TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(39) CHAPTER. The writing of knowledge. - ( دینی ) علم کو قلم بند کرنے کے جواز میں - The book of knowledge. - Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Chapter 37 of The book of knowledge. in Sahih Bukhari. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 37 of 51 · 4 Hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَلِيِّ : هَلْ عِنْدَكُمْ كِتَابٌ ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ ، أَوْ فَهْمٌ أُعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، قَالَ : قُلْتُ ، فَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ : الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ ، وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ .
Narrated Ash-Shu`bi: Abu Juhaifa said, I asked `Ali, 'Have you got any book (which has been revealed to the Prophet apart from the Qur'an)?' `Ali replied, 'No, except Allah's Book or the power of understanding which has been bestowed (by Allah) upon a Muslim or what is (written) in this sheet of paper (with me).' Abu Juhaifa said, I asked, 'What is (written) in this sheet of paper?' `Ali replied, it deals with The Diyya (compensation (blood money) paid by the killer to the relatives of the victim), the ransom for the releasing of the captives from the hands of the enemies, and the law that no Muslim should be killed in Qisas (equality in punishment) for the killing of (a disbeliever).
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہیں وکیع نے سفیان سے خبر دی، انہوں نے مطرف سے سنا، انہوں نے شعبی رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابوحجیفہ سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ( اور بھی ) کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، مگر اللہ کی کتاب قرآن ہے یا پھر فہم ہے جو وہ ایک مسلمان کو عطا کرتا ہے۔ یا پھر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ میں نے پوچھا، اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، دیت اور قیدیوں کی رہائی کا بیان ہے اور یہ حکم کہ مسلمان، کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
111
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْقَتْلَ أَوِ الْفِيلَ ، شَكَّ أَبُو عَبْد اللَّهِ ، كَذَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : وَاجْعَلُوهُ عَلَى الشَّكِّ الْفِيلَ أَوِ الْقَتْلَ ، وَغَيْرُهُ يَقُولُ : الْفِيلَ ، وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلُّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي ، أَلَا وَإِنَّهَا حَلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا ، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، وَلَا تُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ ، فَمَنْ قُتِلَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، إِمَّا أَنْ يُعْقَلَ وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : اكْتُبُوا لِأَبِي فُلَانٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ : إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلَّا الْإِذْخِرَ إِلَّا الْإِذْخِرَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : يُقَالُ يُقَادُ بِالْقَافِ ، فَقِيلَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ : أَيُّ شَيْءٍ كَتَبَ لَهُ ، قَالَ : كَتَبَ لَهُ هَذِهِ الْخُطْبَةَ .
Narrated Abu Huraira: In the year of the Conquest of Mecca, the tribe of Khuza`a killed a man from the tribe of Bani Laith in revenge for a killed person, belonging to them. They informed the Prophet about it. So he rode his Rahila (she-camel for riding) and addressed the people saying, Allah held back the killing from Mecca. (The sub-narrator is in doubt whether the Prophet said elephant or killing, as the Arabic words standing for these words have great similarity in shape), but He (Allah) let His Apostle and the believers over power the infidels of Mecca. Beware! (Mecca is a sanctuary) Verily! Fighting in Mecca was not permitted for anyone before me nor will it be permitted for anyone after me. It (war) in it was made legal for me for few hours or so on that day. No doubt it is at this moment a sanctuary, it is not allowed to uproot its thorny shrubs or to uproot its trees or to pick up its Luqat (fallen things) except by a person who will look for its owner (announce it publicly). And if somebody is killed, then his closest relative has the right to choose one of the two-- the blood money (Diyya) or retaliation having the killer killed. In the meantime a man from Yemen came and said, O Allah's Apostle! Get that written for me. The Prophet ordered his companions to write that for him. Then a man from Quraish said, Except Al-Idhkhir (a type of grass that has good smell) O Allah's Apostle, as we use it in our houses and graves. The Prophet said, Except Al-Idhkhir i.e. Al-Idhkhir is allowed to be plucked.
