TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 622 - فوت شدہ نماز کی قضاء کیسے کی جائے ؟ - The book of the times (of prayer) - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 5 in this chapter
فوت شدہ نماز کی قضاء کیسے کی جائے ؟
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَسْرَيْنَا لَيْلَةً، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ، ‏‏‏‏‏‏نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَامَ وَنَامَ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ قَدْ طَلَعَتْ عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ حَدَّثَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ .
It was narrated from Buraid bin Abi Mariam that his father said: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, and we kept going one night, then when it was nearly morning the Messenger of Allah (ﷺ) dismounted and slept, and the people slept too. We did not wake up until the sun had risen. The Messenger of Allah (ﷺ) asked the Mu'adhdhin to call the Adhan, then he prayed the two Rak'ahs before Fajr, then he asked him to say the Iqamah, then he led the people in prayer. Then he told us about everything that will happen until the Hour begins.
ابومریم (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، تو ہم رات بھر چلتے رہے جب صبح ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور سو رہے، لوگ بھی سو گئے، تو سورج کی دھوپ پڑنے ہی پر آپ جاگے، تو آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی، پھر آپ نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے اقامت کہی، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر آپ نے قیامت قائم ہونے تک جو اہم چیزیں ہونے والی ہیں انہیں ہم سے بیان کیں۔
622
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 6, Hadith 622 Arabic reference : Book 6, Hadith 628
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 622
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۱۱۲۰۱) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ’’عطائ‘‘ آخری عمر میں مختلط ہو گئے تھے، اور ابوالا حوص نے ان سے اختلاط کی حالت میں روایت لی ہے)

Related Chapters

2,030
1
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
فوت شدہ کی طرف سے روزوں کی قضاء دینے کا بیان
Musnad Ahmad
3
Chapter: Making up a missed prayer. And it is recommended to hasten to make it up
فوت شدہ نماز کی قضا اور اس میں جلدی کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
4
فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
ساری فوت شدہ نمازوں کے لیے ایک اذان کے کافی ہونے اور ہر ایک کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
6
فوت شدہ نماز کی جماعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
7
تہجد کی نماز کیسے پڑھی جائے ؟
Sunnan Nisai
8
(97)Chapter: What Has Been Related About The Menstruating Woman: That She Does Not Make Up The Missed Salat
باب: حائضہ کے نماز قضاء نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
(108)Chapter: What Has Been Related About When Standing For The Prayer, And One Of You Finds That He Has To Relieve Himself, [Then Let Him Relieve Himself First].
باب: جب نماز کھڑی ہو جائے اور آدمی کو پاخانے کی حاجت ہو تو پہلے پاخانہ جائے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: Been Related About A Man Who Forgets A Salat
باب: آدمی نماز بھول جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Misses Multiple Prayers And Which Of Them He Begin With
باب: کئی وقت کی نماز چھوٹ جائے تو آدمی پہلے کون سی پڑھے؟
Jam e Tirmazi
12
Chapter: [What Has Been Related About] How To Get Up From The Prostration
باب: سجدے سے کیسے اٹھا جائے؟
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Salat On A Beast Whichever Direction It Is Facing
باب: سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا بیان جس طرف بھی وہ متوجہ ہو جائے
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About 'When Supper Is Present And The Iqamah Is Called For Salat Then Begin With Supper'
باب: شام کا کھانا حاضر ہو اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو
Jam e Tirmazi
15
Chapter: Regarding One Who Has Doubts Over Addition Or A Omission
