TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2986 - CHAPTER: The Division Of The Khumus And The Share Of His Relatives. - Tribute, spoils, and rulership (kitab al-kharaj, wal-fai' wal-imarah) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 9 of 13 in this chapter
CHAPTER: The Division Of The Khumus And The Share Of His Relatives.
باب: خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعٍ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، ‏‏‏‏‏‏فَبَيْنَا أَنَا أَجَمْعُ لِشَارِفَيَّ مَتَاعًا مِنَ الأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ وَشَارِفَايَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنْ الأَنْصَارِ أَقْبَلْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ فَإِذَا بِشَارفَيَّ قَدِ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالُوا:‏‏‏‏ فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنْ الأَنْصَارِ غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا:‏‏‏‏ أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَوَثَبَ إِلَى السَّيْفِ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي لَقِيتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا لَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَيَّ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَهُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ فَارْتَدَاهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ. حتَّى جَاءَ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حَمْزَةُ ثَمِلٌ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ حَمْزَةُ وَهَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي، ‏‏‏‏‏‏فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ثَمِلٌ فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ.
Ali bin Abi Talib said “I had an old she Camel that I got as my share from the booty on the day of Badr. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم also gave me an old she camel from the fifth that day. When I intended to cohabit with Fathimah daughter of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, I made arrangement with a man who was a goldsmith belonging to Banu Qainuqa’ to go with me so that we may bring grass. I intended to sell it to the goldsmith there by seeking help in my wedding feast. While I was collecting for my old Camels saddles, baskets and ropes both of she Camels were seated in a corner of the apartment of a man of the Ansar. When I collected what I collected (i. e., equipment) I turned (towards them). I suddenly found that the humps of she Camels were cut off and their hips were pierced and their lives were taken out. I could not control my eyes (to weep) when I saw that scene. I said “Who has done this?” They (the people) replied “Hamzah bin Abd Al Muttalib”. He is among the drunkards of the Ansar in this house. A singing girl is singing for him and his Companions. While singing she said “Oh Hamza, rise to these plumpy old she Camels. So he jumped to the sword and cut off their humps, pierced their hips and took out their livers. ” Ali said “I went till I entered upon the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم while Zaid bin Harithah was with him. ” The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم realized what I had met with. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم aid “What is the matter with you?” I said Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, I never saw the thing that happened with me today. Hamzah wronged my she Camels, he cut off their humps, pierced their hips. Lo! He is in a house with drunkards. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم asked for his cloak. It was brought to him. He then went out, I and Zaid bin Harithah followed him until we reached the house where Hamzah was. He asked permission ( to entre). He was permitted. He found drunkards there. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم began to rebuke him (Hamzah) for his action. Hamzah was intoxicated and his eyes were reddish. Hamzah looked at the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He then raised his eyes and looked at his knees, he then raised his eyes and looked at his navel and he then raised his eyes and looked at his face. Hamzah then said “Are you but the salves of my father? Then the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم knew that he was intoxicated. So the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم moved backward. He then went out and we also went out with him. ”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک زیادہ عمر والی اونٹنی تھی جو مجھے بدر کے دن مال غنیمت کی تقسیم میں ملی تھی اور اسی دن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بہت عمر والی اونٹنی مال خمس میں سے عنایت فرمائی تھی تو جب میں نے ارادہ کیا کہ میں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لاؤں، تو میں نے بنو قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ لے لیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں جا کر اذخر ( ایک خوشبودار گھاس ہے ) لائیں میرا ارادہ یہ تھا کہ میں اسے سناروں سے بیچ کر اپنے ولیمہ کی تیاری میں اس سے مدد لوں، اسی دوران کہ میں اپنی اونٹنیوں کے لیے پالان، گھاس کے ٹوکرے اور رسیاں ( وغیرہ ) اکٹھا کر رہا تھا اور میری دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کے حجرے کے بغل میں بیٹھی ہوئی تھیں، جو ضروری سامان میں مہیا کر سکتا تھا کر کے لوٹ کر آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ دئیے گئے ہیں اور پیٹ چاک کر دئیے گئے ہیں، اور ان کے کلیجے نکال لیے گئے ہیں، جب میں نے یہ منظر دیکھا تو میں اپنی آنکھوں پر قابو نہ پا سکا میں نے کہا: یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ سب حمزہ بن عبدالمطلب نے کیا ہے، وہ اس گھر میں چند انصاریوں کے ساتھ شراب پی رہے ہیں، ایک مغنیہ نے ان کے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے یوں گا یا: «ألا يا حمز للشرف النواء» ۱؎ ( اے حمزہ ان موٹی موٹی اونٹنیوں کے لیے جو میدان میں بندھی ہوئی ہیں اٹھ کھڑے ہو ) یہ سن کر وہ تلوار کی طرف جھپٹے اور جا کر ان کے کوہان کاٹ ڈالے، ان کے پیٹ چاک کر ڈالے، اور ان کے کلیجے نکال لیے، میں وہاں سے چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ کے پاس زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے چہرے کو دیکھ کر ) جو ( صدمہ ) مجھے لاحق ہوا تھا اسے بھانپ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آج کے دن کے جیسا کبھی نہیں دیکھا، حمزہ نے میری اونٹنیوں پر ظلم کیا ہے، ان کے کوہان کاٹ ڈالے، ان کے پیٹ پھاڑ ڈالے اور وہ یہاں ایک گھر میں شراب پینے والوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اس کو اوڑھ کر چلے، میں بھی اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر میں پہنچے جہاں حمزہ تھے، آپ نے اندر جانے کی اجازت مانگی تو اجازت دے دی گئی، جب اندر گئے تو دیکھا کہ سب شراب پئے ہوئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ کو ان کے کئے پر ملامت کرنے لگے، دیکھا تو حمزہ نشے میں تھے، آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں، حمزہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا، پھر تھوڑی نظر بلند کی تو آپ کے گھٹنوں کو دیکھا، پھر تھوڑی نظر اور بلند کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناف کی طرف دیکھا، پھر تھوڑی نظر اور بلند کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کو دیکھا، پھر بولے: تم سب میرے باپ کے غلام ہی تو ہو، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جان لیا کہ حمزہ نشے میں دھت ہیں ( یہ دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں وہاں سے پلٹے اور نکل آئے اور آپ کے ساتھ ہم بھی نکل آئے ( اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی ) ۔
2986
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 2986 In-book reference : Book 20, Hadith 59 English translation : Book 19, Hadith 2980
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع ۲۸ (۲۰۸۹)، المساقاة ۱۳ (۲۳۷۵)، فرض الخمس ۱ (۳۰۹۱)، المغازي ۱۲ (۴۰۰۳)، اللباس ۹ (۵۷۹۳)، صحیح مسلم/الأشربة ۱ (۱۹۷۹)، (تحفة الأشراف: ۱۰۰۶۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۴۲)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎؎ : باقی اشعار اس طرح ہیں : «أَلا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاء وَهُنَّ ممقَّلاتٌ بالفناء ضَع السكين في اللبات منها وضرجهن حمزة بالدماء وعجل من أطايبها لشرب قديدًا من طبيخ أو شواء» اے حمزہ ان موٹی موٹی اونٹنیوں کے لئے جو میدان میں بندھی ہوئی ہیں اٹھ کھڑے ہو اوران کے حلق پر چھری پھیر کر انہیں خون میں لت پت کردے اور ان کے پاکیزہ ٹکڑوں یعنی کوہان اور جگر سے پکا ہوا یا بھنا ہوا گوشت شراب پینے والوں کے لئے جلدی تیار کرو ۔

Related Chapters

564
1
(17) CHAPTER. The proof of the fact that Khumus is for the lmam (i.e., ruler), and taht he has the right to give thereof to some of his relatives to exclusion of others. Whatr the Prophet (p.b.u.h) distributed to Bani Al-Muttalib and Bani Hashim from the Khumus of the Khaibar booty.
اس کی دلیل کہ خمس میں امام کو اختیار ہے وہ اسے اپنے بعض ( مستحق ) رشتہ داروں کو بھی دے سکتا ہے
Sahih Bukhari
2
CHAPTER: Regarding Whoever Said That The Khumus Is Before The Nafl.
