TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2249 - (4) CHAPTER. As-Salam for (the fruits of) date-palms. - The book of as-salam. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 4 in this chapter
(4) CHAPTER. As-Salam for (the fruits of) date-palms.
درخت پر جوکھجور لگی ہوئی ہو اس میں بیع سلم کرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ؟ فَقَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَصْلُحَ ، وَنَهَى عَنِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ نَسَاءً بِنَاجِزٍ ، وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ ، أَوْ يُؤْكَلَ وَحَتَّى يُوزَنَ ، قُلْتُ : وَمَا يُوزَنُ ، قَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ : حَتَّى يُحْرَزَ .
Narrated Abu Al-Bakhtari: I asked Ibn `Umar about Salam for dates. Ibn `Umar replied, The Prophet forbade the sale (the fruits) of date-palms until they were fit for eating and also forbade the sale of silver for gold on credit. I also asked Ibn `Abbas about it. Ibn `Abbas replied, The Prophet forbade the sale of dates till they were fit for eating, and could be weighed. I asked him, What is to be weighed (as the dates are on the trees)? A man sitting by Ibn `Abbas said, It means till they are cut and stored.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابوالبختری نے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھجور کی درخت پر بیع سلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک وہ نفع اٹھانے کے قابل نہ ہو جائے، اسی طرح چاندی کو سونے کے بدلے بیچنے سے جب کہ ایک ادھار اور دوسرا نقد ہو منع فرمایا ہے۔ پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو درخت پر بیچنے سے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے، اسی طرح جب تک وہ وزن کرنے کے قابل نہ ہو جائے منع فرمایا ہے۔ میں نے پوچھا کہ وزن کئے جانے کا کیا مطلب ہے؟ تو ایک صاحب نے جو ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اس قابل نہ ہو جائے کہ وہ اندازہ کی جا سکے۔
2249
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

1,119
1
CHAPTER: Regarding Payment In Advance For Specified Crops.
باب: کسی خاص درخت کے پھل کی بیع سلم کرنا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
2
Chapter: What Has Been Related About Purchasing Date-Palms After Pollination And A Slave That Has Property
باب: پیوند کاری کے بعد کھجور کے درخت کو بیچنے کا اور ایسے غلام کو بیچنے کا بیان جس کے پاس مال ہو
Jam e Tirmazi
3
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
Musnad Ahmad
4
(54) CHAPTER. (The lawfulness of) estimating the amount of the date-fruit while they are still on the palms for the sake of taking the Zakat.
کھجور کا درختوں پر اندازہ کر لینا درست ہے
Sahih Bukhari
5
(58) CHAPTER. Whoever sold his fruits, his date-palm trees, his land or his crops and the Ushr or Zakat was due on them, and gave Zakat from some other property, or sold his fruits when Zakat was due.
جو شخص اپنا میوہ یاکھجور کا درخت یا کھیت بیچ ڈالے
Sahih Bukhari
6
(82) CHAPTER. The sale called Al-Muzabana; which is sale of dried dates for fresh ones (that are still on the trees), and dried grapes for fresh grapes and the sale called Al-Araya (i.e., the selling of ripe fresh date, still over the palms, by means of estimation, for dry date)
بیع مزابنہ کے بیان میں
Sahih Bukhari
7
(90) CHAPTER. Whoever sold or rented date-palms which were pollinated, or land which was sown (with wheat or barley).
جس نے پیوند لگائی ہوتی کھجوریں یا کھیتی کھڑی ہوئی زمین بیچی یا ٹھیکہ پر دی تو میوہ اور اناج بائع کا ہوگا
Sahih Bukhari
8
(92) CHAPTER. The sale of date-palms completely (with roots and stems).
کھجور کے درخت کو جڑ سمیت بیچنا
Sahih Bukhari
9
(1) CHAPTER. As-Salam by a definite known specified measure.
ماپ مقرر کر کے سلم کرنا
Sahih Bukhari
10
(2) CHAPTER. As-Salam for a known specified weight.
بیع سلم مقررہ وزن کے ساتھ جائز ہے
Sahih Bukhari
11
(3) CHAPTER. As-Salam to a person who has got nothing (to pay for the prices he receives in advance).
اس شخص سے سلم کرنا جس کے پاس اصل مال ہی موجود نہ ہو
Sahih Bukhari
12
(6) CHAPTER. Mortgaging in As-Salam.
