It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr, who attributed it to the Messenger of Allah: There is no person who kills a small bird or anything larger, for no just reason, but Allah will ask him about it. It was said: O Messenger of Allah, what does 'just reason mean? He said: That you slaughters it and eat it, and o not cut off its head and throw it aside,
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی گوریا، یا اس سے چھوٹی کسی چڑیا کو بلا وجہ مارا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کرے گا“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے ذبح کر کے کھائے اور اس کا سر کاٹ کر یوں ہی نہ پھینک دے“۔
It was narrated that 'Amr bin Sharid said: I heard Sharid say: 'I herd the Messenger of Allah say: Whoever kills a small bird for no reason, it will beseech Allah on the Day of Resurrection saying: O Lord, so and so killed me for no reason. And he did not kill me for any beneficial purpose. '
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے بلا وجہ کوئی گوریا ماری تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے چلائے گی اور کہے گی: اے میرے رب! فلاں نے مجھے بلا وجہ مارا مجھے کسی فائدے کے لیے نہیں مارا“۔