TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 844 - جب دو آدمی ہوں تو باجماعت نماز کا بیان۔ - The book of leading the prayer (al-imamah) - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
جب دو آدمی ہوں تو باجماعت نماز کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَشَهِدَ فُلَانٌ الصَّلَاةَ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا قَالَ:‏‏‏‏ فَفُلَانٌ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَالصَّفُّ الْأَوَّلُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَانُوا أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
Ubay bin Ka'b said: One day the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Fajr, then he said: 'Did so-and-so attend the prayer? They said: 'No.' He said: '(What about) so-and-so? They said:'No' He said: 'These two prayers. are the most burdensome for the hypocrites. If they knew what (virtue) there is in them, they would come, even if they had to crawl. And the virtue of the first row is like that of the row of the angels. If you knew its virtue, you would compete for it. A man's prayer with another man is greater in reward than his prayer alone. And a man's prayer with two other men is greater in reward than his prayer with one other man; the more people there are, the more beloved that is to Allah, the Mighty and Sublime. '
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  کیا فلاں نماز میں موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اور فلاں؟  لوگوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  یہ دونوں نمازیں  ( عشاء اور فجر )  منافقین پر سب سے بھاری ہیں، اگر لوگ جان لیں کہ ان دونوں نمازوں میں کیا اجر و ثواب ہے، تو وہ ان دونوں میں ضرور آئیں خواہ چوتڑوں کے بل انہیں گھسٹ کر آنا پڑے، اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے، اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو تم اس میں شرکت کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے، کسی آدمی کا کسی آدمی کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۱؎، اور ایک شخص کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور لوگ جتنا زیادہ ہوں گے اتنا ہی وہ نماز اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہو گی ۔
844
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 843 In-book reference : Book 10, Hadith 67 English translation : Vol. 1, Book 10, Hadith 844
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 844
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة ۴۸ (۵۵۴)، سنن ابن ماجہ/المساجد ۱۶ (۷۹۰) مختصراً، (تحفة الأشراف: ۳۶)، مسند احمد ۵/۱۴۰، ۱۴۱، سنن الدارمی/الصلاة ۵۳ (۱۳۰۷، ۱۳۰۸) (حسن)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎: اسی جملے سے باب کی مناسبت ہے۔

Related Chapters

1,895
1
جب تین آدمی ہوں تو باجماعت نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays And A Man And A Woman Are With Him
باب: آدمی نماز پڑھا رہا ہو اور اس کے ساتھ مرد اور عورتیں دونوں ہوں تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
3
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
4
Chapter: Prayer in congregation is one of the sunnah of guidance
نماز کی باجماعت ادائگی ہدات کی پختہ راہوں میں سے (ایک راہ )ہے
Sahih Muslim
5
CHAPTER: How Should Three People Stand (In Prayer).
باب: جب تین آدمی نماز پڑھ رہے ہوں تو کس طرح کھڑے ہوں ؟
Sunnan Abu Dawood
6
جب تین افراد ہوں: ایک مرد، ایک بچہ اور ایک عورت تو باجماعت نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
7
جو آدمی مسجد میں امام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ چکا ہو اس سے فریضہ نماز کے ساقط ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
(108)Chapter: What Has Been Related About When Standing For The Prayer, And One Of You Finds That He Has To Relieve Himself, [Then Let Him Relieve Himself First].
