TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2523 - باب: جنت کے درختوں کا بیان - Chapters on the description of paradise - Jam e Tirmazi in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 3 in this chapter
باب: جنت کے درختوں کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن أَنَسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Verily, in Paradise there is a tree, a rider will travel in it's shade for a hundred years.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے درخت ہیں کہ سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے ( پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو گا“ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
2523
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 12, Hadith 2523 Arabic reference : Book 38, Hadith 2714
صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2525
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنة ۱ (۲۷۲۶) (تحفة الأشراف : ۱۴۳۱۴)

Related Chapters

122
1
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
2
Chapter: What Has Been Mentioned About 'The Gates Of Paradise Are Under The Shadows Of The Swords;
باب: جنت کے دروازے تلواروں کی چھاؤں میں ہیں
Jam e Tirmazi
3
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About 'The World Is A Prison For The Believer And A Paradise For The Disbeliever
باب: دنیا مومن کے لیے قید خانہ (جیل) اور کافر کے لیے جنت (باغ و بہار) ہے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About 'The Poor Among The Muhajirin Will Enter Paradise Before The Rich Among Them'
باب: مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پہلے جائیں گے
Jam e Tirmazi
6
باب: ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے
Jam e Tirmazi
7
باب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
8
باب: جنت کے کمروں کا بیان
Jam e Tirmazi
9
باب: جنت کے درجات و مراتب کا بیان
Jam e Tirmazi
10
باب: جنتیوں کی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
11
باب: جنتیوں کے جماع کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: جنتیوں کے اوصاف کا بیان
Jam e Tirmazi
13
باب: جنتیوں کے لباس کا بیان
Jam e Tirmazi
14
باب: جنت کے پھلوں کا بیان
Jam e Tirmazi
15
باب: جنت کی چڑیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
16
باب: جنت کے گھوڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
17
باب: جنتیوں کی عمر کا بیان
Jam e Tirmazi
18
باب: جنتیوں کی صف کا بیان
Jam e Tirmazi
19
باب: جنت کے دروازوں کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: جنت کے بازار کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: جنت میں رب تبارک و تعالیٰ کے دیدار کا بیان
Jam e Tirmazi
22
باب: کمروں اور محلات میں جنتیوں کا ایک دوسرے کو نظر آنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
باب: جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے
Jam e Tirmazi
24
باب: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے
Jam e Tirmazi
25
باب: جنت اور جہنم کے درمیان مناظرے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
باب: ادنیٰ درجہ کے جنتی کے اعزاز و اکرام کا بیان
Jam e Tirmazi
27
باب: جنت کی نہروں کا بیان
Jam e Tirmazi
28
بَاب صفةالجنة وَأَهْلهَا
جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان
Mishkat
29
بَاب خلق الْجنَّة وَالنَّار
جنت اور دوزخ کی تخلیق کا بیان
Mishkat
30
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
Musnad Ahmad
31
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
قرض کی وجہ سے میت کے نفس کو جنت سے روک لینے کا بیان
Musnad Ahmad
33
عورتوں اور ان کو جنت میں داخل کرنے والے اعمال کا بیان
Musnad Ahmad
34
اس چیز کا بیان کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ اب موجود ہیں
Musnad Ahmad
35
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
36
قیامت، جنت اور جہنم کے تذکرہ پر مشتمل ایک خطبہ
Musnad Ahmad
37
حلال وحرام کے بیان، اہل جنت واہلِ جہنم کی صفات، اور بخل وکذب کے بیان پر مشتمل ایک خطبہ
Musnad Ahmad
38
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
Musnad Ahmad
39
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
Musnad Ahmad
40
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
Musnad Ahmad
41
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
Musnad Ahmad
42
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
Musnad Ahmad
43
جنت اور جہنم کا تکرار
Musnad Ahmad
44
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
Musnad Ahmad
45
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
Musnad Ahmad
46
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
Musnad Ahmad
47
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
48
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
Musnad Ahmad
49
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
Musnad Ahmad
50
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

669
Sunnan Abu Dawood
1548
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ:‏‏‏‏ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ .
