It was narrated that Abdur-Rahman - meaning bin Yazid - said: It was said to Abdullah bin Masud that some people were stoning the Jamart from above al-Aqabah. He said: So Abdullah stoned it from the bottom of the valley, then he said: 'From here - by the One beside Whom there is no other God - did the one to whom surat Al-Baqarah was revealed, stone it.
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ جمرہ کو گھاٹی کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں، تو عبداللہ بن مسعود نے وادی کے نیچے سے کنکریاں ماریں، پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اسی جگہ سے اس شخص نے کنکریاں ماریں جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ۔
It was narrated that Abdullah bin Yazid said: Abdullah stoned the Jamrat with seven pebbles, with the House on his left and Arafat on his right. And he said: 'This is the place where the one to whom Surat al-Baqrah was revealed stood.' (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nisai) said: I do not know of anyone who said: Mansur in this narration except Ibn Abi adi, and Allah most High knows best.
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کو اپنے بائیں جانب کیا اور عرفہ کو اپنے دائیں جانب اور جمرہ کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: یہی اس ذات کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابن ابی عدی کے سوا میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس حدیث میں منصور کے ہونے کی بات کہی ہو، واللہ اعلم۔
Abdur-Rahman bin Yazid said: I sqa Ibn Masud stone Jamratul 'Aqabah from the bottom of the valley, then he said: ;This - by the One beside Whom there is no other God-is the place where the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed stood. '
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں، پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، یہی ہے اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ جس پر سورۃ البقرہ اتاری گئی۔
Al-A 'mash said : I head Al-Hajjaj say: 'Do not say Surat Al-Baqarah, say: 'The Surah in which the cow (Al-Baqarah) is mentioned. ' I mentioned that to Ibrahim, and he said: Abdur-Rahman bi Yazdi told me, that he was with 'Abdullah when he stoned Jamratul 'Aqabah. He went down the middle of the valley, stood opposite it - meaning the Jamrah - and throew seven pebbiles at it, saying the Takbir with each pebble. I said; Some people climbed the mountain. He said: Here - by the One beside Whom there is no other God - is the place where the one to whom Surat Al-Baqarah was revelated stoned.
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو کہتے سنا کہ ”سورۃ البقرہ“ نہ کہو، بلکہ کہو ”وہ سورۃ جس میں بقرہ کا ذکر کیا گیا ہے“ میں نے اس بات کا ذکر ابراہیم سے کیا، تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا ہے کہ وہ عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) کے ساتھ تھے جس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں، وہ وادی کے اندر آئے، اور جمرہ کو اپنے نشانہ پر لیا، اور سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی، تو میں نے کہا: بعض لوگ ( کنکریاں مارنے کے لیے ) پہاڑ پر چڑھتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، یہی جگہ ہے جہاں سے میں نے اس شخص کو جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ۱؎۔
It was narrated from Jabir: That the Messenger of Allah stoned the Jamarat with pebbles like date sones or fingertips.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی چٹکی میں آنے والی جیسی کنکریوں سے کی۔
It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah stoned the Jamarat with pebbles like date sones or fingertips.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ چٹکی میں آنے والی جیسی کنکریوں سے جمرہ عقبہ کی رمی کر رہے تھے۔