باب: جب نماز کھڑی ہو جائے اور آدمی کو پاخانے کی حاجت ہو تو پہلے پاخانہ جائے
Jam e Tirmazi
9
Chapter: Been Related About A Man Who Forgets A Salat
باب: آدمی نماز بھول جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Misses Multiple Prayers And Which Of Them He Begin With
باب: کئی وقت کی نماز چھوٹ جائے تو آدمی پہلے کون سی پڑھے؟
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The Man Who Performs Salat Alone, Then He Comes Upon A Congregation
باب: آدمی تنہا نماز پڑھ لے پھر جماعت پا لے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays While Another Man Is With Him
باب: آدمی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہو تو مقتدی کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays With Two Men
باب: کوئی دو آدمیوں کے ساتھ (بطور امام) نماز پڑھ رہا ہو تو کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Salat In Sheep Pens And The Resting Area Of Camels
باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Regarding One Who Has Doubts Over Addition Or A Omission
باب: آدمی کو نماز پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک و شبہ ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
18
Chapter: [What Has Been Related] About Two Rak'ah When One Arrives While the Imam Is Delivering The Khubah
باب: خطبہ کے دوران آدمی آئے تو پہلے دو رکعت نماز پڑھے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Where The Imam Is To Stand For the Man And For The Women
باب: مرد اور عورت دونوں ہوں تو امام نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
20
باب: تین آدمی ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو کانا پھوسی کریں یہ درست نہیں ہے
Jam e Tirmazi
21
بَابُ مَنْ صَلَّى صَلَاةً مَرَّتَيْنِ
دو مرتبہ نماز پڑھنے والے آدمی کا بیان
Mishkat
22
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
Musnad Ahmad
23
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
Musnad Ahmad
24
ان جگہوں کا بیان جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اور جن میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے
Musnad Ahmad
25
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
Musnad Ahmad
26
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
27
مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
اکیلے آدمی کا (دورانِ نماز) امامت کی طرف منتقل ہوجانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
29
صف کے پیچھے اکیلے آدمی کا نماز پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
30
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
Musnad Ahmad
31
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
32
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
Musnad Ahmad
33
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
Musnad Ahmad
34
نمازِ خوف کی چھٹی صورت دونوں گروہوں کا قیام اور سلام میں امام کے ساتھ شریک ہونا
Musnad Ahmad
35
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
Musnad Ahmad
36
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
Musnad Ahmad
37
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
Musnad Ahmad
39
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
Musnad Ahmad
40
اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
Musnad Ahmad
41
(23) CHAPTER. The participation of menstruating women in the two Eid festivals and in religious gatherings of Muslims and their isolation from the Musalla (praying place).
عیدین میں اور مسلمانوں کے ساتھ دعا میں حائضہ عورتیں بھی شریک ہوں اور یہ عورتیں نماز کی جگہ سے ایک طرف ہو کر رہیں
Sahih Bukhari
42
(15) CHAPTER. If someone offers Salat (prayer) in a garment bearing marks of a cross or pictures, will the Salat be annulled? And what is forbidden thereof.
ایسے کپڑے میں اگر کسی نے نماز پڑھی جس پر صلیب یا مورتیاں بنی ہوں تو نماز فاسد ہو گی یا نہیں اور ان کی ممانعت کا بیان
Sahih Bukhari
43
(53) CHAPTER. (What is said about) offering Salat (prayer) at the places where the earth had sunk down and Allah's punishment had fallen.
دھنسی ہوئی جگہوں میں یا جہاں کوئی اور عذاب اترا ہو وہاں نماز ( پڑھنا کیسا ہے ؟ )
Sahih Bukhari
44
(4) CHAPTER. As-Salat (the prayer) is expiation (of sins).
اس بیان میں کہ گناہوں کے لیے نماز کفارہ ہے ( یعنی اس سے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں )
Sahih Bukhari
45
(6) CHAPTER. The five Salat (prayers) are expiations (of sins).
اس بیان میں کہ پانچوں وقت کی نمازیں گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہیں جب کوئی ان کو جماعت سے یا اکیلا ہی اپنے وقت پر پڑھے
Sahih Bukhari
46
(18) CHAPTER. If there are many travellers, Adhan and Iqama should be pronounced, (the same is to be observed) in Arafat and Al-Muzdalifa too.
اگر کئی مسافر ہوں تو نماز کے لیے اذان دیں اور تکبیر بھی کہیں اور عرفات اور مزدلفہ میں بھی ایسا ہی کریں
Sahih Bukhari
47
(22) CHAPTER. When should the people get up for the Salat (prayer) if they see the Imam (the person leading Salat) during the Iqama?