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم used to say: O Allah, I seek refuge in Thee from four things: Knowledge which does not profit, a heart which is not submissive, a soul which has an insatiable appetite, and a supplication which is not heard.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الأربع: من علم لا ينفع، ومن قلب لا يخشع، ومن نفس لا تشبع، ومن دعا لا يسمع» اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے جو تجھ سے خوف زدہ نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے یعنی قبول نہ ہو ۔
Sunnan Abu Dawood
4856
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ .
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If anyone sits at a place where he does not remember Allah, deprivation will descend on him from Allah; and if he lies at a place where he does not remember Allah, deprivation will descend on him from Allah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے، تو یہ بیٹھک اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہو گی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعث حسرت و نقصان ہو گا ۔
Jam e Tirmazi
157
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،‏‏‏‏ وَأَبِى سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَالْمُغِيرَةِ،‏‏‏‏ وَالْقَاسِمِ بْنِ صَفْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي مُوسَى،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا وَلَا يَصِحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ تَأْخِيرَ صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْإِبْرَادُ بِصَلَاةِ الظُّهْرِ إِذَا كَانَ مَسْجِدًا يَنْتَابُ أَهْلُهُ مِنَ الْبُعْدِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا الْمُصَلِّي وَحْدَهُ وَالَّذِي يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَالَّذِي أُحِبُّ لَهُ أَنْ لَا يُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَمَعْنَى مَنْ ذَهَبَ إِلَى تَأْخِيرِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ هُوَ أَوْلَى وَأَشْبَهُ بِالِاتِّبَاعِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الرُّخْصَةَ لِمَنْ يَنْتَابُ مِنَ الْبُعْدِ وَالْمَشَقَّةِ عَلَى النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ مَا يَدُلُّ عَلَى خِلَافِ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو ذَرٍّ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِصَلَاةِ الظُّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا بِلَالُ أَبْرِدْ ،‏‏‏‏ ثُمَّ أَبْرِدْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَوْ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ لَمْ يَكُنْ لِلْإِبْرَادِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ مَعْنًى لِاجْتِمَاعِهِمْ فِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانُوا لَا يَحْتَاجُونَ أَنْ يَنْتَابُوا مِنَ الْبُعْدِ.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: In very hot weather, delay the (Zuhr) prayer until it becomes (a bit) cooler, because the severity of heat is from the raging of the Hell.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈا ہونے پر پڑھو ۱؎ کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، ابوذر، ابن عمر، مغیرہ، اور قاسم بن صفوان کے باپ ابوموسیٰ، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس سلسلے میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، ۴- اہل علم میں کچھ لوگوں نے سخت گرمی میں ظہر تاخیر سے پڑھنے کو پسند کیا ہے۔ یہی ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: ظہر ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی بات اس وقت کی ہے جب مسجد والے دور سے آتے ہوں، رہا اکیلے نماز پڑھنے والا اور وہ شخص جو اپنے ہی لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو میں اس کے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ وہ سخت گرمی میں بھی نماز کو دیر سے نہ پڑھے، ۵- جو لوگ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنے کی طرف گئے ہیں ان کا مذہب زیادہ بہتر اور اتباع کے زیادہ لائق ہے، رہی وہ بات جس کی طرف شافعی کا رجحان ہے کہ یہ رخصت اس کے لیے ہے جو دور سے آتا ہوتا کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو تو ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جو امام شافعی کے قول کے خلاف ہیں۔ ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے، بلال رضی اللہ عنہ نے نماز ظہر کے لیے اذان دی، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! ٹھنڈا ہو جانے دو، ٹھنڈا ہو جانے دو“ ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے ) ، اب اگر بات ایسی ہوتی جس کی طرف شافعی گئے ہیں، تو اس وقت ٹھنڈا کرنے کا کوئی مطلب نہ ہوتا، اس لیے کہ سفر میں سب لوگ اکٹھا تھے، انہیں دور سے آنے کی ضرورت نہ تھی۔
Jam e Tirmazi
339
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ مُشْتَمِلًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ أَبِي أَسِيدٍ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَكَيْسَانَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ هَانِئٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ،‏‏‏‏ وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِهِمْ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبَيْنِ.
