TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3836 - سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان - روزے دار کا وصال کرنا - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 12 in this chapter
سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
۔ (۳۸۳۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَزَادَ) فَدَعَاہُ فَاَمَرَہُ اَنْ یُفْطِرُ فَقَالَ: ((اَمَا یَکْفِیْکَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَمَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَصُوْمَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۶۲)
۔ (دوسری سند) یہی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو بلوایا،اسے روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور اس سے فرمایا: کیا تیرے لیے اتنا کافی نہیں ہے کہ تو اللہ کے رسول کے ساتھ اللہ کی راہ میں نکلا ہوا ہے کہ تو پھر روزہ بھی رکھ رہا ہے۔
3836
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۸۳۶) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول

Related Chapters

568
1
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
4
اہل فضل اور مہارت رکھنے والوں کو قرآن مجید سنانا مستحب ہے ‘چاہے پڑھنے والاسننے والے سے افضل ہو
Sahih Muslim
5
Chapter: The choice between fasting and not fasting when travelling
سفر میں روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا اختیار
Sahih Muslim
6
Chapter: It is permissible to observe a voluntary fast with an intention formed during the day before the sun reaches its Zenith, and it is permissible for one who is observing a voluntary fast to break his fast with no excuse, although it is better for him to complete it
زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کرنے اور نفلی روزہ رکھنے والے کے لیے عذر کے بغیر افطار کرنے کا جواز(روزے کو )پورا کرنا افضل ہے
Sahih Muslim
7
CHAPTER: Whoever Preferred To Fast (While On A Journey).
باب: سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے اس کے قائلین کی دلیل
Sunnan Abu Dawood
8
CHAPTER: Fasting A Day, And Not Fasting A Day.
باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن چھوڑ دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
9
سفر میں روزہ رکھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
10
سفر میں روزہ نہ رکھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
11
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنا رکھنے سے بہتر ہے۔
Sunnan Nisai
13
باب: حدیث نبوی ”سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے“ کا ذکر۔
Sunnan Nisai
14
باب: سفر میں روزہ رکھنے کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
15
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day OF Doubt
باب: شک کے دن روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About: Fasting And Breaking Fast Are Based Upon The Sighting (Of The Crescent)
باب: چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور دیکھ کر روزہ بند کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Fasting Based Upon Testimony
باب: چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The One At War To Break The Fast
باب: مجاہد اور غازی کے لیے روزہ توڑ دینے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Atonement For Breaking The Fast During Ramadan
باب: رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر عائد کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: Performing A Voluntary Fast Without Planning It The Night Before
باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Connecting Fasts Of Sha'ban To Ramadan
باب: روزہ رکھ کر شعبان کو رمضان سے ملا دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast During The Second Half Of Sha'ban For The Sake of Ramdan
باب: رمضان کی تعظیم میں شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Friday
باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast On Friday Alone
باب: خاص کر صرف جمعہ کو روزہ رکھنے کی کراہیت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Monday And Thursday
باب: سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Fast The Day Of Ashura
باب: عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Not Fast The Day Of Ashura
باب: یوم عاشوراء کا روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Fasting Consecutive Days
باب: پے در پے روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About It Being Dislike To Fast On The Day Of Fitr And The Day Of Nahr
باب: عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Days Of Tashriq
باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Al-Wisal (Continuous) Fasting Is Disliked
باب: افطار کیے بغیر مسلسل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives A Bribe And The One Who Takes A Bribe For Judgement
باب: فیصلے میں رشوت دینے اور لینے والوں پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Fasting In The Cause Of Allah
باب: دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Breaking Fast At The Time Of Fighting
باب: لڑائی کے وقت روزہ نہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
Musnad Ahmad
40
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
41
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
43
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
44
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
