TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3002 - CHAPTER: How Were The Jews Expelled From Al-Madinah? - Tribute, spoils, and rulership (kitab al-kharaj, wal-fai' wal-imarah) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 4 in this chapter
CHAPTER: How Were The Jews Expelled From Al-Madinah?
باب: مدینہ سے یہود کیسے نکالے گئے ۔
حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ إِسْحَاق حَدَّثَنِي مَوْلًى لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَتْنِي ابْنَةُ مُحَيْصَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهَا مُحَيْصَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ ظَفِرْتُمْ بِهِ مِنْ رِجَالِ يَهُودَ فَاقْتُلُوهُ ، ‏‏‏‏‏‏فَوَثَبَ مُحَيْصَةُ عَلَى شَبِيبَةَ رَجُلٍ مِنْ تُجَّارِ يَهُودَ كَانَ يُلَابِسُهُمْ فَقَتَلَهُ وَكَانَ حُوَيْصَةُ إِذْ ذَاكَ لَمْ يُسْلِمْ وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ مُحَيْصَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَتَلَهُ جَعَلَ حُوَيْصَةُ يَضْرِبُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا وَاللَّهِ لَرُبَّ شَحْمٍ فِي بَطْنِكَ مِنْ مَالِهِ.
Narrated Muhayyisah: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If you gain a victory over the men of Jews, kill them. So Muhayyisah jumped over Shubaybah, a man of the Jewish merchants. He had close relations with them. He then killed him. At that time Huwayyisah (brother of Muhayyisah) had not embraced Islam. He was older than Muhayyisah. When he killed him, Huwayyisah beat him and said: O enemy of Allah, I swear by Allah, you have a good deal of fat in your belly from his property.
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں میں سے جس کسی مرد پر بھی تم قابو پاؤ اسے قتل کر دو ، تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہود کے سوداگروں میں سے ایک سوداگر کو جس کا نام شبیبہ تھا حملہ کر کے قتل کر دیا، اور اس وقت تک حویصہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور وہ محیصہ رضی اللہ عنہ سے بڑے تھے، تو جب محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہودی تاجر کو قتل کر دیا تو حویصہ محیصہ کو مارنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے دشمن! قسم اللہ کی تیرے پیٹ میں اس کے مال کی بڑی چربی ہے۔
3002
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 3002 In-book reference : Book 20, Hadith 75 English translation : Book 19, Hadith 2996
(اس کے دوراوی مولی زید بن ثابت اور ابنت محیصہ ضعیف ہیں)
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۱۲۴۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۴۳۶، ۴۳۵)

Related Chapters

194
1
(52) CHAPTER. The coming of the Jews to the Prophet on his arrival at Al-Madina.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان
Sahih Bukhari
2
Chapter: What Has Been Related About Expelling The Jews And The Christians From The Arabian Peninsula
باب: یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے باہر نکالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About 'The Dajjal Will Not Enter Al-Madinah'
باب: مدینہ میں دجال داخل نہ ہو سکے گا
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Scholar Of Al-Madinah
باب: عالم مدینہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
اس امر کا بیان کہ مدینہ منورہ پہنچ کر مہاجرین بخار میں مبتلاہو گئے
Musnad Ahmad
6
یہود اور منافقینِ مدینہ کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عداوت ومخالفت کابیان
Musnad Ahmad
7
مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
8
(11) CHAPTER. Share-cropping with the Jews.
یہود کے ساتھ بٹائی کا معاملہ کرنا
Sahih Bukhari
9
(1) CHAPTER. What is mentiones about the people, and quarrels between Jews and the Muslims.
قرض دار کو پکڑ کر لے جانا اور مسلمان اور یہودی میں جھگڑا ہونے کا بیان
Sahih Bukhari
10
(5) CHAPTER. Mortgaging things to Jews and others.
یہود وغیرہ کے پاس کوئی چیز گروی رکھنا
Sahih Bukhari
11
(94) CHAPTER. Fighting against the Jews.
