TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapter: The virtue of spending and giving charity to relatives, spuses, children and parents, even if they are idolaters - رشتہ داروں ‘خاوند‘اولاد ‘اور والدین پرچاہے وہ کافر ہوں ‘خرچ کرنے اور صدقہ کرنے کی فضیلت - The book of zakat - Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Chapter 15 of The book of zakat in Sahih Muslim. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 15 of 56 · 11 Hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَى وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَى وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخْ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ
Anas b. Malik is reported as saying: Abu Talha was the one among the Ansar of Medina who possessed the largest property and among his property he valued most was his garden known as Bairaha' which was opposite the mosque, and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) often visited it and he drank of its sweet water. When this verse was revealed: You will never attain righteousness till you give freely of what you love (iii. 91), Abu Talha got up and, going to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said: Allah says in His Book: You will never attain righteousness till you give freely of what you love, and the dearest of my property is Bairaha' so I give it as Sadaqa to God from Whom I hope for reward for it and the treasure with Allah; so spend it, Messenger of Allah, on whatever purpose you deem it proper. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Well done! that is a profitable deal, that is a profitable deal. I have heard what you have said, but I think you should spend it on your nearest relatives. So Abu Talha distributed it among the nearest relatives and his cousins on his father's side.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرما رہے تھے : ابو طلحہ مدینہ میں کسی بھی انصاری سے زیادہ مالدار تھے ، ان کے مال میں سے بیرحاء والا باغ انھیں سب سے زیادہ پسند تھا جو مسجد نبوی کے سامنے واقع تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے ۔ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی : "" تم نیکی حاصل نہیں کرسکوگے جب تک ا پنی محبوب چیز ( اللہ کی راہ میں ) خرچ نہ کرو گے ۔ "" ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کی : اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ : تم نیکی حاصل نہیں کرسکو گے حتیٰ کہ ا پنی پسندیدہ چیز ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو ۔ "" مجھے اپنے اموال میں سے سب سے زیادہ بیرحاء پسند ہے اور وہ اللہ کے لئے صدقہ ہے ، مجھے اس کے اچھے بدلے اور اللہ کے ہاں ذخیرہ ( کے طور پر محفوظ ) ہوجانے کی امید ہے ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اسے جہاں چاہیں رکھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بہت خوب ، یہ سود مند مال ہے ، یہ نفع بخش مال ہے ، جو تم نے اس کے بارے میں کہا میں نے سن لیا ہے اور میری رائے یہ ہےکہ تم اسے ( اپنے ) قرابت داروں کو دے دو ۔ "" توابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اپنے عزیزوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا ۔
2315
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا فَأُشْهِدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بَرِيحَا لِلَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ قَالَ فَجَعَلَهَا فِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
Anas reported that when this verse was tevealed: You will not attain righteousness till you give freely of what you love, Abu Talha said: I see that our Lord has demanded from us out of our property; so I make you a witness, Messenger of Allah. that I give my land known as Bairaha' for the sake of Allah. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Give that to your relatives. So he gave it to Hassan b. Thabit and Ubayy b. Ka'b.
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی؛ " تم نیکی ( کی حقیقی لذت ) حاصل نہیں کرسکو گے حتیٰ کہ اپنی محبوب ترین چیز ( اللہ کی راہ میں ) صرف کردو ۔ " ( تو ) ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں اپنے پروردیگار کو دیکھتا ہوں کہ وہ ہم سے مال کا مطالبہ کررہا ہے ، لہذا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین بیرحاء اللہ تعالیٰ کے لئے وقف کردی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے ا پنے رشتہ داروں کو دے دو ۔ " تو انھوں نے وہ حضرت حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضوان اللہ عنھم اجمعین کو دے دی ۔
2316
Sahih
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ
Maimuna bint Harith reported that she set free a slave-girl during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and she made a mention of that to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he said: Had you gives her to your maternal uncles, you would have a greater reward.
