TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2865 - عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان - عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 9 in this chapter
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
۔ (۲۸۶۵) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ یَوْمَ الْعِیْدِ فِی الْفِطْرِ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ وَالْأَضْحٰی‘‘ فَیُصَلِّی بِالنَّاسِ تَیْنِکَ الرَّکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَتَقَدَّمُ فَیَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَھُمْ جُلُوْسٌ فَیَقُوْلُ: ((تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا۔)) ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَکَانَ أَکْثَرَ مَا یَتَصَدَّقُ مِنَ النَّاسِ النِّسَائُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمَ وَالشَّیْئِ، فَاِنْ کَانَتْ لَہُ حَاجَۃٌ فِی الْبَعْثِ ذَکَرَہُ وَاِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ انْصَرَفَ (وَفِی رِوَایَۃٍ) وَاِنْ کَانَ یُرِیْدُ أَنْ یَضْرِبَ عَلَی النَّاسِ بَعْثًا ذَکَرَہُ وَاِلَّا انْصَرَفَ ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۳۵)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن نکلتے،لوگوں کو عید کی دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھتے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، جبکہ لوگ بیٹھے ہوتے، پھر فرماتے: صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو۔ لوگوں میں سب سے زیادہ عورتیں اپنی بالیوں، انگوٹھیوں اور دوسری چیزوں کی صورت میں صدقہ کرتیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اگر کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو اس کا ذکر کرتے، اور اگر ایسی کوئی صورت نہ ہوتی تو واپس پلٹ جاتے۔
2865
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۸۶۵) تخریـج: …أخرجہ مطولا ومختصرا مسلم: ۸۸۹، والنسائی: ۳/ ۱۸۷، وابن ماجہ: ۱۲۸۸ (انظر: ۱۱۳۱۵)

Related Chapters

255
1
خطبہ سے فارغ ہو کر امام کا عورتوں کو نصیحت کرنے اور انہیں صدقہ و خیرات پر ابھارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
جمعہ کے دن امام کے اپنے خطبہ میں صدقہ پر ابھارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
Chapter: [What Has Been Related] About The Eid Prayers Before The Khutbah
باب: عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: About The Women Going Out For The Two Eid
باب: عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
6
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
آداب، مواعظ، اخلاق کے بارے میں نیز دنیا اور عورتوں سے تنبیہ پر مشتمل خطبۂ نبوی
Musnad Ahmad
8
عیدین کے ضمن میں بیان کردہ خطبہ کے علاوہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک اور خطبۂ عید
Musnad Ahmad
9
Chapter: It Is Permissible For Women To Go Out To The 'Id Prayer And Attend The Khutbah, Separated From The Men
عیدین میں عورتوں کے عید گاہ کی طرف جانے اور مردو ں سے الگ ہو کر خطبے میں حاضر ہونے کا جواز
Sahih Muslim
10
عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
11
عیدین اور مسلمانوں کی دعا میں حائضہ عورتوں کی حاضری کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
عیدین میں جوان لڑکیوں اور پردہ والی عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
عیدین کا خطبہ نماز کے بعد دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
عیدین کے خطبہ کے لیے زینت کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
عیدین کا خطبہ کیسا ہو ؟
Sunnan Nisai
17
عیدین کے خطبے میں امام لوگوں کو صدقہ کرنے پر ابھارے۔
Sunnan Nisai
18
باب: صدقہ پر ابھارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
Chapter: What Has Been Related About The 'The Tasbih Is For The Men And Clapping Is For The Women'
باب: نماز میں امام کے سہو پر مردوں کے ”سبحان اللہ“ کہنے اورعورتوں کے دستک دینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
20
Chapter: [What Has Been Related] About The Salat For The Two Eid Is Without An Adhan Nor An Iqamah