بیع سلم میں گروی رکھنا
Sahih Bukhari
13
(8) CHAPTER. As-Salam in buying a she-camel to be delivered after it has given birth.
بیع سلم میں یہ میعاد لگانا کہ جب اونٹی بچہ جنے
Sahih Bukhari
14
(5) CHAPTER. (It is permissible for one) to say to another, Look after my date-palm trees or other trees and share the fruits with me.
باغ والا کسی سے کہے کہ تو سب درختوں وغیرہ کی دیکھ بھال کر ، تو اور میں پھل میں شریک رہیں گے
Sahih Bukhari
15
(17) CHAPTER. One may have the right to pass through a garden or to have a share in date-palms.
باغ میں سے گزرنے کا حق یا کھجور کے درختوں میں پانی پلانے کا حصہ
Sahih Bukhari
16
(2) CHAPTER. (What is said regarding) the sale of pollinated date-palms.
پیوند لگانے کے بعد اگر کھجور کا درخت بیچے ؟
Sahih Bukhari
17
Chapter: The sanctity of Makkah and the sanctity of its game, grasses, trees and lost property, except for the one who announces it, is forever
مکہ حرم ہے ‘اس میں شکار کرنا ‘اس کی گھاس اور درخت کا ٹنا اور اعلان کرنے والے کے سوا(کسی کا)یہاں سے کوئی پڑی ہوئی چیز اٹھانا ہمیشہ کے لیے حرام ہے
Sahih Muslim
18
مسلمان )بھائی کی بیع پر بیع کرنا ‘اس کے سودے پر سودا بازی کرنا ‘بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانا اور جانور کے تھنوں میں دودھ روکنا حرام ہے
Sahih Muslim
19
Chapter: Salam (Payment in Advance)
بیع سلم
Sahih Muslim
20
اگر کسی خاص درخت کی خریداری بیع سلم سے (یعنی پیشگی ادائیگی کے بعد) کی ہو اور اس میں پھل نہ آئے تو کیا حکم ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
21
باب: (مسلمان) بھائی کی بیع پر بیع کرنا منع ہے۔
Sunnan Nisai
22
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Selling Over The Sale Of One's Brother
باب: اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرنا منع ہے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Not Cutting The Hand For (Date) Fruits Or Palm Marrow
باب: پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What has been Related About It is Not Lawful To Intimidate A Muslim
باب: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ڈرانا دھمکانا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Jibril Describing Iman and Islam to the Prophet (SAW)
باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ایمان و اسلام کے اوصاف بیان کرنا
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Lying Against The Messenger Of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Gesture With Hand When Giving Salam
باب: ہاتھ کے اشارے سے سلام کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam To The Young
باب: بچوں کو سلام کرنا
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam to Women
باب: عورتوں کو سلام کرنا
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam To A Gathering In Which Are Muslims And Others
باب: ایسی مجلس پر سلام جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہوں
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam When Standing And [When] Sitting
باب: مجلس میں بیٹھتے اور اس سے اٹھتے وقت سلام کرنا
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam Before Seeking Permission Enter
باب: گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)
Jam e Tirmazi
33
Chapter: The Supplication Of Umm Salamah
باب: ام سلمہ رضی الله عنہا کی دعا کا بیان
Jam e Tirmazi
34
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
35
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
Musnad Ahmad
36
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
Musnad Ahmad
37
سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
Musnad Ahmad
38
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
Musnad Ahmad
39
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
Musnad Ahmad
40
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
Musnad Ahmad
41
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
Musnad Ahmad
42
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
Musnad Ahmad
43
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
Musnad Ahmad
44
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
Musnad Ahmad
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
Musnad Ahmad
46
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
Musnad Ahmad
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
Musnad Ahmad
48
غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
Musnad Ahmad
49
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
50
اس امر کا بیان کہ جمادات اور حیوانات کا گفتگو کرنا اور کھجور کے تنے کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جدائی میں رونابھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ہے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

111
Sahih Bukhari
2250
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ؟ فَقَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَصْلُحَ ، وَنَهَى عَنِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ نَسَاءً بِنَاجِزٍ ، وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ ، أَوْ يُؤْكَلَ وَحَتَّى يُوزَنَ ، قُلْتُ : وَمَا يُوزَنُ ، قَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ : حَتَّى يُحْرَزَ .