( ام المومنین ) حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اپنی ایک لونڈی کو آزاد کیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتیں تو یہ ( کام ) تمھارے اجر کو بڑا کردیتا ۔ "
2317
Sahih
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ يَجْزِي عَنِّي وَإِلَّا صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ قَالَتْ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بَلْ ائْتِيهِ أَنْتِ قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتِي حَاجَتُهَا قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ قَالَتْ فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَهُ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِكَ أَتُجْزِئُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ قَالَتْ فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هُمَا فَقَالَ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَزَيْنَبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الزَّيَانِبِ قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ
Zainab, the wife of 'Abdullah (b. Mas'ud ), reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: 0 women, give sadaqa even though it be some of your jewellery. She returned to 'Abdullah and said: You are a person with empty hands, whereas the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has commanded us to give sadaqa, so better go to him and ask and if this will suffice for me; otherwise I shall give it to someone else. 'Abdullah said to me (his wife): You better go yourself. So I went and there was another woman of the Ansar at the door of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having the same porpose as I had. Now Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was invested with awe (so we did not like to knock). Then Bilal came out and we said to him: Go to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and inform him that there are two women at the door asking him whether it will serve them to give sadaqa to their spouses and to orphans who are under their charge, but do not inform him who we are. Bilal went to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and asked him (what these women had instructed him to ask). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked him who these women were. He (Bilal) said: They are women from Ansar and Zainab. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Which of the Zainabs? He said: The wife of 'Abdullah. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There are two rewards for them, the reward of kinship and the reward of Sadaqa.
ابواحوص نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے عمرو بن حارث سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) کی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( بنت عبداللہ بن ابی معاویہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کرو ، اگرچہ اپنے زیورات سے ہی کیوں نہ ہو ۔ " کہا : تو میں ( اپنے خاوند ) عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس واپس آئی اور کہا : تم کم مایا آدمی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے ، لہذا تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے پوچھ لو اگراس ( کو تمھیں دینے ) سے میری طرف سے ادا ہوجائےگا ( تو ٹھیک ) ورنہ میں اے تمھارے علاوہ دوسروں کی طرف بھیج دو گی ، کہا : تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : بلکہ تم خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی جاؤ ۔ انھوں نے کہا : میں گئی تو اس وقت ایک اور انصاری عورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر کھڑی تھی اور ( مسئلہ دریافت کرنے کے حوالے سے ) اسکی ضرورت بھی وہی تھی جو میری تھی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت عطا کی گئی تھی ۔ کہا : بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نکل کر ہماری طرف آئے تو ہم نے ان سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کے درواز ے پر دو عور تیں ہیں آپ سے پوچھ رہی ہیں کہ ان کی طرف سے ان کے خاوندوں اور ان یتیم بچوں پر جوا ن کی کفالت میں ہیں ، صدقہ جائز ہے؟اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ نہ بتاناکہ ہم کون ہیں ۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : وہ دونوں کون ہیں؟ " انھوں نے کہا : ایک انصاری عورت ہے اور ایک زینب ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " زینبوں میں سے کون سی؟ " انھوں نے کہا : عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : " ان کے لئے دو اجر ہیں : ( ایک ) قرابت نبھانے کا اجر اور ( دوسرا ) صدقہ کرنے کا اجر ۔ "
2318
Sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً قَالَ قَالَتْ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ
A hadith like this has been narrated on the authority of Zainab the wife of 'Abdullah, and she said: I was in the mosque and the Prophet of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw me and said: Give Sadaqa even though it is out of your jewellery. The rest of the hadith is the same.
عمر بن حفص بن غیاث نے اپنے والد سے ، انھوں نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی ۔ ( اعمش نے ) کہا : میں نے ( یہ حدیث ) ابراہیم نخعی سے بیان کی تو انھوں نے مجھے ابو عبیدہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن حارث سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، بالکل اسی ( مذکوہ بالا روایت ) کے مانند ، اور کہا : انھوں ( زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نےکہا : میں مسجد میں تھی ( اس دروازے پر جو مسجد میں تھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بتانے پر ) مجھے دیکھا تو فرمایا : " صدقہ کرو ، چاہے اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ ہو ۔ " اعمش نے باقی حدیث ابواحوص کی ( مذکورہ بالا ) روایت کے ہم معنی بیان کی ہے ۔
2319
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ فَقَالَ نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ
Umm Salama said: I asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) whether there is a reward for me if I spend on Abu Salama's sons, and I am not going to abandon them in this state (of helplessness) for they are my sons. He (the Holy Prophet) said: Yes. For you is the reward for what you spend on them.
