھ لوگ ایسے ہیں، جن میں سے بعض تو ایک رات میں دو تین مرتبہ قرآن پڑھ لیتے ہیں، انہوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے پڑھ کر بھی نہیں پڑھا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ساری رات قیام کرتے تو پھر آپ سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء کی تلاوت کر سکتے ہوتے، اور اس میں بھی جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں بشارت ہوتی، تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور رغبت کا اظہار کرتے، اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے کہ جس میں تخویف ہوتی، تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اس کی پناہ طلب کرتے۔
Takhreej
(۲۱۵۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ حال مسلم بن مخراق۔ أخرجہ ابن المبارک فی مسندہ : ۵۸، والبیھقی: ۲/ ۳۱۰ (انظر: ۲۴۶۰۹، ۲۴۸۷۵)
Explanation
فوائد:… جنہوں نے پڑھ کے بھی نہیں پڑھا سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں نے بظاہر تو قرآن مجید پڑھا ہے، لیکن اس کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کے لحاظ سے گویا کہ نہیں پڑھا، دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم تین دنوں میں قرآن مجید پڑھا جا سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ چالیس دنوں میں قرآن مجید کی ایک دفعہ تلاوت ہو جانی چاہیے۔
2154
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۵۵) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا رَوْحٌ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ ابْنِ سَعَیْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِیْ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نَافِعِ بْنِ الْعَمْیَائِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ الحَارِثِ عَنْ الْمُطَّلِبِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ مَثْنٰی مَثْنٰی تَشَہَّدُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَتَبَئَّسُ وَتَمَسْکَنُ وَتُقْنِعُ یَدَیْکَ وَتَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ اَللّٰہُمَّ، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذَالِکَ فَھِیَ خِدَاجٌ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: فَقُلْتُ صَلَاتُہُ خِدَاجٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَہُ: مَا الإِْقْنَاعُ؟ فَبَسَطَ یَدَیْہِ کَأَنَّہُ یَدْعُوْ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۶۴)
سیدنا مطلب سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعتیں ہے، ہر دو رکعتوں میں توتشہد پڑھے، تنگی اور مسکینی کا اظہار کرے اور تو اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہے:اے اللہ! اے اللہ! (پھر اپنی دعا کرے) اور جو اس طرح نہیں کرے گا اس کی نماز ناقص ہو گی۔ شعبہ کہتے ہیں: میںنے کہا: یعنی اس کی نماز ناقص ہو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، پھر میں نے ان سے کہا: اِقْنَاع سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے اس طرح اپنے ہاتھ پھیلائے کہ گویا وہ دعا کر رہے ہیں۔
Takhreej
(۲۱۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن نافع بن العمیائ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۹۶، وابن ماجہ: ۱۳۲۵ (انظر: ۱۷۵۲۳)
2155
Zaeef
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۵۶) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنِ الْمُطَّلِبِ ابْنِ رَبِیْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ اللَّیْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی، وَإِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فَلْیَتَشَھَّدْ فِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ لْیُلْحِفْ فِی الْمَسْأَلَۃِ، ثُمَّ إِذَا دَعَا فَلْیَتَسَاکَنْ وَلْیَتَبَئَّسْ وَلْیَتَضَعَّفْ فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذَالِکَ فَذَاکَ الْخِدَاجُ أَوْ کَاالْخِدَاجِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۶۷)
۔ (دوسری سند)سیدنا مطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعتیں ہے اور جب تم میںسے کوئی نماز پڑھے تو ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد کے لیے بیٹھے، پھر وہ اصرار کے ساتھ مانگنے، پھر جب دعا کرے تو مسکینی ہے ظاہر کرے، تنگی کی حالت بنا لے اور کمزوری کا اظہار کرے، جو اس طرح نہیں کرے گا، تو وہ ناقص ہے یا ناقص کی طرح ہے۔
Takhreej
(۲۱۵۶) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا لجھالۃ عبد اللہ بن نافع بن العمیائ، ولضعف یزید بن عیاض، وقد کذبہ مالک وغیرہ، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۱۷۵۲۶)