45
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
46
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
47
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
Musnad Ahmad
48
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
نفلی روزہ شروع کر دینے سے اس کے واجب نہ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
50
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

172
Musnad Ahmad
1267
۔ (۱۲۶۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَزَادَ ثُمَّ أَمَرَ بِالتَّأْ ذِیِن فَکَانَ بِلَالٌ مَوْلیٰ أَبیِ بَکْرٍ یُؤَذِّنُ بِذَالِکَ وَیَدْعُوْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الصَّلَاۃِ قَالَ، فَجَائَ ہُ فَدَعَاہُ ذَاتَ غَدَاۃٍ إِلَی الفَجْرِ، فَقِیلَ لَہُ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَائِمٌ، قَالَ فَصَرَخَ بِلَالٌ بِأَعْلٰی صَوْتِہِ: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ ، قَالَ سَعِیدُ بِنْ اَلْمَسَیِّبِ فَأُ دْ خِلَتْ ھَذِہِ الْکَلِمَۃُ فِی التَّأْذِینِ إِلٰی صَلَاۃِ الفَجْرِ (مسند احمد: ۱۶۵۹۱)
سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی دوسری سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں مزید اس چیز کا ذکر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اذان کہنے کا حکم دے دیا۔ سیّدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے آزاد کردہ غلام سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ انہی کلمات کے ساتھ اذان کہا کرتے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز کے لیے بلایا کرتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید کہتے ہیں: بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک دن صبح کے وقت فجر کی نماز کے لیے آپ کو بلانے گئے تو انہیں بتایا گیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوئے ہوئے ہیں تو بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بآوازِ بلند کہا: الصلاۃ خیر من النوم (نماز نیند سے بہتر ہے)۔ سعید بن مسیّبکہتے ہیں: تو یہ کلمات فجر کی اذان میں داخل کر دیے گئے۔
Musnad Ahmad
3619
۔ (۳۶۱۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ یَوْمَ الْجُمْعَۃِ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ، فَدَعَاہُ فَاَمَرَہُ اَنْ یصُلِّیَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَۃَ الثَّانِیَۃَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَدَعَاہُ فَاَمَرَہُ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَۃَ الثَّاِلَثۃَ فَاَمَرَہُ اَنْ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَصَدَّقُوْا۔)) فَفَعَلُوْا، فَاَعْطَاہُ ثَوْبَیْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوْا، ثُمَّ قَالَ: ((تَصَدَّقُوْا۔)) فَاَلْقٰی اَحَدَ ثَوْبَیْہِ، فَانْتَہَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَرِہَ مَا صَنَعَ ، ثُمَّ قَالَ: ((اُنْظُرُوْا إِلٰی ھٰذَا فَإِنَّہُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فِی ہَیْئَۃٍ بَذَّۃٍ، فَدَعَوْتُہُ فَرَجَوْتُ اَنْ تُعْطُوْا لَہُ فَتَصَدَّقُوا عَلَیْہِ وَتَکْسُوْہُ فَلَمْ تَفْعَلُوْا، فَقُلْتُ: تَصَدَّقُوْا فَتَصَدَّقُوْا، فَاَعْطَیْتُہُ ثَوْبَیْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوْا، ثُمَّ قُلْتُ: تَصَدَّقُوْا فَاَلْقٰی اَحَدَ ثَوْبَیْہِ، خُذْ ثَوْبَکَ۔)) وَانْتَہَرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۱۵)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ جمعہ کے روز ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا ، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا اور دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا، وہ اگلے جمعہ کو بھی آیا تھا، اس وقت بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے کی طرح اسے بلایا اور (دو رکعت نماز پڑھنے کا) حکم دیا، پھر وہ تیسرے جمعہ کو بھی آیا،اس وقت بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دو رکعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ لوگوں نے ایسے ہی کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمع شدہ صدقات میں سے دو کپڑے اس شخص کو بھی دیئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: صدقہ کرو۔ تو اس نے بھی انہیں ہی دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ڈانٹا اور اس کے فعل پر ناگواری کا اظہار کیا اور فرمایا: اس کو دیکھو،یہ انتہائی کسمپرسی والی حالت میں مسجد میںآیا،میں نے اس کو بلایا، کیونکہ مجھے یہ امید تھی کہ تم اس کی حالت دیکھ کر اس پر صدقہ کرتے ہوئے اسے کچھ دو گے اور اسے لباس عطا کرو گے، لیکن تم نے ایسے نہیں کیا، اس لے میں نے تمہیں کہا: صدقہ کرو، پھر تم نے جو صدقہ کیا، اس میں سے میں نے اس کو دوکپڑے دیئے، میں نے پھر تم سے کہا کہ صدقہ کرو، اب کی بار اس نے بھی ان دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقے میں دیا۔پکڑ لے اپنا کپڑا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو ڈانٹا۔
Musnad Ahmad
56
۔ (۵۶)۔عَنْ أَبِیْ عَامِرِ الْأَشْعَرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ وَ فِیْہِ: ثُمَّ وَلّٰی (أَیْ السَّائِلُ) فَلَمَّا لَمْ نَرَ طَرِیْقَہُ بَعْدُ قَالَ (أَیْ النَّبِیُّ) ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ! ثَلَاثًا، ہَذَا جِبْرِیْلُ جَائَ لِیُعَلِّمَ النَّاسَ دِیْنَہُمْ، وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ مَا جَائَ نِیْ قَطُّ إِلَّا وَ أَنَا أَعْرِفُہُ إِلَّا أَنْ تَکُوْنَ ہَذِہِ الْمَرَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۹۹)
