TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5283 - باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی اور اس کے نقش کا بیان۔ - The book of adornment (minal mujtaba) - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 7 in this chapter
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی اور اس کے نقش کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ،‏‏‏‏ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَدِ اصْطَنَعْنَا خَاتَمًا،‏‏‏‏ وَنَقَشْنَا عَلَيْهِ نَقْشًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَنْقُشْ عَلَيْهِ أَحَدٌ .
It was narrated that Anas said: The Messenger of Allah [SAW] said: 'We have had a ring made with an inscription, and no one else should copy this inscription.'
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا ہے، لہٰذا اب کوئی ایسا نقش نہ کرائے“۔
5283
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 5281 In-book reference : Book 48, Hadith 242 English translation : Vol. 6, Book 48, Hadith 5283
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5281
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس ۱۲ (۲۰۹۲)، سنن ابن ماجہ/اللباس ۲۹ (۳۶۴۰)، (تحفة الٔاشراف: ۹۹۹)، مسند احمد (۳/۲۹۰)

Related Chapters

2,175
1
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: ”اپنی انگوٹھیوں پر عربی میں نقش نہ کراؤ“۔
Sunnan Nisai
2
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگوٹھی اور اس کا چاندی کے ہونے کا بیان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نقش کے بارے میں تنبیہ
Musnad Ahmad
3
(16)Chapter: What Has Been Related That When The Prophet Wanted To Relieve Himself, He Would Go Far Away
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
4
(37)Chapter: [What Has Been Related] About The Wudu Of he Prophet: How Was It Performed?
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا؟​
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Mentioned About Praising Allah And Sending Salat Upon The Prophet Before Supplicating
باب: دعا سے پہلے اللہ کی تعریف کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Prophet While Performed Tawaf Mudtabi'an
باب: احرام کی چادر کو داہنی بغل کے نیچے کر کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Prophet's(s.a.w) Saying: The Hour And I Have Been Dispatched Like These Two Meaning The Index And Middle Fingers
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (s.a.w) Saying: If You Knew What I Know Then You Would Laugh Little
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ جو مجھے معلوم ہے وہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے تو بہت کم ہنسو گے اور بہت زیادہ روؤ گے​
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Subsistence of the Prophet (s.a.w) And His Family
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی معاشی زندگی کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
11
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
12
(11) CHAPTER. The dislike of the Prophet that Al-Madina should be vacated.
مدینہ کا ویران کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار تھا
Sahih Bukhari
13
(5) CHAPTER. What has been said regarding the armour of the Prophet (p.b.u.h), his staff, sword, cup and ring.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ‘ عصاء مبارک ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار ‘ پیالہ اورانگوٹھی کا بیان
Sahih Bukhari
14
(19) CHAPTER. The death of the Prophet (p.b.u.h).
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان ۔
Sahih Bukhari
15
(54) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “None should have the same engraving made on his ring as the engraving on my ring.”
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ کوئی شخص اپنی انگوٹھی پرلفظ ” محمد رسول اللہ “ کا نقش نہ کھدوائے
Sahih Bukhari
16
Chapter: Clarifying the words of the prophet (saws): Insulting A Muslim is an evil action and fighting him is disbelief (Kufr)
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان ہے : ’’ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ‘‘
Sahih Muslim
17
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے فرمان : ’’میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جاناکہ ایک دوسر ے کی گردنین مارنے لگو ‘‘ کامفہوم
Sahih Muslim
18
Chapter: Regarding the saying of the Prophet (saws): I will be the first of the people to intercede concerning Paradise, and I will be the Prophet with the Greatest Number of Followers.