یہودیوں سے لڑائی ہونے کا بیان
Sahih Bukhari
12
(101) CHAPTER. What is said regarding the invitation of the Jews and Christians (to Islam), and for what Muslim should declare war against them.
یہود اور نصاریٰ کو کیوں کر دعوت دی جائے اور کس بات پر ان سے لڑائی کی جائے
Sahih Bukhari
13
(145) CHAPTER. The superiority of the people of the Scriptures (Jews and Christians) who embrace Islam.
یہود یا نصاری مسلمان ہو جائیں تو ان کے ثواب کا بیان
Sahih Bukhari
14
(6) CHAPTER. The expelling of the Jews from the Arabian Peninsula.
یہودیوں کو عرب کے ملک سے نکال باہر کرنا
Sahih Bukhari
15
(62) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Our invocation against the Jews will be accepted (by Allah), but their invocations against us will not be accepted.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ یہودکے حق میں ہماری ( جوابی دعا ئیں قبول ہوتی ہیں لیکن ان کی کوئی بددعا ہمارے حق میں قبول نہیں ہوتی ۔
Sahih Bukhari
16
Chapter: The command to the people of Al-Madinah to enter Ihram from the Masjid at Dhul-Hulaifah
مدینہ والوں کو مسجد ذوالحلیفہ سے احرام باندھنے کا حکم
Sahih Muslim
17
Chapter: The virtue of Al-Madinah and the Prophet's Prayer for it to be blessed. Its sanctity and the sanctity of its game and trees. The Boundaries of its sanctuary
مدینہ کی فضیلت ‘اس میں برکت کےلیے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی دعا ‘مدینہ کی حرمت ‘اس کے شکار اور اس کے درختوں کی حرمت اور حرم کی حدود کا بیان
Sahih Muslim
18
Chapter: Encouragement to live in Al-Madinah and to be patient on bearing its distress and hardships
مدینہ میں رہنے کی ترغیب اور اس کی تنگ دستی اور سختیوں پر صبر کرنا
Sahih Muslim
19
Chapter: Al-Madinah is protected against the plague and the Dajjal entering it
مدینہ منورہ طاعون اور دجال کے داخلے سے محفوظ ہے
Sahih Muslim
20
Chapter: Al-Madinah eliminates its Dross and it is also called Tabah, and Taibah
مدینہ اپنے میل کچیل (شریر لوگوں)کو نکال دیتا ہے اور اس کا نام طابہ (پاک کرنے والا )اور طیبہ (پاکیزہ )ہے
Sahih Muslim
21
Chapter: The prohibition of wishing ill towards the people of Al-Madinah, and that the one who wishes them ill will be caused to melt by Allah
اہل مدینہ سے برائی کرنے کا ارادہ بھی حرام ہے اور جس نے ان کے بارے میں ایسا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ اسے پگھلا دے گا
Sahih Muslim
22
Chapter: Encouraging people to stay in Al-Madinah when the regions were conquered
مختلف ممالک کی فتو حات کے وقت مدینہ میں رہنے کی ترغیب
Sahih Muslim
23
Chapter: The Prophet saws foretold that the people will abandon Al-Madinah when it is the best it ever was
مدینہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود لوگوں کے اسے چھوڑدینے کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی پشین گوئی
Sahih Muslim
24
Chapter: The virtue of praying in the Masajid of Makkah and Al-Madinah
مکہ اور مدینہ کی دونوں مسجدوں(مسجد حرام اور مسجد نبوی )میں نماز پڑھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
25
Chapter: The Masjid whose foundation was founded upon piety is the Masjid of the Prophet saws in Al-Madinah
جس مسجدکی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ‘وہ مدینہ کی مسجد نبوی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ہے
Sahih Muslim
26
Chapter: Stoning Jews and Ahl Adh-Dhimmah for Zina
