Jabir said: The Messenger of Allah said: If you sell fruits to your brother then the crop fails, it is not permissible for you it takes anything from him. Why would you take the wealth of your brother unlawfully? '
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے اپنے ( مسلمان ) بھائی سے پھل بیچے پھر اچانک ان پر کوئی آفت آ گئی تو تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم اس سے کچھ لو، آخر تم کس چیز کے بدلے میں ناحق اپنے ( مسلمان ) بھائی کا مال لو گے“ ۱؎۔
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah said: Whoever sells fruit then his crop fails, he should not take (anything) from his brother. (And he said something along the lines of) Why would anyone of you consume the wealth of his Muslim brother?
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے پھل بیچے پھر ان پر کوئی آفت آ گئی تو وہ اپنے بھائی سے ( کچھ ) نہ لے، آخر تم کس چیز کے بدلے میں اپنے مسلمان بھائی کا مال کھاؤ گے“۔
It was narrated from Jabir that: the Prophet annulled transaction in the event of crop faioure.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آفتوں کا نقصان دلوایا۔
it was narrated that Abu Sa' eed Al-Khudri said: At the time of the Messenger of Allah, a ma suffered loss of some fruit that he had purchased, and his debts increased. The Messenger of Allah said: 'give him charity.' So the people gave him charity, but that was not enough to pay of his debts. The Messenger of Allah said: Take what you find but you have no right to or than that.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آ گئی، چنانچہ اس پر بہت سارا قرض ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خیرات دو“، تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہو جاتی تو آپ نے ( اس کے قرض خواہوں سے ) کہا: ”جو پا گئے ہو وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے“ ۱؎۔