TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زید بن عمرو بن نفیل کا ذکر - زید بن عمرو بن نفیل کا ذکر - گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 16 of گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 16 of 17 · 1 Hadith
۔ (۱۰۴۵۲)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ لَقِیَ زَیْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ، و ذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْوَحْیُ، فَقَدَّمَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُفْرَۃً فِیْھَا لَحْمٌ فَأَبَی أَنْ یَّأْکُلَ مِنْھَا، ثُمَّّ قَالَ: إِنِّیْ لَا آکُلُ مَا تَذْبَحُوْنَ عَلٰی أَنْصَابِکُمْ وَ لَا آکُلُ اِلَّا مَا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، وَ حَدَّثَ ھٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہٖوَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۶۱۱۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، زید بن عمرو بن نفیل کو بلدح کے زیریں مقام پر ملے، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نزولِ وحی سے پہلے کی بات ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو ایک تھیلا پیش کیا، اس میں گوشت تھا، لیکن اس نے اس سے کھانے سے انکارکر دیا اور کہا: بیشک میں وہ چیز نہیں کھاتا جوتم اپنے تھانوں پر ذبح کرتے ہو، میں صرف وہ چیز کھاتا ہوں، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا۔
Takhreej
(۱۰۴۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۲۶ ، ۵۴۹۹ (انظر: ۶۱۱۰)
Explanation
فوائد:… زید بن عمرو بن نفیل، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا زاد تھے، انھوں نے نے بتوں کی عبادت کو ترک کر دیا تھا اور مشرکوں کے دین سے الگ تھلگ ہو گئے تھے اور صرف اس جانور کا گوشت کھاتے تھے، جو اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا جاتا تھا۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں زید بن عمرو کو ملی، وہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے: اے قریشیو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں زید کی جان ہے! تم میں سے کوئی آدمی دین ِ ابراہیمی کا پیروکار نہیںہے، ما سوائے میرے، پھر وہ کہتے: اے اللہ ! اگر مجھے پتہ ہوتا کہ کون سا چہرہ تجھے سب سے پسند ہے تو میں اس کے ذریعے تیری عبادت کرتا۔ … یہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور کہتے: ابراہیم علیہ السلام کا معبود میرا معبود ہے اور ابراہیم علیہ السلام کا دین میرا دین ہے، یہ بچیوں کو زندہ درگور نہیں کرتے تھے، بلکہ جب کوئی آدمی اپنی بچی کو قتل کرنا چاہتا تو یہ اس کو کہتے: اس کو قتل نہ کر، بلکہ مجھے دے دے، میں اس کی کفالت کروں گا، پھر جب یہ بالغ ہو جائے گی تو مجھ سے لے لینایا میرے پاس چھوڑ دینا، جیسے تیری مرضی ہو گی۔ ایک بار یہ اہل کتاب میں دینِ ابراہیمی تلاش کرنے کے لیے شام کی طرف نکلے، مختلف لوگوں سے سوال کرنے کے لیے موصل اور جزیرہ کا گشت کیا، پھر شام کی طرف واپس پلٹے اور بلقاء کی سرزمین میں ایک گرجا گھر میں ایک پادری کے پاس آئے، لوگوں کا خیال تھا کہ یہ پادری نصرانیت کا مکمل علم رکھتا تھا، انھوں نے اُس سے ابراہیم علیہ السلام کے دینِ حنیف کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: تو ایسے دین کے بارے میں سوال کر رہا ہے کہ آج کوئی بھی اس پر پابند نہیں ہے، اس دین کا علم مٹ چکا ہے اور اس کی معرفت رکھنے والے فوت ہو چکے ہیں، ہاں اب ایک نبی کے ظہور کا وقت ہو چکا ہے، زیدبن عمرو یہودیت اور نصرانت کی طلب میںنکلے تھے، لیکن ان دو ادیان کی کوئی چیز ان کو پسند نہ آئی، پھر وہ وہاں سے نکلے اورمکہ مکرمہ پہنچنے کے لیے جلدی کی، لیکن جو لخم کے علاقے سے گزرے توان لوگوں نے ان پر حملہ کر کے ان کو قتل کر دیا، ورقہ بن نوفل نے ان کا مرثیہ پڑھتے ہوئے کہا: رَشَدْتَّ وَ اَنْعَمْتَ ابْنَ عَمْرٍو وَاِنَّمَا تَجَنَّبْتَ تـَــنُّـــــورًا مِّــــنَ النَّارِ حَامِیَا بِدِیْنِکَ رَبًّــا لَــیْــسَ رَبٌّ کَـــمِثْــــــلِہِ وَتَرْکِکَ اْوَثَانَ الطَّوَاغِیْ کَمَا ھِیَا اے ابن عمرو! تو ہدایت پا گیا اور تو نے بہت اچھا کیا اور تو بچ گیا دہکتی ہوئی آگ کے تنور سے ایسے ربّ کو لائقِ عبادت سمجھ کر کہ جس کی طرح کا کوئی ربّ نہیں ہے اور بتوں کو ان کی حالت پر چھوڑ کر۔ (ملخص از البدایۃ والنھایۃ لا بن کثیر)
10452
Sahih

Chapters

17
01
قصہ گوہ لوگوں کا بیان
7 Hadith
02
بنی اسرائیل کی روایات بیان کرنے کا بیان
3 Hadith
03
ماشطہ بنت فرعون اور گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
04
کھائی والوں کے قصے اور بیچ میں گہوارے میں کلام کرنے والے کا بیان
1 Hadith
05
بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص جریج کے قصے کا ذکر اور اس میں میں گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بھی بیان ہے
3 Hadith
06
ان تین افراد کا قصہ، جنھوں نے غار میںپناہ لی اور وہ غار ان پر بند ہو گئی
2 Hadith
07
کفل اور ذی الکفل کے قصے کا بیان
1 Hadith
08
ان دو بادشاہوں کا قصہ، جو دنیا اور اس کی سجاوٹ سے کنارہ کش ہو گئے
1 Hadith
09
عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ عاربہ: خالص عرب مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
3 Hadith
10
یمن کے بادشاہ تبع کا ذکر اور اہل مدینہ کے ساتھ اس کے قصے کا بیان
1 Hadith
11
خزاعہ کا قصہ، بیت اللہ کی ولایت کا ان سے نکل کر قصی بن کلاب کو ملنا، عمرو بن لحیی کی خبر اور بتوںکی عبادت کا بیان
2 Hadith
12
حاتم طائی کا ذکر
1 Hadith
13
عبد اللہ بن جدعان کا ذکر
1 Hadith
14
مشہور شاعر امرؤ القیس بن حجر کا ذکر
1 Hadith
15
امیہ بن ابی صلت اور اس کے چند اشعارکا
2 Hadith
16
زید بن عمرو بن نفیل کا ذکر
1 Hadith
17
زوجۂ رسول سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچا زاد ورقہ بن نوفل کا ذکر
1 Hadith
No chapter matched that.