ابواسامہ نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے و الد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد پر خرچ کرنے میں میرے لئے اجر ہے؟میں ان پر خرچ کر تی ہوں ، میں انھیں ایسے ، ایسے چھوڑنے والی نہیں ہوں ، وہ میرے بچے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ، تمھارے لئے ان میں ، جو تم ان پر خرچ کروگی ، اجر ہے ۔ "
2320
Sahih
و حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
This hadith has been narrated by Ibn 'Urwa with the same chain of transmitters.
علی بن مسہر اور معمر ( راشد ) دونوں نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ ہشام بن عروہ سے اسی کے مانند ر وایت کی ۔
2321
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً
Abu Mas'ud reported Allah's Messenger (way peace be upon him) as saying: When a Muslim spends on his family seeking reward for it from Allah, it counts for him as sadaqa.
عبیداللہ بن معاذ عنبری کے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن یزید سے ، انھوں نے حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان جب اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے اور اس سے اللہ کی رضا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے ۔ "
2322
Sahih
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been narrated by Shu'ba with the same chain of transmitters.
محمد بن جعفر اور وکیع دونوں نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ شعبہ سے یہی حدیث بیان کی ۔
2323
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَوْ رَاهِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا قَالَ نَعَمْ
Asma' daughter of Abu Bakr reported: I said: Messenger of Allah, my mother, who is inclined or scared has come to me. Should I (even An her position of being opposed to Islam) treat her well? He said: Yes.
عبداللہ بن ادریس نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، اور انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے والدہ میرے پاس آئی ہیں اور ( صلہ رحمی کی ) خواہش مند ہیں ۔ یا ( خالی ہاتھ واپسی سے ) خائف ہیں ۔ کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ "
2324
Sahih
و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدَهُمْ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُ أُمِّي قَالَ نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ
Asma' bint Abu Bakr reported: My mother who was a polytheist came to me when he (the Holy Prophet) entered into treaty with, the Quraish (of Mecca). I inquired from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saying: Messenger of Allah, there has come to me my mother and she is inclined; should I (in this state of her mind) show her kindness? He said: Yes, treat her kindly.
ہشام کے ایک اور شاگرد ابو اسامہ نے اسی سند کے ساتھ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا قریش کے ساتھ معاہدے کے زمانے میں ، جب آپ نے ان سے معاہدہ صلح کیا تھا ، میری والدہ آئیں ، وہ مشرک تھیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور ( مجھ سے صلہ رحمی کی ) اُمید رکھتی ہیں تو کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ، اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو ۔ "
2325
Sahih

Chapters

56
01
باب :۔ پانچ وسق سے کم میں صدقہ نہیں
9 Hadith
02
Chapter: On what one-tenth or half of one-tenth is due
زرعی پیدوار میں عشر یا نصف عشر
1 Hadith
03
Chapter: The Muslim is not obliged to give Zakat on his slave nor his horse
مسلمان کے غلام اور گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں
4 Hadith
04
Chapter: Paying or withholding Zakat
وقت سے پہلے زکاۃ دینا اور زکاۃ کی ادائیگی روک لینا
1 Hadith
05
Chapter: Zakat Al-Fitr is due from the muslims in the form of dates and barley
مسلمان کھجور اورجو سے صدقہ فطر (فطرانہ)ادا کرسکتے ہیں
10 Hadith
06
Chapter: The command to pay Zakat Al-Fitr before the prayer
فطرانہ نماز عید سے پہلے نکالنے کا حکم
2 Hadith
07
Chapter: The sin of one who withholds Zakat
زکاۃ نہ دینے والیے کا گناہ
8 Hadith
08
Chapter: Pleasing the Su'ah (Zakat Collectors)
زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرنا
2 Hadith
09
Chapter: Severe Punishment for the one who does not pay Zakat
زکاۃ نہ دینے والے کی سخت سزا
4 Hadith
10
Chapter: Encouragement to give Charity
صدقے کی ترغیب
2 Hadith
11
Chapter: Stern warning concerning those who hoard wealth
اموال کو خزانہ بنانے والے اور ان کی سزا
2 Hadith
12
Chapter: Encouragement to spend and glad tidings of compensation for the one who spends on good deeds
خرچ کرنے کی تر غیب اور خرچ کرنے والے کو بہتر بدلےکی بشارت
2 Hadith
13
Chapter: The virtue of spending on one's family and slaves, and the sin of the one who neglects them or withholds maintenance from them
اہل و عیال اور غلاموں پر خرچ کرنے کی فضیلت ‘جس نے انھیں ضائع ہونے دیا یا ان کا خرچ روکا ‘اس کا گناہ
3 Hadith
14
Chapter: Starting with oneself, then one's family, then one's relatives, when spending
خرچ میں آغاز اپنی ذات سے کرے ‘پھر اپنے اہل سے‘ پھر قرابت داروں سے
2 Hadith
15
Chapter: The virtue of spending and giving charity to relatives, spuses, children and parents, even if they are idolaters
رشتہ داروں ‘خاوند‘اولاد ‘اور والدین پرچاہے وہ کافر ہوں ‘خرچ کرنے اور صدقہ کرنے کی فضیلت
11 Hadith
16
Chapter: Charity given on behalf of the deceased will reach him
میت کی طرف سے کیے جانے والے صدقے کا ثواب اس تک پہنچنا
2 Hadith
17
Chapter: The word charity (Sadaqah) may apply to all good deeds Ma'ruf
ہر قسم کی نیکی کو صدقہے کا نام دیا جا سکتا ہے
8 Hadith
18
Chapter: The one who spends and the one who withholds
خرچ کرنے والے اور (مال کو) روک لینے والے کے بارے میں
1 Hadith
19
Chapter: Encouragement to give charity before there is no one to accept it
صدقہ کرنے کی ترغیب اس سے پہلے کہ اسے قبول کرنے والا نہ ملے
5 Hadith
20
Chapter: Acceptance of charity that comes from good (Tayyib) earnings, and the growth thereof
:پاکیزہ کمائی سے صدقے کی قبولیت اور اس کی نشوو نما
5 Hadith
21
Chapter: Encouragement to give charity even if it is with half a date or a kind word. And charity is a shield against the fire.
صدقہ کی تر غیب چاہے وہ آدھی کھجور یا پاکیزہ بول ہی کیوں نہ ہو ‘نیز یہ آگ سے (بچانے والا)پردہ ہے
8 Hadith
22
Chapter: Carrying goods for payment and giving charity out of one's wages, and the stern prohibition of belittling the one who gives something small in charity
صدقہ کرنے کےلیے اجرت پربوجھ اٹھانا ‘تھوڑی سی چیز صدقہ کرنےوالے کو کم تر سمجھنے کی شدید ممانعت
2 Hadith
23
Chapter: The virute of giving gifts
دودھ پینے کے لیے جانور دینے کی فضیلت
2 Hadith
24
Chapter: The Likeness of the giver and the miser
خرچ کرنے والے انجیل کی مثال
3 Hadith
25
Chapter: Confirmation of the reward of the one who gives Charity, even if the Charity ends up in the hands of an evildoer, and the like
صدقہ کرنے والے کو اجر ملتا ہے چاہے (اس کا )صدقہ کسی فاسق وغیرہ کے ہاتھ لگ جائے ک
1 Hadith
26
Chapter: The reward of the Trustworthy Trustee, and if a woman gives charity from her husband's house without causing any damage, with his explicit or implicit permission
امانت دار خزانچی اور بیوی کا اجر جب وہ بگاڑے بغیر اپنے خاوند کے گھر سے اس کی کھلی یا عرفی اجازت کے ساتھ صدقہ کرے
5 Hadith
27
Chapter: What a slave spends of his master's wealth
غلام نے اپنے آقا کے مال سےجو خرچ کیا
3 Hadith
28
اس شخص کس فضیلت جس نے صدقہ کے ساتھ دوسرے بھلائی کے کام بھی شامل کر دیے
4 Hadith
29
Chapter: Encouragement to spend, and it is disliked to count how much
خرچ کرنے کی ترغیب اور شمارکرنے پر ناپسندیدگی
4 Hadith
30
Chapter: Encouragement to give in charity even if it is a little, and a little should not be withheld because one thinks it is too little
صدقے کی ترغیب چاہے تھوڑا ہی ہوا ور تھوڑے کو حقیر سمجھ کر صدقہ کرنے سے نہ روکو
1 Hadith
31
Chapter: The virtue of concealing (what is given in) charity
چھپا کر صدقہ دینے کی فضیلت
2 Hadith
32
Chapter: The best of charity is that which is given when one is healthy and inclined to be stingy
بہترین صدقہ تندرست اور مال کی خواہش رکھنے والے کا صدقہ ہے