باب: مال غنیمت میں سے نفل ( انعام ) دینے سے پہلے خمس ( پانچویں حصہ ) نکالا جائے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
Chapter: What Has Been Related That The Injuries Caused By The Animal Are Without Liability And The Khumus Is Due On Rikaz
باب: جانوروں کا زخم رائیگاں ہے یعنی اس میں تاوان نہیں اور مدفون مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا​
Jam e Tirmazi
4
(15) CHAPTER. The proof that the Khumus is to be used for the needs of the Muslims, is that when the people of the tribe of Hawazin appealed to the Prophet (p.b.u.h) (to give them back what he had gained from them as war booty) mentioning the fact that he had been nursed by one of their women, he ( (p.b.u.h)) asked the Muslims to give up their shares of the booty to them.
اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورتوں کے لئے ہے
Sahih Bukhari
5
(18) CHAPTER. Not taking the Khumus from the spoils of a killed infidel.
مقتول کے جسم پر جو سامان ہو ﴿ کپڑے ، ہتھیار وغیرہ ﴾ وہ سامان تقسیم میں شریک ہو گا نہ اس میں سے خمس لیا جائے گا بلکہ وہ سارا قاتل کو ملے گا اور امام کا ایسا حکم دینے کا بیان
Sahih Bukhari
6
Chapter: Starting with oneself, then one's family, then one's relatives, when spending
خرچ میں آغاز اپنی ذات سے کرے ‘پھر اپنے اہل سے‘ پھر قرابت داروں سے
Sahih Muslim
7
CHAPTER: The Spoils(Salab) Are Not Be Subjected To The Khumus.
باب: قاتل کو مقتول سے جو سامان ملا ہے اس میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) نہ نکالا جائے گا ۔
Sunnan Abu Dawood
8
باب: مال غنیمت کا پانچواں حصہ (خمس) رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم کو لا کر دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
Chapter: What Has Been Related About Charity For Near Relatives
باب: رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Land That Is Owned By Partners When One Of Them Wants To Sell His Share
باب: مشترکہ زمین جس کا حصہ دار اپنا حصہ بیچنا چاہے
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Ahl Adh-Dhimmah Fighting With The Muslims, Are They To Recieve A Share Of The Spoils Of War ?
باب: مال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ذمیوں کے حصہ کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The Khumus
باب: مال غنیمت میں اللہ و رسول کے حصے خمس نکالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
14
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
Musnad Ahmad
15
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
Musnad Ahmad
17
(40) CHAPTER. To pay Al-Khumus (one-fifth of the war booty to be given in Allah's Cause) is a part of faith.
مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنا بھی ایمان سے ہے
Sahih Bukhari
18
(44) CHAPTER. The giving of Zakat to relatives.
اپنے رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا
Sahih Bukhari
19
(66) CHAPTER. There is Khumus on Rikaz.
رکاز میں پانچواں حصہ واجب ہے
Sahih Bukhari
20
(17) CHAPTER. One may have the right to pass through a garden or to have a share in date-palms.
باغ میں سے گزرنے کا حق یا کھجور کے درختوں میں پانی پلانے کا حصہ
Sahih Bukhari
21
(6) CHAPTER. Can one draw lots for divisions and shares?
کیا تقسیم میں قرعہ ڈالا جا سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
22
(6) CHAPTER. Can one draw lots for divisions and shares?
یتیم کا دوسرے وارثوں کے ساتھ شریک ہونا
Sahih Bukhari
23
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “And when the relatives and the orphans and Al-Masakin (the poor) are present at the time of division, give them out of the property ...” (V.4:8)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ”جب (میراث کی تقسیم) کے وقت رشتہ دار (جو وارث نہ ہوں) اور یتیم اور مسکین آ جائیں تو ان کو بھی ترکے میں سے کچھ کچھ کھلا دو (اور اگر کھلانا نہ ہو سکے تو) اچھی بات کہہ کر نرمی سے ٹال دو۔
Sahih Bukhari
24
(51) CHAPTER. The share of the horse (from the booty)...
( غنیمت کے مال سے ) گھوڑے کا حصہ کیا ملے گا
Sahih Bukhari
25
(1) CHAPTER. The obligations of Khumus.
خمس کے فرض ہونے کا بیان
Sahih Bukhari
26
(2) CHAPTER. The payment of Khumus is a part of religion.
مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا دین ایمان میں داخل ہے
Sahih Bukhari
27
(6) CHAPTER. The evidence that confirms that the Khumus (i.e., one-fifth of the war booty) is meant for the needs of Allah's Messenger (p.b.u.h) and the poor.