نماز کی تکبیر کے وقت جب لوگ امام کو دیکھیں تو کس وقت کھڑے ہوں
Sahih Bukhari
48
(26) CHAPTER. The saying of a man to the Prophet , “We have not prayed.”
آدمی یوں کہے کہ ہم نے نماز نہیں پڑھی تو اس طرح کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے
Sahih Bukhari
49
(30) CHAPTER. Superiority of the congregational Salat (prayer).
نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
50
(31) CHAPTER. Superiority of the Fajr (early morning) prayer in congregation.
فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

40
Mishkat
1066
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصُّبْحَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ: «إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَو تعلمُونَ مَا فيهمَا لأتيتموهما وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الرُّكَبِ وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فضيلته لابتدرتموه وَإِن صَلَاة الرجل من الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ وَصَلَاتَهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز فجر پڑھائی ، جب سلام پھیرا تو فرمایا :’’ کیا فلاں شخص موجود ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، نہیں ، پھر پوچھا :’’ کیا فلاں شخص موجود ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ دونوں نمازیں منافقوں پر بہت بھاری ہیں ، اگر تم جان لو کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو پھر خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل آنا پڑتا تم ضرور آتے اور بے شک پہلی صف (اجر و فضیلت کے لحاظ سے) فرشتوں کی صف کی طرح ہے ، اور اگر تمہیں اس کی فضیلت کا علم ہو جائے تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کرو ، بے شک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا ، اس کے اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، اور اس کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا ، اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، اور جس قدر زیادہ ہو تو وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Sunnan Abu Dawood
555
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصُّبْحَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَشَاهِدٌ فُلَانٌ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَشَاهِدٌ فُلَانٌ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَيْتُمُوهُمَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الرُّكَبِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فَضِيلَتُهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَاتُهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى .
Narrated Ubayy ibn Kab: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم led us in the dawn prayer one day. And he said: Is so and so present? They said: No. He (again) asked: Is so and so present? They replied: No. He then said: These two prayers are the ones which are most burdensome to hypocrites. If you knew what they contain (i. e. blessings), you would come to them, even though you had to crawl on your knees. The first row is like that of the angels, and if you knew the nature of its excellence, you would race to join it. A man's prayer said along with another is purer than his prayer said alone, and his prayer with two men is purer than his prayer with one, but if there are more it is more pleasing to Allah, the Almighty, the Majestic.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر پڑھائی پھر فرمایا: کیا فلاں حاضر ہے؟ ، لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا فلاں حاضر ہے؟ ، لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں ( عشاء و فجر ) منافقوں پر بقیہ نماز سے زیادہ گراں ہیں، اگر تم کو ان دونوں کی فضیلت کا علم ہوتا تو تم ان میں ضرور آتے چاہے تم کو گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑتا، اور پہلی صف ( اللہ سے قریب ہونے میں ) فرشتوں کی صف کی مانند ہے، اگر اس کی فضیلت کا علم تم کو ہوتا تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کرتے، ایک شخص کا دوسرے شخص کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا اس کے تنہا نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے، اور ایک شخص کا دو شخصوں کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے، جتنی تعداد زیادہ ہو اتنی ہی وہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو گی ۔
Sahih Bukhari
4658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ : مَا بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ هَذِهِ الْآيَةِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ ، وَلَا مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلَّا أَرْبَعَةٌ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : إِنَّكُمْ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُخْبِرُونَا فَلَا نَدْرِي ، فَمَا بَالُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَبْقُرُونَ بُيُوتَنَا ، وَيَسْرِقُونَ أَعْلَاقَنَا ، قَالَ أُولَئِكَ الْفُسَّاقُ ، أَجَلْ لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا أَرْبَعَةٌ ، أَحَدُهُمْ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، لَوْ شَرِبَ الْمَاءَ الْبَارِدَ لَمَا وَجَدَ بَرْدَهُ .
