TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4053 - بَابُ إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ - جہاد کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 5 in this chapter
بَابُ إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ
یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکالنے کا بیان
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لأخرِجنَّ اليهودَ والنصَارى من جزيرةِ الْعَرَب حَتَّى لَا أَدَعَ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: «لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» الْفَصْلُ الثَّانِي لَيْسَ فِيهِ إِلَّا حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ «لَا تَكُونُ قِبْلَتَانِ» وَقَدْ مَرَّ فِي بَاب الْجِزْيَة
جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں یہود و نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے نکال دوں گا حتی کہ میں اس میں صرف مسلمانوں ہی کو رہنے دوں گا ۔‘‘ مسلم ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ اگر میں ان شاء اللہ زندہ رہا تو میں یہود و نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے نکال دوں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ لَیْسَ فِیْہِ اِلَّا حَدِیْثُ ابْنِ عَبَّاسِ ؓ : ((لَا تَکُوْنُ قِبْلَتَانِ)) وَقَدْ مَرَّ فِیْ بَابِ الْجِزْیَۃِ ۔ اس میں ابن عباس ؓ سے مروی ایک ہی حدیث ہے :’’ ایک ریاست میں دو قبیلے (یعنی دو دین) نہیں ہو سکتے ۔‘‘ جو کہ باب الجزیۃ میں گزر چکی ہے ۔
4053
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ مسلم (۶۳ / ۱۷۶۷) ۔ 4594

Related Chapters

51
1
Chapter: What Has Been Related About Expelling The Jews And The Christians From The Arabian Peninsula
باب: یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے باہر نکالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
CHAPTER: The Expulsion Of The Jews From Arabia.
باب: جزیرہ عرب سے یہود کے نکالنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
4
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
Musnad Ahmad
5
(6) CHAPTER. The expelling of the Jews from the Arabian Peninsula.
یہودیوں کو عرب کے ملک سے نکال باہر کرنا
Sahih Bukhari
6
Chapter: Expulsion of Jews and Christians from the Arabian Peninsula
یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکالنا
Sahih Muslim
7
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Severe Warning Against Withholding Zakat
باب: زکاۃ نہ نکالنے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Khumus
باب: مال غنیمت میں اللہ و رسول کے حصے خمس نکالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
باب: صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان
Jam e Tirmazi
10
باب: عربوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
Musnad Ahmad
12
عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
Musnad Ahmad
14
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
15
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
16
عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ عاربہ: خالص عرب مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
Musnad Ahmad
17
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
Musnad Ahmad
18
مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
19
خیبر کے اموال اور زمینوں کییہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کا بیان
Musnad Ahmad
20
فصل پنجم: ۱۹ھ میں سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سرز مین خیبر سے یہودیوں کو جلا وطن کرنا
Musnad Ahmad
21
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
22
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
Musnad Ahmad
23
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
Musnad Ahmad
24
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
25
(16) CHAPTER. What is paid for Ruqya (i.e., Divine Speech recited as a means of curing diseases) with Surat Al-Fatiha, when practised over an Arab tribe.
سورۃ الفاتحہ پڑھ کر عربوں پر پھونکنا اور اس پر اجرت لے لینا
Sahih Bukhari
26
(13) CHAPTER. Whoever possessed Arab slaves and gave them as a presents, or sold them, or had a sexual relation with the females among them, or accepted their ransom, or took their offspring as captives.
اگر عربوں پر جہاد ہو اور کوئی ان کو غلام بنائے پھر ہبہ کرے یا عربی لونڈی سے جماع کرے یا فدیہ لے یہ سب باتیں درست ہیں یا بچوں کو قید کرے
Sahih Bukhari
27
(94) CHAPTER. Fighting against the Jews.
یہودیوں سے لڑائی ہونے کا بیان
Sahih Bukhari
28
(12) CHAPTER. The story of Zam- zam and the ignorance of the Arabs.
عرب قوم کی جہالت کا بیان ۔
Sahih Bukhari
29
(52) CHAPTER. The coming of the Jews to the Prophet on his arrival at Al-Madina.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان
Sahih Bukhari
30
(14) CHAPTER. The story of Bani An-Nadir.
بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان
Sahih Bukhari
31
(2) CHAPTER. The Quran was revealed in the language of Quraish and the Arabs. ...An Arabic Quran... (V.12:2) In the plain Arabic language. (V.26:195)
قرآنمجید قریش اور عرب کے محاورہ میں نازل ہوا
Sahih Bukhari
32
(23) CHAPTER. Al-Udhra (throat or tonsil diseases).
عذرہ یعنی حلق کے کوا کے گر جانے کاعلاج جسے عربی میں سقوط اللھاۃ کہتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
33
(4) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Woe to the Arabs from the great evil that is nearly, approaching them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک بلا سے جو نزدیک آ گئی ہے عرب کی خرابی ہونے والی ہے
Sahih Bukhari
34
(5) CHAPTER. Wasat (the legacy - advice) of the Prophet (p.b.u.h.) to the Arab delegates that they should convey the religious knowledge to those whom they had left behind.
وفود عرب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت کہ ان لوگوں کو جو موجود نہیں ہیں دین کی باتیں پہنچا دیں ۔
Sahih Bukhari
35
(51) CHAPTER. What is allowed as regards the interpretation of the Taurat (Torah) and other Holy Books (revealed by Allah) in Arabic and in other languages as Allah says: …Bring here the Taurat (Torah) and recite it if you are truthful. (V.3:93)
تورات اور اس کے علاوہ دوسری آسمانی کتابوں کی تفسیر اور ترجمہ عربی وغیرہ میں کرنے کا جائز ہونا ۔
Sahih Bukhari
36
Chapter: The command to pay Zakat Al-Fitr before the prayer
فطرانہ نماز عید سے پہلے نکالنے کا حکم
Sahih Muslim
37
Chapter: The Jews' Asking The Prophet (SAW) About The Soul, And The Words Of Allah: And They Ask You Concerning The Ruh (The Spirit)
یہودیوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق سوال اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : وہ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں
Sahih Muslim
38
CHAPTER: Moving The Deceased From His Burial Site Because Of Something That Happened.
باب: کسی ضرورت سے مردے کو قبر سے نکالنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: Regarding Extraction Of Minerals.
باب: معدنیات نکالنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: A Gift (Al-Hadiyyah) For Helping Someone.
باب: کام نکالنے کے لیے ہدیہ دینا اور کام نکال دینے پر لینا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: Regarding checking dates for worms before eating.
باب: کھاتے وقت کھجور سے کیڑے تلاش کرنا اور نکالنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: Parting Of Hair.
باب: بال میں مانگ نکالنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: The stoning of the two jews.
باب: دو یہودیوں کے رجم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
Chapter: Paying Zakat before it is due
وقت سے پہلے زکاۃ نکالنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
45
Chapter: What is to be said when Zakat is paid
زکاۃ نکالنے والے کو زکاۃ نکالنے پر کیا دعا دی جائے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
46
غیر خاندان کے آدمی کو خاندان سے نکالنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
47
مسجد میں ہتھیار نکالنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
باب: میت کو لحد میں رکھنے کے بعد باہر نکالنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
باب: قبر میں رکھ دیئے جانے کے بعد مردے کو نکالنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: ”اپنی انگوٹھیوں پر عربی میں نقش نہ کراؤ“۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

3,392
Silsila Sahih
2059