باب: عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے ہے
Jam e Tirmazi
21
Chapter: [What Has Been Related About About] The Recitation During The Two Eid
باب: عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: [What Has Been Related] About The Takbir On The Two Eid
باب: عیدین کی تکبیرات کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: (What Has Been Related) About Women Going Out To The Masjid
باب: عورتوں کے مسجد جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: About Prayer In A Woman's Cover Being Disliked
باب: عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Weak Departing Early From Jam During The Night
باب: مزدلفہ سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو رات ہی میں بھیج دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For Women To Shave
باب: عورتوں کے بال مونڈانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related That Encourages The Will
باب: وصیت کرنے پر ابھارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What has been related about it being disliked for women to visit the graves
باب: عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Women's Dowries
باب: عورتوں کی مہر کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What has been mentioned about it being disliked to enter women in their behinds
باب: عورتوں کی دبر میں صحبت کرنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What has been related about it being disliked for women to go out while wearing their adornments
باب: بناؤ سنگار کر کے عورتوں کے باہر نکلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: The warning about that due to the Shaitan flowing (through the body) like the flow of blood
باب: غیر محرم عورتوں سے خلوت کی حرمت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
34
Chapter: The Shaitan seeks to tempt the woman when she goes out
باب: عورتوں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What has been related about the women who seek a Khul'
باب: خلع لینے والی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What has been related about treating women kindly
باب: عورتوں کی خاطر داری کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Have Intercourse With Pregnant Female Prisoners
باب: حاملہ قیدی عورتوں سے جماع کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Killing Women And Children
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Women Going Out For War
باب: جنگ میں عورتوں کے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Women's Pledge
باب: عورتوں کی بیعت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About (Dragging) Women's Hems
باب: عورتوں کے دامن لٹکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
باب: ولاء میں سے عورتوں کی میراث کا بیان
Jam e Tirmazi
43
باب: جنتیوں کی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
44
باب: جہنم میں اکثریت عورتوں کی ہو گی
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Convey What Is Heard
باب: دوسرے تک دین کی بات پہنچانے پر ابھارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam to Women
باب: عورتوں کو سلام کرنا
Jam e Tirmazi
47
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
48
باب: عورتوں کے فتنے سے بچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
باب: مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
50
بَاب صَلَاة الْعِيدَيْنِ
نماز عیدین کا بیان
Mishkat
No related chapter matched that.

Related Hadith

56
Musnad Ahmad
896
۔ (۸۹۶)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَغْتَسِلُ وَیُصَلِّی الرَّکْعَتَیْنِ وَصَلَاۃَ الْغَدَاۃِ، لَا أَرَاہُ یُحْدِثُ وُضُوئً ا بَعْدَ الْغُسْلِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۷۲۰)
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ غسل کرتے، پھر دو سنتیں اور نمازِ فجر ادا کرتے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غسل کے بعد نیا وضو کیا ہو۔