3 Hadith
33
Chapter: The upper hand is better than the lower hand, and the upper hand is the one that gives and the lower hand is the one that receives
اوپروالا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے
4 Hadith
34
Chapter: The prohibition of Begging
سوال کرنے کی ممانعت
4 Hadith
35
Chapter: The poor person who cannot find enough to make him independent of means, but the people do not realize that he is in need, so they do not give Charity to him
ایسا مسکین جسے نہ تو نگری حاصل ہے نہ اس کا پتہ چلتا ہے کہ اس کو صدقہ دیا جائے
3 Hadith
36
Chapter: It is disliked to beg from people
لوگوں سے سوال کرنا مکروہ ہے
8 Hadith
37
Chapter: The one for whom it is permissible to ask for help
مانگنا کس کےلیے دجائز ہے
1 Hadith
38
Chapter: It is permissible to take without asking for it or hoping for it
اگر مانگنے اور طمع کے بغیر ملے تو لینا جائز ہے
5 Hadith
39
Chapter: It is disliked to be eager to acquire worldly gains
دنیا کی حرص مکروہ ہے
5 Hadith
40
Chapter: If the Son of Adam had two valleys, he would desire a third
اگر ابن آدم کے پاس (مال کی بھری ہوئی )دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری وادی حاصل کرنا چاہے گا
5 Hadith
41
قناعت کی فضیلت اور اس کی ترغیب
1 Hadith
42
دنیا کی زینت اور ای کی وسعت پر فریب نفس میں مبتلا نہ ہو نے کی تلقین
3 Hadith
43
سوال سے احتراز ‘صبرراور قناعت کی فضیلت اور ان کی تر غیب
2 Hadith
44
Chapter: Sufficient provision and contentment
گزر بسر کے بقدر رزق اور قناعت
2 Hadith
45
Chapter: Giving to those whose hearts have been inclined (towards Islam) and to those for whose faith there is fear if they are not given anything, and putting up with the one who asks rudely due to ignorance, and the Khawarij and rulings regarding them
جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہو اور جن کا ایمان نہ ہونے کی بنا پرضائع ہونے کا خطرہ ہو‘ان کو دینا ‘جہالت کی بناپر مذموم طریقے سے مانگنے والے کو برداشت کرنا ‘اور خوارج اور ان کے بارے میں احکام شریعت
5 Hadith
46
Chapter: Giving to one whose faith one fears
جن کے ایمان کے بارے میں اندیشہ ہو ان کو دینا
3 Hadith
47
Chapter: Giving to those whose hearts have been inclined (towards Islam) and urging those whose faith is strong to show patience
انھیں دینا جن کی اسلام پر تالیف قلب مقصود ہو اور اس شخص کا صبر سے کام لینا جس کا ایمان مضبوط ہے
13 Hadith
48
Chapter: The Khawarij and their attributes
خوارج اور ان کی صفات
13 Hadith
49
Chapter: Exhortation to kill the Khawarij
خوارج کو قتل کرنے کی ترغیب
7 Hadith
50
Chapter: Exhortation to kill the Khawarij
خوارج (انسانی )مخلوق اور خلائق (انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوق )میں سب سے برے ہیں
4 Hadith
51
Chapter: Exhortation to kill the Khawarij
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ اور آپ کی آل پر زکاۃ حرام ہے اور آپ کی آل سے مراد بنو ہاشم اور بنو مطلب ہیں
8 Hadith
52
Chapter: Not appointing the family of the prophet (saws) in charge of charity
آل بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو صدقہ کی وصولی پر مقرر نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
53
Chapter: Gifts are permissible for the Prophet (saws) and Banu Hashim and Banu Al-Muttalib, even if the giver acquired it by way of charity. When the receipient takes possession of Charity, it is no longer described as charity, and it is permissible for anyone for whom charity is otherwise unlawful
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ‘بنو ہاشم ‘اور بنو مطلب کے لیے تحفہ قبول کرنے کا جواز
8 Hadith
54
Chapter: The prophet (saws) accepted gifts but refused Charity
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ہدیہ قبول فرماتے اور صدقہ رد کر دیتے
1 Hadith
55
Chapter: The supplication for the one who brings Charity
صدقہ لانے والے کو دعا دینا
2 Hadith
56
Chapter: Pleasing the Zakat Collector unless he asks for something unlawful
زکاۃ وصول کرنے والے کو راضی کرنا جب تک وہ حرام کا مطالبہ نہ کرے
1 Hadith
No chapter matched that.