عن زَيَاد بن جُبَير بن حية، قال: أَخْبَرَنِي أبي أَن عمر بن الْخطَاب رِضْوَان الله عليه، قال للهرمزان: أَمَا إِذ فُتَّنِيْ بِنَفْسِك فَانْصَح لي، وَذَلك أَنَّه قال لَه: تَكَلَّم لَا بأس، فأمِنَه، فَقَال الهرمزان: نَعَم إِن فَارِس الْيَوْم رَأْسٌ وَّجَنَاحَانِ، قَالَ: فَأَيْن الرأسُ؟ قَالَ: نَهَاوَنْد مَع بُنْدَارِ، قَالَ: فَإِنَّ مَعَه أَسَاوِرَة كِسْرَى، وَأَهْل أصفهان، قال : فَأَيْن الجَنَاحَانِ؟ فَذَكَر الْهُرْمُزَان مَكَانًا نَسِيْتُه، فَقَال الهرمزان: اقْطَعْ الْجَنَاحَيْن تُوْهِن الرَأْسَ، فَقَال لَه عمر رِضْوَان الله عليه: كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ الله، بَل أَعْمِدُ إِلَى الرَّأْسِ فَيَقْطَعُه الله، فَإِذَا قَطَعَه الله عَنِّي انْقَطَع عَنِّي الجَنَاحَانِ، فَأَرَاد عمر أَن يَسِير إِلَيْه بِنَفْسِهِ، فَقَالُوا : نُذَكِّرُك الله يَا أَمِير الْمُؤْمِنِين أَن تَسِير بِنَفْسِك إلى العجم، فَإِن أَصَبْت بِهَا لَم يَكُن لَلْمُسْلِمِين نظام، وَلَكِنْ ابْعَث الجنود، قال: فَبَعَث أَهَل المدينة، وَبَعَث فِيهِم عبد الله بن عمر بن الخطاب، وَبَعَث الْمُهَاجِرِين والأنصار، وَكَتَب إلى أبي مَوسَى الأشعري، أَن سِر بِأَهْل البصرة، وَكَتَب إلى حُذَيْفَة بن اليمان، أَن سِر بِأَهْل الكوفة، حَتَّى تَجْتَمِعُوا بنهاوند جميعا، فَإِذَا اجتمعتم، فَأَمِيرُكُم النُّعْمَان بن مُقْرِن الْمُزَنِیُّ. فَلَمَا اجْتَمَعُوا بنهاوند أَرْسَل إِلَيْهِم بُنْدَار (العلج) أَن أَرْسِلُوا إِلَيْنَا يَا مَعْشَر الْعَرَب رَجُلًا مِنْكُم نُكَلِّمُهُ، فَاخْتَار النَّاسُ الْمُغِيَرة بن شعبة، قال أَبِيْ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْه رَجُلٌ طويلٌ، أَشْعَثَ أعورَ، فَأَتَاهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْنَا سَأَلْنَاهُ؟ فَقَال لَنا: إِنِّي وَجَدْتُ الْعَلَج قَد اسْتَشَار أَصْحَابه في أَيِّ شَيْءٍ تَأْذَنُون لِهَذَا العربي؟ أَبَشَارَتُنَا وَبَهْجَتُنَا وَمُلْكُنَا؟ أَوْ نَتَقَشَّفُ لَهُ، فَنَزْهَدُهُ عَمَّا في أَيْدِيَنَا؟ فَقَالُوا: بَل نَأْذَن لَه بِأَفْضَل ما يَكُون من الشَّارَة والعدة، فَلَمَّا رَأَيْتُهُم رَأَيْتُ تِلْكَ الحِرَاب، وَالدَّرَق يَلْمَعُ مِنْهُ البَصَر، وَرَأَيْتُهُم قِيَامًا عَلَى رأسه، وَإِذَا هُو عَلَى سَرِيرٍ مِنْ ذَهَبٍ، وَعَلَى رَأْسِهِ التَّاجُ، فَمَضَيْتُ كَمَا أَنَا، وَنَكَسْتُ رَأْسِي لِأَقْعُد مَعَه عَلَى السرير، قال: فَدُفِعْتُ وَنُهِرْتُ، فَقُلْتُ إِن الرُّسُل لَا يُفْعَلُ بِهْم هَذا، فَقَالُوا لِي : إِنَّمَا أَنْتَ كَلْبٌ أَتَقْعُد مَعَ الْمَلِكِ؟!، فَقُلْت: لَأَنَا أَشْرَفُ في قَوْمِي مِنْ هَذَا فِيْكُمْ، قَالَ : فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: اِجْلِسْ، فَجَلَسْتُ، فَتُرْجِمَ لِي قَولُه؟ فَقَال: يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ! إِنَّكُم كُنْتُم أَطْوَل النَّاس جُوْعًا، وَأَعْظَم النَّاس شَقَاءً، وَأَقْذَرَ النَّاس قَذَرًا، وَأَبْعَد النَّاس دارًا، وأَبْعَدَهُ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ، وَمَا كَان مَنَعَنِي أَن آمُر هَذِه الأَسَاوِرَةِ حَوْلِي، أَنْ يَنْتَظِمُوْكُمْ بِالنِّشَابِ، إِلَا تَنْجِيْسًا لِجِيَفِكُمْ لِأَنَّكُم أَرْجَاسٌ، فَإِن تَذْهَبُوا يُخَلّٰي عَنْكُمْ، وَإِنْ تَأْبُوا نُبَوِّئُكُمْ مَصَارِعَكُمْ، قال الْمُغِيَرة : فَحَمَدْتُ الله وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ : وَالله ما أَخْطَأَتَ مِنْ صِفَتِنَا وَنَعْتِنَا شَيْئًا، إِنْ كُنَّا لَأَبْعَد النَّاس دَارًا وَأَشَدّ النَّاس جُوعًا وَأَعْظَم النَّاس شَقَاءً وَأَبْعَد النَّاس من كُل خَيْرٍ حَتَّى بَعَثَ الله إِلَيْنَا رَسُوْلًا، فَوَعَدَنَا بِالنَّصْر في الدُّنْيَا وَالْجَنَّة في الآخرة، فَلَم نَزَلْ نَتَعَرَّفُ مِنْ رَبِّنَا مُذْ جَاءَنَا رَسُولُه ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الفَلاح، وَالنَّصْرَ، حَتَّى أَتَيْنَاكُمْ، وَإِنَّا وَالله نَرَى لَكُم مُلْكًا وَعَيْشًا لَا نَرْجِعُ إِلَى ذَلِكَ الشَّقَاءِ أَبَدًا، حَتَّى نَغْلِبَكُمْ عَلَى مَا فِي أَيْدِيْكُمْ، أَو نُقْتُلَ في أَرْضِكُمْ، فَقَال : أَمَّا الأعور، فَقَد صَدَقَكُم الَّذِي في نفسه، فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ، وَقَد وَالله أرْعَبْتُ الْعَلْج جهدي، فَأَرْسَل إِلَيْنَا الْعَلْج إِمَّا أَن تَعْبُرُوا إِلَيْنَا بِنَهَاوَنْد، وَإِمَّا أَنْ نَعْبُرَ إِلَيْكُمْ، فَقَال النُّعْمَان : اُعْبُرُوا، فَعَبَرْنَا قَالَ أَبِي : فَلَم أَر كَالْيَوْم قَطُ، إِن الْعُلُوج يجيئون، كَأَنَّهُم جِبَال الحَدِيْد، وَقَدْ تَوَاثَقُوا أَنْ لَا يَفِرُّوا مِنَ العَرَبِ، وَقَد قُرن بَعْضُهُم إِلَى بَعْضٍ، حَتَّى كَان سَبْعَةٌ في قران، وَأَلْقَوْا حَسَك الْحَدِيد خَلْفَهُمْ، وَقَالُوا : من فَر مِنَّا عقره حَسَك الحديد، فَقَال الْمُغِيَرة بن شُعُبَة حِين رَأَى كَثْرَتَهُم : لَم أَر كَالْيَوْم قَتِيْلًا، إِن عَدُوَّنَا يَتْرُكُون أَنْ يَتَنَامُوا، فَلَا يُعَجَّلُوا أما وَالله لَو أَن الْأَمْر إِلَيّ لَقَد أَعْجَلْتُهُم به، قال : وكان النُّعْمَانُ رَجُلًا بَكَّاءً، فَقَال : قَد كَان الله جَلّ وَعَز يُشْهِدُك أَمْثَالَهَا فَلَا يَحْزُنْكَ وَلَا يَعِيْبُكَ مَوْقِفُكَ، وَإِنِّي وَالله ما يَمنَعُنِي أَن أناجزهم، إِلَا لِشَيْءٍ شَهِدْتُه من رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، أن رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان إِذ غَزَا فَلَم يُقَاتِلْ أَوَّل النَّهَار لَم يُعَجِّلْ حَتَّى تَحْضُر الصَّلَوَات وَتَهُبُّ الأَرْوَاحَ، وَيُطَيِّبُ القِتَالَ، ثم قال النُّعْمَان : اللَّهُمّ إِنِّي أَسْأَلَك أَن تَقَرّ عَيْنَي بِفَتْحٍ يَكُون فِيه عِزُّ الإِسْلَامِ، وَأَهْلِهِ وَذُلُّ الْكُفْرِ وَأَهْلِهِ، ثُمَّ اخْتِم لِي عَلَى أَثْر ذَلِك بالشهادة، ثم قال : أمِّنُوا يَرْحَمُكُم الله، فَأَمَّنَّا وَبَكَى فَبَكَيْنَا، فَقَال النُّعْمَان: إِنِّي هازٌّ لِوَائِي فَتَيَسَّرُوا لِلسِّلَاحِ، ثُمَّ هَازِّهُ الثَّانِيَةَ، فَكُونُوا مُتَيَسِّرِيْنَ لِقِتَالِ عَدُوِّكُم بِإِزَائِكُمْ، فَإِذَا هَزَزْتُهَا الثَّالِثَةَ، فَلْيَحْمِلْ كُلُّ قَوْمٍ عَلَى مَنْ يَلِيْهِم مِنْ عَدُوِّهمْ عَلَى بَرَكْةِ الله، قَالَ: فَلَمَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَهَبَّت الْأَرْوَاح كَبَّر وكبرنا، وَقَال رِيح الْفَتْح وَالله إِن شَاء الله، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَن يَسْتَجِيبَ الله لِي وَأَن يُفْتَح عَلَيْنَا فهزَّ اللِّوَاءَ فَتَيَسَّرُوا، ثُمَّ هَزَّهُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ هَزَّه الثالثة، فَحَمَلَنَا جَمِيَعًا كُلُّ قَوْمٍ عَلَى مَنْ يَلِيْهِمْ، وَقَال النُّعْمَان : إِنْ أَنَا أَصَبْتُ فَعَلَى النَّاسِ حُذَيْفَة بن اليمان، فَإِنْ أُصِيْبَ حُذَيْفَةَ، فَفُلَان، فَإِن أُصِيبَ فُلَانٌ (ففُلَانٍ)، حَتَّى عَدَّ سَبْعَةً آخِرُهُم الْمُغِيَرة بن شعبة، قال أبي : فَوَالله ما عَلِمْت من الْمُسْلِمَيْن أحدًا، يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إلى أَهْلِه، حَتَّى يُقْتَلَ أَو يَظْفُرَ فَثَبتوا لنا، فَلَم نَسْمَع إِلَا وَقْع الْحَدِيد عَلَى الحديد، حَتَّى أُصِيب في الْمُسْلِمَيْن عصَابَةً عظيمةً، فَلَمَّا رَأَوْا صَبْرَنَا وَرَأَوْنَا لَا نُرِيد أَن نَرْجِع، انهزموا، فَجَعَل يَقَعُ الرَّجُلُ، فَيَقَعُ عَلَيه سَبْعَةٌ في قران، فَيُقْتَلُون جميعا، وَجَعَل يعقرهم حَسَك الْحَدِيد خلفهم، فَقَال النُّعْمَان : قَدِّمُوا اللِّوَاء فَجَعَلْنَا نُقَدِّمُ اللِّوَاءَ فَنَقْتُلُهُم ونهزمهم، فَلَمَّا رَأَى النعمان، قَد اسْتَجَاب الله لَه وَرَأَى الْفَتْح جَاءَتْه نِشَابَةٌ، فَأَصَابَت خَاصِرَتِه فقتلته، فَجَاء أَخُوه مَعْقَل بن مُقْرَن فسجى عليه ثَوْبًا وَأَخَذ اللِّوَاء فَتَقَدَّم ثم قال: تَقَدَّمُوا رحمكم الله، فَجَعَلْنَا نَتَقَدَّمُ فَنَهْزَمُهُمْ ونقتلهم، فَلَمَا فَرَغْنَا وَاجْتَمَع الناس، قالوا: أَيْن الأمير؟ فَقَال معقل: هذا أَمِيرُكُم قَد أَقَرَّ الله عَيْنَه بِالْفَتْح وَخَتَم لَه بالشهادة، فَبَايَع النَّاسَ حُذَيْفَةَ بن اليمان، قال : وكَانَ عُمَرُ ابن الخطاب رِضْوَان الله عليه بِالْمَدِينَة يَدْعُو الله، وَيَنْتَظِرُ مِثْلَ صَيْحَة الحُبْلَى، فَكَتَبَ حُذَيْفَةُ، إلى عُمَرَ بِالْفَتْح مَع رَجُلٍ مِنَ المُسْلِمِين، فَلَمَّا قَدِم عَلَيْه قَالَ: أَبْشِرْ يَا أَمِير المؤمنين، بِفَتْحٍ أَعَزَّ اللهُ فِيه الْإِسْلَام وَأَهْلَه وأذل فِيه الشِّرْك وأهله، وَقَال: النُّعْمَان بَعَثَكَ؟ قال: اِحْتَسَبَ النَّعْمَان يَا أَمِير المؤمنين، فَبَكَى عُمَرُ وَاْسْتَرْجَعَ، فَقَالَ : وَمَنْ وَيْحَكَ، فَقَال: فُلَانٌ، وَفَلَانٌ، وفلانٌ، حَتَّى عَدَّ نَاسًا ثُمَّ قَالَ وَآخَرِين يَا أَمِير الْمُؤْمِنِين لَا تَعْرِفُهُم، فَقَالَ: عُمَرُ رِضْوَان الله عَلَيْه، وَهُو يَبْكِي لَا يَضُرُّهُمْ، أَنْ لَا يَعْرِفُهُم عُمُرُ، لَكِن الله يَعْرِفُهُم
زیاد بن جبیر بن حیہسے مروی ہے کہتے ہیں:مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے کہا:جب تم میرے پاس سےجاہی رہےہوتومیرےلئےایک نیکی کردو،عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا تھا کہ:ڈرو مت اور اسے امان دے دی۔ ہرمزان نے کہا: ٹھیک ہے،آج کے فارس کا ایک سر اور دو بازو ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:سر کہاں ہے؟ ہر مزان نے کہا:نہاوند، بندار کے ساتھ ۔کیوں کہ اس کے ساتھ کسریٰ کے ستون اور اہل اصفہان ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:بازو کہاں ہیں؟ ہر مزان نے ایک جگہ کا ذکر کیا جو مجھے بھول گئی۔ ہرمزان نے کہا: دونوں بازو کاٹ دو، سر کمزور ہو جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اللہ کے دشمن! تم جھوٹ بولتے ہو، میں سر کی طرف جاؤں گا، اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا۔ جب اللہ تعالیٰ سر کاٹ دے گا تو بازوخودبخودختم ہو جائیں گے۔عمر رضی اللہ عنہ نے خود جانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا: امیر المومنین ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ عجم کی طرف نہ جائیں۔ اگر آپ کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو مسلمانوں کا نظام سنبھالنے والا کوئی نہیں۔آپ لشکر بھیج دیجئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ کو بھیجا، ان میں عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کو بھی بھیجا۔ مہاجرین و انصار کو بھی بھیجا اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تم بصرہ والوں )بصرہ کے مجاہدین کا لشکر) کو لے کر آؤ اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تم اہل کفوہ (کوفہ کے مجاہدین کا لشکر) کو لے کر آؤ، اور سب نہاوند میں جمع ہو جاؤ، جب تم جمع ہو جاؤ تو تمہارے امیر نعمان بن مقرن مزنی ہوں گے۔ جب وہ نہاوند میں جمع ہوگئے ۔تو بندار نے ان کی طرف (کافر شخص)بھیجا کہ اے عرب کی جماعت!ہمارے پاس اپنا کوئی آدمی بھیجو، ہم اس سے بات چیت کریں(مذاکرات کریں) لوگوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو چنا ، میرے والد کہتے ہیں: گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں، لمبے قد، بکھرے بالوں والے، بھینگے، وہ بندار کے پاس گئے، جب وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے تفصیل پوچھی تو انہوں نے کہا: میں نےایک عجمی کافر کو دیکھاکہ وہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ طلب کر رہا ہے۔ تم نے اس عربی کو کیوں بلایا ہے؟ کیا اسے ہماری شان و شوکت، حسن و جمال اور بادشاہت ہمارے پاس ہے ہم اسے غنیمت جانیں؟ کہنے لگے: کہا نہیں، بلکہ اس سے بھی بلند تر مقصد کے لئے بلایا ہے تاکہ ہم اسے اپنی عسکری قوت اور عددی برتری دکھائیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو ان کے نیزے بھی دیکھے اور ڈھالیں بھی جن سے آنکھیں خیرہ ہو رہی تھیں۔ انہیں اس کے سر پر کھڑے دیکھا، وہ سونے کے ایک تخت پر بیٹھا تھا۔ اس کے سر پر تاج تھا، میں اپنی اسی کیفیت میں چلتارہا۔ میں نے اس کے ساتھ تخت پر بیٹھنا چاہا تو مجھے (تخت سے) ہٹا دیا گیا، میں نے کہا:قاصدوں کے ساتھ اس طرح نہیں کیا جاتا۔ وہ مجھ سے کہنے لگے: تم کتے ہو کیا تم بادشاہ کے ساتھ بیٹھوگے؟ میں نے کہا: جتنا،توعزت دار ہے اس سے زیادہ میں اپنی قوم میں محترم ہوں،نہاوند نے مجھے ڈانٹ دیا، اور کہا: بیٹھ جاؤ، میں بیٹھ گیا، مجھے اس کی بات ترجمہ کر کے بتائی گئی ۔اس نے کہا: اے عرب کی جماعت! تم لوگوں میں طویل بھوک والے تھے، سب سے زیادہ بدبخت تھے،سب سے گندے لوگ تھے۔ صحراو بیابان میں تمہارا گھر تھا، ہر بھلائی سے دور تھے مجھے اور کسی بات نے نہیں روکا کہ میں اپنے سرداروں کو تمہارا نظم و ضبط بہتر کرنے کا حکم دوں، سوائے تمہاری بدبو دارنجس لاشوں کے کیوں کہ تم پلید ہو۔ اگر تم واپس چلے جاؤ تو تمہارا راستہ چھوڑ دیاجائے گا، اگر انکار کرو گے تو یہ تمہارا قبرستان ہوگا۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور کہا: واللہ آپ نے ہمارا کوئی وصف اور عادت غلط بیان نہیں کی۔ ہم واقعی بہت دور صحرا بیابان میں تھے ۔اور ستگ بھوک والے تھے، سب سے زیادہ بدبخت تھے۔ بھلائی سے بہت دور تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا، اس نے ہمیں دنیا میں مدد کا وعدہ دیا اور آخرت میں جنت کا۔ جب سے اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم آیا ہے ہم اپنے رب کے مدد اور کامیابی کو پرکھتے آرہے ہیں، حتی کہ ہم تمہارے پاس آگئے۔ اللہ کی قسم! ہم تمہاری بادشاہت اور عیش والی زندگی دیکھ رہے ہیں ہم اس بدبختی کی طرف کبھی بھی لوٹ کر نہیں جائیں گے، یہاں تک کہ ہم تمہارے قبضے میں موجود ہر چیز پر غالب نہ آجائیں ۔یا ہم تمہاری زمین میں قتل نہ کردیئے جائیں۔ اس نے کہا: بھینگے آدمی نے اپنے دل کی سچی بات تمہارے سامنے کر دی۔ میں اس کے پاس سے اٹھ گیا، واللہ میں نے علج رضی اللہ عنہ (عجمی کافر)کو اپنی جرأت سے مرعوب کر دیا۔ علج (عجمی کافر)نے ہماری طرف پیغام بھیجا کہ: یا تو تم نہاوند پار کر کے ہمارے پاس آؤ ورنہ ہم آتے ہیں، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نہاوند پار کرو، ہم نے نہاوند پار کیا۔ میرے والد کہتے ہیں: میں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی دن نہیں دیکھا۔ علج (عجمی کافر)اس طرح آرہے تھے گویا وہ لوہے کے پہاڑ ہوں۔ ایک دوسرے سے بندھے ہوئے تھے عرب سے بھاگیں نہیں، اور انہیں آپس میں ملا دیا گیا حتی کہ ایک زنجیر میں سات آدمی تھے۔ انہوں نے اپنے پیچھے لوہے کے آرے ڈال دئیے کہ جو بھاگے گا اسے لوہے کے آرے کاٹ دیں گے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ان کی کثرت دیکھی تو کہاکہ آج کے دن جتنے مقتول میں نے کبھی نہیں دیکھے۔ہمارے دشمن کی نیندیں اڑی ہوئی تھیں کہ ان پر جلدی نہ کی جائے۔ واللہ معاملہ اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں جلدی کرتا، نعمان رضی اللہ عنہ بہت زیادہ رونے والے انسان تھے۔ کہنے لگے: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسے کئی مواقع عطا کئے ہیں، اس لئے یہ تمہیں غمزدہ نہ کرے اور تمہارے موقف کو معیوب نہ کرے، اور مجھے ان سے ٹکرانے سے کوئی چیز نہیں روکتی سوائے اس بات کے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے ابتدائی حصے میں قتال نہیں کرتے تھے۔ جب تک نماز کا وقت نہ ہو جاتا، اور ہوائیں چلنا شروع نہ ہو جاتیں،جلدی نہ کرتے، اور لڑائی کا بہترین وقت نہ ہو جاتا۔پھر نعمان جلدی نہ کرتے کہنے لگے: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو ایسی فتح سے جس میں اسلام اور اہل اسلام کی عزت اور کفر اور اہل کفر کی ذلت ہو، میری آنکھوں کو ٹھنڈک عطا فرما۔ پھر اس کے بعد میرا خاتمہ شہادت کی موت پر کر دے۔ پھر کہنے لگے: آمین کہو، اللہ تم پر رحم کرے، ہم نے آمین کہا۔ وہ رونے لگے تو ہم بھی رونے لگے، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جھنڈالہراؤں گا ۔اپنا اسلحہ تیار کر لینا، پھر دوسری مرتبہ اسے لہراؤں گا تو اپنے سامنے دشمن سے لڑائی کے لئے تیار ہو جانا، جب میں اسے تیسری مرتبہ لہراؤں گا تو ہر شخص اللہ سے برکت کی امید کرتے ہوئے اپنے سامنے والے دشمن پر حملہ کر دے۔ جب نماز کا وقت ہوگیا۔ اور ہوائیں چل پڑیں تو انہوں نے تکبیر کہی ہم نے بھی تکبیر کہی ۔کہنے لگے: واللہ فتح کی ہوا ہے، ان شاء اللہ اور مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ میری دعا قبول کرے گا، اور ہمیں فتح دے گا، انہوں نے جھنڈا لہرایا تو وہ تیار ہوگئے پھر دوسری مرتبہ لہرایا پھر تیسری مرتبہ لہرایا تو ہم سب نے اکھٹے ہو کر اپنے ساتھ والوں پر حملہ کر دیا۔ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر مجھے کچھ ہو جائے تو امیر حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہوں گے، اگر حذیفہ کو کچھ ہو جائے تو فلاں، اگر فلاں کو کچھ ہو جائے تو (فلاں)حتی کہ سات نام گنوائے، آخر میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ میرے والد کہتے ہیں :واللہ میں مسلمانوں میں سے کسی شخص کو نہیں جانتا جو چاہتا ہو کہ وہ قتل یا کامیاب ہونے سے پہلے گھر واپس پلٹ جائے وہ ثابت قدم رہے۔ ہم صرف تلواروں کی گرج سن رہے تھے۔ حتی کہ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت شہید ہوگئی، جب انہوں نے دیکھا کہ ہم نے صبر کر لیا ہے(ہم ڈٹ گئے ہیں) اور واپس جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تو منتشر ہوگئے۔ ایک آدمی گرتا تو اس پر سات آدمی گرتے اور سب قتل کر دیئے جاتے۔ پیچھے سے لوہے کے آرے انہیں کاٹنے لگے۔ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جھنڈا آگے کرو، ہم جھنڈا آگے کرنے لگے، ہم انہیں قتل کرتے اور شکست دیتے، جب نعمان رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی ہے اور فتح دیکھ لی تو ایک تیرآیا اور ان کی پسلی میں جا گھسا اور وہ شہید ہوگئے ۔ ان کے بھائی معقل بن مقرن آئے اور ان پر کپڑا ڈال دیا، اور جھنڈا پکڑ لیا، آگے بڑھ کر کہنے لگے: آگے بڑھو اللہ تم پر رحم کرے، ہم آگے بڑھتے انہیں شکست دیتے اور قتل کرتے رہے۔ جب ہم فارغ ہوئے اور لوگ جمع ہوگئے، تو کہنے لگے: امیر کہاں ہیں: معقل نے کہا: یہ تمہارا امیر ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں کو فتح دکھا کر ٹھنڈک عطا فرمائی، اور خاتمہ شہادت پر کیا۔ لوگوں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینے میں اللہ سے دعائیں کر رہے تھے اور چیخنے والی حاملہ کی طرح بڑی شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک مسلمان شخص کے ہاتھ فتح کا پیغام بھیجا، جب وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو کہنے لگا: امیر المومنین فتح مبارک ہو، جنگ میں اللہ تعالیٰ نے اسلام اور اہل اسلام کو عزت دی اور شرک اور اہل شرک کو ذلیل کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا نعمان نے تمہیں بھیجا ہے؟ اس آدمی نے کہا: امیر المومنین! نعمان رضی اللہ عنہ اجر پاگئے۔ عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور انہوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا، پھر کہنے لگے: اور کون کون لوگ ہیں؟ اس نے کہا: فلاں فلاں، حتی کہ کئی لوگ گنوادیے۔ پھر کہنے لگا: امیر المومنین دوسرے وہ لوگ جنہیں آپ نہیں جانتے ۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جبکہ وہ رو رہے تھے: کوئی حرج نہیں اگر عمر انہیں نہیں جانتا لیکن اللہ تو انہیں جانتا ہے۔
Jam e Tirmazi
149
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ وَهُوَ ابْنُ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى الظُّهْرَ فِي الْأُولَى مِنْهُمَا حِينَ كَانَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ كُلُّ شَيْءٍ مِثْلَ ظِلِّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ وَأَفْطَرَ الصَّائِمُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَرُمَ الطَّعَامُ عَلَى الصَّائِمِ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَّى الْمَرَّةَ الثَّانِيَةَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ لِوَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ لِوَقْتِهِ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَتِ الْأَرْضُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ جِبْرِيلُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ وَالْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَبُرَيْدَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي مُوسَى،‏‏‏‏ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ،‏‏‏‏ وَالْبَرَاءِ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ.