Narrated Zaid bin Wahb: We were with Hudhaifa and he said, None remains of the people described by this Verse (9.12), Except three, and of the hypocrites except four. A bedouin said, You the companions of Muhammad! Tell us (things) and we do not know that about those who break open our houses and steal our precious things? ' He (Hudhaifa) replied, Those are Al Fussaq (rebellious wrongdoers) (not disbelievers or hypocrites). Really, none remains of them (hypocrite) but four, one of whom is a very old man who, if he drinks water, does not feel its coldness.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن وہب نے بیان کیا کہ ہم حذیفہ بن یمان کی خدمت میں حاضر تھے۔ انہوں نے کہا یہ آیت جن لوگوں کے بارے میں اتری ان میں سے اب صرف تین شخص باقی ہیں، اسی طرح منافقوں میں سے بھی اب چار شخص باقی ہیں۔ اتنے میں ایک دیہاتی کہنے لگا آپ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ہمیں ان لوگوں کے متعلق بتائیے کہ ان کا کیا حشر ہو گا جو ہمارے گھروں میں چھید کر کے اچھی چیزیں چرا کر لے جاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ فاسق بدکار ہیں۔ ہاں ان منافقوں میں چار کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا ہے اور ایک تو اتنا بوڑھا ہو چکا ہے کہ اگر ٹھنڈا پانی پیتا ہے تو اس کی ٹھنڈ کا بھی اسے پتہ نہیں چلتا۔
Sunnan Nisai
1422
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مُخَوَّلٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ الم تَنْزِيلُ وَ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ وَفِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that : During the subh prayer on Friday, the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite: Alif-Lam-Mim. The Revelation and: Has there not been over man, and in Jumu'ah prayer he would recite Al-Jumu'ah (62) and Al-Munafiqin (63).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز نماز فجر میں «‏الم * تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان»پڑھتے، اور جمعہ کی صلاۃ میں سورۃ  جمعہ  اور سورۃ  منافقون  پڑھتے تھے۔
Jam e Tirmazi
309
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ:‏‏‏‏ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ:‏‏‏‏ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِسُوَرٍ مِنْ أَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ نَحْوِ سُورَةِ الْمُنَافِقِينَ وَأَشْبَاهِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا وَأَقَلَّ، ‏‏‏‏‏‏فَكَأَنَّ الْأَمْرَ عِنْدَهُمْ وَاسِعٌ فِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْسَنُ شَيْءٍ فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ بِ:‏‏‏‏ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ التِّينِ وَالزَّيْتُون
Abdullah bin Buraidah narrated that his father (Buraidah) said: Allah's Messenger would recite: By the sun and its brightness, or similar Surah for the latter Isha (prayer).
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں براء بن عازب اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔ ۴- عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ وہ عشاء میں «وساط مفصل» کی سورتیں جیسے سورۃ المنافقون اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے، ۵- صحابہ کرام اور تابعین سے یہ بھی مروی ہے کہ ان لوگوں نے اس سے زیادہ اور اس سے کم بھی پڑھی ہے۔ گویا ان کے نزدیک معاملے میں وسعت ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بہتر چیز جو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے وہ یہ کہ آپ نے سورۃ «والشمس وضحاها» اور سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔
Jam e Tirmazi
3028
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ:‏‏‏‏ فَمَا لَكُمْ ينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فَرِيقَيْنِ:‏‏‏‏ فَرِيقٌ يَقُولُ اقْتُلْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَفَرِيقٌ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا طِيبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيَدَ هُوَ الْأَنْصَارِيُّ الْخَطْمِيُّ وَلَهُ صُحْبَةٌ.