زنا (کے جرم )میں ذمی یہود کو رجم کی سزا
Sahih Muslim
27
Chapter: Expulsion of the Jews from the Hijaz
حجاز سے یہود کو جلاوطن کرنا
Sahih Muslim
28
Chapter: Expulsion of Jews and Christians from the Arabian Peninsula
یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکالنا
Sahih Muslim
29
Chapter: The slaying of Ka'b Bin Al-Ashraf, the Tagut of the Jews
یہود کے شیطان کعب بن اشرف کا قتل
Sahih Muslim
30
Chapter: The virtue of the dates of Al-Madinah
مدینہ منورہ کی کھجوروں کی فضیلت
Sahih Muslim
31
Chapter: Differing From The Jews With Regard To Dyeing
بالوں کو رنگنے (کے معاملے ) میں یہود کی مخا لفت
Sahih Muslim
32
Chapter: How Long He (SAW) Lived, And How Long He Stayed In Makkah And Al-Madinah
مکہ اور مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کتنا عرصہ رہے؟
Sahih Muslim
33
Chapter: Following The Ways Of The Jews And Christians
یہودونصاریٰ کے طریقوں پر چلنا
Sahih Muslim
34
Chapter: The Jews' Asking The Prophet (SAW) About The Soul, And The Words Of Allah: And They Ask You Concerning The Ruh (The Spirit)
یہودیوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق سوال اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : وہ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں
Sahih Muslim
35
Chapter: The Inhabitants Of Al-Madinah And How Far It Will Be Developed Before The Hour
قیامت سے پہلے مدینہ کی سکونت اور اس کی آباد کاری
Sahih Muslim
36
Chapter: Description Of Ad-Dajjal; Al-Madinah Is Forbidden To Him; He Will Kill A Believer And Bring Him Back To Life
دجال کا حال مدینہ میں اس کا داخلہ حرام ہونا اور مومن کو قتل کرنا اور اسے زندہ کرنا
Sahih Muslim
37
CHAPTER: On Going To Al-Madinah.
باب: مدینہ میں آنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: Regarding The Sacredness Of Al-Madinah.
باب: مدینہ کے حرم ہونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: The Expulsion Of The Jews From Arabia.
باب: جزیرہ عرب سے یہود کے نکالنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: Regarding The Statement Of The Prophet (saws) ' The (Standard) Measure Is The Measure Of Al-Madinah' .
باب: پیمانوں میں ( معتبر ) مدینہ کا پیمانہ ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: The stoning of the two jews.
باب: دو یہودیوں کے رجم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
42
Chapter: [What Has Been Related About] How To Get Up From The Prostration
باب: سجدے سے کیسے اٹھا جائے؟
Jam e Tirmazi
43
Chapter: [What Has Been Related About] How To Sit During At-Tashah-hud
باب: تشہد میں کیسے بیٹھیں؟
Jam e Tirmazi
44
Chapter: (What Has Been Related About) The Manner Of Stoning The Jimar
باب: جمرات کی رمی کیسے کی جائے؟
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About How The Judge Is To Make A Judgement
باب: قاضی فیصلہ کیسے کرے؟
Jam e Tirmazi
46
باب: جہنم کے لیے دو سانس ہیں اور جہنم سے موحدین باہر نکالے جائیں گے
Jam e Tirmazi
47
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر وحی کیسے اترتی تھی؟
Jam e Tirmazi
48
باب: مدینہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى
حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
50
بَابُ إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ
یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکالنے کا بیان
Mishkat
No related chapter matched that.