Musnad Ahmad
1107
۔ (۱۱۰۷)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا حَجَّاجٌ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَیَّارِ بْنِ سَلَامَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وأَبِیْ عَلٰی أَبِیْ بَرْزَۃَ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ وَقْتِ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: کَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ حِیْنَ تَزُوْلُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ یَرْجِعُ الرَّجُلُ اِلَی أَقْصَی الْمَدِیْنَۃَ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ، وَالْمَغْرِبَ قَالَ سَیَّارٌ: نَسِیْتُہَا، وَالْعِشَائَ لَا یُبَالِیْ بَعْضَ تَأْخِیْرِہَا اِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ وَکَانَ لَایُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَہَا وَلَا الْحَدِیْثَ بَعْدَہَا، وَکَانَ یُصَلِّیْ الصُّبْحَ فَیَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَیَعْرِفُ وَجْہَ جَلِیْسِہِ وَکَانَ یَقْرَأُ فِیْھَا مَابَیْنَ السِّتِّیْنَ اِلَی الْمِائْۃِ، قَالَ سَیَّارٌ: لَا أَدْرِیْ فِیْ اِحْدَی الرَّکْعَتَیْنِ أَوْ فِیْ کِلْتَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۲۰۰۴۹)
۔ (دوسری سند)سیار بن سلامہ کہتے ہیں: میں اور میرا باپ، سیدنا ابو برزہؓ کے پاس گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نماز کے وقت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ ظہر اس وقت ادا کرتے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز عصر پڑھاتے، پھر ایک آدمی مدینہ سے دور واقع اپنے گھر میں جاتا، لیکن سورج ابھی تک زندہ ہوتا تھا، سیار کہتے ہیں: مغرب سے متعلقہ بات کو میں بھول گیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرنے میں کوئی پرواہ نہ کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِس نماز سے پہلے نیند اور اِس کے بعد گفتگو کو ناپسند کرتے تھے، اور آپ صبح کی نماز پڑھاتے پھر آدمی واپس پلٹتا تو وہ اپنے ساتھی کے چہرے کو پہچان لیتا جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِس نماز میں ساٹھ سے سو آیات کی تلاوت کرتے تھے۔ سیار کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ تلاوت کی یہ مقدار ایک رکعت میں ہوتی تھی یا دو میں۔
Musnad Ahmad
1207
۔ (۱۲۰۷)۔عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ)ؓ قَالَ: اِنَّکُمْ لَتُصَلُّوْنَ صَلَاۃً، لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَا رَأَیْنَاہُ یُصَلِّیْہَا، وَلَقَدْ نَہٰی عَنْہَا یَعْنِی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ۔ (مسند أحمد: ۱۷۰۳۸)
سیدنا معاویہ ؓ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: بیشک تم لوگ ایک نماز پڑھتے ہو، یقینا ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کو پایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تو اس نماز سے منع بھی کیا تھا، ان کی مراد عصر کے بعد والی دو رکعتیں تھیں۔
Musnad Ahmad
1225
۔ (۱۲۲۵)۔عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍؓ قَالَ: سَرَیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا کَانَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ عَرَّسْنَا فَلَمْ نَسْتَیْقِظْ حَتّٰی أَیْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا یَقُوْمُ دَہِشًا اِلَی طَہُوْرِہِ، قَالَ: فَأَمَرَہُمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَسْکُنُوْا، ثُمَّ ارْتَحَلْنَا فَسِرْنَا حَتّٰی اِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ تَوَضَّأَ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ صَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلَّیْنَا، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا نُعِیْدُہَا فِیْ وَقْتِہَا مِنَ الْغَدِ؟ فَقَالَ: ((أَیَنْہَاکُمْ رَبُّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَنِ الرِّبَا وَیَقْبَلُہُ مِنْکُمْ؟)) (مسند أحمد: ۲۰۲۰۶)