Narrated 'Abdullah bin Yazid: from Zaid bin Thabit that he heard about this Ayah: Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites? (4:88) He said: People among the Companions of the Prophet (ﷺ) returned on the Day of Uhud and there were two parties among them, a group who said: 'Kill them,' and a group that say not to. So Allah revealed this Ayah: Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites? (4:88) So he said: Indeed it is Taibah (Al-Madinah). And he said: 'It expels filth from it just like the fire expels filth from iron.'
عبداللہ بن یزید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ آیت: «فما لكم في المنافقين فئتين» کی تفسیر کے سلسلے میں کہتے ہیں احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ( ساتھی یعنی منافق میدان جنگ سے ) لوٹ آئے ۱؎ تو لوگ ان کے سلسلے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ نے کہا: انہیں قتل کر دو، اور دوسرے فریق نے کہا: نہیں، قتل نہ کرو تو یہ آیت «فما لكم في المنافقين فئتين» ۱؎ نازل ہوئی، اور آپ نے فرمایا: ”مدینہ پاکیزہ شہر ہے، یہ ناپاکی و گندگی کو ( إن شاء اللہ ) ایسے دور کر دے گا جیسے آگ لوہے کی ناپاکی ( میل و زنگ ) کو دور کر دیتی ہے۔ ( یہ منافق یہاں رہ نہ سکیں گے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن یزید انصاری خطمی ہیں اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے۔
Jam e Tirmazi
3098
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ أَبُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلِّ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَغْفِرْ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَقَالَ:‏‏‏‏ إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ جَذَبَهُ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَيْسَ قَدْ نَهَى اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سورة التوبة آية 80 فَصَلَّى عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Ibn 'Umar: 'Abdullah bin 'Abdullah bin Ubayy came to the Messenger of Allah (ﷺ) when his father died, and said: 'Give me your shirt to shroud him in and perform the Salat upon him, and seek forgiveness for him.' So he (ﷺ) gave him his shirt, and said: 'When you are finished then inform me.' So when he wanted to perform the Salat, 'Umar tugged at him and said: 'Has not Allah prohibited that you perform Salat over the hypocrites?' He said: 'I have been given the choice between two: 'Whether you seek forgiveness for them or you do not seek forgiveness for them.... (9:80)' So he performed the Salat for him. Then Allah revealed: 'And never pray for any of them who dies, nor stand at his grave... (9:84)' So he abandoned praying for them.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی کے باپ کا جب انتقال ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ اپنی قمیص ہمیں عنایت فرما دیں، میں انہیں ( عبداللہ بن ابی ) اس میں کفن دوں گا۔ اور ان کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے اور ان کے لیے استغفار فرما دیجئیے۔ تو آپ نے عبداللہ کو اپنی قمیص دے دی۔ اور فرمایا: ”جب تم ( غسل و غیرہ سے ) فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر دو۔ پھر جب آپ نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو عمر رضی الله عنہ نے آپ کو کھینچ لیا، اور کہا: کیا اللہ نے آپ کو منافقین کی نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے دو چیزوں «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ”ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو“ میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا۔ چنانچہ آپ نے اس کی نماز پڑھی۔ جس پر اللہ نے آیت «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» نازل فرمائی۔ تو آپ نے ان ( منافقوں ) پر نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3168
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَتْ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ سورة الحج آية 1 ـ 2 قَالَ:‏‏‏‏ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ وَهُوَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ ؟ فَقَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذَلِكَ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ لِآدَمَ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَنْشَأَ الْمُسْلِمُونَ يَبْكُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهَا جَاهِلِيَّةٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُؤْخَذُ الْعَدَدُ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنْ تَمَّتْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِلَّا كَمُلَتْ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مَثَلُكُمْ وَالْأُمَمِ إِلَّا كَمَثَلِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرُوا ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرُوا ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرُوا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الثُّلُثَيْنِ أَمْ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated 'Imran bin Husain: when (the following) was revealed: O mankind! Have Taqwa of your Lord! Verily the earthquake of the hour is a terrible thing... up to His saying: But Allah's torment is severe...(22:1 & 2) - he said: These Ayat were revealed while he (ﷺ) was on a journey and he said: 'Do you know what Day this is?' So they said: 'Allah and His Messenger know better.' He said: 'That is the day when Allah says to Adam: Send forth those who are to be sent to the Fire. So he says: O Lord! How many are to be sent? He says: Nine-hundred and ninety-nine in the Fire, and one to Paradise. He said: So the Muslims started crying. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Close your ranks and be straight forward, for there was never any Prophethood but there was a time of ignorance just before his advent, so the number will be taken from that time of ignorance, and if that is not enough, it will be made up of the hypocrites. The parable of you and the other nations is that you are like a mark on the foreleg of an animal, or a mole on the flank of a camel.' Then he said: 'I hope that you will be a quarter of the people of Paradise.' They said: Allahu Akbar. Then he said: 'I hope that you will be a third of the people of Paradise.' They said: Allahu Akbar. Then he said: 'I hope that you will be half of the people of Paradise.' They said: Allahu Akbar. He said: I do not know if he said two thirds or not.
