۔ (۱۰۴۴۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنْ سَبَأٍ مَا ھُوَ أَ رَجُلٌ أَمْ اِمْرَأَۃٌ أَمْ أَرْضٌ؟ فَقَالَ: ((بَلْ ھُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَۃً فَسَکَنَ الْیَمَنَ مِنْھُمْ سِتَّۃٌ، وَبِالشَّامِ مِنْھُمْ أَرْبَعَۃٌ، فَأَمَّا الْیَمَانِیُّوْنَ فَمَذْحِجٌ وَکِنْدَۃُ وَالْأَزْدُ، وَالْأَشْعَرِیُّوْنَ وَأَنْمَارٌ، وَحِمْیَرُ عَرَبًا کُلُّھَا، وَأَمَّا الشَّامِیَّۃُ فَلَخْمٌ وَجُذَامٌ وَعَامِلَۃُ وَغَسَّانُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سبا کے بارے میں سوال کیا کہ وہ مرد تھا یا عورت یا زمین کانام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:وہ مرد تھا، اس کے دس بچے تھے، ان میں چھ یمن میں اور چار شام میں آباد ہوئے، پس یمنییہ ہیں: مذحج، کندہ، ازد، اشعری، انمار اور حمیر،یہ سارے کے سارے عرب تھے اور شامییہ ہیں: لخم، جذام، عاملہ اور غسان۔
Takhreej
(۱۰۴۴۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۴۲۳ (انظر: ۲۸۹۸)
Explanation
فوائد:… دس بچے ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ دس آدمی سبا کی نسل میں سے ہیں،کوئی اس کا بیٹا ہے، کوئی پوتا اور پڑپوتا وغیرہ۔
10441
Sahih