ہم سے ابونعیم الفضل بن دکین نے بیان کیا، ان سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوسلمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ خزاعہ ( کے کسی شخص ) نے بنو لیث کے کسی آدمی کو اپنے کسی مقتول کے بدلے میں مار دیا تھا، یہ فتح مکہ والے سال کی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی گئی، آپ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ پڑھا اور فرمایا کہ اللہ نے مکہ سے قتل یا ہاتھی کو روک لیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس لفظ کو شک کے ساتھ سمجھو، ایسا ہی ابونعیم وغیرہ نے «القتل» اور «الفيل» کہا ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے لوگ «الفيل» کہتے ہیں۔ ( پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) کہ اللہ نے ان پر اپنے رسول اور مسلمان کو غالب کر دیا اور سمجھ لو کہ وہ ( مکہ ) کسی کے لیے حلال نہیں ہوا۔ نہ مجھ سے پہلے اور نہ ( آئندہ ) کبھی ہو گا اور میرے لیے بھی صرف دن کے تھوڑے سے حصہ کے لیے حلال کر دیا گیا تھا۔ سن لو کہ وہ اس وقت حرام ہے۔ نہ اس کا کوئی کانٹا توڑا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیزیں بھی وہی اٹھائے جس کا منشاء یہ ہو کہ وہ اس چیز کا تعارف کرا دے گا۔ تو اگر کوئی شخص مارا جائے تو ( اس کے عزیزوں کو ) اختیار ہے دو باتوں کا، یا دیت لیں یا بدلہ۔ اتنے میں ایک یمنی آدمی ( ابوشاہ نامی ) آیا اور کہنے لگا ( یہ مسائل ) میرے لیے لکھوا دیجیئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوفلاں کے لیے ( یہ مسائل ) لکھ دو۔ تو ایک قریشی شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! مگر اذخر ( یعنی اذخر کاٹنے کی اجازت دے دیجیئے ) کیونکہ اسے ہم گھروں کی چھتوں پر ڈالتے ہیں۔ ( یا مٹی ملا کر ) اور اپنی قبروں میں بھی ڈالتے ہیں ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( ہاں ) مگر اذخر، مگر اذخر۔
112
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، قَالَ : أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَلَا أَكْتُبُ ، تَابَعَهُ مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
Narrated Abu Huraira: There is none among the companions of the Prophet who has narrated more Hadiths than I except `Abdullah bin `Amr (bin Al-`As) who used to write them and I never did the same.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو نے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے وہب بن منبہ نے اپنے بھائی کے واسطے سے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے علاوہ مجھ سے زیادہ کوئی حدیث بیان کرنے والا نہیں تھا۔ مگر وہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ دوسری سند سے معمر نے وہب بن منبہ کی متابعت کی، وہ ہمام سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔
113
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا اشْتَدَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ ، قَالَ : ائْتُونِي بِكِتَابٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ ، قَالَ عُمَرُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللَّهِ حَسْبُنَا ، فَاخْتَلَفُوا وَكَثُرَ اللَّغَطُ ، قَالَ : قُومُوا عَنِّي وَلَا يَنْبَغِي عِنْدِي التَّنَازُعُ ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ كِتَابِهِ .
Narrated 'Ubaidullah bin `Abdullah: Ibn `Abbas said, When the ailment of the Prophet became worse, he said, 'Bring for me (writing) paper and I will write for you a statement after which you will not go astray.' But `Umar said, 'The Prophet is seriously ill, and we have got Allah's Book with us and that is sufficient for us.' But the companions of the Prophet differed about this and there was a hue and cry. On that the Prophet said to them, 'Go away (and leave me alone). It is not right that you should quarrel in front of me. Ibn `Abbas came out saying, It was most unfortunate (a great disaster) that Allah's Apostle was prevented from writing that statement for them because of their disagreement and noise. (Note: It is apparent from this Hadith that Ibn `Abbas had witnessed the event and came out saying this statement. The truth is not so, for Ibn `Abbas used to say this statement on narrating the Hadith and he had not witnessed the event personally. See Fath Al-Bari Vol. 1, p.220 footnote.) (See Hadith No. 228, Vol. 4).