باب: آدمی کو نماز پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک و شبہ ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About When A Boy Is Ordered To Perform Salat
باب: بچے کو نماز کا حکم کب دیا جائے گا؟
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About 'When The Iqamah Has Been Called For Salat Then There Is No Salat But The Obligatory'
باب: جب جماعت کھڑی ہو جائے تو فرض کے سوا کوئی نماز جائز نہیں ہے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About One Who Missed His Section At Night, So He Makes It Up During The Day
باب: جس آدمی سے رات کا وظیفہ چھوٹ جائے، وہ دن میں قضاء کر لے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Zakat On Acquired Wealth Until The Hawl Has Passed
باب: حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Woman Who Menstruated Makes Up The Fasts But Not The Salat
باب: حائضہ عورت روزہ کی قضاء کرے گی نماز کی نہیں
Jam e Tirmazi
21
Chapter: (What Has Been Related About) The Manner Of Stoning The Jimar
باب: جمرات کی رمی کیسے کی جائے؟
Jam e Tirmazi
22
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
24
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
Musnad Ahmad
25
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
Musnad Ahmad
26
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
Musnad Ahmad
27
اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے
Musnad Ahmad
28
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
Musnad Ahmad
29
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
30
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
Musnad Ahmad
31
نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
Musnad Ahmad
32
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
Musnad Ahmad
33
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
34
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
35
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
Musnad Ahmad
36
محصر کو حل و حرم کے جس مقام پر بھی روک دیا جائے گا، وہ قربانی اور پھر حلق کر کے عمرہ سے حلال ہو جائے گا اور اس پر کوئی قضاء نہیں ہو گی
Musnad Ahmad
37
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
Musnad Ahmad
39
شریعت میں کہانت کے حکم اور اس کے مصدر کا بیان، نیز بعض امور میں کاہن کی کیسے تصدیق کی جائے گی؟
Musnad Ahmad
40
جب کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت ہو تو کھانا پہلے کھانا
Musnad Ahmad
41
اگر کوئی چیز پسند آ جائے تو کیا کہنا چاہیے، نیز نظر زدہ آدمی کا علاج کیسے کیا جائے
Musnad Ahmad
42
اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے
Musnad Ahmad
43
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
44
(69) CHAPTER. If a dead body or a polluted thing is put on the back of a person offering Salat (prayer), his Salat will not be annulled (rejected by Allah).
جب نمازی کی پشت پر ( اچانک ) کوئی نجاست یا مردار ڈال دیا جائے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی
Sahih Bukhari
45
(20) CHAPTER. There is no Salat (prayer) to be offered by a menstruating woman in lieu of the missed Salat during her menses.
اس بارے میں کہ حائضہ عورت نماز قضاء نہ کرے
Sahih Bukhari
46
(45) CHAPTER. If someone enters a house, should he offer prayers where he likes, or as he is told? And he should not look out to seek information about the place or do spying.
اس بارے میں کہ جب کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو کیا جس جگہ وہ چاہے وہاں نماز پڑھ لے یا جہاں اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا جائے ( وہاں پڑھے ) اور فالتو سوال و جواب نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
47
(46) CHAPTER. About (taking) the mosques in the houses.
اس بیان میں ( کہ بوقت ضرورت ) گھروں میں جائے نماز ( مقرر کر لینا جائز ہے )
Sahih Bukhari
48
(66) CHAPTER. While passing through a mosque, (one should better) hold the arrowheads (with the hand).
جب کوئی مسجد میں جائے تو اپنے تیر کے پھل کو تھامے رکھے تاکہ کسی نمازی کو تکلیف نہ ہو
Sahih Bukhari
49
(33) CHAPTER. To offer the missed Salat (prayers) and the like after the Asr prayer.
عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا
Sahih Bukhari
50
(36) CHAPTER. Whoever led the people in Salat (prayer) after its time was over.