سیدنا عمران بن حصینؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چلتے رہے، رات کے آخر میں ہم نے پڑاؤ ڈالا، پس ہم بیدار نہ ہو سکے، یہاں تک کہ سورج کی گرمی نے ہم کو جگایا، ہم میں سے ہر آدمی دہشت زدہ ہو کر وضو کے لیے کھڑا ہونے لگا، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا کہ وہ سکون میں آجائیں، پھر ہم وہاں سے کوچ کر گئے اور چلتے رہے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور سیدنا بلال کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ادا کیں، پھر نماز کو کھڑا کیا، پس ہم نے نماز پڑھی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم نے کل اس نماز کو اس کے وقت پر بھی لوٹا نا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تمہارا ربّ تم کو سود سے منع کرے اور خود تم سے قبول کر لے۔
Musnad Ahmad
1226
۔ (۱۲۲۶)۔ عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَؓ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ وَقَدْ أَدْرَکَہُمْ مِنَ التَّعْبِ مَا أَدْرَکَہُمْ مِنَ السَّیْرِ فِیْ اللَّیْلِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَوْ عَرَّسْنَا۔)) فَمَالٰ اِلٰی شَجَرَۃٍ فَنَزَلَ، فَقَالَ: ((اُنْظُرْ ھَلْ تَرٰی أَحَدًا؟)) قُلْتُ: ھٰذَا رَاکِبٌ ہٰذَانِ رَاکِبَانِ حَتّٰی بَلَغَ سَبْعَۃً، فَقَالَ: ((اِحْفَظُوْا عَلَیْنَا صَلَاتَنَا۔)) فَنِمْنَا فَمَا أَیْقَظَنَا اِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَانْتَہَبْنَا، فَرَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَارَ وَسِرْنَا ہُنَیْہَۃً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ: ((أَمَعَکُمْ مَائٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، مَعِیَ مِیْضَأَۃٌ فِیْھَا شَیْئٌ مِنْ مَائٍ، قَالَ: ((اِئْتِ بِہَا۔)) فَقَالَ: ((مَسُّوْا مِنْہَا مَسُّوْا مِنْہَا۔)) فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ وَبَقِیَتْ جَرْعَۃٌ فَقَالَ: ((ازْدَہِرْ بِہَا یَا أَبَا قَتَادَۃَ، فَاِنَّہُ سَیَکُوْنُ لَہَا نَبَأٌ۔)) ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ وَصَلَّوُا الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوُا الْفَجْرَ ثُمَّ رَکِبَ وَرَکِبْنَا، فَقَالَ بَعَضُہُمْ لِبَعْضٍ: فَرَّطْنَا فِیْ صَلَاتِنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَا تَقُوْلُوْنَ؟ اِنْ کَانَ أَمْرَ دُنْیَاکُمْ فَشَأْنُکُمْ وَاِنْ کَانَ أَمْرَ دِیْنِکُمْ فَاِلَیَّ۔)) قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَرَّطْنَا فِیْ صَلَاتِنَا، فَقَالَ: ((لَاتَفْرِیْطَ فِی النَّوْمِ، اِنَّمَا التَّفْرِیْطُ فِی الْیَقْظَۃِ، فَاِذَا کَانَ ذٰلِکَ فَصَلُّوْہَا وَمِنَ الْغَدِ وَقْتَہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۹۱۳)
سیدنا ابو قتادہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، رات کو چلنے کی وجہ سے تھکاوٹ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو پا لیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر ہم پڑاؤ ڈال لیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک درخت کی طرف مڑے اور وہاں اتر گئے اور فرمایا: دیکھو، کوئی نظر آ رہا ہے؟ میں نے کہا: یہ ایک سوار ہے، یہ دو سوار ہیں، یہاں تک کہ یہ تعداد سات افراد تک پہنچ گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہم پر ہماری نماز کی حفاظت کرنا۔ پس ہم سو گئے اور ہمیں سورج کی گرمی نے جگایا اور ہم ڈر گئے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سوار ہوئے اور تھوڑی دیر کے لیے چلے اور ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چلے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اترے اور فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، میرے پاس ایک برتن ہے، اس میں کچھ پانی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو لے آؤں۔ پھر فرمایا: اس سے چھوؤ، اس سے چھوؤ۔ لوگوں نے اس سے وضو کیا اور ایک گھونٹ باقی بچا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ابو قتادہ! اس پانی کی حفاظت کرو، عنقریب اس کے لیے بڑی خبر ہو گی۔ پھر سیدنا بلال ؓ نے اذان ، فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، پھر نمازِ فجر ادا کی اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بھی سوار ہو گئے اور ہم بھی سوار ہو گئے، ہم میں سے بعض بعض سے کہنے لگے: ہم نے نماز میں کمی کی ہے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ اگر کوئی دنیوی معاملہ ہے تو خود کر لو اور اگر دین کا معاملہ ہے تو میری طرف لے آؤ۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے نماز میںکمی کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نیند کی وجہ سے کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، کمی تو جاگنے کی صورت میں ہوتی ہے، پس اگر ایسے ہو جائے تو اِس نماز کو پڑھ لیا کرو اور اگلے دن وقت پر ادا کیا کرو۔
