باب: اپنی ملکیت اور قبضہ میں لینے سے پہلے غلہ بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever buys food, let him not sell it until he has taken possession of it. '
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلہ خریدا تو وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لے“ ۱؎۔
Reference : Sunan an-Nasa'i 4595
In-book reference : Book 44, Hadith 147
English translation : Vol. 5, Book 44, Hadith 4599
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4595
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع ۵۱ (۲۱۲۶)، ۵۴(۲۱۳۵)، ۵۵ (۲۱۳۶)، صحیح مسلم/البیوع ۸ (۱۵۲۶)، سنن ابی داود/البیوع ۶۷ (۳۴۹۲)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۳۷ (۲۲۲۶)، (تحفة الأشراف: ۸۳۲۷)، موطا امام مالک/البیوع ۱۹ (۴۰)، مسند احمد (۱/۵۶، ۶۲)، سنن الدارمی/البیوع ۲۵ (۲۶۰۲)
وضاحت: ۱؎ : خرید و فروخت میں شریعت اسلامیہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز کو خریدار جب تک بیچنے والے سے مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لے دوسرے سے نہ بیچے، اور یہ تحویل و تملک اور قبضہ ہر چیز پر اسی چیز کے حساب سے ہو گا، نیز اس سلسلے میں ہر علاقہ کے عرف (رسم رواج) کا اعتبار بھی ہو گا کہ وہاں کس چیز پر کیسے قبضہ مانا جاتا ہے، البتہ منقولہ چیزوں کے سلسلے میں شریعت نے ایک عام اصول برائے مکمل قبضہ یہ بتایا ہے کہ اس چیز کو بیچنے والے کی جگہ سے خریدار اپنی جگہ میں منتقل کر لے، یا ناپنے والی چیز کو ناپ لے اور تولنے والی چیز کو تول لے، اور اندازہ والی چیز کی جگہ بدل لے۔