اس کے بارے میں جس نے وقت نکل جانے کے بعد قضاء نماز لوگوں کے ساتھ جماعت سے پڑھی
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

455
Sunnan Ibn e Maja
4174
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ،‏‏‏‏ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ:‏‏‏‏ الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي،‏‏‏‏ وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي،‏‏‏‏ مَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي جَهَنَّمَ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah, the Glorified, says: ‘Pride is My cloak and greatness My robe, and whoever competes with Me with regard to either of them, I shall throw him into Hell.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بڑائی ( کبریائی ) میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند، جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑے، ( یعنی ان میں سے کسی ایک کا بھی دعویٰ کرے ) میں اس کو جہنم میں ڈال دوں گا ۔
Sunnan Nisai
1844
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا حُضِرَتْ بِنْتٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَغِيرَةٌ،‏‏‏‏ فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهَا إِلَى صَدْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَقَضَتْ وَهِيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا أُمَّ أَيْمَنَ أَتَبْكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَكِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا لِي لَا أَبْكِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَسْتُ أَبْكِي وَلَكِنَّهَا رَحْمَةٌ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said: When a young daughter of the Messenger of Allah was dying, the Messenger of Allah picked her up and held her to his chest, then he put his hand on her, and she died in front of the Messenger of Allah. Umm Ayman wept and the Messenger of Allah said 'Oh Umm Ayman, do you weep while the Messenger of Allah is with you?' She said: 'Why shouldn't I weep when the Messenger of Allah is weeping. So the Messenger of Allah said Verily, I am not weeping. Rather it is compassion.' Then the Messenger of Allah said: 'The believer is fine whatever the situation; even when his soul is being pulled from his body and he praises Allah, the Mighty and Sublime '
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چھوٹی بچی کے مرنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اپنی گود میں ) لے کر اپنے سینے سے چمٹا لیا، پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھا، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی مر گئی، ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ام ایمن! تم رو رہی ہو جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس موجود ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( خود ) رو رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں رو نہیں رہا ہوں، البتہ یہ اللہ کی رحمت ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ہر حال میں اچھا ہے، اس کی دونوں پسلیوں کے بیچ سے اس کی جان نکالی جاتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا رہتا ہے ۔
Sunnan Nisai
4373
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ شَهِدْتُ أَضْحًى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ رَأَى غَنَمًا قَدْ ذُبِحَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيَذْبَحْ شَاةً مَكَانَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
It was narrated that Jundub bin Sufyan said: I attended (the day of) sacrifice with the Messenger of Allah He led the people 9in prayer, then when he finished praying he saw some sheep that had been sacrificed. He said 'Whoever slaughtered (his sacrifice) before the prayer. Let him slaughtered (his sacrifice) before the prayer, let him slaughter a sheep in its place, and whoever has not slaughtered, let him offer a sacrifice in the name of Allah, the Mighty and Sublime. '
جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحی میں تھا، آپ نے لوگوں کو نماز عید پڑھائی، جب نماز مکمل کر لی تو آپ نے دیکھا کہ کچھ بکریاں ( نماز سے پہلے ہی ) ذبح کر دی گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز عید سے پہلے جس نے ذبح کیا ہے اسے چاہیئے کہ وہ اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ہے تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے“ ۱؎۔
Jam e Tirmazi
184
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ فَشَغَلَهُ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ يَعُدْ لَهُمَا ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأُمِّ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ وَمَيْمُونَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا خِلَافُ مَا رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏حَيْثُ قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَعُدْ لَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوُ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذَا الْبَابِ رِوَايَاتٌ، ‏‏‏‏‏‏رُوِيَ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَخَلَ عَلَيْهَا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي اجْتَمَعَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى كَرَاهِيَةِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا مَا اسْتُثْنِيَ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلُ الصَّلَاةِ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ بَعْدَ الطَّوَافِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةٌ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ بِهِ:‏‏‏‏ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمُ الصَّلَاةَ بِمَكَّةَ أَيْضًا بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَبَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