2156
Zaeef
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۵۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصَّلَاۃُ مَثْنٰی مَثْنٰی وَتَشَہَّدُ وَتُسَلِّمُ فِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ،…۔)) الحدیث بنحوما تقدم۔ (مسند احمد: ۱۷۶۶۹)
۔ (تیسری سند)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعتیں ہے اور تو ہر دو رکعتوں کے تشہد کے لیے بیٹھے اور سلام پھیرے، …۔) پھر پہلے کی طرح کی حدیث بیان کی۔
Takhreej
(۲۱۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۱۷۵۲۸)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، البتہ دو رکعتوں کے بعد تشہد اور دوسرے اذکار کے احکام واضح ہیں۔
2157
Zaeef
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۵۸) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ فَلْیَبْدَ أْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَلْیَفَتَتِحْ صَلَاتَہٗ) بِرَکْعَتَیْنِ خَفِیَفَتَیْنِ)) (مسند احمد: ۷۱۷۶)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو نماز پڑھنے لگے تو وہ ہلکی پھلکی دو رکعتوں کے ساتھ اپنے قیام کی ابتدا کرے۔
Takhreej
(۲۱۵۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۶۸ (انظر: ۷۱۷۶)
2158
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۵۹) عَنْ شُرَحْبِیْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ قِصَّۃِ رُجُوْعِہِمْ مِنْ غَزْوَۃِ الْحُدَیْبِیَّۃِ قَالَ: ثُمَّ أَخَدْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنَخْتُہَا، فَقَامَ فَصَلّٰی الْعَتَمَۃَ وَجَابِرٌ فِیْمَا ذَکَرَ إِلٰی جَنْبِہِ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَھَا ثَلَاثَ عَشْرَۃَ سَجْدَۃً۔ (مسند احمد: ۱۵۱۳۰)
سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ غزوہ حدیبیہ سے واپسی کا واقعہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں؛ پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھا دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور نمازِ عشاء ادا کی۔ اس وقت سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیرہ رکعت نماز پڑھی۔
Takhreej
(۲۱۵۹) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف شرحبیل بن سعد الخطمی المدنی۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۹۱، وابن خزیمۃ: ۱۱۶۵، وابن حبان: ۲۶۲۹، وعبد الرزاق: ۴۷۰۵ بألفاظ مختلف فیھا، و أخرج بنحوہ مسلم ضمن حدیث طویل: ۳۰۱۰ (انظر: ۱۵۰۶۴)
2159
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۶۰) عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ، فَرَمَقْتُ صَلَاتَہُ لَیْلَۃً، فَصَلّٰی الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ ثُمَّ نَامَ، فَلَمَّا کَانَ نِصْفُ اللَّیْلِ اسْتَیْقَظَ فَتَلَا الْآیَاتِ الْعَشْرَ، آخِرَ سُورَۃِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ تَسَوَّکَ ثُمَّ تَوَ ضَّأَ ثُمَّ قَالَ: فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، فَلَا أَدْرِی أَقِیَامُہُ أَمْ رُکُوعُہُ أَمْ سُجُودُہُ أَطْوَلُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ، ثُمَّ لَمْ یَزَلْیَفْعَلُ کَمَا یَفْعَلُ أَوَّلَ مَرَّۃٍ حَتّٰی صَلّٰی إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً۔ (مسند احمد:۲۳۰۴۰ )
سیدناصفوان بن معطل سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، میں نے رات کے وقت آپ کی نماز پر نگاہ رکھی، آپ نے نمازِ عشاء پڑھی اور سوگئے، جب نصف رات ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے اور سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت کیں، پھر مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعتیں پڑھیں، میں نہیں جانتا کہ ان میں آپ کا قیام زیادہ طویل تھا یا رکوع یا سجدہ، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر سوگئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بار بار بیدار ہوتے رہے اور پہلی مرتبہ کی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ کل گیارہ رکعتیں ہو گئیں۔
Takhreej
(۲۱۶۰) تخریج: حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، عبد اللہ بن جعفر بن نجیح ضعیف، وابو بکر بن عبد الرحمن بن الحارث لم یسمع من صفوان۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۳۴۳ (انظر: ۲۲۶۶۳)
Explanation
فوائد:… آج کل کے نمازیوں اور تہجد گزاروں مین یہ سنت مفقود ہے کہ ان کے رکوع و سجود تین تسبیحات سے زیادہ نہیں ہوتے اور وہ بھی روایتی سی معلوم ہوتی ہیں، در حقیقت رکوع وسجود اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑی عاجزی کا مقام ہیں، اس لیے ان کو لمبا کرنا چاہیے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رات کی ہر بیداری کے بعد سورۂ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت کرنی چاہیے۔