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے، انہیں یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، وہ عبیداللہ بن عبداللہ سے، وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں شدت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سامان کتابت لاؤ تاکہ تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں، تاکہ بعد میں تم گمراہ نہ ہو سکو، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ( لوگوں سے ) کہا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن موجود ہے جو ہمیں ( ہدایت کے لیے ) کافی ہے۔ اس پر لوگوں کی رائے مختلف ہو گئی اور شور و غل زیادہ ہونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ کھڑے ہو، میرے پاس جھگڑنا ٹھیک نہیں، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ کہتے ہوئے نکل آئے کہ بیشک مصیبت بڑی سخت مصیبت ہے ( وہ چیز جو ) ہمارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کی تحریر کے درمیان حائل ہو گئی۔
114
Sahih

Chapters

51
01
(2) CHAPTER. Whoever is asked about knowledge while he is busy in some conversation, so he finished his talk, and then answered the questioner.
اس بیان میں کہ جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے
1 Hadith
02
(3) CHAPTER. Whoever raises his voice in (conveying) knowledge.
اس کے بارے میں جس نے علمی مسائل کے لیے اپنی آواز کو بلند کیا
1 Hadith
03
(4) CHAPTER. Concerning variety of words used by the narrators conveying different significations regarding the concept of narrating and which has importance for the Hadith scholars only.
محدث کا لفظ حدثنا واخبرنا وانبانا استعمال کرنا صحیح ہے
1 Hadith
04
(5) CHAPTER. The Imam questioning his companions in order to test their knowledge.
استاد اپنے شاگردوں کا علم آزمانے کے لیے ان سے کوئی سوال کرے ۔ ( یعنی امتحان لینے کا بیان )
1 Hadith
05
(6) CHAPTER. What is said about knowledge.
شاگرد کا استاد کے سامنے پڑھنا اور اس کو سنانا
1 Hadith
06
(7) CHAPTER. What is said regarding the hand to hand exchange (of books of knowledge), and the writing of knowledge by religious scholars to different countries.
مناولہ کا بیان اور اہل علم کا علمی باتیں لکھ کر ( دوسرے ) شہروں کو بھیجنا
2 Hadith
07
(8) CHAPTER. Whoever sat at the farther end of a gathering. And whoever found a place amongst a gathering and took his seat there.
وہ شخص جو مجلس کے آخر میں بیٹھ جائے اور وہ شخص جو درمیان میں جہاں جگہ دیکھے بیٹھ جائے ( بشرطیکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو )
1 Hadith
08
(9) CHAPTER. The Statement of the Prophet : It is probable that a person who receives a piece of information indirectly may comprehend it better than he who has heard it directly from its source.”
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل میں کہ بسا اوقات وہ شخص جسے ( حدیث ) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ ( حدیث کو ) یاد رکھ لیتا ہے ۔
1 Hadith
09
(11) CHAPTER. The Prophet used to take care of the people in preaching by selecting a suitable time so that they might not run away (never made them averse or bored them with religious talk and knowledge all the time).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے نصیحت فرمانے اور تعلیم دینے کے بیان میں تاکہ انہیں ناگوار نہ ہو
2 Hadith
10
(12) CHAPTER. Whoever fixed a special day for giving (a religious talk) to the students.
اس بارے میں کہ کوئی شخص اہل علم کے لیے کچھ دن مقرر کر دے ( تو یہ جائز ہے ) یعنی استاد اپنے شاگردوں کے لیے اوقات مقرر کر سکتا ہے ۔
1 Hadith
11
(13) CHAPTER. If Allah wants to do good to a person, He makes him comprehend (the religion). [The understanding of the Quran and As-Sunna (legal ways) of the Prophet (Muhammad )].
اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے
1 Hadith
12
(14) CHAPTER. (The superiority of) comprehending knowledge.
علم میں سمجھداری سے کام لینے کے بیان میں
1 Hadith
13
(15) CHAPTER. Wish to be like the one who has knowledge and Al-Hikmah [wisdom i.e., the knowledge of the Quran and the Sunna (legal ways) of the Prophet ].
علم و حکمت میں رشک کرنے کے بیان میں
1 Hadith
14
(16) CHAPTER. What has been said about the journey of Prophet Musa (Moses) علیہ السلام (when he went) in the sea to meet Al-Khidr.
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حضرت خضر علیہ السلام کے پاس دریا میں جانے کے ذکر میں
1 Hadith
15
(17) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Bestow on him (Ibn Abbas) the knowledge of the Book (the Quran).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ” اللہ اسے قرآن کا علم عطا فرمائیو ! “
1 Hadith
16
(18) CHAPTER. At what age may a youth be listened to (i.e. quotation of the Hadith from a boy be acceptable).