Related Hadith

62
Jam e Tirmazi
1444
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ،‏‏‏‏ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَالشَّرِيدِ،‏‏‏‏ وَشُرَحْبِيلَ بْنِ أَوْسٍ،‏‏‏‏ وَجَرِيرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي الرَّمَدِ الْبَلَوِيِّ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ هَكَذَا رَوَى الثَّوْرِيُّ أَيْضًا،‏‏‏‏ عَنْ عَاصِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ،‏‏‏‏ وَمَعْمَرٌ،‏‏‏‏ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي أَوَّلِ الْأَمْرِ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ،‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق،‏‏‏‏ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ،‏‏‏‏ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الرَّابِعَةِ،‏‏‏‏ فَضَرَبَهُ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَقْتُلْهُ،‏‏‏‏ وَكَذَلِكَ رَوَى الزُّهْرِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَرُفِعَ الْقَتْلُ،‏‏‏‏ وَكَانَتْ رُخْصَةً،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا فِي ذَلِكَ فِي الْقَدِيمِ وَالْحَدِيثِ،‏‏‏‏ وَمِمَّا يُقَوِّي هَذَا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،‏‏‏‏ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ،‏‏‏‏ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ،‏‏‏‏ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي،‏‏‏‏ وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ .
Narrated Mu'awiyah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever drinks wine, then lash him. If he returns to it, then on the fourth time kill him.
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئے تو اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معاویہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اسی طرح ثوری نے بطریق: «عاصم عن أبي صالح عن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور ابن جریج اور معمر نے بطریق: «سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابوصالح کی حدیث جو بواسطہ معاویہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں آئی ہے، یہ ابوصالح کی اس حدیث سے جو بواسطہ ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، شرید، شرحبیل بن اوس، جریر، ابورمد بلوی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا ۱؎ پھر اس کے بعد منسوخ ہو گیا، اسی طرح محمد بن اسحاق نے ” «محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله» کے طریق سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئیے تو اسے قتل کر دو“، پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے اور قتل نہیں کیا، اسی طرح زہری نے قبیصہ بن ذویب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۵- چنانچہ قتل کا حکم منسوخ ہو گیا، پہلے اس کی رخصت تھی، عام اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، میرے علم میں اس مسئلہ میں ان کے درمیان نہ پہلے اختلاف تھا نہ اب اختلاف ہے، اور اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بےشمار سندوں سے آئی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو مسلمان شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اس کا خون تین میں سے کسی ایک چیز کی بنا پر ہی حلال ہو سکتا ہے: ناحق کسی کا قاتل ہو، شادی شدہ زانی ہو، یا اپنا دین ( اسلام ) چھوڑنے والا ( مرتد ) ہو“۔
Jam e Tirmazi
1455
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو،‏‏‏‏ عَنْ عِكْرِمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ وَجَدْتُمُوهُ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ ،‏‏‏‏ فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا،‏‏‏‏ وَلَكِنْ:‏‏‏‏ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْ لَحْمِهَا،‏‏‏‏ أَوْ يُنْتَفَعَ بِهَا،‏‏‏‏ وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو،‏‏‏‏ عَنْ عِكْرِمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated Ibn 'Abbas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whomever you see having relations with an animal then kill him and kill animal. So it was said to Ibn 'Abbas: What is the case of the animal? He said: I did not hear anything from the Messenger of Allah (ﷺ) about this, but I see that the Messenger of Allah (ﷺ) disliked eating its meat or using it, due to the fact that such a (heinous) thing has been done with that animal.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کو جانور کے ساتھ وطی ( جماع ) کرتے ہوئے پاؤ تو اسے قتل کر دو اور ( ساتھ میں ) جانور کو بھی قتل کر دو“۔ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے پوچھا گیا: جانور کو قتل کرنے کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ جس جانور کے ساتھ یہ برا فعل کیا گیا ہو، اس کا گوشت کھانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند سمجھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کو جسے وہ بطریق: «عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کرتے ہیں۔ ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Sunnan Abu Dawood
4464
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوهَا مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا أُرَاهُ قَالَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ لَحْمُهَا وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ لَيْسَ هَذَا بِالْقَوِيِّ.