Musnad Ahmad
1229
۔ (۱۲۲۹)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ ؓ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَعْضِ أَسْفَارِہِ فَنَامَ عَنِ صَلَاۃِ الصُّبْحِِ حَتّٰی طَلَعَتِ الشَّمْسُ لَمْ یَسْتَیْقِظُوْا، وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَدَأَ بِالرَّکْعَتَیْنِ فَرَکَعَہُمَا ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۲۲۸۴۷)
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ فجر سے سو گئے اور سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار نہ ہو سکے، جب جاگے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پہلے دو رکعتیں پڑھیں اور پھر نمازِ فجر کھڑی کی اور اس کو ادا کیا۔
Musnad Ahmad
1233
۔ (۱۲۳۳)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ صُلَیْحٍ عَنْ ذِیْ مِخْمَرٍ وَکَانَ رَجُلًا مِنَ الْحَبْشَۃِ یَخْدُمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کُنَّا مَعَہُ فِیْ سَفَرٍ فَأَسْرَعَ السَّیْرَ حِیْنَ اِنْصَرَفَ وَکَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ لِقِلَّۃِ الزَّادِ، فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ اِنْقَطَعَ النَّاسُ وَرَائَ کَ، فَحَبَسَ وَحَبَسَ النَّاسُ مَعَہُ حَتّٰی تَکَافَلُوْا اِلَیْہِ،فَقَالَ لَہُمْ: ((ھَلْ لَکُمْ أَنْ نَہْجَعَ ہَجْعَۃً؟)) أَوْ قَالَ لَہُ قَائِلٌ، فَنَزَلَ وَنَزَلُوْا، فَقَالَ: ((مَنْ یَکْلَؤُنَا اللَّیْلَۃَ؟)) فَقُلْتُ: أَنَا جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، فَأَعْطَانِیْ خِطَامَ نَاقَتِہِ فَقَالَ: ((ہَاکَ لَا تَکُوْنَنَّ لُکَعَ۔)) قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِخِطَامِ نَاقَتِیْ، فَتَنَحَّیْتُ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَخَلَّیْتُ سَبِیْلَہَا یَرْعَیَانِ، فَاِنِّیْ کَذَاکَ أَنْظُرُ اِلَیْہِمَا حَتّٰی أَخَذَنِی النَّوْمُ فَلَمْ أَشْعُرْ بِشَیْئٍ حَتّٰی وَجَدْتُّ حَرّ َالشَّمْسِ عَلٰی وَجْہِیْ، فَاسْتَیْقَظْتُ فَنَظَرْتُ یَمِیْنًا وَشِمَالًا فَاِذَا أَنَا بِالرَّاحِلَتَیْنِ مِنِّیْ غَیْرُ بَعِیْدٍ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِخِطَامِ نَاقَتِیْ، فَأَتَیْتُ أَدْنَی الْقَوْمِ فَأَیْقَظْتُہُ، فَقُلْتُ لَہُ: أَصَلَّیْتُمْ؟ قَالَ: لَا، فَأَیْقَظَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا حَتّٰی اسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا بِلَالُ! ھَلْ لِیْ فِیْ الْمِیْضَأَۃِ؟)) یَعْنِی الْاِدَاوَۃَ، قَالَ: نَعَمْ، جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، فَأَتَاہُ بِوَضُوْئٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوْئً ا لَمْ یَلُتَّ مِنْہُ التُّرَابَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ وَھُوَ غَیْرُ عَجِلٍ ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلّٰی وَھُوَ غَیْرُ عَجِلٍ، فقَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَفْرَطْنَا، قَالَ: ((لَا، قَبَضَ اللّٰہُ أَرْوَاحَنَا وَقَدْ رَدَّہَا اِلَیْنَا وَقَدْ صَلَّیْنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۴۹)
سیدنا ذو مخمرؓ، جو حبشی آدمی تھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی خدمت کرتے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ واپس ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جلدی چلے اور آپ زادِ راہ کے کم ہونے کی وجہ سے ایسا کیا کرتے تھے، کسی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ آپ سے پیچھے رہ گئے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رک گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ رک گئے، یہاں تک سارے لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس مکمل ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: کیا تم کو یہ ضرورت ہے کہ ہم تھوڑا سا سو لیں؟ یا کسی آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایسا کرنے کی رائے دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اتر پڑے اور لوگ بھی اتر پڑے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: آج رات کون ہماری حفاظت کرے گا۔ میں (ذو مخمر) نے کہا: میں کروں گا، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے اپنی اونٹنی کی لگام تھما دی اور فرمایا: یہ پکڑ اور چھوٹو نہ بن جانا۔ پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور تھوڑا سا دور ہو کر بیٹھ گیا اور ان کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، میں ان کو دیکھ رہا تھا کہ مجھ پر نیند غالب آ گئی اور مجھے کوئی شعور نہ رہا، یہاں تک کہ میں نے اپنے چہرے پر سورج کی گرمی محسوس کی، پس میں بیدار ہوا اور دائیں بائیں دیکھا، سواریاں تو میرے قریب ہی تھیں، پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور قریبی آدمی کے پاس گیا اور اس کو جگا کر پوچھا: کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، پھر لوگ ایک دوسرے کو جگانے لگ گئے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بھی بیدار ہو گئے اور فرمایا: بلال! کیا میرے لیے برتن میںپانی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، پس وہ وضو کا پانی لے کر آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایسا وضو کیا کہ نیچے والی مٹی بھی مکمل طور پر گیلی نہ ہو سکی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے اور فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جلدی نہیں کر رہے تھے، پھر ان کو حکم دیا اور انھوں نے اقامت کہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جلدبازی سے کام نہیں لے رہے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم نے زیادتی کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو روکے رکھا اور جب اس نے لوٹایا تو ہم نے نماز پڑھ لی۔
Musnad Ahmad
1241
۔ (۱۲۴۱)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ بَیْتِیْ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! صَلَّیْتَ صَلَاۃً لَمْ تَکُنْ تُصَلِّیْہَا؟ فَقَالَ: ((قَدِمَ عَلَیَّ مَالٌ فَشَغَلَنِیْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَدِمَ عَلَیَّ وَفْدُ بَنِیْ تَمِیْمٍ فَحَبَسُوْنِیْ) عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ کُنْتُ أَرْکَعُہُمَا بَعْدَ الظُّہْرِ فَصَلَّیْتُہُمَا الْآنَ۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَفَنَقْضِیْہِمَا اِذَا فَاتَتَا؟ قَالَ: ((لَا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۲۱۳)
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عصر ادا کی، پھر میرے گھر تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسی نماز پڑھی، جو آپ نہیں پڑھتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کچھ مال آ گیا تھا، بس اس نے مشغول کیے رکھا، ایک روایت میں ہے: میرے پاس بنو تمیم کا وفد آیا تھا، اس نے مجھے ان دو رکعتوں سے روک دیا، جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا، پس میں نے ان کو اب ادا کیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر یہ دو رکعتیں ہم سے رہ جائیں تو ہم ان کی قضائی دیا کریں؟ آپ نے فرمایا: جی نہیں۔
Musnad Ahmad
1519
۔ (۱۵۱۹) عَنْ أَبِیْ مَالِکٍ الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یُسَوِّیْ بَیْنَ الْأَرْبَعِ رَکَعَاتٍ فِی الْقِرَائَ ۃِ وَالْقِیَامِ وَیَجْعَلُ الرَّکَعَۃَ الْأُوْلٰی ھِیَ أَطْوَلُھُنَّ لِکَیْیَثُوْبَ النَّاسُ وَیْجَعَلُ الرِّجَالَ قُدَّامَ الْغِلْمَانِ وَالْغِلْمَانَ خَلْفَہُمْ وَالنِّسَائَ خَلْفَ الْغِلْمَانِ، وَیُکَبِّرُ کُلَّمَا سَجَدَ وَکُلَّمَا رَفَعَ، وَیُکَبِّرُ کُلَّمَا نَہَضَ بَیْنَ الرَّکْعَتَیْنِ إِذَا کَانَ جَالِسًا۔ (مسند احمد: ۲۳۲۹۹)
سیّدناابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قراء ت اور قیام میں چاروں رکعتوں کے درمیان برابری کرتے تھے، البتہ پہلی رکعت کو ذرا لمبا کر لیتے تھے تاکہ (اسی رکعت میں) زیادہ لوگ پہنچ جائیں،مردوں کو بچوں کے آگے اور بچوں کو ان کے پیچھے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے کھڑا کرتے تھے، اور جب سجدہ کرتے او رجب (سجدے سے) اٹھتے تو اللہ اکبرکہتے اورجب دو رکعتو ں کے بعد بیٹھ کر اٹھتے تو پھر اللہ اکبرکہتے ۔