عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہتی ہیں كہ سب سے پہلے دو دو ركعت نماز فرض ہوئی ،جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے تشریف لائے تو ہر نماز میں اسی کی مثل اضافہ کردیا سوائے مغرب کی نماز کے کہ وہ دن کی نماز کو وتر بناتی ہے اور فجر کے کہ اس میں لمبی قرأت کی جاتی ہے۔ كیونكہ مغرب دن كی وتر نماز ہے اور صبح كی نماز لمبی قرأت سے پڑھی اور جب آپ سفر میں جاتے تو پہلے كی طرح (دو دو ركعت) نماز پڑھتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2814)مشكل الآثار للطحاوي رقم (3613) .
عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ وَأَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ.
عبداللہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلی چیز جس كا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہوگی ، اور سب سے پہلا معاملہ جس كا فیصلہ كیا جائے گا وہ خون(قتل ) ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (1748) الصحيحة رقم (1748) سنن النسائي كِتَاب تَحْرِيمِ الدَّمِ باب تَعْظِيمُ الدَّمِ رقم (3926) .
انسرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ قیامت كے دن بندے كا سب سے پہلا حساب نماز كے بارے میں لیا جائے گا۔ اگر وہ درست رہی تو اس كے سارے عمل درست رہیں گے، اور اگر وہ خراب رہی تو اس كے سارے عمل خراب رہیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1358) المعجم الأوسط للطبراني رقم (1929) .
ابو حازم سے مروی ہے كہتے ہیں كہ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ اپنی قوم كے نوجوانوں كو نماز پڑھانے كے لئے آگے كرتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا:آپ یہ كام كرتے ہیں حالانكہ آپ بزرگی كے حامل ہیں؟ انہوں نے كہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے، امام ضامن ہوتا ہے، اگر وہ درست نماز پڑھائے تو اس كے لئے بھی اجر ہے اور مقتدیوں كے لئے بھی اور اگر وہ غلط نماز پڑھائے تو اس پر گناہ ہے اور مقتدیوں كے لئے اجر ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1767) سنن ابن ماجه كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا بَاب مَا يَجِبُ عَلَى الْإِمَامِ رقم (971) .
عن رَجلٍ مِنْ أَصحَابِ مُحَمَدٍ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: تَطَوَّعُ الرَّجُلِ في بَيْتِه يَزيدُ عَلَى تَطَوُّعِه عنْدَ النَّاسِ، كَفَضْلِ صَلَاةِ الرَّجُلِ في جَمَاعَةٍ عَلَي صَلَاتِه وَحْدَهُ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ایك صحابی سے مروی ہے كہ آدمی اپنے گھرمیں نفل نماز پڑھے تو یہ لوگوں كے پاس نفل نماز پڑھنے اسی قدر سے افضل ہے، جس طرح آدمی كی جماعت سے نماز اس كے اكیلے نماز پڑھنے سے افضل ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3149) مصنف ابن أبي شيبة مصنف عبدالرزاق .
عن أبي ذَر عن النَّبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: تُعَاد الصّلاةُ مِنْ مَّمَرِّ الْحِمَارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْكَلْبِ الْأَسْوَد، قُلْتُ(عبدالله بن صامت):ما بَالُ الْأَسْوَدِ مِنْ كَلبِ الْأَصْفَر مِنْ كَلْبِ الْأَحْمَر؟ فَقَال: سَألتُ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كَمَـا سَأَلتَـنِي، فَقَـال:
الْكَلبُ الْأَسْوَد شَيْطَانٌ
ابو ذررضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان كرتے ہیں كہ گدھے، عورت اور سیاہ كتے كے گزرنے كی وجہ سے نماز دہرائی جائیگی۔ عبداللہ بن صامت نے كہا: كالے كتے كا، زرد اور سرخ كتے سے فرق كیوں ہے؟ تو انہوں نے كہا میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سوال كیا تھا جس طرح تم نے مجھ سے كیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كالا كتا شیطان ہوتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3323) صحيح ابن حبان رقم (2432) صحيح ابن خزيمة رقم (802) .
