It was narrated that Abu Hurairah said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) did not prostrate that day either before the salam or after.
سعید بن مسیب، ابوسلمہ، ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابن ابی حثمہ چاروں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن نہ تو سلام سے پہلے سجدہ ( سہو ) کیا، اور نہ ہی اس کے بعد۔
It was narrated from Abu Hurairah that: The Messenger of Allah (ﷺ) prostrated twice after the salam on the day of Dhul-Yadain.
عراک بن مالک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالیدین والے دن سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے۔
Narrated from Abu Hurairah: A similar report was narrated from Abu Hurairah from the Messenger of Allah (ﷺ).
محمد بن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
It was narrated from Abu Hurairah that : The Prophet (ﷺ) prostrated after the salam when he was not sure.
ابن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول ہو جانے کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ ( سہو ) کیا۔
It was narrated from Imran bin Husain that: The Prophet (ﷺ) led them in prayer and forgot (how many rak'ahs he had prayed), then he prostrated twice, then he said the salam.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ کو سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے ( سہو کے ) کیے، پھر سلام پھیرا ۱؎۔
It was narrated that Imran bin Husain said: The Messenger of Allah (ﷺ) said the salam after three rak'ahs of 'Asr, then he entered his house. A man called Al-Khibaq stood up and said: 'Has the prayer been shortened, O Messenger of Allah?' He came out angry, dragging his upper garment and said: 'Is he speaking the truth?' They said: 'Yes.' So he stood and prayed that rak'ah, then he said the salam, then prostrated twice, then he said the salam (again).
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر آپ اپنے حجرے میں چلے گئے، تو آپ کی طرف اٹھ کر خرباق نامی ایک شخص گئے اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ تو آپ غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے، اور پوچھا: کیا یہ سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ کھڑے ہوئے، اور ( جو چھوٹ گئی تھی ) اسے پڑھایا پھر سلام پھیرا، پھر اس رکعت کے ( چھوٹ جانے کے سبب ) دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