It was narrated that abu Al-Minhal said: Sharik sold some silver on credit for me. He came to me and told me. And I said: 'This is not correct.' He said; 'By Allah, I did this transaction in the market and no one criticized me .' So I went to Al-Bara bin Azib and asked him about that. He said: 'The Prophet came to us in Al-Madinah and we used to do this kind of transaction, but he said: Whatever is hand to hand, there is nothing wrong with it, but whatever is on credit, is Riba. Then he said to me: 'Go to Zaid bin Arqam.' So I went to him and asked him, and he said the same thing.
ابومنہال کہتے ہیں کہ شریک نے کچھ چاندی ادھار بیچی، پھر میرے پاس کر مجھے بتایا تو میں نے کہا: یہ درست نہیں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو اسے بازار میں بیچا ہے، لیکن کسی نے اسے غلط نہیں کہا، چنانچہ میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم اسی طرح سے بیچا کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”جب تک نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن ادھار ہو تو یہ سود ہے“، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، میں نے ان کے پاس جا کر معلوم کیا تو انہوں نے بھی اسی جیسا بتایا۔
Abu Al-Minhal said: I asked Al-Bara bin 'Azib and Zaid bin Arqam and they said: 'We were merchants at the time of the Messenger of Allah and we asked the Prophet of Allah about money exchange. He said: If it is done hand to hand there is nothing wrong with it, but if it is done on credit then it is not right.
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم دونوں تاجر تھے، ہم نے آپ سے بیع صرف ( اثمان کی خرید و فروخت ) کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھار ہو تو یہ صحیح نہیں“۔
Abu Al-Minhal said: I asked Al-Bara bin 'Azib about money exchange. He said: 'Ask Zaid bin Arqam, for he is better than me and more knowledgeable.' So I asked Zaid and he said: 'Ask Al-Bara for he is better than me and more knowledgeable.' And they both said: 'The Messenger of Allah forbade (selling) silver for gold on credit. '
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے بیع صرف کے بارے میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے معلوم کر لو، وہ مجھ سے بہتر ہیں اور زیادہ جاننے والے ہیں۔ چنانچہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: براء رضی اللہ عنہ سے معلوم کرو وہ مجھ سے بہتر ہیں اور زیادہ جاننے والے ہیں، تو ان دونوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے بدلے چاندی ادھار بیچنے سے روکا ہے“۔