Ibn Abbas narrated that : the Prophet said: Jibril (peace be upon him) led me (in Salat) twice at the House. So he prayed Zuhr the first time when the shadow was similar to (the length of) the strap a sandal. Then he prayed Asr when everything was similar (to the length of) its shadow. Then he prayed Maghrib when the sun had set and the fasting person breaks fast. Then he prayed Isha when the twilight had vanished. Then he prayed Fajr when Fajr (dawn) began, and when eating is prohibited for the fasting person. The second time he prayed Zuhr when the shadow of everything was similar to (the length of) it, at the time of Asr the day before. Then he prayed Asr when the shadow of everything was about twice as long as it. Then he prayed Maghrib at the same time as he did the first time. Then he prayed Isha, the later one, when a third of the night had gone. Then he prayed Subh when the land glowed. Then Jibril turned towards me and said: O Muhammad! These are the times of the Prophets before you, and the (best) time is what is between these two times.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے پاس میری دو بار امامت کی، پہلی بار انہوں نے ظہر اس وقت پڑھی ( جب سورج ڈھل گیا اور ) سایہ جوتے کے تسمہ کے برابر ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا ۱؎، پھر مغرب اس وقت پڑھی جب سورج ڈوب گیا اور روزے دار نے افطار کر لیا، پھر عشاء اس وقت پڑھی جب شفق ۲؎ غائب ہو گئی، پھر نماز فجر اس وقت پڑھی جب فجر روشن ہو گئی اور روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو گیا، دوسری بار ظہر کل کی عصر کے وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، پھر مغرب اس کے اول وقت ہی میں پڑھی ( جیسے پہلی بار میں پڑھی تھی ) پھر عشاء اس وقت پڑھی جب ایک تہائی رات گزر گئی، پھر فجر اس وقت پڑھی جب اجالا ہو گیا، پھر جبرائیل نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محمد! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقات نماز تھے، آپ کی نمازوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، بریدہ، ابوموسیٰ، ابومسعود انصاری، ابوسعید، جابر، عمرو بن حرم، براء اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
481
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ غَدَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي صَلَاتِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَبِّرِي اللَّهَ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَسَبِّحِي اللَّهَ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَاحْمَدِيهِ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلِي مَا شِئْتِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ نَعَمْ نَعَمْ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ حَدِيثٍ فِي صَلَاةِ التَّسْبِيحِ وَلَا يَصِحُّ مِنْهُ كَبِيرُ شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَأَى ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ صَلَاةَ التَّسْبِيحِ وَذَكَرُوا الْفَضْلَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو وَهْبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَنِ الصَّلَاةِ الَّتِي يُسَبَّحُ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يُكَبِّرُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَتَعَوَّذُ وَيَقْرَأُ:‏‏‏‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 وَفَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ عَشْرَ مَرَّاتٍ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْكَعُ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَسْجُدُ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَسْجُدُ الثَّانِيَةَ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عَلَى هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ تَسْبِيحَةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ‏‏‏‏‏‏يَبْدَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِخَمْسَ عَشْرَةَ تَسْبِيحَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُسَبِّحُ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ صَلَّى لَيْلًا فَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُسَلِّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ صَلَّى نَهَارًا فَإِنْ شَاءَ سَلَّمَ وَإِنْ شَاءَ لَمْ يُسَلِّمْ قَالَ أَبُو وَهْبٍ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ يَبْدَأُ فِي الرُّكُوعِ بِ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ رَبِيَ الْعَظِيمِ وَفِي السُّجُودِ بِ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ رَبِيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُسَبِّحُ التَّسْبِيحَاتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ إِنْ سَهَا فِيهَا يُسَبِّحُ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ عَشْرًا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا إِنَّمَا هِيَ ثَلَاثُ مِائَةِ تَسْبِيحَةٍ.
Anas bin Malik narrated that : Umm Sulaim came upon the Prophet and said: Teach me some words that I can say in my Salat. So he said: Mention Allah's Greatness (saying: Allahu Akbar) ten times, mention Allah's Glory (saying: Subhan Allah) ten times, and mention Allah's praise (saying: Al-Hamdulilah) ten times. Then ask as you like, (for which) He says: 'Yes. Yes.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی الله عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئیے جنہیں میں نماز ۱؎ میں کہا کروں، آپ نے فرمایا: ”دس بار «الله أكبر» کہو، دس بار «سبحان الله» کہو، دس بار «الحمد لله» کہو، پھر جو چاہو مانگو، وہ ( اللہ ) ہر چیز پر ہاں، ہاں کہتا ہے“، ( یعنی قبول کرتا ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، فضل بن عباس اور ابورافع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صلاۃ التسبیح کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بھی کئی حدیثیں مروی ہیں لیکن کوئی زیادہ صحیح نہیں ہیں، ۴- ابن مبارک اور دیگر کئی اہل علم صلاۃ التسبیح کے قائل ہیں اور انہوں نے اس کی فضیلت کا ذکر کیا ہے، ۵- ابو وہب محمد بن مزاحم العامری نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے صلاۃ التسبیح کے بارے میں پوچھا کہ جس میں تسبیح پڑھی جاتی ہے، تو انہوں نے کہا: پہلے تکبیر تحریمہ کہے، پھر «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! تیری ذات پاک ہے، اے اللہ تو ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، بابرکت ہے تیرا نام، بلند ہے تیری شان اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ کہے، پھر پندرہ مرتبہ «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہے، پھر «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ”اور «بسم الله الرحمن الرحيم» کہے، پھر سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھے، پھر دس مرتبہ «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہے، پھر رکوع میں جائے اور دس مرتبہ یہی کلمات کہے، پھر سر اٹھائے اور دس مرتبہ یہی کلمات کہے، پھر سجدہ کرے دس بار یہی کلمات کہے پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائے اور دس بار یہی کلمات کہے، پھر دوسرا سجدہ کرے اور دس بار یہی کلمات کہے، اس طرح سے وہ چاروں رکعتیں پڑھے، تو ہر رکعت میں یہ کل ۷۵ تسبیحات ہوں گی۔ ہر رکعت کے شروع میں پندرہ تسبیحیں کہے گا، پھر دس دس کہے گا، اور اگر وہ رات کو نماز پڑھ رہا ہو تو میرے نزدیک مستحب ہے کہ وہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے اور اگر دن میں پڑھے تو چاہے تو ( دو رکعت کے بعد ) سلام پھیرے اور چاہے تو نہ پھیرے۔ ابو وہب وہب بن زمعہ سے روایت ہے کہ عبدالعزیز بن ابی رزمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا: رکوع میں پہلے «سبحان ربي العظيم» اور سجدہ میں پہلے «سبحان ربي الأعلى» تین تین بار کہے، پھر تسبیحات پڑھے۔ عبدالعزیز ہی ابن ابی رزمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا: اگر اس نماز میں سہو ہو جائے تو کیا وہ سجدہ سہو میں دس دس تسبیحیں کہے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں یہ صرف تین سو تسبیحات ہیں۔
Jam e Tirmazi
1607
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا أَتْرُكُ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : Umar bin Al-Khattab informed me that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'I will expel the Jews and the Christians from the Arabian Peninsula, and I will not leave anyone in it except a Muslim. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو ضرور نکالوں گا اور اس میں صرف مسلمان کو باقی رکھوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
2461
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَإِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَمْلِ حَصِيرٍ فَرَأَيْتُ أَثَرَهُ فِي جَنْبِهِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ.
Ibn 'Abbas narrated: 'Umar bin Al-Khattab informed me, saying: 'I entered upon the Messenger of Allah (s.a.w) and saw him reclining upon a mat woven from fibers, and I could see the impressions it left upon his side.'
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ چٹائی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے سو میں نے دیکھا کہ چٹائی کا نشان آپ کے پہلو پر اثر کر گیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے، ( وہی آپ کا ازواج مطہرات سے ایلاء کرنے کا قصہ ) ۔
Jam e Tirmazi
2607
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ كَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ:‏‏‏‏ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الزَّكَاةِ وَالصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَن الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرَوَى عِمْرَانُ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثٌ خَطَأٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ خُولِفَ عِمْرَانُ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ مَعْمَرٍ.
Narrated Abu Hurairah: said: When the Messenger of Allah (ﷺ) died and Abu Bakr became the Khalifah after him, whoever disbelieved from the Arabs disbelieved, so Umar bin Al-Khattab said to Abu Bakr: 'How will you fight the people while the Messenger of Allah has said: 'I have been ordered to fight the people until they say La Ilaha Illallah, and if they say that, then their blood and wealth will be protected from me, except what it makes obligatory upon them, and their reckoning is with Allah?' So Abu Bakr said: 'By Allah I will fight whoever differentiates between Salat and Zakat. For indeed, Zakat is the right due upon wealth. And by Allah! If they withhold even (camel) tethers which they used to give to the Messenger of Allah (ﷺ) I will fight them for withholding it.' So Umar bin Al-Khattab said: 'By Allah! I saw that Allah had opened Abu Bakr's chest to fighting, so I knew that it was correct.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی الله عنہ خلیفہ بنا دئیے گئے اور عربوں میں جنہیں کفر کرنا تھا کفر کا اظہار کیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے جنگ ( جہاد ) کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ کہیں: «لا إلہ الا اللہ»،‏‏‏‏ تو جس نے «لا إلہ الا اللہ» کہا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی ۱؎، اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے“، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو ہر اس شخص کے خلاف جہاد کروں گا جو صلاۃ و زکاۃ میں فرق کرے گا، کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی! اگر انہوں نے ایک رسی بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( زکاۃ میں ) دیا کرتے تھے تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ ( جہاد ) کروں گا۔ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے دیکھا: اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی الله عنہ کے سینے کو جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور میں نے جان لیا کہ یہی حق اور درست ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور عبداللہ نے ابوہریرہ رضی الله عنہم سے روایت کی ہے، ۳- عمران بن قطان نے یہ حدیث معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے انس بن مالک سے، اور انس بن مالک نے ابوبکر سے روایت کی ہے، لیکن اس حدیث ( کی سند ) میں غلطی ہے۔ ( اور وہ یہ ہے کہ ) معمر کے واسطہ سے عمران کی روایت کی مخالفت کی گئی ہے۔
Jam e Tirmazi
3180
