TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَابُ إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ - یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکالنے کا بیان - جہاد کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 10 of جہاد کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 11 · 5 Hadith
عَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «انْطَلِقُوا إِلَى يهود» فخرجنا مَعَه حَتَّى جِئْنَا بَيت الْمدَارِس فَقَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا اعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ. فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئا فليبعه»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم مسجد میں تھے اسی دوران نبی ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (میرے ساتھ) یہود کی طرف چلو ۔‘‘ ہم آپ کے ساتھ چلے حتی کہ ہم مدرسہ میں پہنچے تو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا :’’ جماعت یہود ! اسلام قبول کر لو ، بچ جاؤ گے ، جان لو ! زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں تمہیں اس سرزمین سے نکال دوں ، تم میں سے جو شخص اپنے مال میں سے کوئی چیز پائے تو وہ اسے بیچ ڈالے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۱۶۷) و مسلم (۶۱ / ۱۷۶۵) ۔ 4591
4050
Sahih
وَعَن ابْن عمر قَالَ: قَامَ عُمَرُ خَطِيبًا فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَقَالَ: «نُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ» . وَقَدْ رَأَيْتُ إِجْلَاءَهُمْ فَلَمَّا أَجْمَعَ عُمَرُ عَلَى ذَلِكَ أَتَاهُ أَحَدُ بَنِي أَبِي الحُقَيقِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتُخْرِجُنَا وَقَدْ أَقَرَّنَا مُحَمَّدٌ وَعَامَلَنَا عَلَى الْأَمْوَالِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: أَظْنَنْتَ أَنِّي نَسِيتُ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ بِكَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَيْبَرَ تَعْدُو بِكَ قَلُوصُكَ لَيْلَةً بَعْدَ لَيْلَةٍ؟» فَقَالَ: هَذِهِ كَانَتْ هُزَيْلَةً مِنْ أَبِي الْقَاسِمِ فَقَالَ كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ فَأَجْلَاهُمْ عُمَرُ وَأَعْطَاهُمْ قِيمَةَ مَا كَانَ لَهُمْ مِنَ الثَّمَرِ مَالًا وَإِبِلًا وَعُرُوضًا مِنْ أَقْتَابٍ وَحِبَالٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا تو فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے یہودِ خیبر کو ان کے اموال پر برقرار رکھا اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہم تمہیں برقرار رکھیں گے جب تک اللہ تمہیں برقرار رکھے گا ۔‘‘ اور میں انہیں نکالنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، جب عمر ؓ نے انہیں نکالنے کا پختہ ارادہ کر لیا تو بنی ابو الحقیق سے ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا : امیر المومنین ! کیا آپ ہمیں نکالتے ہیں جبکہ محمد (ﷺ) نے ہمیں (اپنے گھروں میں) برقرار رکھا اور ہمیں اموال پر بھی کام کرنے دیا ۔ (اس پر) عمر ؓ نے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کو بھول گیا ہوں ، تیری کیا حالت ہو گی جب تجھے خیبر سے نکال دیا جائے گا اور تیری جوان اونٹنی تیرے ساتھ دوڑے گی ۔ اس نے کہا : کہ ابو القاسم (ﷺ) کی طرف سے مذاق تھا ، عمر ؓ نے فرمایا : اللہ کے دشمن ! تم جھوٹ کہہ رہے ہو ، عمر ؓ نے انہیں جلا وطن کر دیا ، اور انہیں ان کے پھلوں کے بدلے ، مال ، اونٹ ، پالان اور رسیاں وغیرہ دیں ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۷۳۰) ۔
4051
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم أَوْصَى بِثَلَاثَةٍ: قَالَ: «أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَسَكَتَ عَن الثَّالِثَة أَو قَالَ: فأنسيتها
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ، فرمایا :’’ مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا ، وفد آئیں تو انہیں ان کی ضرورت کی چیزیں فراہم کرنا جیسے میں انہیں فراہم کرتا تھا ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : آپ ﷺ نے تیسری چیز کے متعلق خاموشی اختیار فرمائی ، یا ابن عباس ؓ نے کہا تیسری بات مجھے یاد نہیں رہی ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۰۵۳) و مسلم (۲۰ / ۱۶۳۷) ۔ 4232
4052
Sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لأخرِجنَّ اليهودَ والنصَارى من جزيرةِ الْعَرَب حَتَّى لَا أَدَعَ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: «لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» الْفَصْلُ الثَّانِي لَيْسَ فِيهِ إِلَّا حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ «لَا تَكُونُ قِبْلَتَانِ» وَقَدْ مَرَّ فِي بَاب الْجِزْيَة
جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں یہود و نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے نکال دوں گا حتی کہ میں اس میں صرف مسلمانوں ہی کو رہنے دوں گا ۔‘‘ مسلم ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ اگر میں ان شاء اللہ زندہ رہا تو میں یہود و نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے نکال دوں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ لَیْسَ فِیْہِ اِلَّا حَدِیْثُ ابْنِ عَبَّاسِ ؓ : ((لَا تَکُوْنُ قِبْلَتَانِ)) وَقَدْ مَرَّ فِیْ بَابِ الْجِزْیَۃِ ۔ اس میں ابن عباس ؓ سے مروی ایک ہی حدیث ہے :’’ ایک ریاست میں دو قبیلے (یعنی دو دین) نہیں ہو سکتے ۔‘‘ جو کہ باب الجزیۃ میں گزر چکی ہے ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۳ / ۱۷۶۷) ۔ 4594
4053
Sahih
عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ الْيَهُودَ مِنْهَا وَكَانَتِ الْأَرْضُ لَمَّا ظُهِرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَسَأَلَ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتْرُكَهُمْ عَلَى أَنْ يَكْفُوا الْعَمَلَ وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُقِرُّكُمْ على ذَلِك مَا شِئْنَا» فَأُقِرُّوا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ فِي إِمارته إِلى تَيماءَ وأريحاء
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے یہود و نصاریٰ کو سرزمینِ حجاز سے جلا وطن کر دیا ، اور جب رسول اللہ ﷺ اہل خیبر پر غالب آئے تو آپ نے یہود و نصاریٰ کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ فرمایا تھا ، اور جب آپ اس سرزمین پر غالب آئے تھے تو وہ زمین اللہ ، اس کے رسول اور مسلمانوں کے لیے تھی ، یہود نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ وہ ان کی زمینوں کو چھوڑ دیں تا کہ وہ (یہود) کھیتی باڑی کریں اور پیداوار کا نصف ان کے لیے ہو ، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جتنا عرصہ ہم چاہیں گے تم کو رکھیں گے ۔‘‘ انہیں رکھا گیا حتی کہ عمر ؓ نے اپنی امارت میں انہیں تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۱۵۲) و مسلم (۶ / ۱۵۵۱) ۔ 3967
4054
Sahih