It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah said: It is not permissible for a woman to give a gift from her wealth, once her husband has marital authority over her. This is the wording of (one of the narrators) Muhammad.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جب اس کی عصمت کا مالک اس کا شوہر ہو گیا جائز نہیں کہ وہ اپنے مال میں سے ہبہ و بخشش کرے“، اس حدیث کے الفاظ ( راوی حدیث ) محمد بن معمر کے ہیں۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said: When the Messenger of Allah conquered Makkah, he stood up to address (the people) and said in his Khutbah: 'It is not permissible for a woman to give (a gift) except with her husband's permission.'
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اپنے خطبہ میں آپ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو عطیہ دینا جائز و درست نہیں“۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin 'Alqamah Ath-Thaqafi said: The delegation of Thaqif came to the Messenger of Allah, bringing a gift with them. He said: 'Is it a gift or charity?' If it was a gift it would be for the sake of the Messenger of Allah and to have their needs met, and if it was charity then it would be in the cause of Allah. They said: 'It is a gift.' So he accepted it from them, and sat with them, and they asked questions, until he prayed Zuhr with 'Asr.
عبدالرحمٰن بن علقمہ ثقفی کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ان کے ساتھ کچھ ہدیہ بھی تھا۔ آپ نے ان سے پوچھا: یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر یہ ہدیہ ہے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور ضروریات کی تکمیل مطلوب اور پیش نظر ہے، اور اگر صدقہ ہے تو اس سے اللہ عزوجل کی خوشنودی مطلوب و مقصود ہے۔ ان لوگوں نے کہا: یہ ہدیہ ہے، تو آپ نے اسے ان سے قبول فرما لیا اور ان کے ساتھ بیٹھے باتیں کرتے رہے اور وہ لوگ آپ سے مسئلہ مسائل پوچھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے ظہر عصر کے ساتھ ملا کر پڑھی ۱؎۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: I was thinking of not accepting gifts except from a Quraishi, an Ansari, a Thaqafi or a Dawsi.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کر لیا ہے تھا کہ قریشی، انصاری، ثقفی، دوسی کو چھوڑ کر کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں ۱؎“۔
It was narrated from Anas that some meat was brought to the Messenger of Allah and he said: What is this? It was said: It was given in charity to Barirah. He said: It is charity for her and a gift for us.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو آپ نے پوچھا: یہ کیسا گوشت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“۔