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيَّ خَطِيبًا، ‏‏‏‏‏‏فَتَشَهَّدَ وَحَمِدَ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا بَعْدُ، ‏‏‏‏‏‏أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي أُنَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سُوءٍ قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبَنُوا بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا دَخَلَ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا غِبْتُ فِي سَفَرٍ إِلَّا غَابَ مَعِي ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَامَ رَجُلٌ مِنَ بَنِي الْخَزْرَجِ وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ مِنْ رَهْطِ ذَلِكَ الرَّجُلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ أَمَا وَاللَّهِ أَنْ لَوْ كَانُوا مِنَ الْأَوْسِ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ تُضْرَبَ أَعْنَاقُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى كَادَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ شَرٌّ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ ذَلِكَ الْيَوْمِ خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي وَمَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ، ‏‏‏‏‏‏فَعَثَرَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ تَعِسَ مِسْطَحٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ أَيْ أُمُّ تَسُبِّينَ ابْنَكِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَكَتَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَثَرَتِ الثَّانِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ تَعِسَ مِسْطَحٌ، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَهَرْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ أَيْ أُمُّ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ؟ فَسَكَتَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَثَرَتِ الثَّالِثَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ تَعِسَ مِسْطَحٌ، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَهَرْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ أَيْ أُمُّ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ؟ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَسُبُّهُ إِلَّا فِيكِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ فِي أَيِّ شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَبَقَرَتْ لِي الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَقَدْ كَانَ هَذَا ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَقَدْ رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي وَكَأَنَّ الَّذِي خَرَجْتُ لَهُ لَمْ أَخْرُجْ لَا أَجِدُ مِنْهُ قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا، ‏‏‏‏‏‏وَوُعِكْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَرْسِلْنِي إِلَى بَيْتِ أَبِي فَأَرْسَلَ مَعِي الْغُلَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلْتُ الدَّارَ فَوَجَدْتُ أُمَّ رُومَانَ فِي السُّفْلِ وَأَبُو بَكْرٍ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ أُمِّي:‏‏‏‏ مَا جَاءَ بِكِ يَا بُنَيَّةُ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرْتُهَا وَذَكَرْتُ لَهَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هُوَ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا مَا بَلَغَ مِنِّي، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا بُنَيَّةُ خَفِّفِي عَلَيْكِ الشَّأْنَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا حَسَدْنَهَا وَقِيلَ فِيهَا فَإِذَا هِيَ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا مَا بَلَغَ مِنِّي، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَقَدْ عَلِمَ بِهِ أَبِي ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَعْبَرْتُ وَبَكَيْتُ فَسَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتِي وَهُوَ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ فَنَزَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِأُمِّي:‏‏‏‏ مَا شَأْنُهَا ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ بَلَغَهَا الَّذِي ذُكِرَ مِنْ شَأْنِهَا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَقَسَمْتُ عَلَيْكِ يَا بُنَيَّةُ إِلَّا رَجَعْتِ إِلَى بَيْتِكِ فَرَجَعْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَ عَنِّي خَادِمَتِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقُدُ حَتَّى تَدْخُلَ الشَّاةُ فَتَأْكُلَ خَمِيرَتَهَا أَوْ عَجِينَتَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَصْدِقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَلَغَ الْأَمْرُ ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ كَنَفَ أُنْثَى قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَقُتِلَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي فَلَمْ يَزَالَا حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّى الْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَخَلَ وَقَدِ اكْتَنَفَنِي أَبَوَايَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، ‏‏‏‏‏‏فَتَشَهَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ إِنْ كُنْتِ قَارَفْتِ سُوءًا أَوْ ظَلَمْتِ فَتُوبِي إِلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَقَدْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهِيَ جَالِسَةٌ بِالْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَا تَسْتَحْيِي مِنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ أَنْ تَذْكُرَ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَوَعَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَفَتُّ إِلَى أَبِي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَجِبْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَاذَا أَقُولُ ؟ فَالْتَفَتُّ إِلَى أُمِّي فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَجِيبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَقُولُ مَاذَا ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَلَمَّا لَمْ يُجِيبَا تَشَهَّدْتُ فَحَمِدْتُ اللَّهَ وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي لَمْ أَفْعَلْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنِّي لَصَادِقَةٌ مَا ذَاكَ بِنَافِعِي عِنْدَكُمْ لِي لَقَدْ تَكَلَّمْتُمْ وَأُشْرِبَتْ قُلُوبُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَئِنْ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْ لَتَقُولُنَّ إِنَّهَا قَدْ بَاءَتْ بِهِ عَلَى نَفْسِهَا وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَالْتَمَسْتُ اسْمَ يَعْقُوبَ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ إِلَّا أَبَا يُوسُفَ حِينَ قَالَ:‏‏‏‏ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ سورة يوسف آية 18 قَالَتْ:‏‏‏‏ وَأُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَاعَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَكَتْنَا فَرُفِعَ عَنْهُ وَإِنِّي لَأَتَبَيَّنُ السُّرُورَ فِي وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ الْبُشْرَى يَا عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَكُنْتُ أَشَدَّ مَا كُنْتُ غَضَبًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي أَبَوَايَ:‏‏‏‏ قُومِي إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُهُ وَلَا أَحْمَدُكُمَا وَلَكِنْ أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي، ‏‏‏‏‏‏لَقَدْ سَمِعْتُمُوهُ فَمَا أَنْكَرْتُمُوهُ وَلَا غَيَّرْتُمُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏تَقُولُ:‏‏‏‏ أَمَّا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِدِينِهَا فَلَمْ تَقُلْ إِلَّا خَيْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أُخْتُهَا حَمْنَةُ فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الَّذِي يَتَكَلَّمُ فِيهِ مِسْطَحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَسُوسُهُ وَيَجْمَعُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ هُوَ وَحَمْنَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَنْفَعَ مِسْطَحًا بِنَافِعَةٍ أَبَدًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ سورة النور آية 22 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي:‏‏‏‏ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَعْنِي:‏‏‏‏ مِسْطَحًا، ‏‏‏‏‏‏إِلَى قَوْلِهِ أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ يَا رَبَّنَا إِنَّا لَنُحِبُّ أَنْ تَغْفِرَ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏وَعَادَ لَهُ بِمَا كَانَ يَصْنَعُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وعبيد الله بن عبد الله، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ هَذَا الْحَدِيثَ أَطْوَلَ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَأَتَمَّ.
Narrated 'Aishah: What was said about me had been said, and I myself was unaware of it, the Messenger of Allah (ﷺ) got up and addressed the people. He recited the Tashahhud and after praising and expressing gratitude to Allah, as He deserved, he said: 'To proceed: O people! Give me your opinion regarding those people who made a forged story against my wife. By Allah, I do not know anything bad about her at all. By Allah, they accused her of being with a man about whom I have never known anything bad, and he never entered my house unless I was present there, and whenever I went on a journey, he went with me.' Sa'd bin Mu'adh [may Allah be pleased with him] got up and said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! Allow me to chop their heads off!' Then a man from Al-Khazraj, to whom the mother of Hassan bin Thabit was a relative, got up and said (to Sa'd): 'You have told a lie! By Allah, if those persons were from Al-Aws, you would not like to chop their heads.' It was probable that some evil would take place between Aws and Khazraj in the Masjid while I was unaware of that. In the evening of that day, I went out for some of my needs, and Umm Mistah was accompanying me. On our return, Umm Mistah stumbled and said: 'Let Mistah be ruined!' I said to her, 'O mother! Why do you abuse your son?' On that Umm Mistah became silent for a while, and stumbling again, she said: 'Let Mistah be ruined!' I said to her: 'O mother! Why do you abuse your son?' She stumbled for the third time and said: 'Let Mistah be ruined!' I said to her: 'O mother! Why do you abuse your son?' Upon that she said: 'By Allah! I do not abuse him except because of you.' I asked her: 'Concerning what of my affairs?' So she disclosed the whole story to me. I said: 'Has this really happened?' She replied: 'Yes, by Allah!' I returned to my house, so astonished, that I did not know for what purpose I had gone out. Then I became sick and said to the Messenger of Allah (ﷺ) 'Send me to my father's house.' So he sent a servant with me, and when I entered the house, I found Umm Ruman downstairs, while Abu Bakr was reciting something upstairs. My mother asked: 'What has brought you, O daughter?' She said: I informed her and mentioned the whole story to her, but she did not feel as I did about it. She said: 'O my daughter! Do not worry much about this matter, for there is never a charming lady loved by her husband who has other wives, but that they feel jealous of her and speak badly of her.' But she did not feel the same about it as I did. I asked her: 'Does my father know about it?' She said 'Yes.' I asked: 'Does the Messenger of Allah (ﷺ) know about it too?' She said 'Yes, the Messenger of Allah (ﷺ) also knows about it.' Tears filled my eyes and I wept. Abu Bakr, who was reading upstairs, heard my voice, and came down asking my mother: 'What is the matter with her?' She said: 'She has heard what has been said about her.' On that Abu Bakr wept and said: 'I beseech you, by Allah, O my daughter, to go back to your home.' I went back to my home, and the Messenger of Allah (ﷺ) had come to my house asking my maid-servant about me. The maid-servant said: 'By Allah! I do not know of any fault or defect in her character except that she sleeps and lets the sheep enter and eat her dough.' On that, some of the Prophet's Companions spoke harshly to her and said: 'Tell the truth to the Messenger of Allah (ﷺ).' Finally, they told her of the slander and she said: 'Subhan Allah! By Allah, I know nothing against her except what a goldsmith knows about a piece of pure gold.' Then this news reached the man who was accused, and he said: 'Subhan Allah! By Allah, I have never uncovered the private parts of any woman.' Later, that man was martyred in Allah's Cause. Then the next morning, my parents came to pay me a visit and they stayed with me until the Messenger of Allah (ﷺ) came to me, after he performed the 'Asr prayer. He came to me and while my parents were sitting around me on my right and my left. The Prophet (ﷺ) said the Tashahhud, praised and glorified Allah and said: 'Now then, O 'Aishah! If you have committed a bad deed, or you have wronged (yourself), then repent to Allah, as Allah accepts the repentance from His worshipers.' An Ansari woman had come and was sitting near the gate. I said to the Prophet (ﷺ): 'Isn't it improper that you speak in such a way in the presence of this lady?' The Messenger of Allah (ﷺ) then gave a piece of advice and I turned to my father and requested him to reply to him. My father said: 'What should I say?' Then I turned to my mother and asked her to answer him. She said: 'What should I say?' When my parents did not reply to the Prophet (ﷺ), I said the Tashahhud, praised and glorified Allah as His due, and I said: 'Then, by Allah! If I were to tell you that I have not done (this) and Allah, the Mighty and Sublime, is witness that I am telling the truth, that would not be of any use to me on your part, because you (people) have spoken about it and your hearts have absorbed it (as truth); and if I were to tell you that I have done this sin, and Allah knows that I have not done it, then you will say: 'She has confessed her guilt.' By Allah! I do not see a suitable example for me and you except the example of - and I could not remember Ya'qbus name - Yusuf's father when he said: So patience is most fitting. And it is Allah Whose help can be sought against that which you describe (12:18). She said: It was at that time that Revelation came to the Messenger of Allah (ﷺ), and we remained silent. Then the Revelation was over, and I noticed the signs of happiness on his face while he was wiping (the sweat) from his forehead, and saying: 'Have the good tidings O 'Aishah! Allah has revealed your innocence.' At that time I was extremely angry. My parents said to me: 'Get up and go to him.' I said: 'By Allah, I will not do it,and will not thank him nor either of you, but I will thank Allah, Who has revealed my innocence. You have heard (this story) but neither of you have denied it, nor have you changed it (to defend me).' 'Aishah used to say: But as regards to Zainab bint Jahsh, Allah protected her because of her piety. She did not say anything except good (about me). But her sister, Hamnah was ruined among those who were ruined. Those who used to speak evil about me were Mistah, Hassan bin Thabit, and the hypocrite 'Abdullah bin Ubayy [bin Salul] and [it is he who] used to spread that news and tempt others to speak of it, and it was he and Hamnah who had the greater share therein. Abu Bakr took an oath that he would never do any favor for Mistah at all. Then Allah, Most High, revealed this Ayah: 'Let not those among you who are blessed with graces and wealth' [until the end of the Ayah] referring to Abu Bakr: 'to give their kinsmen, the poor, and those who left their homes for Allah's Cause.' - meaning Mistah - up to His saying: Do you not love that Allah should forgive you? And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful (24:22).' On that, Abu Bakr said: 'Yes, by Allah! O our Lord! We wish that You forgive us.' So he returned to what he had been doing.