اس بارے میں کہ بچے کا ( حدیث ) سننا کس عمر میں صحیح ہے ؟
2 Hadith
17
(19) CHAPTER. To go out in search of knowledge.
علم کی تلاش میں نکلنے کے بارے میں
1 Hadith
18
(20) CHAPTER. The superiority of a person who learns (Islam, becomes a religious scholar) and then teaches it to others.
پڑھنے اور پڑھانے والے کی فضیلت کے بیان میں
1 Hadith
19
(21) CHAPTER. (What is said regarding) the disappearance of the (religious) knowledge and the appearance of (religious) ignorance.
علم کے زوال اور جہل کی اشاعت کے بیان میں
2 Hadith
20
(22) CHAPTER. The superiority of (religious) knowledge.
علم کی فضیلت کے بیان میں
1 Hadith
21
(23) CHAPTER. To give a religious verdict while riding an animal or standing on anything else.
جانور وغیرہ پر سوار ہو کر فتویٰ دینا جائز ہے
1 Hadith
22
(24) CHAPTER. Whoever gave a religious verdict by beckoning or by nodding.
اس شخص کے بارے میں جو ہاتھ یا سر کے اشارے سے فتویٰ کا جواب دے
3 Hadith
23
(25) CHAPTER. The Prophet urged the people (mission) of Abdul Qais to memorize the faith and the (religious) knowledge (as he explained to them) and to inform (convey) to their people whom they have left behind (at home).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں
1 Hadith
24
(26) CHAPTER. To travel seeking an answer to a problematic matter, and to teach it to one's family.
جب کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس کے لیے سفر کرنا ( کیسا ہے ؟ )
1 Hadith
25
(27) CHAPTER. To fix the duties in rotation for learning (religious) knowledge.
اس بارے میں کہ ( طلباء کا حصول ) علم کے لیے ( استاد کی خدمت میں ) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے ۔
1 Hadith
26
(28) CHAPTER. To be furious while preaching or teaching if one sees what one hates.
استاد شاگردوں کی جب کوئی ناگوار بات دیکھے تو وعظ کرتے اور تعلیم دیتے وقت ان پر خفا ہو سکتا ہے
3 Hadith
27
(29) CHAPTER. Whoever knelt down before the Imam or a (religious) preacher.
اس شخص کے بارے میں جو امام یا محدث کے سامنے دو زانو ( ہو کر ادب کے ساتھ ) بیٹھے
1 Hadith
28
(30) CHAPTER. Repeating one's talk thrice in order to make others understand.
اس بارے میں کہ کوئی شخص سمجھانے کے لیے ( ایک ) بات کو تین مرتبہ دہرائے تو یہ ٹھیک ہے
3 Hadith
29
(31) CHAPTER. A man teaching (religion to) his woman-slave and his family.
اس بارے میں کہ مرد کا اپنی باندی اور گھر والوں کو تعلیم دینا ( ضروری ہے )
1 Hadith
30
(32) CHAPTER. The preaching (and teaching) of the (religious) knowledge to women by the Imam (Chief):
اس بارے میں کہ امام کا عورتوں کو بھی نصیحت کرنا اور تعلیم دینا ( ضروری ہے )
1 Hadith
31
(33) CHAPTER. Eagerness to (learn) the Hadith.
علم حدیث حاصل کرنے کی حرص کے بارے میں
1 Hadith
32
(34) CHAPTER. How the (religious) knowledge will be taken away?
اس بیان میں کہ علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا ؟
1 Hadith
33
(35) CHAPTER. Should a day be fixed for women in order to teach them religion (apart from men)?
اس بیان میں کہ کیا عورتوں کی تعلیم کے لیے کوئی خاص دن مقرر کیا جا سکتا ہے ؟
2 Hadith
34
(36) CHAPTER. Whoever heard something (but did not understand it) and then asked again till he understood it completely.
اس بارے میں کہ ایک شخص کوئی بات سنے اور نہ سمجھے تو دوبارہ دریافت کر لے تاکہ وہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لے ، یہ جائز ہے
1 Hadith
35
(37) CHAPTER. It is incumbent on those who are present [in a religious meeting (or conference)] to convey the knowledge to those who are absent.