2160
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۶۱) عَنْ أَبِیْ أَیُّوبَ الْأَنَصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَسْتَاکُ مِنَ اللَّیْلِ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثَا وَإِذَا قَامَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ صَلّٰی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ لَایَتَکَلَّمُ وَلَا یَأْمُرُ بِشَیْئٍ، وَیُسَلِّمُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۳۷)
سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو دو یا تین مرتبہ مسواک کرتے اورجب رات اٹھ کر نماز پڑھتے توچار رکعت ادا کرتے، ان میں نہ کلام کرتے اورنہ کسی چیز کا حکم دیتے اور ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، واصل بن السائب و ابو سورۃ ابن اخی ابی ایوب مجمع علی تضعیفھما، وقیل: لایعرف لأبی سمرۃ سماع من ابی ایوب۔ أخرجہ عبد بن حمید: ۲۱۹، والطبرانی: ۴۰۶۶، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۷۰ (انظر: ۲۳۵۴۰)
Explanation
فوائد:… یہ بات تو ثابت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وقفے وقفے سے دو دو کر کے چار چار رکعتیں ادا کرتے تھے، لیکن پہلی دو رکعتوں سے سلام پھیرنے کے بعد کلام کرنے یا نہ کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے، اتفاقاً ایسی بات ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی۔
2161
Zaeef
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۶۲) عَنْ یَعْلَی بْنِ مَمْلَکٍ قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاللَّیْلِ وَقِرَائَتِہِ، فَقَالَتْ: مَالَکُمْ وَلِصَلَاتِہِ وَلِقِرَائَ تِہِ، کَانَ یُصَلِّیْ قَدْرَ مَایَنَامُ، وَیَنَامُ قَدْرَ مَا یُصَلِّی، وَإِذَا ھِیَ تَنْعَتُ قِرَائَ ۃً مُفَسَّرَۃً حَرْفًا حَرْفًا۔ (مسند احمد: ۲۷۰۹۹)
یعلی بن مملک کہتے ہیں: میں نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز اور قراء ت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: تمہارا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز اور قراء ت سے کیا تعلق ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جتنا سوتے تھے، اتنی نماز پڑھتے اور جتنی نماز پڑھتے تھے، اتنا سوتے تھے، پھر وہ آپ کی قراء ت کی کیفیت بیان کر رہی تھیں کہ وہ ایک ایک حرف کے لحاظ سے بالکل واضح ہوتی تھی۔
Takhreej
(۲۱۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃیعلی بن مملک۔ أخرجہ بتمامہ ومختصرا ابوداود: ۱۴۶۶، والترمذی: ۲۹۲۳، والنسائی: ۲/ ۱۸۱، ۳/ ۲۱۴ (انظر: ۲۶۵۲۶)
Explanation
فوائد:… تمہارا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز اور قراء ت سے کیا تعلق ہے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز اور قراء ت تمہارے بس سے بڑھ کر ہے، تم اس کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ ان ابواب کی اور دیگر کئی احادیث سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام اللیل کی کیفیت و کمیت اور معیار و مقدار کا اندازہ ہو جاتا ہے اور قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنے کا مسئلہ واضح ہے۔
2162
Zaeef
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۶۳) عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ قَالَ: سُئِلَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ صَلَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ سِتَّ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۳۴)
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیاگیا تو انہوں نے کہا: آپ رات کو سولہ رکعات پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۶۳) تخریج: اسنادہ قوی، لکن قولہ فی ھذا الحدیث من اللیل خطأ من أحد الرواۃ ولعلہ من ابی اسحاق نفسہ (انظر: ۱۲۳۴)
2163
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۶۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ سِتَّ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً سِوَی الْمَکْتُوْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو فرض نماز کے علاوہ سولہ رکعات پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۶۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول (انظر: ۱۲۴۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں رات کا ذکر کرنا کسی راوی کی غلطی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دن کو جو نفلی نماز پڑھتے تھے، ان کی رکعات کی تعداد سولہ تھی، اس کی تفصیل کا ذکر اس عنوان کے تحت دوسری حدیث میں گزر چکا ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