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میرے بارے میں افواہیں پھیلائی جانے لگیں جو پھیلائی گئیں، میں ان سے بےخبر تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میرے تعلق سے ایک خطبہ دیا، آپ نے شہادتین پڑھیں، اللہ کے شایان شان تعریف و ثنا کی، اور حمد و صلاۃ کے بعد فرمایا: ”لوگو! ہمیں ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری گھر والی پر تہمت لگائی ہے، قسم اللہ کی! میں نے اپنی بیوی میں کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی، انہوں نے میری بیوی کو اس شخص کے ساتھ متہم کیا ہے جس کے بارے میں اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی برائی نہیں جانی، وہ میرے گھر میں کبھی بھی میری غیر موجودگی میں داخل نہیں ہوا، وہ جب بھی میرے گھر میں آیا ہے میں موجود رہا ہوں، اور جب بھی میں گھر سے غائب ہوا، سفر میں رہا وہ بھی میرے ساتھ گھر سے دور سفر میں رہا ہے“، ( یہ سن کر ) سعد بن معاذ رضی الله عنہ نے کھڑے ہو کر، عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں ان کی گردنیں اڑا دوں، ( یہ سن کر ) خزرج قبیلے کا ایک اور شخص جس کے قبیلے سے حسان بن ثابت کی ماں تھیں کھڑا ہوا اس نے ( سعد بن معاذ سے مخاطب ہو کر ) کہا: آپ جھوٹ اور غلط بات کہہ رہے ہیں، سنئیے، اللہ کی قسم! اگر یہ ( تہمت لگانے والے آپ کے قبیلے ) اوس کے ہوتے تو یہ پسند نہ کرتے کہ آپ ان کی گردنیں اڑا دیں، یہ بحث و تکرار اتنی بڑھی کہ اوس و خزرج کے درمیان مسجد ہی میں فساد عظیم برپا ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا، ( عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں ) مجھے اس کی بھی خبر نہ ہوئی، جب اس دن کی شام ہوئی تو میں اپنی ( قضائے حاجت کی ) ضرورت سے گھر سے باہر نکلی، میرے ساتھ مسطح کی ماں بھی تھیں، وہ ( راستہ میں ) ٹھوکر کھائی تو کہہ اٹھیں: مسطح تباہ برباد ہو! میں نے ان سے کہا: آپ کیسی ماں ہیں بیٹے کو گالی دیتی ہیں؟ تو وہ چپ رہیں، پھر دوبارہ ٹھوکر کھائی تو پھر وہی لفظ دہرایا، مسطح ہلاک ہو، میں نے پھر ( ٹوکا ) میں نے کہا: آپ کیسی ماں ہیں؟ اپنے بیٹے کو گالی ( بد دعا ) دیتی ہیں؟ وہ پھر خاموش رہیں، پھر جب تیسری بار ٹھوکر کھائی تو پھر یہی لفظ دہرایا تو میں نے ڈانٹا ( اور جھڑک دیا ) کیسی ( خراب ) ماں ہیں آپ؟ اپنے ہی بیٹے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں، وہ بولیں: ( بیٹی ) قسم اللہ کی میں اسے صرف تیرے معاملے میں برا بھلا کہہ رہی ہوں، میں نے پوچھا: میرے کس معاملے میں؟ تب انہوں نے مجھے ساری باتیں کھول کھول کر بتائیں، میں نے ان سے پوچھا: کیا ایسا ہوا؟ ( یہ ساری باتیں پھیل گئیں؟ ) انہوں نے کہا: ہاں، قسم اللہ کی! یہ سن کر میں گھر لوٹ آئی، تو ان میں جس کام کے لیے نکلی تھی، نکلی ہی نہیں، مجھے اس قضائے حاجت کی تھوڑی یا زیادہ کچھ بھی ضرورت محسوس نہ ہوئی، ( بلکہ ) مجھے تیز بخار چڑھ آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: مجھے میرے ابا کے گھر بھیج دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایک لڑکا کر دیا، ( اور میں اپنے ابا کے گھر آ گئی ) میں گھر میں داخل ہوئی تو ( اپنی ماں ) ام رومان کو نیچے پایا اور ( اپنے ابا ) ابوبکر کو گھر کے اوپر پڑھتے ہوئے پایا، میری ماں نے کہا: بیٹی! کیسے آئیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے انہیں بتا دیا اور انہیں ساری باتیں ( اور سارا قصہ ) سنا دیا، مگر انہیں یہ باتیں سن کر وہ اذیت نہ پہنچی جو مجھے پہنچی، انہوں نے کہا: بیٹی! اپنے آپ کو سنبھالو، کیونکہ اللہ کی قسم! بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی مرد کی کوئی حسین و جمیل عورت ہو جس سے وہ مرد ( بے انتہا ) محبت کرتا ہو، اس سے اس کی سوکنیں حسد نہ کرتی ( اور جلن نہ رکھتی ) ہوں اور اس کے بارے میں لگائی بجھائی نہ کرتی ہوں، غرضیکہ انہیں اتنا صدمہ نہ پہنچا جتنا مجھے پہنچا، میں نے پوچھا: کیا میرے ابو جان کو بھی یہ بات معلوم ہو چکی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے ( پھر ) پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان باتوں سے واقف ہو چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، ( یہ سن کر ) میں غم سے نڈھال ہو گئی اور رو پڑی، ابوبکر رضی الله عنہ چھت پر قرآن پڑھ رہے تھے، میرے رونے کی آواز سن کر نیچے اتر آئے، میری ماں سے پوچھا، اسے کیا ہوا؟ ( یہ کیوں رو رہی ہے؟ ) انہوں نے کہا: اس کے متعلق جو باتیں کہی گئیں ( اور افواہیں پھیلائی گئی ہیں ) وہ اسے بھی معلوم ہو گئی ہیں، ( یہ سن کر ) ان کی بھی آنکھیں بہہ پڑیں، ( مگر ) انہوں نے کہا: اے میری ( لاڈلی ) بیٹی! میں تمہیں قسم دلا کر کہتا ہوں تو اپنے گھر لوٹ جا، میں اپنے گھر واپس ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور میری لونڈی ( بریرہ ) سے میرے متعلق پوچھ تاچھ کی، اس نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! میں ان میں کوئی عیب نہیں جانتی، ہاں، بس یہ بات ہے کہ ( کام کرتے کرتے تھک کر ) سو جاتی ہیں اور بکری آ کر گندھا ہوا آٹا کھا جاتی ہے، بعض صحابہ نے اسے ڈانٹا، ( باتیں نہ بنا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ سچ بتا ( اس سے اس پوچھ تاچھ میں ) وہ ( اپنے مقام و مرتبہ سے ) نیچے اتر آئے، اس نے کہا: سبحان اللہ! پاک و برتر ہے اللہ کی ذات، قسم اللہ کی! میں انہیں بس ایسی ہی جانتی ہوں جیسے سنار سرخ سونے کے ڈلے کو جانتا پہچانتا ہے، پھر اس معاملے کی خبر اس شخص کو بھی ہو گئی جس پر تہمت لگائی گئی تھی۔ اس نے کہا: سبحان اللہ! قسم اللہ کی، میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کا سینہ اور پہلو نہیں کھولا ہے ۱؎، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہ اللہ کی راہ میں شہید ہو کر مرے، میرے ماں باپ صبح ہی میرے پاس آ گئے اور ہمارے ہی پاس رہے۔ عصر پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لے آئے، اور ہمارے پاس پہنچے، میرے ماں باپ ہمارے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادتین پڑھی، اللہ کی شایان شان حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”حمد و صلاۃ کے بعد: ”عائشہ! اگر تو برائی کی مرتکب ہو گئی یا اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھی ہے تو اللہ سے توبہ کر، اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے“، اسی دوران انصار کی ایک عورت آ کر دروازے میں بیٹھ گئی تھی، میں نے عرض کیا: اس عورت کے سامنے ( اس طرح کی ) کوئی بات کرتے ہوئے کیا آپ کو شرم محسوس نہیں ہوئی؟ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرمائی، میں اپنے باپ کی طرف متوجہ ہوئی، ان سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب دیں، انہوں نے کہا: میں کیا جواب دوں؟ میں اپنی ماں کی طرف پلٹی، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات کہی ہے اس بارے میں ( میری طرف سے ) صفائی دیجئیے، انہوں نے کہا: کیا کہوں میں؟ جب میرے ماں باپ نے کچھ جواب نہ دیا، تو میں نے کلمہ شہادت ادا کیا، اللہ کے شایان شان اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر میں نے کہا: سنئیے، قسم اللہ کی! اگر میں آپ لوگوں سے کہتی ہوں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور اللہ گواہ ہے کہ میں سچی ( بےگناہ ) ہوں تب بھی مجھے آپ کے سامنے اس سے فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ ہی یہ بات کہنے والے ہیں اور آپ کے دلوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے اور اگر میں یہ کہہ دوں کہ میں نے ایسا کیا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں نے نہیں کیا، تو آپ ضرور کہیں گے کہ اس نے تو اعتراف جرم کر لیا ہے، اور میں قسم اللہ کی! اپنے اور آپ کے لیے اس سے زیادہ مناسب حال کوئی مثال نہیں پاتی ( میں نے مثال دینے کے لیے ) یعقوب علیہ السلام کا نام ڈھونڈا اور یاد کیا، مگر میں اس پر قادر نہ ہو سکی، ( مجھے ان کا نام یاد نہ آ سکا تو میں نے ابویوسف کہہ دیا ) مگر یوسف علیہ السلام کے باپ کی مثال جب کہ انہوں نے «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون» کہا ۲؎۔ اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی تو ہم سب خاموش ہو گئے، پھر آپ پر سے وحی کے آثار ختم ہوئے تو میں نے آپ کے چہرے سے خوشی پھوٹتی ہوئی دیکھی، آپ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے فرمانے لگے: ”اے عائشہ! خوش ہو جاؤ اللہ نے تمہاری براۃ میں آیت نازل فرما دی ہے“، مجھے اس وقت سخت غصہ آیا جب میرے ماں باپ نے مجھ سے کہا: کھڑی ہو کر آپ کا شکریہ ادا کر، میں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! میں آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑی نہ ہوں گی، نہ میں ان کی تعریف کروں گی اور نہ آپ دونوں کی، نہ میں ان کی احسان مند ہوں گی اور نہ آپ دونوں کا بلکہ میں اس اللہ کا احسان مند اور شکر گزار ہوں گی جس نے میری براۃ میں آیت نازل فرمائی، آپ لوگوں نے تو میری غیبت و تہمت سنی، لیکن اس پر تردید و انکار نہ کیا، اور نہ اسے روک دینے اور بدل دینے کی کوشش کی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: رہی زینب بن حجش تو اللہ نے انہیں ان کی نیکی و دینداری کی وجہ سے بچا لیا، انہوں نے اس قضیہ میں جب بھی کہا، اچھی و بھلی بات ہی کہی، البتہ ان کی بہن حمنہ ( شریک بہتان ہو کر ) ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو گئی، اور جو لوگ اس بہتان بازی اور پروپیگنڈے میں لگے ہوئے تھے وہ مسطح، حسان بن ثابت اور منافق عبداللہ بن ابی بن سلول تھے، اور یہی منافق ( فتنہ پردازوں کا سردار و سرغنہ ) ہی اس معاملہ میں اپنی سیاست چلاتا اور اپنے ہم خیال لوگوں کو یکجا رکھتا تھا، یہی وہ شخص تھا اور اس کے ساتھ حمنہ بھی تھی، جو اس فتنہ انگیزی میں پیش پیش تھی، ابوبکر رضی الله عنہ نے قسم کھا لی کہ اب وہ ( اس احسان فراموش و بدگو ) مسطح کو کبھی کوئی فائدہ نہ پہنچائیں گے، اس پر آیت «ولا يأتل أولوا الفضل منكم والسعة» ۳؎ نازل ہوئی، اس سے یہاں مراد ابوبکر ہیں، «أن يؤتوا أولي القربى والمساكين والمهاجرين في سبيل الله» ۴؎ اس سے اشارہ مسطح کی طرف ہے۔ «ألا تحبون أن يغفر الله لكم والله غفور رحيم» ۵؎ ( یہ آیت سن کر ) ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: کیوں نہیں، قسم اللہ کی! ہمارے رب! ہم پسند کرتے ہیں کہ تو ہمیں بخش دے، پھر مسطح کو دینے لگے جو پہلے دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس حدیث کو یونس بن یزید، معمر اور کئی دوسرے لوگوں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص لیثی اور عبیداللہ بن عبداللہ سے اور ان سبھوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث ہشام بن عروہ کی حدیث سے لمبی بھی ہے اور مکمل بھی ہے۔
Jam e Tirmazi
3318
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ، عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 حَتَّى حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ سورة التحريم آية 4 فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ وَكَرِهَ وَاللَّهِ مَا سَأَلَهُ عَنْهُ وَلَمْ يَكْتُمْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هِيَ عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَفْصَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَتَغَضَّبْتُ عَلَى امْرَأَتِي يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا تُنْكِرُ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي قَدْ خَابَتْ مَنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ مِنْهُنَّ وَخَسِرَتْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ مَنْزِلِي بِالْعَوَالِي فِي بَنِي أُمَيَّةَ وَكَانَ لِي جَارٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏كُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْزِلُ يَوْمًا فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْزِلُ يَوْمًا فَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكُنَّا نُحَدِّثُ أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَاءَنِي يَوْمًا عِشَاءً فَضَرَبَ عَلَيَّ الْبَابَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أَجَاءَتْ غَسَّانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا كَائِنًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرَبَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْتُ فَأَتَيْتُ غُلَامًا أَسْوَدَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا حَوْلَ الْمِنْبَرِ نَفَرٌ يَبْكُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ الْغُلَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ أَيْضًا فَجَلَسْتُ ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ الْغُلَامَ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَوَلَّيْتُ مُنْطَلِقًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ادْخُلْ فَقَدْ أُذِنَ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَمْلِ حَصِيرٍ قَدْ رَأَيْتُ أَثَرَهُ فِي جَنْبَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَنَحْنُ مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَتَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَى امْرَأَتِي فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا تُنْكِرُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ:‏‏‏‏ أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَتَهْجُرُهُ إِحْدَانَا الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ قَدْ خَابَتْ مَنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ مِنْكُنَّ وَخَسِرَتْ أَتَأْمَنُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ:‏‏‏‏ لَا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَغُرَّنَّكِ إِنْ كَانَتْ صَاحِبَتُكِ أَوْسَمَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَبَسَّمَ أُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَسْتَأْنِسُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَمَا رَأَيْتُ فِي الْبَيْتِ إِلَّا أَهَبَةً ثَلَاثَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ فَقَدْ وَسَّعَ عَلَى فَارِسَ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّومِ وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَوَى جَالِسًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا فَعَاتَبَهُ اللَّهُ فِي ذَلِكَ وَجَعَلَ لَهُ كَفَّارَةَ الْيَمِينِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ شَيْئًا فَلَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ سورة الأحزاب آية 28 الْآيَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ.
