TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ عاربہ: خالص عرب مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔ - عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ عاربہ: خالص عرب مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔ - گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 17 · 3 Hadith
۔ (۱۰۴۴۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ سَبَأٍ مَا ھُوَ أَ رَجُلٌ أَمْ اِمْرَأَۃٌ أَمْ أَرْضٌ؟ فَقَالَ: ((بَلْ ھُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَۃً فَسَکَنَ الْیَمَنَ مِنْھُمْ سِتَّۃٌ، وَبِالشَّامِ مِنْھُمْ أَرْبَعَۃٌ، فَأَمَّا الْیَمَانِیُّوْنَ فَمَذْحِجٌ وَکِنْدَۃُ وَالْأَزْدُ، وَالْأَشْعَرِیُّوْنَ وَأَنْمَارٌ، وَحِمْیَرُ عَرَبًا کُلُّھَا، وَأَمَّا الشَّامِیَّۃُ فَلَخْمٌ وَجُذَامٌ وَعَامِلَۃُ وَغَسَّانُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سبا کے بارے میں سوال کیا کہ وہ مرد تھا یا عورت یا زمین کانام ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:وہ مرد تھا، اس کے دس بچے تھے، ان میں چھ یمن میں اور چار شام میں آباد ہوئے، پس یمنییہ ہیں: مذحج، کندہ، ازد، اشعری، انمار اور حمیر،یہ سارے کے سارے عرب تھے اور شامییہ ہیں: لخم، جذام، عاملہ اور غسان۔
Takhreej
(۱۰۴۴۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۴۲۳ (انظر: ۲۸۹۸)
Explanation
فوائد:… دس بچے ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ دس آدمی سبا کی نسل میں سے ہیں،کوئی اس کا بیٹا ہے، کوئی پوتا اور پڑپوتا وغیرہ۔
10441
Sahih
۔ (۱۰۴۴۲)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ مُسَیْکٍ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْل َاللّٰہِ! أُقَاتِلُ بِمُقْبِلِ قَوْمِیْ مُدْبِرَھُمْ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ، فَقَاتِلْ بِمُقْبِلِ قَوْمِکَ مُدْبِرَھُمْ۔)) فَلَمَّا وَلَّیْتُ دَعَانِیْ فَقَالَ: ((لَا تُقَاتِلْھُمْ حَتّٰی تَدْعُوَھُمْ اِلَی الْإِسْلَامِ۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ رَأَیْتَ سَبَأً، أ وَادٍ ھُوَ أَوْ جَبَلٌ، مَا ھُوَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( لَا بَلْ ھُوَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرْبِ وُلِدَ لَہُ عَشْرَۃٌ، فَتَیَامَنَ سِتَّۃٌ وَتَشَائَ مَ أَرْبَعَۃٌ، تَیَامَنَ الْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِیُّوْنَ وَحِمْیَرٌ وَکِنْدَۃُ وَمذْحِجٌ وَأَنْمَارٌ الَّذِیْنَیُقَالُ لَھُمْ بَجَیْلَۃُ وَخَثْعَمُ، وَتَشَائَمَ لَخْمٌ وَجُذَامٌ وَعَامِلَۃُ وَغَسَّانُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۰۶)
۔ سیدنا عروہ بن مسیک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم کے مسلمان ہونے والے افراد کو لے کر اس کے اسلام قبول نہ کرنے والے افراد سے جہاد کر سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، تو اپنی قوم کے مسلمانوں کو لے کر اپنی قوم کے کافروں سے لڑائی کر۔ پھر جب میں جانے لگا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: تو نے اس وقت تک ان سے قتال نہیں کرنا، جب تک ان کو اسلام کی دعوت نہ دے دے۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سبأ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، یہ وادی کا نام ہے یا کوئی پہاڑ ہے؟ یہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ تو ایک آدمی تھا، اس کے دس بچے پیدا ہوئے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں بسے، یمن میں آباد ہونے والے ازد، اشعری، حمیر، کندہ، مذحج اور انمار ہیں، مؤخر الذکرکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بجیلہ اور خثعم بھی ان میں سے ہیں، اور شام میں آباد ہونے والے لخم، جذام، عاملہ اور غسان ہیں۔