اس بات کی دلیل کہ غنیمت کا پانچواں حصہ
Sahih Bukhari
28
(11) CHAPTER. The Imam distributes what (war booty) is presented before him and keeps aside the share of those who are not present or are absent at the time (of distribution).
خلیفہ المسلمین کے پاس غیر لوگ جو تحائف بھیجیں ان کا بانٹ دینا اور ان میں سے جو لوگ موجود نہ ہوں ان کا حصہ چھپا کر محفوظ رکھنا
Sahih Bukhari
29
(14) CHAPTER. If the Imam sends some messenger to carry out a certain duty, or orders one to stay at home (by virtue of which he does not join the battle), will he be given a share from the booty?
اگر امام کسی شخص کو سفارت پر بھیجے یا کسی خاص جگہ ٹھہرنے کا حکم دے تو کیا اس کا بھی حصہ ) غنیمت میں ( ہو گا ؟
Sahih Bukhari
30
(16) CHAPTER. The free emancipation of the captives by the Prophet (p.b.u.h) without taking out the Khumus from the booty.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان رکھ کر قیدیوں کو مفت چھوڑ دینا ، اور خمس وغیرہ نہ نکالنا
Sahih Bukhari
31
(19) CHAPTER. What the Prophet (p.b.u.h) used to give to those Muslims whose faith was not so firm, and to other Muslims, from the Khumus or other resources.
تالیف قلوب کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض کافروں وغیرہ نو مسلموں یا پرانے مسلمانوں کو خمس میں سے دینا
Sahih Bukhari
32
(12) CHAPTER. The virtues of the relatives of Allah's Messenger . And the merits of Fatima the daughter of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہداروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان
Sahih Bukhari
33
(3) CHAPTER. “And when the relatives and the orphans and the poor are present at the time of division... (V.4:8)
آیت ( ( واذا حضر القسمۃ اولوا القربٰی ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
34
Chapter: The virtue of spending and giving charity to relatives, spuses, children and parents, even if they are idolaters
رشتہ داروں ‘خاوند‘اولاد ‘اور والدین پرچاہے وہ کافر ہوں ‘خرچ کرنے اور صدقہ کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
35
Chapter: Musaqah And Mu'amalah in return for a share of the fruit and crops
پھل ارو کھیتی کے کسی حصے پر پانی دینے اور کھیتی کے کام کا معاہدہ کرنا
Sahih Muslim
36
Chapter: One who frees his share in a slave
جس شخص نے ایک (مشتر کہ )غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا
Sahih Muslim
37
Chapter: Women who take part in military expeditions are to be given a reward but not a regular share; And the prohibition of killing children of the enemy
جہاد میں شریک عورتوں کو عطیہ دیا دائے گا اور (باقاعدہ) حصہ نہیں نکالا جائے گانیز جنگ کرنے والوں کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت
Sahih Muslim
38
CHAPTER: On Doing Kindness To Near Relatives
باب: رشتے داروں سے صلہ رحمی ( اچھے برتاؤ ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: Regarding Whoever Comes After The Spoils Of War Are Distributed, Then There Is No Share For Him.
باب: جو شخص مال غنیمت کی تقسیم کے بعد آئے اس کو حصہ نہ ملے گا ۔
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: Regarding An Idolater Being Alloted A Share.
باب: لڑائی میں مسلمانوں کے ساتھ مشرک ہو تو اس کو حصہ ملے گا یا نہیں ؟
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: What Has Been Related About Abrogating The Will For The Parents And Near Relatives.
باب: ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: The Age Upon Which A Man Is Entitled (To A Share) Due To Fighting.
باب: لڑائی میں کس عمر کے مرد کا حصہ لگایا جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: Muzara’ah (Sharecropping).
باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of Artificially Inflating Prices.
باب: نجش : یعنی دوسرے خریداروں کو دھوکہ دینے کے لیے دام بڑھانا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: One Who Manumits His Share Of A Slave.
باب: جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
46
Chapter: Giving charity to relatives
رشتے دار کو صدقہ دینے کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
47
باب: رشتہ داروں کو صدقہ دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
(67)Chapter: It Is Disliked To Retum The Salam If One Does Not Have Wudu
باب: بغیر وضو سلام کا جواب دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Call The Adhan Without Having Wudu
باب: بغیر وضو کے اذان دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Adhan At Night
باب: رات ہی میں اذان دے دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

0
No related Hadith found.