Ibn Abbas said: “I was ever determined to ask Umar about the two women, among the wives of the Prophet, about whom Allah [the Mighty and Sublime] said: If you two turn in repentance, your hearts are indeed so inclined… until once when Umar performed Hajj, and I performed Hajj along with him. I poured water for his Wudu from a water holder, and I said: ‘O Commander of the Believers! Who are the two women among the wives of the Prophet, about whom Allah said: If your two turn in repentance, you hearts are indeed so inclined?’ He said to me: ‘I am astonished at you O Ibn Abbas!’” – Az-Zubair (one of the narrators) said: “By Allah! He disliked what he asked him, but he did not withhold it from him.” – “He said to me: ‘It was Aishah and Hafsah.’” He said: “Then he began narrating the Hadith to me. He said: ‘We, the people of the Quraish, used to have the upper hand over our women. So when we arrived in Al-Madinah, we found a people whose women had the upper hand over them. Our women began acquiring the habits of their women. One day I became angry with my wife when she started talking back to to me, she said: “What bothers you about that? By Allah! The wives of the Prophet talk back to him, and one of them may stay away from him a whole day until the night?’” “He said: ‘I said to myself: “Whoever among them has done that, then she has thwarted herself and lost.’” “He said: ‘My house was in Al-Awali among those of Banu Umayyah, and I had a neighbor among the Ansar, and he and I would take turns visiting the Messenger of Allah.’ He said: ‘One day I would visit him and bring the news of the Revealation, and other than that, and one day he would visit him and bring the same. We heard stories that Ghassan were preparing their horses to attack us. He said: ‘One day he came to me in the evening and knocked on my door, so I went out to him. He said: “A horrible thing has happened.” I said: “Ghassan has come?” He said: “Worse than that. The Messenger of Allah has divorced his wives.’” He said: ‘I said to myself: “Hafsah has thwarted herself and is a loser! I though this would happen some day.’” He said: ‘After we prayed Subh, I put on my clothes, then went to visit Hafsah. There I found her crying. I said: “Has the Messenger of Allah divorced (all of you)?” She said: “I do not know. He has secluded himself in the upper room.’” He said: ‘So I wen, and came upon a black slave, I said: “Seek permission for Umar.’” He said: ‘So he entered then came out to me. He said: “I mentioned you to him, but he did not say anything.’” He said: ‘So I went to the Masjid. There I found a group of people sitting around the Minhar weeping, so I sat down with them. Then it became too much for me, so I went to the slave and said: “Seek permission for Umar.” He went in, then he came out to me and said: “I mentioned you to him, but he did not say anything.’” He said: ‘So I went to the Masjid again, and sat there until I could not take it any more, and I went back to the slave and said: “Seek permission for Umar.” He went in, then he came out to me and said: “I mentioned you to him but he did not say anything.’” He said: ‘So I turned to leave, when the slave called me back. He said: “Enter for he has given you permission.’” He said: ‘So I entered, and found the Prophet reclining upon a woven mat, and I saw the marks it left on his side. I said: “O Messenger of Allah! Have you divorced your women?” He said: “No.” I said: “Allahu Akbar! IF you only saw us O Messenger of Allah! We the people of the Quraish used to have the upper hand over our women, but when we came to Al-Madinah we found a people whose women had the upper hand over them. Our women began acquiring the habits of their women. One day I became angry with my wife, so when she started talking back to me I rebuked her and she said: ‘What bothers you about that? By Allah! The wives of the Prophet talk back to him, and one of them may stay away from him a whole day until the night?’” He said: “I said to Hafsah: ‘Do you talk back to the Messenger of Allah?’ She said: ‘Yes, and one of us may stay away from him all day until the night.’” He said: “I said: ‘Whoever among them has done that, then she has thwarted herself and lost. So any of you feel so secure against Allah becoming angry with you because of the anger of the Messenger of Allah, then she will be ruined?’ He said: ‘So the Prophet smiled.’ He said: ‘So I said to Hafsah: “Do not talk back to the Messenger of Allah, and don’t ask him for anything. Ask me for whatever you want. And do not be tempted by the behavior of your companions, for she is more beautiful than you, and more loved by the Messenger of Allah.’” He said: ‘So he smiled again, I said: “O Messenger of Allah! May I speak candidily?” He said: “Yes.’” He said: ‘I raised my head and did not see in the house except for three hides. So I said: “O Messenger of Allah! Supplicate to Allah to make your followers prosperous. For verily, He has made the Persians and the Romans prosper, and they do not worship Him.” He then sat up and said: “Do you have some doubts O Ibn Al-Khattab? They are a people whose good has been hastened for them in this world’s life.’” He said: ‘He swore that he would not enter upon his women for a month. So Allah censured him for that, and he made the atonement of an oath.’” Az-Zuhri said: “Urwah informed me that Aishah said: “When twenty-nine days passed, the Prophet entered upon me first, and he said: “O Aishah! I am about to mention something to you, but do not be hasty in reply until you consult your parents.’” She said: ‘Then he recited this Ayah: “O Prophet! Say to your wives.” She said: ‘I knew by Allah! That my parents would not tell me to part with him.’ She said: ‘I said: “Is it about this that I should consult with my parents? Indeed I want Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter.” Ma’mar (one of the narrators) said: “Ayyub informed me that Aishah said to him: ‘O Messenger of Allah! Do not inform your wives that I chose you.’ So the Prophet said: ‘Allah send me only as one who conveys (Muballigh), He did not send me as one causing hardship.’”
عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میری برابر یہ خواہش رہی کہ میں عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ”اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ( یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) ، ( مگر مجھے موقع اس وقت ملا ) جب عمر رضی الله عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، میں نے ڈول سے پانی ڈال کر انہیں وضو کرایا، ( اسی دوران ) میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما وإن تظاهرا عليه فإن الله هو مولاه» عمر رضی الله عنہ نے مجھ سے حیرت سے کہا: ہائے تعجب! اے ابن عباس ( تمہیں اتنی سی بات معلوم نہیں ) ( زہری کہتے ہیں قسم اللہ کی ابن عباس رضی الله عنہما نے جو بات پوچھی وہ انہیں بری لگی مگر انہوں نے حقیقت چھپائی نہیں بتا دی ) انہوں نے مجھے بتایا: وہ عائشہ اور حفصہ رضی الله عنہما ہیں، پھر وہ مجھے پوری بات بتانے لگے کہا: ہم قریش والے عورتوں پر حاوی رہتے اور انہیں دبا کر رکھتے تھے، مگر جب مدینہ آئے تو یہاں ایسے لوگ ملے جن پر ان کی بیویاں غالب اور حاوی ہوتی تھیں، تو ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے ان کے رنگ ڈھنگ سیکھنے لگیں، ایک دن ایسا ہوا کہ میں اپنی بیوی پر غصہ ہو گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بھی مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے ( سخت ) ناگوار ہوا کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے، اس نے کہا: آپ کو یہ بات کیوں ناگوار لگ رہی ہے؟ قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب دے رہی ہیں اور دن سے رات تک آپ کو چھوڑے رہتی ہیں ( روٹھی اور اینٹھی رہتی ) ہیں، میں نے اپنے جی میں کہا: آپ کی بیویوں میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور گھاٹے میں رہی، میرا گھر مدینہ کے بنی امیہ نامی محلہ میں عوالی کے علاقہ میں تھا، اور میرا ایک انصاری پڑوسی تھا، ہم باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے تھے، ایک دن وہ آتا اور جو کچھ ہوا ہوتا وہ واپس جا کر مجھے بتاتا، اور ایسے ہی ایک دن میں آپ کے پاس آتا اور وحی وغیرہ کی جو بھی خبر ہوتی میں جا کر اسے بتاتا، ہم ( اس وقت ) باتیں کیا کرتے تھے کہ اہل غسان ہم سے لڑائی کرنے کے لیے اپنے گھوڑوں کے پیروں میں نعلیں ٹھونک رہے ہیں، ایک دن عشاء کے وقت ہمارے پڑوسی انصاری نے آ کر، دروازہ کھٹکھٹایا، میں دروازہ کھول کر اس کے پاس گیا، اس نے کہا: ایک بڑی بات ہو گئی ہے، میں نے پوچھا: کیا اہل غسان ہم پر چڑھائی کر آئے ہیں؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑا معاملہ پیش آ گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے، میں نے اپنے جی میں کہا: حفصہ ناکام رہی گھاٹے میں پڑی، میں سوچا کرتا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے، جب میں نے فجر پڑھی تو اپنے کپڑے پہنے اور چل پڑا، حفصہ کے پاس پہنچا تو وہ ( بیٹھی ) رو رہی تھی، میں نے پوچھا: کیا تم سب بیویوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ہے، البتہ آپ اس بالاخانے پر الگ تھلگ بیٹھے ہیں، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں ( اٹھ کر آپ سے ملنے ) چلا، میں ایک کالے رنگ کے ( دربان ) لڑکے کے پاس آیا اور اس سے کہا: جاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر کے آنے کی اجازت مانگو، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: وہ لڑکا آپ کے پاس گیا پھر نکل کر میرے پاس آیا اور کہا: میں نے آپ کے آنے کی خبر کی مگر آپ نے کچھ نہ کہا، میں مسجد چلا گیا ( دیکھا ) منبر کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے رو رہے تھے، میں بھی انہیں لوگوں کے پاس بیٹھ گیا، ( مجھے سکون نہ ملا ) میری فکرو تشویش بڑھتی گئی، میں اٹھ کر دوبارہ لڑکے کے پاس چلا آیا، میں نے کہا: جاؤ آپ سے عمر کے اندر آنے کی اجازت مانگو، تو وہ اندر گیا پھر میرے پاس واپس آیا، اس نے کہا: میں نے آپ کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں دوبارہ مسجد میں آ کر بیٹھ گیا، مگر مجھ پر پھر وہی فکر سوار ہو گئی، میں ( سہ بارہ ) لڑکے کے پاس آ گیا اور اس سے کہا: جاؤ اور آپ سے عمر کے اندر آنے کی اجازت مانگو، وہ لڑکا اندر گیا پھر میرے پاس واپس آیا، کہا: میں نے آپ سے آپ کے آنے کا ذکر کیا مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا، ( یہ سن کر ) میں پلٹ پڑا، یکایک لڑکا مجھے پکارنے لگا، ( آ جائیے آ جائیے ) اندر تشریف لے جائیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے، میں اندر چلا گیا، میں نے دیکھا آپ بوریئے پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں اور اس کا اثر و نشان آپ کے پہلوؤں میں دیکھا، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: اللہ اکبر، آپ نے دیکھا ہو گا اللہ کے رسول! ہم قریشی لوگ اپنی بیویوں پر کنٹرول رکھتے تھے، لیکن جب ہم مدینہ آ گئے تو ہمارا سابقہ ایک ایسی قوم سے پڑ گیا ہے جن پر ان کی بیویاں حاوی اور غالب رہتی ہیں، ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے ( ان کے طور طریقے ) سیکھنے لگیں، ایک دن اپنی بیوی پر غصہ ہوا تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے یہ سخت برا لگا، کہنے لگی آپ کو کیوں اتنا برا لگ رہا ہے، قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں بھی آپ کو پلٹ کر جواب دے رہی ہیں اور کوئی بھی عورت دن سے رات تک آپ کو چھوڑ کر ( روٹھی و اینٹھی ) رہتی ہے، میں نے حفصہ سے کہا: کیا تم پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو؟ اس نے کہا: ہاں، ہم میں کوئی بھی آپ سے ( خفا ہو کر ) دن سے رات تک آپ سے علیحدہ رہتی ہے، میں نے کہا: تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ گھاٹے میں رہی اور ناکام ہوئی، کیا تم میں سے ہر کوئی اس بات سے مطمئن ہے کہ اللہ اپنے رسول کی ناراضگی کے سبب اس سے ناراض و ناخوش ہو جائے اور وہ ہلاک و برباد ہو جائے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے حفصہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب نہ دو اور نہ آپ سے کسی چیز کا مطالبہ کرو، جس چیز کی تمہیں حاجت ہو وہ مجھ سے مانگ لیا کرو، اور تم بھروسے میں نہ رہو تمہاری سوکن تو تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی ہے ۱؎ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر مسکرا دیئے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں دل بستگی کی بات کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، عمر کہتے ہیں: میں نے سر اٹھایا تو گھر میں تین کچی کھالوں کے سوا کوئی اور چیز دکھائی نہ دی، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمایئے کہ وہ آپ کی امت کو وہ کشادگی و فراوانی دے جو اس نے روم و فارس کو دی ہے، جب کہ وہ اس کی عبادت و بندگی بھی نہیں کرتے ہیں، ( یہ سن کر ) آپ جم کر بیٹھ گئے، فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! کیا تم ابھی تک اسلام کی حقانیت کے بارے میں شک و شبہہ میں پڑے ہوئے ہو؟ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ان کے حصہ کی اچھی چیزیں پہلے ہی دنیا میں دے دی گئی ہیں“، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک مہینہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے فہمائش کی اور آپ کو کفارہ یمین ( قسم کا کفارہ ) ادا کرنے کا حکم دیا۔ زہری کہتے ہیں: عروہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ رضی الله عنہا نے بتایا کہ جب مہینے کے ۲۹ دن گزر گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کا ذکر کرنے والا ہوں، اپنے والدین سے مشورہ کئے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا“، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي قل لأزواجك» ( آخر آیت تک ) ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور اس کی خوش رنگینیاں چاہیئے، تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دوں، اور خوش اسلوبی سے تم کو رخصت کر دوں، اور اگر تمہیں اللہ اور اس کا رسول چاہیں اور آخرت کی بھلائی چاہیں تو بیشک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیک عمل کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے“ ( الاحزاب: ۲۸، ۲۹ ) ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ جانتے تھے، قسم اللہ کی میرے والدین مجھے آپ سے علیحدگی اختیار کر لینے کا ہرگز حکم نہ دیں گے، میں نے کہا: کیا میں اس معاملے میں والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی اور پسند کرتی ہوں۔
Mishkat
5864
وَعَن ابْن شهَاب عَن أنسٍ قَالَ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُرِجَ عني سقفُ بَيْتِي وَأَنا بِمَكَّة فَنزل جِبْرِيل فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٌ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهُ فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بيَدي فعرج بِي إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا. قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ: افْتَحْ. قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ جِبْرِيلُ. قَالَ: هَل مَعَك أحد؟ قَالَ: نعم معي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ فَلَمَّا فَتَحَ عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ عَلَى يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَلَى يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ إِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شَمَالِهِ بَكَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ. قُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا آدَمُ وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمين مِنْهُم أهل الْجنَّة والأسودة عَن شِمَاله أهلُ النَّار فَإِذا نظر عَن يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شَمَالِهِ بَكَى حَتَّى عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَقَالَ لِخَازِنِهَا: افْتَحْ فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُ قَالَ أَنَسٌ: فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَا يَقُولَانِ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «ثمَّ عرج بِي حَتَّى وصلت لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ» وَقَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسٌ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى. فَقَالَ: مَا فَرْضُ اللَّهِ لَكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: فَرَضَ خَمْسِينَ صَلَاةً. قَالَ: فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِن أُمَّتكَ لَا تطِيق فراجعت فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقُلْتُ: وَضَعَ شَطْرَهَا فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَاجَعْتُهُ فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ. فَقُلْتُ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ثُمَّ انْطُلِقَ بِي حَتَّى انْتُهِيَ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ؟ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابن شہاب ، انس ؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا : ابوذر ؓ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں مکہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھول دی گئی تو جبریل ؑ نازل ہوئے انہوں نے میرا سینہ چاک کیا ، پھر اسے آب زم زم کے ساتھ دھویا ، پھر وہ حکمت و ایمان سے بھری ہوئی سونے کی طشت لائے ، اسے میرے سینے میں ڈال دیا ، پھر اسے جوڑ دیا ، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے گئے ، جب میں آسمان دنیا پر پہنچا تو جبریل نے آسمان کے محافظ سے کہا ، دروازہ کھولو ، اس نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ فرمایا ، جبریل ، اس نے پوچھا : آپ کے ساتھ کوئی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا ان کی طرف بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، جب دروازہ کھول دیا گیا تو ہم آسمان دنیا پر چلے گئے ، وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا کچھ لوگ اس کے دائیں طرف تھے اور کچھ اس کے بائیں طرف ، جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھتے تو مسکرا دیتے اور جب اپنی بائیں جانب دیکھتے تو رونا شروع کر دیتے ، انہوں نے کہا : خوش آمدید نبی صالح اور بیٹے صالح ، میں نے جبریل ؑ سے پوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ آدم ؑ ہیں ، اور ان کے دائیں اور بائیں جانب جو گروہ ہیں ، یہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں ، ان کے دائیں طرف والا گروہ اہل جنت کا ہے ، اور ان کے بائیں طرف والا گروہ جہنمیوں کا ہے ، جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھتے ہیں تو مسکراتے ہیں ، اور جب اپنی بائیں جانب دیکھتے ہیں تو رو دیتے ہیں ، پھر مجھے دوسرے آسمان تک لے جایا گیا ، جبریل ؑ نے اس کے محافظ سے کہا : دروازہ کھولو ، اس کے محافظ نے بھی انہیں ویسے ہی کہا جیسا پہلے آسمان والے محافظ نے کہا تھا ۔‘‘ انس ؓ بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے ذکر فرمایا کہ انہوں نے آسمانوں میں آدم ، ادریس ، موسیٰ ، عیسیٰ اور ابراہیم ؑ سے ملاقات کی ، اور ابوذر ؓ نے یہ بیان نہیں کیا کہ ان کی منازل کیسی ہیں ، البتہ انہوں نے یہ ذکر کیا کہ آپ ﷺ نے آدم ؑ کو آسمان دنیا پر اور ابراہیم ؑ کو چھٹے آسمان پر پایا ، ابن شہاب نے بیان کیا ، ابن حزم نے مجھے خبر دی کہ ابن عباس اور ابوحبہ انصاری ؓ دونوں بیان کیا کرتے تھے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ پھر مجھے اوپر لے جایا گیا حتیٰ کہ میں اس قدر بلند جگہ پر پہنچ گیا کہ میں قلموں کے لکھنے کی آواز سنتا تھا ۔‘‘ ابن حزم اور انس ؓ نے بیان کیا ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں ، میں یہ (حکم) لے کر واپس ہوا ، اور میرا گزر موسی ؑ کے پاس سے ہوا تو انہوں نے فرمایا : اللہ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے ؟ میں نے کہا : پچاس نمازیں ، انہوں نے فرمایا : اپنے رب کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت طاقت نہیں رکھے گی ، انہوں نے مجھے واپس لوٹا دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان (نمازوں) کا کچھ حصہ کم کر دیا ، میں موسی ؑ کے پاس واپس آیا تو میں نے بتایا کہ اس نے ان میں سے کچھ کم کر دی ہیں ، انہوں نے فرمایا : اپنے رب کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھ سکے گی ، میں واپس گیا اور اپنی بات دہرائی تو اس نے ان میں سے کچھ اور کم کر دیں ، میں پھر ان کے پاس واپس آیا ، تو انہوں نے فرمایا : اپنے رب کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی ، میں نے پھر اس سے درخواست کی تو اس نے فرمایا : وہ (ادائیگی میں) پانچ ہیں اور (ثواب میں) وہ پچاس ہیں میرے ہاں بات تبدیل نہیں کی جاتی ، میں موسی ؑ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا : اپنے رب کے پاس پھر جائیں ، میں نے کہا : مجھے اپنے رب کے (پاس بار بار جانے) سے شرم آتی ہے ، پھر مجھے سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا ، کئی رنگوں نے اسے ڈھانپ رکھا تھا ، میں نہیں جانتا وہ کیا ہیں ؟ پھر مجھے جنت میں لے جایا گیا ، وہاں موتیوں کے گنبد تھے اور اس کی مٹی کستوری کی تھی ۔‘‘ متفق علیہ ۔