Ibn Abbas narrated: The Prophet only performed the two rak'ah (units of prayer) after Asr because some wealth came to him which distracted him from the two rak'ah after Zuhr, so he prayed them after Asr, then he did not repeat that.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، اس لیے کہ آپ کے پاس کچھ مال آیا تھا، جس کی وجہ سے آپ کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتیں پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا تو آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھا پھر آپ نے انہیں دوبارہ نہیں پڑھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ام سلمہ، میمونہ اور ابوموسیٰ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- دیگر کئی لوگوں نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے عصر بعد دو رکعتیں پڑھیں یہ اس چیز کے خلاف ہے جو آپ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، ۴- ابن عباس والی حدیث جس میں ہے کہ آپ نے دوبارہ ایسا نہیں کیا، سب سے زیادہ صحیح ہے، ۵- زید بن ثابت سے بھی ابن عباس ہی کی حدیث کی طرح مروی ہے، ۶- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی کئی حدیثیں مروی ہیں، نیز ان سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب بھی ان کے یہاں عصر کے بعد آتے دو رکعتیں پڑھتے، ۷- نیز انہوں نے ام سلمہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعد جب تک نکل نہ آئے نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔ ۸- اکثر اہل علم کا اتفاق بھی اسی پر ہے کہ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعد جب تک نکل نہ آئے نماز پڑھنا مکروہ ہے سوائے ان نمازوں کے جو اس سے مستثنیٰ ہیں مثلاً مکہ میں عصر کے بعد طواف کی دونوں رکعتیں پڑھنا یہاں تک سورج ڈوب جائے اور فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اس سلسلے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے رخصت مروی ہے، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے یہی کہا ہے۔ اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم نے عصر اور فجر کے بعد مکہ میں بھی نماز پڑھنے کو مکروہ جانا ہے، سفیان ثوری، مالک بن انس اور بعض اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔
Jam e Tirmazi
1855
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: (All of you) worship Ar-Rahman, feed others, spread the (greeting of) Salam, then you will enter Paradise in security. He said: This Hadith is Hasan Sahih.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحمن کی عبادت کرو، کھانا کھلاؤ اور سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
2491
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فِي حُلَّةٍ لَهُ يَخْتَالُ فِيهَا فَأَمَرَ اللَّهُ الْأَرْضَ فَأَخَذَتْهُ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ يَتَلَجْلَجُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: A man among those before you went out arrogantly in a Hullah of his. So Allah ordered the earth to take him. He remains sinking[into it] - or he said - He will remain sinking into it until the Day of Judgement.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے اگلی امتوں میں سے ایک شخص ایک جوڑا پہن کر اس میں اتراتا ہوا نکلا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا اور زمین نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا، پس وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جا رہا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
2988
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِلشَّيْطَانِ لَمَّةً بِابْنِ آدَمَ وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانِ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالْحَقِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا لَمَّةُ الْمَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَعْلَمْ أَنَّهُ مِنَ اللَّهِ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ وَجَدَ الْأُخْرَى فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ سورة البقرة آية 268 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثُ أَبِي الْأَحْوَصِ لَا نَعْلَمُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ.
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed the Shaitan has an effect on the son of Adam, and the angel also has en effect. As for the Shaitan, it is by threatening evil repercussions and rejecting the truth. As for the effect of the angel, it is by his promise of a good end and believing in the truth. Whoever finds that, let him know that it is from Allah, and let him praise Allah for it. Whoever finds the other then let him seek refuge with Allah from the Shaitan (the outcast) then recite: Shaitan threatens you with poverty and orders you to commit Fahisha (2:268).