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمِيعِ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت كی نماز، اكیلے شخص كی نماز سے پچیس گناافضل ہے، اور رات اور دن كے فرشتے فجر كی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3618) صحيح البخاري كِتَاب الْأَذَانِ بَاب فَضْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي جَمَاعَةٍ رقم (612) .
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَعْنِي إِتْماَمُ الْمُسَافِر إِذاَ اقْتَدَى بِالْمُقِيْمِ، وَإِلَّا فَالْقَصْر .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم كی سنت ہے، یعنی مسافر جب مقیم كے پیچھے نماز پڑھے تو پوری نماز پڑھے وگرنہ قصر كرے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ: عِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَشُهُودُ الْجنَازَةِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللهَ -عَزَّ وَجَلَّ
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان كرتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہر مسلمان پر لازم ہیں۔مریض كی عیادت كرنا، جنازے میں حاضر ہونا، چھینكنے والا جب الحمدللہ كہے تو اسے جواب میں ‘‘یَرْحَمُکَ اللہُ کہنا۔
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص اللہ كی ضمانت میں ہیں، وہ شخص جو اللہ كی مساجدمیں سے كسی مسجد كی طرف نكلا ، اور وہ شخص جو اللہ كے راستے میں جہاد كے لئے نكلا اور وہ شخص جو حج كرنے كے لئے نكلا۔
انس بن مالكرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ : تین شخص ایسے ہیں جن كی نماز قبول نہیں ہوتی، اور نہ ہی وہ آسمان كی طرف بلند ہوتی ہے، نہ ان كے سر سے اوپر جاتی ہے۔ وہ شخص جو كسی قوم كی امامت كرواتا ہے جبكہ لوگ اسے ناپسند كرتے ہوں۔ وہ شخص جس نے جنازے كی نماز پڑھائی حالانكہ اسے كہا نہیں گیا، اور وہ عورت جسے رات كے وقت اس كے شوہر نے بلایا لیكن اس نے انكار كر دیا۔
عَنْ مُحَمَد بن إِسْمَاعِيل قال: قيْل لَعَبْد الله بن أبي حَبِيبَة: هَل أَدْرَكت من رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال: جَاءَنَــــا رَسُولُ الله في مَسْجِدِنَا بِــ(قُـبَـاء) فَجِئْـتُ وَأَنَـا غُلَامٌ (حَدَثٌ) حَتَّى جَلَسْتُ عَنْ يَمِينِه (وجَلَسَ أَبُو بَكَر عَنْ يَسَارِه) ثُمَّ دَعَا بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَعْطَانِيه وَأَنَا عَن يَمِينه فَشَرِبتُ منه ثُم قَامَ يُصَلِّي فَرَأَيْتُه يُصَلِّي في نَعْلَيْه
محمدبن اسماعیل سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ عبداللہ بن ابی حبیبہرضی اللہ عنہ سے كہا گیا كہ كیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے كوئی چیز حاصل كی ہے؟ انہوں نے كہا: رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (قباء) میں ہماری مسجد میں آئے، میں ابھی نوجوان ہی تھا۔ میں آپ كے دائیں طرف بیٹھ گیا،( اور ابو بكررضی اللہ عنہ آپ كے بائیں جانب بیٹھ گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروب منگوایا اور اس میں سے پیا، پھر مجھے دے دیا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے دائیں طرف تھا۔میں نے اس میں سے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم كھڑے ہو كر نماز پڑھنے لگے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو دیكھا كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ رہے تھے۔(612) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوْعاً: جُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ .
Takhreej
الصحيحة رقم (1809) سنن النسائي كِتَاب عِشْرَةِ النِّسَاءِ بَاب حُبِّ النِّسَاءِ رقم (3878 ) .