2164
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۶۵) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ التَّطَوُّعِ ثَمَانَ رَکَعَاتٍ وَبِالنَّہَاِر ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۶۱)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (رات) کو آٹھ رکعت نفل نماز اور دن کو بارہ رکعت ادا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۶۵) تخریج: سعید بن خثیم وفضیل بن مرزوق صدوقان یھمان۔ أخرجہ ابویعلی: ۴۹۵ (انظر: ۱۲۶۱)
Explanation
فوائد:… ابو اسحاق سے صحیح اسانید سے مروی روایات میں دن میں سولہ رکعت نفلی نماز کا ذکر ہے، جیسا کہ پچھلی حدیث کی شرح میں حوالہ دیا گیا ہے۔
2165
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۶۶) عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ، فَقَالَ: مَاکُنَّا نَشَائُ أَنْ نَرَاہُ مِنَ اللَّیْلِ مُصَلِّیًا إِلاَّ رَأَیْنَاہُ وَمَا کُنَّا نَشَائُ أَنْ نَرَاہُ قَائِمًا إِلاَّ رَأَیْنَاہُ وَکَانَ یَصُوْمُ مِنَ الشَّہْرِ حَتّٰی نَقُوْلَ لَایُفْطِرُ مِنْہُ شَیْئًا وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلُ لَا یَصُوْمُ مِنْہُ شَیْئًا ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۳۵)
حمید کہتے ہیں: سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے کہا: ہم نہیں چاہتے تھے کہ رات کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھیں، مگر ہم آپ کو ایسے ہی دیکھ لیتے اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہم آپ کو سویا ہوا دیکھیں مگر ہم آپ کو ایسےبھی دیکھ لیتے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی مہینہ میں اتنے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس ماہ کا کوئی روزہ ترک نہیں کریں گے، لیکن پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے ترک کرنا شروع کرتے تو ہم کہتے کہ اب اس ماہ کا کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
Takhreej
(۲۱۶۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۴۱ (انظر: ۱۲۰۱۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ساری رات سوئے رہتے اور نہ ساری رات قیام کرتے، بلکہ وقفے وقفے سے دونوں کام کرتے رہتے، اس طرح کوئی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قیام کرتے دیکھ لیتا اور کوئی سوتے ہوئے دیکھ لیتا۔ مطلبیہ ہے کہ آپ ایک عادت پر استمرار نہیں کرتے تھے۔ کبھی رات کے ایک حصہ میں قیام کر رہے ہیں، تو اس حصہ میں قیام کرنے کی عادت بدل دیتے۔ دیکھنے والا سمجھتا کہ اس وقت میں آپ کی عادت قیام کرنے کی ہے تو قیام کر رہے ہوں گے لیکن آپ نے اس وقت قیام کی بجائے آرام کرنا شروع کر دیا ہوتا۔ اسی طرح آرام کے حوالے سے ایک وقت کی عادت بدل دیتے۔ گویا کبھی پہلی رات آرام کرنے کی عادت بدل کر قیام کرنا شروع کر دیا کبھی درمیانی رات قیام کرنے کی عادت بدل کر آرام کرنا شروع کر دیا۔ وَ عَلٰی ہٰذَا الْقِیَاسِ۔ (عبداللہ رفیق)
2166
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۲۱۶۷) عَنْ ربِیْعَۃَ بْنِ کَعْبٍ الْأَسْلَمِیِّ قَالَ: کُنْتُ أَبِیْتُ عِنْدَ بَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُعْطِیْہِ وَضُوْئَ ہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ کُنْتُ أَنَامُ فِیْ حُجْرَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَسْمَعُہُ بَعْدَ ھَوِیٍّ مِنَ اللَّیْلِیَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، وَاَسْمَعُہُ بَعْدَ ھَوِیٍّ مِنَ اللَّیْلِیَقُولُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (وَفِی رِوَایَۃٍ:) ثُمَّ یَقُوْلُ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ)) الْھَوِیَّ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۹۲)
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتا تھا تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وضو کا پانی دے سکوں، ایک روایت میں ہے: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حجرے میں سویا کرتا تھا، میں آپ کو رات کا ایک حصہ گزرنے کے بعد سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے ہوئے سنتا اور پھر رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہتے ہوئے سنتا اور ایک روایت میں ہے: میں آپ کو رات کا کچھ حصہ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ کہتے ہوئے سنتا۔
Takhreej
(۲۱۶۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ الترمذی: ۳۴۱۶، والنسائی: ۳/ ۲۰۹، وابن ماجہ: ۳۸۷۹، والطیالسی: ۱۱۷۲ (انظر: ۱۶۵۷۴، ۱۶۵۷۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے ثابت یہ ہوا کہ نمازِ تہجد کی ساری کیفیات اور اذکار میں طوالت ہوتی تھی۔
2167
Sahih