سیدنا ابو عامر اشعریؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: پھر وہ سوال کرنے والا آدمی چلا گیا، جب ہمیں اس کا کوئی راستہ نظر نہ آیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سبحان اللہ! سبحان اللہ! سبحان اللہ! (یعنی بڑا تعجب ہے) یہ جبرائیل ؑتھے جو لوگوں کو دین سکھلانے کے لیے آئے تھے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ جب بھی میرے پاس آتے تھے تو میں ان کو پہچانتا ہوتا تھا، ماسوائے اس دفعہ کے۔
Musnad Ahmad
58
۔ (۵۸)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ وَ فِیْہِ: ((وَ إِذَا کَانَتِ الْعُرَاۃُ الْحُفَاۃُ الْجُفَاۃُ ،وَ فِیْہِ: وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاۃُ الْبَہْمِ فِی الْبُنْیَانِ۔)) وَفِیْہِ بَعْدَ ذِکْرِ الْآیَۃِ زِیَادَۃُ: ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رُدُّوْا عَلَیَّ الرَّجُلَ۔))، فَأَخَذُوْا لِیَرُدُّوْہُ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا فَقَالَ: ((ہٰذَا جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ جَائَ لِیُعَلِّمَ النَّاسَ دِیْنَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۹۷)
سیدنا ابوہریرہؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: جب ننگے جسموں اور ننگے پاؤں والے اکھڑ مزاج اور سنگ دل لوگ… اس میں مزید یہ الفاظ ہیں: جب چھوٹی چھوٹی بھیڑ بکریوں کے چرواہے عمارتوں میں فخر کریں گے۔ آیت کے بعد یہ الفاظ بھی اس روایت میں ہیں: پھر وہ آدمی چلا گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس آدمی کو دوبارہ میرے پاس بلاؤ۔ لوگوں نے اسے تلاش کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس لانا چاہا، لیکن وہ سرے سے اسے دیکھ ہی نہ سکے (کہ کہاں گیا ہے)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ جبرائیلؑ تھے، جو لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔
Musnad Ahmad
70
۔ (۷۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! دُلَّنِیْ عَلٰی عَمَلٍ یُدْخِلُنِیْ الْجَنَّۃَ وَ یُنَجِّیْنِیْ مِنَ النَّارِ، قَالَ: ((بَخٍ بَخٍ، لَئِنْ کُنْتَ قَصَّرْتَ فِی الْخُطْبَۃِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ فِی الْمَسْأَلَۃِ، اِتَّقِ اللّٰہَ، لَا تُشْرِکُ بِاللّٰہِ وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَتُؤَدِّی الزَّکَاۃَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ، خَلِّ عَنْ طَرِیْقِ الرِّکَابِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۷۸)
اس (ابن منتفق) کی ایک اور روایت میں اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسے عمل پر میری رہنمائی فرمائیں کہ وہ مجھے جنت میں داخل کر دے اور آگ سے دور کر دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: واہ، واہ، تو نے بات تو بڑی مختصر کی ہے، لیکن سوال بہت بڑا کر دیا ہے، (بہرحال اب اس کا جواب یہ ہے کہ) تو اللہ تعالیٰ سے ڈر، اس کے ساتھ شرک نہ کر، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر، بیت اللہ کا حج کر اور رمضان کے روزے رکھ، اب سواری کے راستے سے پرے ہٹ جا۔
Musnad Ahmad
171
۔ (۱۷۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہِ ((یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ)) وَقَرَأَ عَلٰی سُفْیَانَ قَالَ الزُّہْرِیُّ: أَسَاوِدَ صُبًّا، قَالَ سُفْیَانُ: الْحَیَّۃُ السَّوْدَائُ تَنْصَبُّ أَیْ تَرْتَفِعُ۔ (مسند أحمد: ۱۶۰۱۲)
۔ (دوسری سند) اس میں تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے کے بعد یہ الفاظ ہیں: امام زہری نے امام سفیان پر یہ الفاظ پڑے: أَسَاوِدَ صُبًّا ، اور امام سفیان نے کہا: بڑا اور کالا سانپ جو بلند ہوتا ہے۔
Musnad Ahmad
172
۔ (۱۷۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ)۔وَ زَادَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَأَفْضَلُ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِی شَعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ یَتَّقِیْ رَبَّہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی وَیَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۱۴)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زیادہ ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا شخص وہ مؤمن ہو گا، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو جائے گا اور اپنے ربّ سے ڈرے گا اور لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ کر دے گا۔
Musnad Ahmad
173
۔ (۱۷۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ)۔وَ زَادَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَأَفْضَلُ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِی شَعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ یَتَّقِیْ رَبَّہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی وَیَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۱۴)
سیدنا ابو امامہ باہلیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے کنڈوں یعنی اسلام کے احکام کو ایک ایک کر کے گرایا جاتا رہے گا، جب ایک کنڈا گر جائے گا تو لوگ اگلے کنڈے کے درپے ہو جائیں گے، سب سے پہلے جس حکم کو توڑا جائے گا، وہ عدل ہو گا اور سب سے آخر میں نماز کو منہدم کر دیا جائے گا۔
Musnad Ahmad
188
۔ (۱۸۸)۔ عَنْ مُعَاذٍ بْنِ جَبَلٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: ((فَقَبَضَ بِیَدَیْہِ قَبْضَتَیْنِ فقَالَ: ہٰذِہِ فِی الْجَنّۃِ وَلَا أُبَالِیْ وَ ہٰذِہِ فِی النَّارِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۲۷)
سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے بھی نبی ٔکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: پس اللہ تعالیٰ نے دونوں ہاتھوں سے دو مٹھیاں بھریں اور کہا: یہ جنت میں جائیں گے اور میں بے پروا ہوں اور یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