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان ہے :’’میں لوگوں میں سب سے پہلا ہوں جوجنت کے بارے میں سفارش کرے گا، اور سب انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے
Sahih Muslim
19
Chapter: The Intercession of the Prophet (saws) for Abu Talib and the reduction of his punishment as a result
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف
Sahih Muslim
20
دو رکعتیں جو نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے
Sahih Muslim
21
Chapter: Gifts are permissible for the Prophet (saws) and Banu Hashim and Banu Al-Muttalib, even if the giver acquired it by way of charity. When the receipient takes possession of Charity, it is no longer described as charity, and it is permissible for anyone for whom charity is otherwise unlawful
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ‘بنو ہاشم ‘اور بنو مطلب کے لیے تحفہ قبول کرنے کا جواز
Sahih Muslim
22
Chapter: The prophet (saws) accepted gifts but refused Charity
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ہدیہ قبول فرماتے اور صدقہ رد کر دیتے
Sahih Muslim
23
Chapter: The meaning of the Prophet's words: The two months of 'Id cannot both be incomplete
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے فرمان :’’عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے‘‘کا مفہوم
Sahih Muslim
24
Chapter: The Prophet's Fasts at times other than Ramadan; and it is recommended to ensure that no month is free of fasting
رمضان کے علاوہ (دوسرے مہینوں میں )نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے روزے ‘یہ مستحب ہے کہ کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہ رہے
Sahih Muslim
25
Chapter: The Prophet (saws) wrote to the Kings of the Kuffar, inviting them to Islam
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے کافروں کے باد شاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط لکھ بھیجے
Sahih Muslim
26
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) and his steadfastness in the face of the hypocrites' persecution
منافقوں کی اذیت رسانی پر نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی دعا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا صبر
Sahih Muslim
27
Chapter: The number of campaigns of the Prophet (saws)
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے غزوات کی تعداد
Sahih Muslim
28
Chapter: The Prophet (SAW) Wore A Ring Of Silver On Which Was Inscribed The Words Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah), And The Caliphs Wore It After He Died
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاندی کی انگوٹھی پہنا کرتے تھے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نقش تھا ،آپ کے بعد وہ انگوٹھی آپ کے خلفاء نے پہنی
Sahih Muslim
29
Chapter: The Miracles Of The Prophet (SAW)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس ہدایت اور علم کے سا تھ مبعوث کیا گیا اس کی مثال کا بیان:۔
Sahih Muslim
30
Chapter: The Prophet (SAW) Sweated When It Was Cold, And When The Revelation Came To Him
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات مبارکہ اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور تمام انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھا:۔
Sahih Muslim
31
Chapter: Description Of His Hair
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید تھا،چہرے پر ملاحت تھی:۔
Sahih Muslim
32
Chapter: The Virtues Of The Household Of The Prophet (SAW)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے فضائل:۔
Sahih Muslim
33
CHAPTER: The Places Where It Is Prohibited To Urinate.
باب: ان جگہوں کا بیان جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے سے روکا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: The Manner of The Prophet’s Wudu’..
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: The Times Of The Prophet’s (saws) Prayers And How He Used To Pray Them.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوقات نماز کا بیان اور آپ نماز کیسے پڑھتے تھے ؟
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: Sending Salat Upon The Prophet (saws) After The Tashah-hud.
باب: تشہد کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: The Time That The Prophet (saws) Would Pray At Night.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد پڑھنے کے وقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: The Description Of The Prophet’s (saws) Hajj.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا طریقہ ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: Whoever Said That A Sermon Is Delivered On The Day Of Sacrifice.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو خطبہ دیا اس قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
40
CCHAPTER: How The Prophet (saws) Would Fast.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کی کیفیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: How The Prophet (saws) Swore An Oath.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی ؟
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: The ruling regarding one who reviles the prophet (pbuh).
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: Regarding the woman of Juhainah whom the prophet (pbuh) ordered to be stoned.
باب: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Regarding forbearance and the character of the Prophet(pbuh).
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور تحمل و بردباری کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
45
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
46
تشہد اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) کے بعد کیا دعا پڑھے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
47
مرض الموت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
48
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
49
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
50
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

2,228
Sahih Muslim
448
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمَسْمَعِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ
Abdullah b. Qais transmitted on the authority of his father (Abu Musa Ash'ari) that the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There would be two gardens (in Paradise) the vessels and contents of which would be of silver, and two gardens whose vessels and contents would be of gold. The only thing intervening to hinder the people from looking at their Lord will be the mantle of Grandeur over His face in the Garden of Eden.
عبد اللہ بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’دو جنتیں چاندی کی ہیں ، ان کے برتن بھی اور جو کچھ ان میں ہے ( وہ بھی ۔ ) اور دو جنتیں سونے کی ہیں 8 ان کے برتن بھی اور جو کچھ ان میں ہے ۔ جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کی رؤیت کے درمیان اس کے چہرے پر عظمت و کبریائی کی جو چادر ہے اس چادر کے سوا کوئی چیز نہیں ہو گی ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
3489
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: «كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا»، قَالَتْ: «أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: «نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ
Abu Salama b. 'Abd al-Rahman reported: I asked 'A'isha, the wife of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): What is the amount of dower of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )? She said: It was twelve 'uqiyas and one nash. She said: Do you know what is al-nash? I said: No. She said: It is half of uqiya, and it amounts to five hundred dirhams, and that was the dower given by Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to his wives.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ، ( ام المومنین ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی بیویوں ) کا مہر کتنا ( ہوتا ) تھا؟ انہوں نے جواب دیا : اپنی بیویوں کے لیے آپ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نَش تھا ۔ ( پھر ) انہوں نے پوچھا : جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے عرض کی : نہیں ، انہوں نے کہا : آدھا اوقیہ ، یہ کل 500 درہم بنتے ہیں اور یہی اپنی بیویوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر تھا
Sahih Muslim
5989
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا، أَلَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ الْمُصْحِيَةِ، آنِيَةُ الْجَنَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهَا لَمْ يَظْمَأْ آخِرَ مَا عَلَيْهِ، يَشْخَبُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِنَ الْجَنَّةِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ، عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ، مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَى أَيْلَةَ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ»
Abu Dharr said: Allah's Messenger, what about the vessels of that Cistern? He said: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, the vessels would outnumber the stars in the sky and its planets shining on a dark cloudless night. These would be the vessels of Paradise. He who drinks out of it (the Cistern) would never feel thirsty. There would flow in it two spouts from Paradise and he who would drink out of it would not feel thirsty; and the distance between its (two corners) is that between 'Amman and Aila, and its water is whiter than milk and sweeter than honey.