Takhreej
(۱۰۴۴۲) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۸۳۴(انظر: ۰۰۰/۸۸)
10442
Sahih
۔ (۱۰۴۴۳)۔ عَنْ ذِیْ مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ ھٰذَا الْأَمْرُ فِیْ حِمْیَرَ فَنَزَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْھُمْ فَجَعَلَہُ فِیْ قُرَیْشٍ وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ۔)) وَکَذَا کَانَ فِیْ کِتَابِ أَبِیْ مُقَطَّعٌٍ وَحَیْثُ حَدَّثَنَا بِہٖتَکَلَّمَ عَلَی الْإِسْتَوَائِ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۵۲)
۔ سیدنا ذو مخمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت و ملوکیت والا) معاملہ حمیر قبیلے میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے سلب کر کے قریش کے سپرد کر دیا، عنقریبیہ معاملہ ان ہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میرے باپ کی کتاب میں آخریالفاظ مقطّعات شکل میں تھے، البتہ انھوں نے ہم کو بیان کرتے وقت ان کو برابر ہی پڑھا تھا، (جیسے باقی حدیث پڑھی)۔
Takhreej
(۱۰۴۴۳) تخریج: اسنادہ جیّد، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۲۲۷ (انظر: ۱۶۸۲۷)
Explanation
فوائد:… حدیث میں مذکورہ حروفِ مقطعات (وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ) سے مراد وَسَیَعُوْدُ اِلَیْھِمْ ہے۔ حمیریمن میں آباد ہونے والے عرب تھے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے پتہ چل رہا ہے، مشہور یہ ہے کہ یہ قحطان سے ہیں، ارطاۃ بن منذر تابعی نے کہا: قحطانی لوگ امام مہدی کے بعد نمودار ہوں گے اور امام مہدی کی سیرت اختیار کریں گے، درج ذیل حدیث میں مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ یَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاہُ۔)) … قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ ایک قحطانی آدمی نکلے اور اپنی لاٹھی سے لوگوں کو ہانکے (یعنی حکومت کرے گا)۔ (صحیح بخاری: ۳۲۵۶، صحیح مسلم: ۵۱۸۲) قریشی تقریبا ابتدائی چھ صدیوں تک حکومت کر تے رہے، بالآخر دین سے انحراف کرنے کی وجہ سے تاتاریوں نے ان کی سلطنت کو نیست و نابود کر دیا۔
10443
Sahih

Chapters

17
01
قصہ گوہ لوگوں کا بیان
7 Hadith
02
بنی اسرائیل کی روایات بیان کرنے کا بیان
3 Hadith
03
ماشطہ بنت فرعون اور گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
04
کھائی والوں کے قصے اور بیچ میں گہوارے میں کلام کرنے والے کا بیان
1 Hadith
05
بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص جریج کے قصے کا ذکر اور اس میں میں گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بھی بیان ہے
3 Hadith
06
ان تین افراد کا قصہ، جنھوں نے غار میںپناہ لی اور وہ غار ان پر بند ہو گئی
2 Hadith
07
کفل اور ذی الکفل کے قصے کا بیان
1 Hadith
08
ان دو بادشاہوں کا قصہ، جو دنیا اور اس کی سجاوٹ سے کنارہ کش ہو گئے
1 Hadith
09
عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ عاربہ: خالص عرب مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
3 Hadith
10
یمن کے بادشاہ تبع کا ذکر اور اہل مدینہ کے ساتھ اس کے قصے کا بیان
1 Hadith
11
خزاعہ کا قصہ، بیت اللہ کی ولایت کا ان سے نکل کر قصی بن کلاب کو ملنا، عمرو بن لحیی کی خبر اور بتوںکی عبادت کا بیان
2 Hadith
12
حاتم طائی کا ذکر
1 Hadith
13
عبد اللہ بن جدعان کا ذکر
1 Hadith
14
مشہور شاعر امرؤ القیس بن حجر کا ذکر
1 Hadith
15
امیہ بن ابی صلت اور اس کے چند اشعارکا
2 Hadith
16
زید بن عمرو بن نفیل کا ذکر
1 Hadith
17
زوجۂ رسول سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچا زاد ورقہ بن نوفل کا ذکر
1 Hadith
No chapter matched that.