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If anyone has sexual intercourse with an animal, kill him and kill it along with him. I (Ikrimah) said: I asked him (Ibn Abbas): What offence can be attributed to the animal/ He replied: I think he (the Prophet) disapproved of its flesh being eaten when such a thing had been done to it. Abu Dawud said: This is not a strong tradition.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو ۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس سے پوچھا: اس چوپایہ کا کیا جرم ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
Sunnan Abu Dawood
4484
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ الْوَاسِطِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَكَرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ سَكَرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ سَكَرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَكَذَا حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَكَذَا حَدِيثُ سُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنْ شَرِبُوا الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّرِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي حَدِيثِ الْجَدَلِيِّ:‏‏‏‏ عَنْ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنْ عَادَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ.
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If he is intoxicated, flog him; again if he is intoxicated, flog him; again if he is intoxicated, flog him if he does it again a fourth time, kill him. Abu Dawud said: And there is a similar tradition of Umar ibn Abu Salamah, from his father, on the authority of Abu Hurairah, from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم: If he drinks wine, flog him if he does it so again, a fourth time, kill him. Abu Dawud said: And there is similar tradition of Suhail from Abu Salih on the authority of Abu Hurairah, from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم: It they drink a fourth time, kill them. And there is similar tradition of Ibn Abi Nu'm on the authority of Ibn Umar from Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. There is also similar tradition of Abdullah bin Amr from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, and from Sharid from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. And in the tradition of al-Jadli from Muawiyah, the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If he does so again third or fourth time, kill him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرابی جب نشہ سے مست ہو جائے تو اسے کوڑے مارو، پھر اگر نشہ سے مست ہو جائے تو اسے پھر کوڑے مارو، پھر اگر نشہ سے مست ہو جائے تو اسے پھر کوڑے مارو، اور اگر چوتھی بار پھر ایسا ہی کرے تو اسے قتل کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عمر بن ابی سلمہ کی روایت ہے جسے وہ اپنے والد سے اور ابوسلمہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کوئی شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ، اور اگر چوتھی بار پھر ویسے ہی کرے تو اسے قتل کر دو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سہیل کی حدیث ہے جسے وہ ابوصالح سے اور ابوصالح ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اگر وہ چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو ۔ اور اسی طرح ابن ابی نعم کی روایت بھی ہے جسے وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ اور اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اور شرید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت بھی ہے، اور جدلی کی روایت میں ہے جسے وہ معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ تیسری یا چوتھی بار پھر کرے تو اسے قتل کر دو ۔
Sunnan Abu Dawood
4485
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَجَلَدَهُ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَجَلَدَهُ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَجَلَدَهُ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَجَلَدَهُ وَرَفَعَ الْقَتْلَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ رُخْصَةٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ حَدَّثَ الزُّهْرِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَعِنْدَهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِخْوَلُ بْنُ رَاشِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُمَا:‏‏‏‏ كُونَا وَافِدَيْ أَهْلِ الْعِرَاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الشَّرِيدُ بْنُ سُوَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَشُرَحْبِيلُ بْنُ أَوْسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو غُطَيْفٍ الْكِنْدِيُّ،‏‏‏‏ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
Narrated Qabisah ibn Dhuwayb: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If anyone drinks wine, flog him; if he repeats it, flog him, and if he repeats it, flog him. If he does it again a third or a fourth time, kill him. A man who had drunk wine was brought (to him) and he gave him lashes. He was again brought to him, and he flogged him. He was again brought to him and he flogged him. He was again brought to him and he flogged him. The punishment of killing (for drinking) was repealed, and a concession was allowed. Sufyan said: Al-Zuhri transmitted this tradition when Mansur bin al-Mu'tamir amd Mukhawwal bin Rashid were present with him. He said to them: Take this tradition as a present to the people of Iraq. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Sharid bin Suwaid, Sharahbil bin Aws, Abdullah bin Amr, Abdullah bin Umar, Abu Ghutaif al-Kindi, and Abu Salamah bin Abdur-Rahman from Abu Hurairah.
قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ تیسری یا چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو تو ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے، پھر اسے لایا گیا، آپ نے پھر اسے کوڑے لگائے، پھر اسے لایا گیا، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے، پھر لایا گیا تو پھر آپ نے کوڑے ہی لگائے، اور قتل کا حکم اٹھا دیا اور رخصت ہو گئی۔ سفیان کہتے ہیں: زہری نے اس حدیث کو بیان کیا اور ان کے پاس منصور بن معتمر اور مخول بن راشد موجود تھے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: تم دونوں اہل عراق کے لیے یہ حدیث یہاں سے تحفے میں لیتے جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شرید بن سوید، شرحبیل بن اوس، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن عمر، ابوغطیف کندی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
1458
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ،‏‏‏‏ عَنْ عِكْرِمَةَ،‏‏‏‏ أَنَّ عَلِيًّا حَرَّقَ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ،‏‏‏‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ،‏‏‏‏ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ ،‏‏‏‏ وَلَمْ أَكُنْ لِأُحَرِّقَهُمْ،‏‏‏‏ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ ،‏‏‏‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْمُرْتَدِّ،‏‏‏‏ وَاخْتَلَفُوا فِي الْمَرْأَةِ إِذَا ارْتَدَّتْ عَنِ الْإِسْلَامِ،‏‏‏‏ فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ تُقْتَلُ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق،‏‏‏‏ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ تُحْبَسُ،‏‏‏‏ وَلَا تُقْتَلُ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
Narrated 'Ikrimah: That 'Ali burnt some people who apostasized from Islam. This news reached Ibn 'Abbas, so he said: If it were me I would have killed them according to the statement of Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever changes his religion then kill him.' And I would not have burned them because the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Do not punish with the punishment of Allah.' So this reached 'Ali, and he said: Ibn 'Abbas has told the truth.
عکرمہ سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ نے کچھ ایسے لوگوں کو زندہ جلا دیا جو اسلام سے مرتد ہو گئے تھے، جب ابن عباس رضی الله عنہما کو یہ بات معلوم ہوئی ۱؎ تو انہوں نے کہا: اگر ( علی رضی الله عنہ کی جگہ ) میں ہوتا تو انہیں قتل کرتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”جو اپنے دین ( اسلام ) کو بدل ڈالے اسے قتل کرو“، اور میں انہیں جلاتا نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”اللہ کے عذاب خاص جیسا تم لوگ عذاب نہ دو“، پھر اس بات کی خبر علی رضی الله عنہ کو ہوئی تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی الله عنہما نے سچ کہا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح حسن ہے، ۲- مرتد کے سلسلے میں اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۳- جب عورت اسلام سے مرتد ہو جائے تو اس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے: اسے قتل کیا جائے گا، اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۴- اور اہل علم کی دوسری جماعت کہتی ہے: اسے قتل نہیں بلکہ قید کیا جائے گا، سفیان ثوری اور ان کے علاوہ بعض اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
1462
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ،‏‏‏‏ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ،‏‏‏‏ عَنْ عِكْرِمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ:‏‏‏‏ يَا يَهُودِيُّ،‏‏‏‏ فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ،‏‏‏‏ وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ يَا مُخَنَّثُ،‏‏‏‏ فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ،‏‏‏‏ وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ،‏‏‏‏ فَاقْتُلُوهُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ،‏‏‏‏ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ رَوَاهُ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ،‏‏‏‏ وَقُرَّةُ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ،‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ،‏‏‏‏ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ مَنْ أَتَى ذَاتَ مَحْرَمٍ وَهُوَ يَعْلَمُ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ،‏‏‏‏ وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ مَنْ تَزَوَّجَ أُمَّهُ قُتِلَ،‏‏‏‏ وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ قُتِلَ.
Narrated Ibn 'Abbas: That the Prophet (ﷺ) said: If a man says to another man: 'O you Jew' then beat him twenty times. If he says: 'O you effeminate' then beat him twenty times. And whoever has relations with someone that is a Mahram then kill him.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی دوسرے کو یہودی کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جب مخنث ( ہجڑا ) کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کئی سندوں سے مروی ہے، ۴- براء بن عازب اور قرہ بن ایاس مزنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، ۵- ہمارے اصحاب ( محدثین ) کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: جو جانتے ہوئے کسی محرم کے ساتھ زنا کرے تو اس پر قتل واجب ہے، ۶- ( امام ) احمد کہتے ہیں: جو اپنی ماں سے نکاح کرے گا اسے قتل کیا جائے گا، ۷- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کیا جائے گا۔
Jam e Tirmazi
1484
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ عَنْ صَيْفِيٍّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِبُيُوتِكُمْ عُمَّارًا،‏‏‏‏ فَحَرِّجُوا عَلَيْهِنَّ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَاقْتُلُوهُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ،‏‏‏‏ هَذَا الْحَدِيثَ،‏‏‏‏ عَنْ صَيْفِيٍّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏‏‏‏ وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ،‏‏‏‏ عَنْ صَيْفِيٍّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْأَنْصَارِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَعْنٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكٌ،‏‏‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر،‏‏‏‏ وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ،‏‏‏‏ عَنْ صَيْفِيٍّ،‏‏‏‏ نَحْوَ رِوَايَةِ مَالِكٍ.
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed there are others inhabiting your homes. So yell at them three times (to leave). If you see any of them after that, then kill them.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے گھروں میں گھریلو سانپ رہتے ہیں، تم انہیں تین بار آگاہ کر دو تم تنگی میں ہو ( یعنی دیکھو دوبارہ نظر نہ آنا ورنہ تنگی و پریشانی سے دوچار ہو گا ) پھر اگر اس تنبیہ کے بعد کوئی سانپ نظر آئے تو اسے مار ڈالو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو عبیداللہ بن عمر نے بسند «صيفي عن أبي سعيد الخدري» روایت کیا ہے جب کہ مالک بن انس نے اس حدیث کو بسند «صيفي عن أبي السائب مولى هشام بن زهرة عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا، اس حدیث میں ایک قصہ بھی مذکور ہے ۱؎۔ ہم سے اس حدیث کو انصاری نے بسند «معن عن مالک عن صیفی عن أبی السائب عن أبی سعیدالخدری» سے روایت کیا ہے، اور یہ عبیداللہ بن عمر کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، محمد بن عجلان نے بھی صیفی سے مالک کی طرح روایت کی ہے۔
Jam e Tirmazi
1571
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ:‏‏‏‏ إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَاقْتُلُوهُمَا ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏بَيْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَجُلًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ رِوَايَةِ اللَّيْثِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ أَشْبَهُ وَأَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْبُخَارِيُّ:‏‏‏‏ وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) sent us with an army and said: 'If you see so-and-so, and so-and-so' referring to two men from the Quraish: 'then burn them with fire.' Then, upon our departure, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I ordered you to burn so-and-so, and so-and-so with fire, and indeed, none punishes with fire except Allah. So if you see them, then kill them.' There are narrations on this topic from Ibn 'Abbas and Hamzah bin 'Amr Al-Aslami. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Hurairah is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge. In this Hadith, Muhammad bin Ishaq mentioned a man (narrating) between Sulaiman bin Yasar and Abu Hurairah. Others reported this Hadith the same as Al-Laith reported it(here, without a man between them). The narration of Al-Laith bin Sa'd is more appropriate and more correct.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور فرمایا: ”اگر تم قریش کے فلاں فلاں دو آدمیوں کو پاؤ تو انہیں جلا دو“، پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تم کو حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو جلا دو حالانکہ آگ سے صرف اللہ ہی عذاب دے گا اس لیے اب اگر تم ان کو پاؤ تو قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ۲- محمد بن اسحاق نے اس حدیث میں سلیمان بن یسار اور ابوہریرہ رضی الله عنہ کے درمیان ایک اور آدمی کا ذکر کیا ہے، کئی اور لوگوں نے لیث کی روایت کی طرح روایت کی ہے، لیث بن سعد کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس اور حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے۔ ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