Umar bin Abi Salamah narrated that he saw : Allah's Messenger performing Salat in the house of Umm Salamah wrapped in one garment.
عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا، کہ آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر بن ابی سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، جابر، سلمہ بن الاکوع، انس، عمرو بن ابی اسید، عبادہ بن صامت، ابو سعید خدری، کیسان، ابن عباس، عائشہ، ام ہانی، عمار بن یاسر، طلق بن علی، اور عبادہ بن صامت انصاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین وغیرہم سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ آدمی دو کپڑوں میں نماز پڑھے۔
Jam e Tirmazi
386
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ شَرِيكٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
Ka'b bun Ujrah narrated that: Allah's Messenger (S) said: When one of you performs Wudu and does so well, then he leaves intending to go to the Masjid, then let him not intertwine his fingers, for indeed he is in Salat.
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور پھر مسجد کے ارادے سے نکلے تو وہ «تشبیک» نہ کرے ( یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست نہ کرے ) کیونکہ وہ نماز میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- کعب بن عجرہ کی حدیث کو ابن عجلان سے کئی لوگوں نے لیث والی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۲- اور شریک نے بطریق: «محمد بن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے اور شریک کی روایت غیر محفوظ ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
661
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً تَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فُلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، ‏‏‏‏‏‏وَحَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: None gives charity from Tayyib - and Allah does not accept but Tayyib - but that Ar-Rahman accepts it with His Right (Hand). Even if it is a date, it is nurtured in the Hand of Ar-Rahman until it is greater than a mountain, just as one of you nurtures his foal or young camel.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھی کسی پاکیزہ چیز کا صدقہ کیا اور اللہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے ۱؎ تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۲؎ اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو، یہ مال صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بڑا ہو جاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے ایک اپنے گھوڑے کے بچے یا گائے کے بچے کو پالتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ، عدی بن حاتم، انس، عبداللہ بن ابی اوفی، حارثہ بن وہب، عبدالرحمٰن بن عوف اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1194
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏تَذَاكَرُوا الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا الْحَامِلَ تَضَعُ عِنْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ تَعْتَدُّ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ:‏‏‏‏ بَلْ تَحِلُّ حِينَ تَضَعُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ قَدْ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِيَسِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Sulaiman bin Yasir narrated that : Abu Hurairah, Ibn Abbas and Abu Salamah bin Abdur-Rahman mentioned the pregnant women whose husband died and she gave birth after the death of her husband. So Ibn Abbas said: She observes Iddah until the end of the two terms. Abu Salamah said: Rather, she is allowed when she gives birth. Abu Hurairah said: I am with my nephew, meaning Abu Salamah.So he sent a message to Umm Salamah the wife of the Prophet. She said: Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth a short time after her husband died, so she sought the judgment of the Messenger of Allah and he ordered her to get married.