عبد اللہ بن صامت نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : میں نے پو چھا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !حوض کے برتن کیسے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے!اس حوض کے برتن آسمان کے چھوٹے اور بڑے ( تمام ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ۔ یاد رکھو!جو اندھیری صاف مطلع کی رات میں ہو تے ہیں وہ جنت کے برتن ہیں کہ جوان سے ( شراب کو ثر ) پی لے گا وہ اپنے ذمے ( جنت میں جا نے کے دورانیے ) کے اخر تک کبھی پیا سا نہیں ہو گا ۔ اس میں جنت ( کی باران رحمت ) کے دو پر نالے آکر گرتے ہیں جو اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبا ئی کے برابر ہے جیسے عمان سے ایلہ تک ( کا فاصلہ ) ہے ۔ اس کا پا نی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ۔ "
Sahih Muslim
6013
وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، - وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ - قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ، قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَاللهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا؟ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ: لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا؟
Anas reported: When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to Medina, Abla Talha took hold of my hand and brought me to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger, Anas is a prudent young boy, and he will serve you. He (Anas) said: I served him in journey and at home, but, by Allah, he never asked me about a thing which I did as to why I did so, nor about a thing which I did not do as to why I had not done that.
ہمیں عبد العزیز نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لا ئے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! انس ایک سمجھدار لڑکا ہے ، اس لیے یہ آپ کی خدمت کرے گا ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر میں سفر اور حضر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا اللہ کی قسم! میں نے کو ئی کا م کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرما یا : تم نے یہ کا م اس طرح کیوں کیا؟اور میں نے کو ئی کام نہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فر ما یا : تم نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا ؟
Sunnan Nisai
2707
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ .
It was narrated that Anas Said: The Prophet forbade men to perfume themselves with saffron. (Shahih)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی ( حالت احرام میں ) زعفران لگا۔
Sunnan Nisai
4390
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ:‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَنَسٌ:‏‏‏‏ وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ.
It was narrated form Anas that: the Messenger of Allah used to sacrifice two rams. And Anas said: And I sacrifice two rams.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا تھا ۱؎۔
Sunnan Nisai
5258
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ .
It was narrated that Anas said: The Messenger of Allah [SAW] forbade men to use saffron.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفرانی رنگ لگانے سے منع فرمایا ہے۔
Jam e Tirmazi
3
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ،‏‏‏‏ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ:‏‏‏‏ هُوَ صَدُوقٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ وَالْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ
Ali narrated that : the Prophet, said: The key to Salat is the purification, its Tahrlm is the Takblr, and its Tahlil is the Taslim.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ہے، اور اس کا تحریمہ صرف «اللہ اکبر» کہنا ہے ۱؎ اور نماز میں جو چیزیں حرام تھیں وہ «السلام علیکم ورحمة اللہ» کہنے ہی سے حلال ہوتی ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے، ۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل صدوق ہیں ۳؎، بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ اور حمیدی: عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے حجت پکڑتے تھے، اور وہ مقارب الحدیث ۴؎ ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
228
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وأَبِي مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏والْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَخَالِدٌ الْحَذَّاءُ هُوَ خَالِدُ بْنُ مِهْرَانَ يُكْنَى أَبَا الْمُنَازِلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ يُقَالُ إِنَّ خَالِدًا الْحَذَّاءَ مَا حَذَا نَعْلًا قَطُّ إِنَّمَا كَانَ يَجْلِسُ إِلَى حَذَّاءٍ فَنُسِبَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَبُو مَعْشَرٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ.
Abdullah (Ibn Masud) narrated that : the Prophet said: Let those among you with understanding and reason be close to me, then those after them, then those after them. And do not separate or dissention will occur among your hearts, and beware of the commotion of the markets.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو صاحب فہم و ذکا اور سمجھدار ہوں ان کو مجھ سے قریب رہنا چاہیئے، پھر وہ جو ( عقل و دانش میں ) ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں، تم آگے پیچھے نہ ہونا کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے گی، اور اپنے آپ کو بازار کے شور و غوغا سے بچائے رکھنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب، ابومسعود، ابوسعید، براء، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ اس بات سے خوش ہوتے کہ مہاجرین اور انصار آپس میں قریب قریب رہیں تاکہ وہ آپ سے ( سیکھے ہوئے مسائل ) محفوظ رکھ سکیں۔