حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي لُبَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ بِكَابُلَ، فَأَصَابَ النَّاسُ غَنِيمَةً فَانْتَهَبُوهَا فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النُّهْبَى فَرَدُّوا مَا أَخَذُوا فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ.
Narrated Abdur Rahman ibn Samurah ibn Kabul: AbuLabid said: We were with Abdur Rahman ibn Samurah ibn Kabul. The people got booty and plundered it. He stood and addressed (the people): I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibiting getting property from the booty before its distribution. Therefore, they returned what they had taken, He then distributed it among them.
ابو لبید کہتے ہیں کہ ہم عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں تھے وہاں لوگوں کو مال غنیمت ملا تو انہوں نے اسے لوٹ لیا، عبدالرحمٰن نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ لوٹنے سے منع فرماتے تھے، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دیا، پھر انہوں نے اسے ان میں تقسیم کر دیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۹۶۹۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۶۲، ۶۳)، سنن الدارمی/الأضاحي ۲۳ (۲۰۳۸)
2703
Sahih