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی الله عنہم نے آپس میں اس حاملہ عورت کا ذکر کیا جس کا شوہر فوت ہو چکا ہو اور اس نے شوہر کی وفات کے بعد بچہ جنا ہو، ابن عباس رضی الله عنہما کا کہنا تھا کہ وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو مدت بعد میں پوری ہو گی اس کے مطابق وہ عدت گزارے گی، اور ابوسلمہ کا کہنا تھا کہ جب اس نے بچہ جن دیا تو اس کی عدت پوری ہو گئی، اس پر ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر ان لوگوں نے ( ایک شخص کو ) ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس ( مسئلہ معلوم کرنے کے لیے ) بھیجا، تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ نے اپنے شوہر کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد بچہ جنا۔ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( شادی کے سلسلے میں ) مسئلہ پوچھا تو آپ نے اسے ( دم نفاس ختم ہوتے ہی ) شادی کرنے کی اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1262
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّمَا امْرِئٍ أَفْلَسَ، ‏‏‏‏‏‏وَوَجَدَ رَجُلٌ سِلْعَتَهُ عِنْدَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَوْلَى بِهَا مِنْ غَيْرِهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ هُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whichever person becomes bankrupt, and a man finds his particular merchandise with him, then he is more deserving of it than others. [He said:] There are narrations on this topic from Samurah and Ibn 'Umar. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Hurairah is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to some of the people of knowledge and it is the view of Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq. Some of the people of knowledge said that he is just like one of the debtors. This is the view of the people of Al-Kufah.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ( قرض دار ) آدمی مفلس ہو جائے اور ( قرض دینے والا ) آدمی اپنا سامان اس کے پاس بعینہ پائے تو وہ اس سامان کا دوسرے سے زیادہ مستحق ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، اور بعض اہل علم کہتے ہیں: وہ بھی دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہو گا، یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
1433
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَغَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،‏‏‏‏ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَشِبْلٍ،‏‏‏‏ أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ،‏‏‏‏ فَقَامَ إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا،‏‏‏‏ وَقَالَ:‏‏‏‏ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ لَمَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ:‏‏‏‏ أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَائْذَنْ لِي فَأَتَكَلَّمَ،‏‏‏‏ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا،‏‏‏‏ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ،‏‏‏‏ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ،‏‏‏‏ فَفَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ لَقِيتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ فَزَعَمُوا أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ،‏‏‏‏ وَتَغْرِيبَ عَامٍ،‏‏‏‏ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا،‏‏‏‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ،‏‏‏‏ الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ،‏‏‏‏ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ،‏‏‏‏ وَتَغْرِيبُ عَامٍ،‏‏‏‏ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا،‏‏‏‏ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ،‏‏‏‏ فَارْجُمْهَا ،‏‏‏‏ فَغَدَا عَلَيْهَا،‏‏‏‏ فَاعْتَرَفَتْ،‏‏‏‏ فَرَجَمَهَا. حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَعْنٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكٌ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ،‏‏‏‏ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ بِمَعْنَاهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ،‏‏‏‏ وَهَزَّالٍ،‏‏‏‏ وَبُرَيْدَةَ،‏‏‏‏ وَسَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ،‏‏‏‏ وَأَبِي بَرْزَةَ،‏‏‏‏ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ وأبي هريرة،‏‏‏‏ وأبي سعيد،‏‏‏‏ وابن عباس،‏‏‏‏ وجابر بن سمرة،‏‏‏‏ وهزال،‏‏‏‏ وبريدة،‏‏‏‏ وسلمة بن المحبق،‏‏‏‏ وأبي برزة،‏‏‏‏ وعمران بن حصين. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَمَعْمَرٌ،‏‏‏‏ وَغَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَرَوَوْا بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا،‏‏‏‏ فَإِنْ زَنَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ ،‏‏‏‏ وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَشِبْلٍ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا رَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَشِبْلٍ،‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ وَهِمَ فِيهِ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ أَدْخَلَ حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ،‏‏‏‏ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ،‏‏‏‏ وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ،‏‏‏‏ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا ،‏‏‏‏ وَالزُّهْرِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ شِبْلِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَوْسِيِّ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ ،‏‏‏‏ وَهَذَا الصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ،‏‏‏‏ وَشِبْلُ بْنُ خَالِدٍ،‏‏‏‏ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ إِنَّمَا رَوَى شِبْلٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَوْسِيِّ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا الصَّحِيحُ،‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ،‏‏‏‏ وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ شِبْلُ بْنُ حَامِدٍ،‏‏‏‏ وَهُوَ خَطَأٌ إِنَّمَا هُوَ:‏‏‏‏ شِبْلُ بْنُ خَالِدٍ وَيُقَالُ أَيْضًا:‏‏‏‏ شِبْلُ بْنُ خُلَيْدٍ.