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے قول «ولكن عذاب الله شديد» ۱؎ تک نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفر میں تھے، آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ آدم ( علیہ السلام ) سے کہے گا «ابعث بعث النار» ”جہنم میں جانے والی جماعت کو چھانٹ کر بھیجو“ آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب «بعث النار» ”کیا ہے ( یعنی کتنے ) ؟“ اللہ فرمائے گا: نو سو ننانوے ( ۹۹۹ ) افراد جہنم میں اور ( ان کے مقابل میں ) ایک شخص جنت میں جائے گا، یہ سن کر مسلمان ( صحابہ ) رونے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نزدیکی حاصل کرو اور ہر کام صحیح اور درست ڈھنگ سے کرتے رہو، ( اہل جنت میں سے ہو جاؤ گے ) ، کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبوت کا سلسلہ چلا ہو اور اس سے پہلے جاہلیت ( کی تاریکی پھیلی ہوئی ) نہ ہو“، آپ نے فرمایا: ”یہ ( ۹۹۹ کی تعداد ) عدد انہیں ( ادوار ) جاہلیت کے افراد سے پوری کی جائے گی۔ یہ تعداد اگر جاہلیت سے پوری نہ ہوئی تو ان کے ساتھ منافقین کو ملا کر پوری کی جائے گی، اور تمہاری اور ( پچھلی ) امتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ داغ، نشان، تل جانور کے اگلے پیر میں، یا سیاہ نشان اونٹ کے پہلو ( پسلی ) میں ہو“ ۲؎ پھر آپ نے فرمایا: ”مگر مجھے امید ہے کہ جنت میں جانے والوں میں ایک چوتھائی تعداد تم لوگوں کی ہو گی“، یہ سن کر ( لوگوں نے خوش ہو کر ) نعرہ تکبیر بلند کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے توقع ہے جنتیوں کی ایک تہائی تعداد تم ہو گے“، لوگوں نے پھر تکبیر بلند کی، آپ نے پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھا آدھا تم لوگ ہو گے“، لوگوں نے پھر صدائے تکبیر بلند کی ( اس سے آگے ) مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ نے دو تہائی بھی فرمایا یا نہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی راویوں سے عمران بن حصین کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
Jam e Tirmazi
3313
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْأَزْدِيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ:‏‏‏‏ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَعَنَا أُنَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ فَكُنَّا نَبْتَدِرُ الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْأَعْرَابُ يَسْبِقُونَّا إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَبَقَ أَعْرَابِيٌّ أَصْحَابَهُ فَسَبَقَ الْأَعْرَابِيُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَمْلَأُ الْحَوْضَ وَيَجْعَلُ حَوْلَهُ حِجَارَةً وَيَجْعَلُ النِّطْعَ عَلَيْهِ حَتَّى يَجِيءَ أَصْحَابُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْرَابِيًّا فَأَرْخَى زِمَامَ نَاقَتِهِ لِتَشْرَبَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى أَنْ يَدَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَزَعَ قِبَاضَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعَ الْأَعْرَابِيُّ خَشَبَتَهُ فَضَرَبَ بِهَا رَأْسَ الْأَنْصَارِيِّ فَشَجَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ رَأْسَ الْمُنَافِقِينَ فَأَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَغَضِبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ يَعْنِي الْأَعْرَابَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانُوا يَحْضُرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الطَّعَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ إِذَا انْفَضُّوا مِنْ عِنْدِ مُحَمَّدٍ فَأْتُوا مُحَمَّدًا بِالطَّعَامِ فَلْيَأْكُلْ هُوَ وَمَنْ عِنْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ لَئِنْ رَجَعْتُم إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زَيْدٌ:‏‏‏‏ وَأَنَا رِدْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرْتُ عَمِّي، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَفَ وَجَحَدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَصَدَّقَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَّبَنِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَاءَ عَمِّي إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا أَرَدْتَ إِلَّا أَنْ مَقَتَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَّبَكَ وَالْمُسْلِمُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَوَقَعَ عَلَيَّ مِنَ الْهَمِّ مَا لَمْ يَقَعْ عَلَى أَحَدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَبَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ خَفَقْتُ بِرَأْسِي مِنَ الْهَمِّ إِذْ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَكَ أُذُنِي وَضَحِكَ فِي وَجْهِي، ‏‏‏‏‏‏فَمَا كَانَ يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الْخُلْدَ فِي الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَحِقَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ مَا قَالَ لِي شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ عَرَكَ أُذُنِي وَضَحِكَ فِي وَجْهِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَبْشِرْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَحِقَنِي عُمَرُ فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ مِثْلَ قَوْلِي لِأَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْمُنَافِقِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Zaid bin Arqam said: “We were participating in a battle along with the Messenger of Allah, and there were some people from the Bedouins with us. So we all rushed toward some water and the Bedouins raced us to it. One of the Bedouins beat his companions to it and he (tried to obstruct) the pond, he placed rocks around it and he put a leather sheet over it until his companions came.” He said: “A man among the Ansar reached the Bedouin and he dropped the reigns of his camel to drink, but the Bedouin would not allow him. So he started removing the barriers around the water, but the Bedouin raised a stick beating the Ansari man on the head, and smashed it. He went to Abdullah bin Ubayy, the head of the hypocrite, to inform him – he was in fact one of his companions. So Abdullah bin Ubayy became enraged, the he said: ‘Do not spend anything on whoever is with Muhammad until they depart.’ Meaning the Bedouins. They were preparing food for the Messenger of Allah. So Abdullah said: ‘When they depart from Muhammad, then bring Muhammad some food, and let him and whoever is with him eat it.’ Then he said to his companions: ‘If we return to Al-Madinah, indeed the more honorable will expel therefrom the meaner.’” Zaid said: “And I was riding behind the Messenger of Allah, and I had heard Abdullah bin Ubayy, so I informed my uncle who went to tell the Messenger of Allah. He sent a message to him (Abdullah) but he took an oath and denied it.” He said: “So the Messenger of Allah accepted what he said and did not believe me. So my uncle came to me and said: ‘You only wanted the Messenger of Allah to hate you, and the Muslims to say that you lied.’” He said: “I suffered such worry as has not been suffered by anyone else.” He said: “(Later) while I was on the move with the Messenger of Allah on a journey, my mind was relieved of worry, since the Messenger of Allah came to me and rubbed my ear and smiled in my face. I would never be happier than with that as long as the world remained. Then Abu Bakr caught up to me, and said: ‘What did the Messenger of Allah say to you?’ I said: ‘He did not say anything to me, he only rubbed my ear and smiled in my face.’ He said: ‘Receive the good news!’ Then Umar caught up with me and I said the same to him as I had said to Abu Bakr. In the morning the Messenger of Allah recited Surat Al-Munafiqin.”