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی پر شیطان کا اثر ( وسوسہ ) ہوتا ہے اور فرشتے کا بھی اثر ( الہام ) ہوتا ہے۔ شیطان کا اثر یہ ہے کہ انسان سے برائی کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کو جھٹلاتا ہے۔ اور فرشتے کا اثر یہ ہے کہ وہ خیر کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کی تصدیق کرتا ہے۔ تو جو شخص یہ پائے ۱؎ اس پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جو دوسرا اثر پائے یعنی شیطان کا تو شیطان سے اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ پھر آپ نے آیت «الشيطان يعدكم الفقر ويأمركم بالفحشاء» ۲؎ پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوالاحوص کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ابوالاحوص کی روایت سے جانتے ہیں۔
Sahih Muslim
358
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو عَاصِمٍ الْحَنَفِيُّ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَلَكَ يَمِينُهُ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: «لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ»، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: «أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ»
It is narrated on the authority of Wa'il that there came a person from Hadramaut and another one from Kinda to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). One who had come from Hadramaut said: Messenger of Allah, only this man has appropriated my land which belonged to my father. The one who had came from Kinda contended. This is my land and is in my possession: I cultivate it. There is no right for him in it. The Messenger of Allah said to the Hadramite: Have you any evidence (to support you)? He replied in the negative. He (the Messenger of Allah) said: Then your case is to be decided on his oath. He (the Hadramite) said: Messenger of Allah, he is a liar and cares not what he swears and has no regard for anything. Upon this he (the Messenger of Allah) remarked: For you then there is no other help to it. He (the man from Kinda) set out to take an oath. When he turned his back the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: If he took an oath on his property with a view to usurping it, he would certainly meet his Lord in a state that He would turn away from him.
سماک نے علقمہ بن وائل سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی حضر موت سے اور ایک کندہ سے نبی ﷺ کے پاس آیا ۔ حضرمی ( حضر موت کے باشندے ) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ میری زمین پر قبضہ کیے بیٹھا ہے جومیرے باپ کی تھی ۔ اور کندی نے کہا : یہ میری زمین ہے ، میرے قبضے میں ہے ، میں اسے کاشت کرتا ہوں ، اس کا اس ( زمین ) میں کوئی حق نہیں ۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے حضرمی سے کہا : ’’کیا تمہاری کوئی دلیل ( گواہی وغیرہ ) ہے ؟ ‘ ‘ اس نے کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ پھر تمہارے لیے اس کی قسم ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بلاشبہ یہ آدمی بدکردار ہے ، اسے کوئی پرواہ نہیں کہ کس چیز پر قسم کھاتا ہے او ریہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا ۔ آپ نے فرمایا : ’’تمہیں اس سے اس ( قسم ) کے سوا کچھ نہیں مل سکتا ۔ ‘ ‘ وہ قسم کھانے چلا اور جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بات یہ ہے کہ اگر اس نے ظلم اور زیادتی سے اس شخص کا مال کھانے کے لیے قسم کھائی تو بلاشبہ یہ شخص اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ نے اس سے اپنا رخ پھیر لیا ہو گا ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
529
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، مَا الْمُسْلِمُونَ فِي الْكُفَّارِ إِلَّا كَشَعْرَةٍ بَيْضَاءَ فِي ثَوْرٍ أَسْوَدَ، أَوْ كَشَعْرَةٍ سَوْدَاءَ فِي ثَوْرٍ أَبْيَضَ»
Abdullah b. Mas'ud reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) addressing us said: Aren't you pleased that you should constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise? He (the narrator) said: We glorified (our Lord, i. e. we called aloud Allah-o Akbar, Allah is the Greatest). He, then, again said: Aren't you pleased that you should constitute one-third of the inhabitants of Paradise? He (the narrator) said: We glorified (our Lord) and he (the Holy Prophet) then again said: I hope that you would constitute half of the inhabitants of Paradise and I shall explain to you its (reason). The believers among the unbelievers would not be more than a white hair on (the body of a) black ox or a black hair on (the body of a) white ox.
ابو احوص نے ابو اسحاق سے حدیث سنائی ، انہوں نےعمرو بن میمون سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نےہم سے فرمایا : ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نے ( خوشی ) اللہ اکبر کہا ، پھر آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم اس پر راضی نہ ہوگے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ کہا کہ ہم نے ( دوبارہ ) نعرہ تکبیر بلند کیا ، پھر آپ نے فرمایا : ’’میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت کانصف ہو گے اور ( یہ کیسے ہو گا؟ ) میں اس کے بارے میں ابھی بتاؤں گا ۔ کافروں ( کے مقابلے ) میں مسلمان اس سے زیادہ نہیں جتنے سیاہ رنگ کے بیل میں ایک سفید بال یا سفید رنگ کے بیل میں ایک