Narrated 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Uthbah: That he heard from Abu Hurairah, Zaid bin Khalid, and Shibl, that they were with the Prophet (ﷺ) and two men came to him disputing. So one of them stood before him and said: I ask you by Allah, O Messenger of Allah! Only that you would judge between us by the book of Allah. So his disputant said - and he was more eloquent that him: I agree of O Messenger of Allah! Judge between us by the Book of Allah, and allow me to speak. My son was a servant for this man and he committed adultery with his wife. So they told me that my son was to be stoned. I paid him one hundred female sheep and a female slave. Then I met some people from the people of knowledge and they said that my son was to be lashed one hundred times, and to be banished for a year and that stoning is only for this man's wife. So the Prophet (ﷺ) said: By the One in Whose Hand is my soul! I will judge between you two by the Book of Allah. The one hundred female sheep and the female slave should be returned to you. For your son is one hundred lashes and banishment for a year. O Unais! Go to this Man's wife, and if she confesses then stone her. He went to her and she confessed, so he stoned her.
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اسی دوران آپ کے پاس جھگڑتے ہوئے دو آدمی آئے، ان میں سے ایک کھڑا ہوا اور بولا: اللہ کے رسول! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں! آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کیجئے ( یہ سن کر ) مدعی علیہ نے کہا اور وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا، ہاں، اللہ کے رسول! ہمارے درمیان آپ کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کیجئے، اور مجھے مدعا بیان کرنے کی اجازت دیجئیے، ( چنانچہ اس نے بیان کیا ) میرا لڑکا اس کے پاس مزدور تھا، چنانچہ وہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر بیٹھا ۱؎، لوگوں ( یعنی بعض علماء ) نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم واجب ہے، لہٰذا میں نے اس کی طرف سے سو بکری اور ایک خادم فدیہ میں دے دی، پھر میری ملاقات کچھ اہل علم سے ہوئی تو ان لوگوں نے کہا: میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی واجب ہے ۲؎، اور اس کی بیوی پر رجم واجب ہے ۳؎، ( یہ سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے موافق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکری اور خادم تمہیں واپس مل جائیں گے، ( اور ) تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے اسے شہر بدر کیا جائے گا، انیس! ۴؎ تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دو“، چنانچہ انیس اس کے گھر گئے، اس نے اقبال جرم کر لیا، لہٰذا انہوں نے اسے رجم کر دیا ۵؎۔ اس سند سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی سے، اسی جیسی اسی معنی کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ اس سند سے بھی مالک کی سابقہ حدیث جیسی اسی معنی کی حدیث روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ اور زید بن خالد کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح مالک بن انس، معمر اور کئی لوگوں نے بطریق: «الزهري، عن عبيد الله بن عتبة، عن أبي هريرة و زيد بن خالد، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- کچھ اور لوگوں نے بھی اسی سند سے ۶؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس میں ہے کہ ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی مرتبہ زنا کرے تو اسے بیچ دو، خواہ قیمت میں گندھے ہوئے بالوں کی رسی ہی کیوں نہ ملے“، ۴- اور سفیان بن عیینہ زہری سے، زہری عبیداللہ سے، عبیداللہ ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں، ان لوگوں نے کہا: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ۵- ابن عیینہ نے اسی طرح دونوں حدیثوں کو ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے، ابن عیینہ کی حدیث میں سفیان بن عیینہ سے وہم ہوا ہے، انہوں نے ایک حدیث کو دوسری حدیث کے ساتھ خلط ملط کر دیا ہے، صحیح وہ حدیث ہے جسے محمد بن ولید زبیدی، یونس بن عبید اور زہری کے بھتیجے نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے ابوہریرہ اور زید بن خالد سے اور ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ“، ۶- اور زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے شبل بن خالد سے، شبل نے عبداللہ بن مالک اوسی سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”جب لونڈی زنا کرے“، ۷- اہل حدیث کے نزدیک ( شبل کی روایت بواسطہ عبداللہ بن مالک ) یہی صحیح ہے، کیونکہ شبل بن خالد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا ہے، بلکہ شبل، عبداللہ بن مالک اوسی سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، یہی صحیح ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی روایت میں ”شبل بن حامد“ کہا ہے، یہ غلط ہے، صحیح ”شبل بن خالد“ ہے اور انہیں ”شبل بن خلید“ بھی کہا جاتا ہے، ۸- اس باب میں ابوبکرہ، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، ابوسعید، ابن عباس، جابر بن سمرہ، ہزال، بریدہ، سلمہ بن محبق، ابوبرزہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