اس بارے میں کہ جو لوگ موجود ہیں وہ غائب شخص کو علم پہنچائیں ، یہ قول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جناب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔ ( اور بخاری کتاب الحج میں یہ تعلیق باسناد موجود ہے )
2 Hadith
36
(38) CHAPTER. The sin of a person who tells a lie against the Prophet .
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کا گناہ کس درجے کا ہے
5 Hadith
37
(39) CHAPTER. The writing of knowledge.
( دینی ) علم کو قلم بند کرنے کے جواز میں
4 Hadith
38
(40) CHAPTER. The knowledge and its teaching and preaching at night.
اس بیان میں کہ رات کو تعلیم دینا اور وعظ کرنا جائز ہے
1 Hadith
39
(41) CHAPTER. To speak about (religious) knowledge at night.
اس بارے میں کہ سونے سے پہلے رات کے وقت علمی باتیں کرنا جائز ہے
2 Hadith
40
(42) CHAPTER. (What is said regarding) the memorization of the (religious) knowledge.
علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں
3 Hadith
41
(43) CHAPTER. To be quiet (and listen) to religious learned men.
اس بارے میں کہ عالموں کی بات خاموشی سے سننا ضروری ہے
1 Hadith
42
(44) CHAPTER. When a religious learned man is asked, “Who is the most learned person,” it is better for him to attribute or entrust absolute knowledge to Allah and to say, “Allah is the Most Learned (than anybody else) .”
اس بیان میں کہ جب کسی عالم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگوں میں کو ن سب سے زیادہ علم رکھتا ہے ؟ تو بہتر یہ ہے کہ اللہ کے حوالے کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا یہ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کو ن سب سے بڑا عالم ہے ۔
1 Hadith
43
(45) CHAPTER Whosoever, while standing, asked a religious learned man who was sitting (on a pulpit or a similar thing, about something).
کھڑے ہو کر کسی عالم سے سوال کرنا جو بیٹھا ہوا ہو ( جائز ہے )
1 Hadith
44
(46) CHAPTER. To ask about a religious matter and to give a religious verdict (at Mina during Hajj) while doing the Ramy of Jimar (throwing of pebbles at the Jimar in Mina during Hajj).
رمی جمار ( یعنی حج میں پتھر پھینکنے ) کے وقت بھی مسئلہ پوچھنا جائز ہے
1 Hadith
45
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “And of knowledge you (mankind) have been given only a little.” (V. 17:85)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تشریح میں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے
1 Hadith
46
(48) CHAPTER. Whosoever left some optional things simply for the fear that some people may not be able to understand them and may fall into something more difficult.
اس بارے میں کہ کوئی شخص بعض باتوں کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ کہیں لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس سے زیادہ سخت ( یعنی ناجائز ) باتوں میں مبتلا نہ ہو جائیں
1 Hadith
47
(49) CHAPTER. Whoever selected some people to teach them (religious) knowledge preferring them over others for fear that the others may not understand it.
اس بارے میں کہ علم کی باتیں کچھ لوگوں کو بتانا اور کچھ لوگوں کو نہ بتانا اس خیال سے کہ ان کی سمجھ میں نہ آئیں گی ( یہ عین مناسب ہے کیونکہ )
3 Hadith
48
(50) CHAPTER. (What is said as regards): To be shy (Al-Haya) while learning (religious) knowledge.
اس بیان میں کہ حصول علم میں شرمانا مناسب نہیں ہے !
2 Hadith
49
(51) CHAPTER. Whosoever felt shy (to ask something) and then requested another person to ask on his behalf.
اس بیان میں کہ مسائل شرعیہ معلوم کرنے میں جو شخص ( کسی معقول وجہ سے ) شرمائے وہ کسی دوسرے آدمی کے ذریعے سے مسئلہ معلوم کر لے ۔
1 Hadith
50
(52) CHAPTER. Teaching religious knowledge and giving religious verdicts in a mosque.
مسجد میں علمی مذاکرہ کرنا اور فتوی دینا جائز ہے ۔
1 Hadith
51
(53) CHAPTER. Whosoever answered to the questioner more than what he asked.
سائل کو اس کے سوال سے زیادہ جواب دینا ، ( تاکہ اسے تفصیلی معلومات ہو جائیں )
1 Hadith
No chapter matched that.