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( غزوہ بنی مصطلق میں ) جہاد کے لیے نکلے، ہمارے ساتھ کچھ اعرابی بھی تھے ( جب کہیں پانی نظر آتا ) تو ہم ایک دوسرے سے پہلے پہنچ کر حاصل کر لینے کی کوشش کرتے، اعرابی پانی تک پہنچنے میں ہم سے آگے بڑھ جاتے ( اس وقت ایسا ہوا ) ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، جب آگے نکلتا تو حوض کو بھرتا اور اس کے اردگرد پتھر رکھتا، اس پر چمڑے کی چٹائی ڈال دیتا، پھر اس کے ساتھی آتے، اسی موقع پر انصاریوں میں سے ایک اعرابی کے پاس آیا، اور اپنی اونٹنی کی مہار ڈھیلی کر دی تاکہ وہ پانی پی لے، مگر اس اعرابی شخص نے پانی پینے نہ دیا، انصاری نے باندھ توڑ دیا اعرابی نے لٹھ اٹھائی اور انصاری کے سر پر مار کر اس کا سر توڑ دیا، وہ انصاری منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی کے پاس آیا، وہ اس کے ( ہم خیال ) ساتھیوں میں سے تھا، اس نے اسے واقعہ کی اطلاع دی، عبداللہ بن ابی یہ خبر سن کر بھڑک اٹھا، غصہ میں آ گیا، کہا: ان لوگوں پر تم لوگ خرچ نہ کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جب تک کہ وہ ( یعنی اعرابی ) ہٹ نہ جائیں جب کہ ان کا معمول یہ تھا کہ کھانے کے وقت وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھا اور موجود ہوتے تھے، عبداللہ بن ابی نے کہا: جب وہ لوگ محمد کے پاس سے چلے جائیں تو محمد کے پاس کھانا لے کر آؤ تاکہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھ ( خاص ) موجود لوگ کھا لیں، پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اگر ہم مدینہ ( بسلامت ) پہنچ گئے تو تم میں جو عزت والے ہیں انہیں ذلت والوں ( اعرابیوں ) کو مدینہ سے ضرور نکال بھگا دینا چاہیئے، زید کہتے ہیں: میں سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے عبداللہ بن ابی کی بات سن لی، تو اپنے چچا کو بتا دی، چچا گئے، انہوں نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیدی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھیج کر اسے بلوایا، اس نے آ کر قسمیں کھائیں اور انکار کیا ( کہ میں نے ایسی باتیں نہیں کہی ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا مان لیا اور مجھے جھوٹا ٹھہرا دیا، پھر میرے چچا میرے پاس آئے، بولے ( بیٹے ) تو نے کیا سوچا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر غصہ ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے تجھے جھوٹا ٹھہرا دیا، ( یہ سن کر ) مجھے اتنا غم اور صدمہ ہوا کہ شاید اتنا غم اور صدمہ کسی اور کو نہ ہوا ہو گا، میں غم سے اپنا سر جھکائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں چلا ہی جا رہا تھا کہ یکایک آپ میرے قریب آئے میرے کان کو جھٹکا دیا اور میرے سامنے مسکرا دیئے مجھے اس سے اتنی خوشی ہوئی کہ اس کے بدلے میں اگر مجھے دنیا میں جنت مل جاتی تو بھی اتنی خوشی نہ ہوتی، پھر مجھے ابوبکر رضی الله عنہ ملے، مجھ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ میں نے کہا: مجھ سے آپ نے کچھ نہیں کہا: البتہ میرے کان پکڑ کر آپ نے ہلائے اور مجھے دیکھ کر ہنسے، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: خوش ہو جاؤ، پھر مجھے عمر رضی الله عنہ ملے، میں نے انہیں بھی وہی بات بتائی، جو میں نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہی تھی، پھر صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز فجر میں ) سورۃ منافقین پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