Narrated Abu Al-Bakhtari: I asked Ibn `Umar about Salam for dates. Ibn `Umar replied, The Prophet forbade the sale (the fruits) of date-palms until they were fit for eating and also forbade the sale of silver for gold on credit. I also asked Ibn `Abbas about it. Ibn `Abbas replied, The Prophet forbade the sale of dates till they were fit for eating, and could be weighed. I asked him, What is to be weighed (as the dates are on the trees)? A man sitting by Ibn `Abbas said, It means till they are cut and stored.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابوالبختری نے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھجور کی درخت پر بیع سلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک وہ نفع اٹھانے کے قابل نہ ہو جائے، اسی طرح چاندی کو سونے کے بدلے بیچنے سے جب کہ ایک ادھار اور دوسرا نقد ہو منع فرمایا ہے۔ پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو درخت پر بیچنے سے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے، اسی طرح جب تک وہ وزن کرنے کے قابل نہ ہو جائے منع فرمایا ہے۔ میں نے پوچھا کہ وزن کئے جانے کا کیا مطلب ہے؟ تو ایک صاحب نے جو ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اس قابل نہ ہو جائے کہ وہ اندازہ کی جا سکے۔
Sahih Bukhari
2246
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ ، حَتَّى يُوكَلَ مِنْهُ ، وَحَتَّى يُوزَنَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَأَيُّ شَيْءٍ يُوزَنُ ، قَالَ رَجُلٌ : إِلَى جَانِبِهِ حَتَّى يُحْرَزَ ، وَقَالَ مُعَاذٌ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
Narrated Abu Bakhtari at-Tai: I asked Ibn `Abbas about Salam for (the fruits of) date-palms. He replied The Prophet forbade the sale a dates on the trees till they became fit for eating and could be weighed. A man asked what to be weighed (as the dates were still on the trees). Another man sitting beside Ibn `Abbas replied, Till they are cut and stored. Narrated Abu Al-Bakhtari: I heard Ibn `Abbas (saying) that the Prophet forbade ... etc. as above.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالبختری طائی سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کے درخت میں بیع سلم کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ درخت پر پھل کو بیچنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کے لیے منع فرمایا تھا جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے یا اس کا وزن نہ کیا جا سکے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ کیا چیز وزن کی جائے گی۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قریب ہی بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ اندازہ کرنے کے قابل ہو جائے اور معاذ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے کہ ابوالبختری نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔
Sahih Bukhari
2247
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ؟ فَقَالَ : نُهِيَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَصْلُحَ ، وَعَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ نَسَاءً بِنَاجِزٍ ، وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ؟ فَقَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ ، أَوْ يَأْكُلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ .
Narrated Abu Al-Bakhtari: I asked Ibn `Umar about Salam (the fruits of) date-palms. He replied, The Prophet forbade the sale of dates till their benefit becomes evident and fit for eating and also the sale of silver (for gold) on credit. I asked Ibn `Abbas about Salam for dates and he replied, The Prophet forbade the sale of dates till they were fit for eating and could be estimated.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابوالبختری نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھجور میں جب کہ وہ درخت پر لگی ہوئی ہو بیع سلم کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ جب تک وہ کسی قابل نہ ہو جائے اس کی بیع سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح چاندی کو ادھار، نقد کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا۔ پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کی درخت پر بیع سلم کے متعلق پوچھا تو آپ نے بھی یہی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کھجور کی بیع سے منع فرمایا تھا جب تک وہ کھائی نہ جا سکے یا ( یہ فرمایا کہ ) جب تک وہ اس قابل نہ ہو جائے کہ اسے کوئی کھا سکے اور جب تک وہ تولنے کے قابل نہ ہو جائے۔
Sahih Bukhari
2248
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ؟ فَقَالَ : نُهِيَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَصْلُحَ ، وَعَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ نَسَاءً بِنَاجِزٍ ، وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ؟ فَقَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ ، أَوْ يَأْكُلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ .
Narrated Abu Al-Bakhtari: I asked Ibn `Umar about Salam (the fruits of) date-palms. He replied, The Prophet forbade the sale of dates till their benefit becomes evident and fit for eating and also the sale of silver (for gold) on credit. I asked Ibn `Abbas about Salam for dates and he replied, The Prophet forbade the sale of dates till they were fit for eating and could be estimated.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابوالبختری نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھجور میں جب کہ وہ درخت پر لگی ہوئی ہو بیع سلم کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ جب تک وہ کسی قابل نہ ہو جائے اس کی بیع سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح چاندی کو ادھار، نقد کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا۔ پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کی درخت پر بیع سلم کے متعلق پوچھا تو آپ نے بھی یہی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کھجور کی بیع سے منع فرمایا تھا جب تک وہ کھائی نہ جا سکے یا ( یہ فرمایا کہ ) جب تک وہ اس قابل نہ ہو جائے کہ اسے کوئی کھا سکے اور جب تک وہ تولنے کے قابل نہ ہو جائے۔
Jam e Tirmazi
1737
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وغير واحد، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Ali bin Abi Talib: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited me from rings of gold, and from wearing Al-Qassi, and from reciting in the bowing and prostration positions, and from wearing what was dyed with 'Usfur. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، «قسی» ( ایک ریشمی کپڑا ) کا لباس، رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے اور «معصفر» ( کسم سے رنگے ہوئے زرد ) کپڑے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Mishkat
4397
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ: الصُّفْرَةَ يَعْنِي الخلوق وتغييرَ الشيب وجر الأزرار وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحِلِّهَا وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَعَزْلَ الْمَاءِ لِغَيْرِ مَحِلِّهِ وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ دس باتیں ناپسند فرماتے تھے ۔ زعفران لگانا ، بڑھاپے کو (کالا خضاب لگا کر) تبدیلی کرنا ، تہبند گھسیٹنا ، سونے کی انگوٹھی پہننا ، موقع محل کے بغیر بناؤ سنگار ظاہر کرنا ، شطرنج کھیلنا ، معوذات کے علاوہ کسی اور ورد سے دم کرنا ، منکے باندھنا ، پانی (یعنی منی) کا اس کی اصل جگہ (شرم گاہ) کے بغیر خارج کرنا اور بچے کے دودھ کو خراب کرنا (یعنی مدت رضاعت میں عورت سے جماع کرنا) لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Sahih Bukhari
2182
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا ، وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا .
Narrated `Abdur-Rahman bin Abu Bakra: that his father said, The Prophet forbade the selling of gold for gold and silver for silver except if they are equivalent in weight, and allowed us to sell gold for silver and vice versa as we wished.
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عباد بن عوام نے، کہا کہ ہم کو یحییٰ بن ابی اسحٰق نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور ان سے ان کے باپ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی، چاندی کے بدلے میں اور سونا سونے کے بدلے میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ مگر یہ کہ برابر برابر ہو۔ البتہ سونا چاندی کے بدلے میں جس طرح چاہیں خریدیں۔ اسی طرح چاندی سونے کے بدلے جس طرح چاہیں خریدیں۔
Sahih Bukhari
3127
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ فَجَاءَ وَمَعَهُ ابْنُهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ، فَقَامَ عَلَى الْبَاب ، فَقَالَ : ادْعُهُ لِي فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَأَخَذَ قَبَاءً فَتَلَقَّاهُ بِهِ وَاسْتَقْبَلَهُ بِأَزْرَارِهِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْمِسْوَرِ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ يَا أَبَا الْمِسْوَرِ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شِدَّةٌ ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَقَالَ : حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَقَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ ، تَابَعَهُ اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ .
Narrated `Abdullah bin Abu Mulaika: Some silken cloaks with golden buttons were presented to the Prophet. He distributed them amongst his companions and kept one for Makhrama, bin Naufal. Later on Makhrama came along with his son Al-Miswar bin Makhrama, and stood up at the gate and said (to his son). Call him (i.e. the Prophet) to me. The Prophet heard his voice, took a silken cloak and brought it to him, placing those golden buttons in front of him saying, O Abu-al-Miswar! I have kept this aside for you! O Abu-al Miswar! I have kept this aside for you! Makhrama was a bad-tempered man.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیبا کی کچھ قبائیں تحفہ کے طور پر آئی تھیں۔ جن میں سونے کی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں ‘ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چند اصحاب میں تقسیم فرما دیا اور ایک قباء مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے لیے رکھ لی۔ پھر مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ساتھ ان کے صاحبزادے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میرا نام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی تو قباء لے کر باہر تشریف لائے اور اس کی گھنڈیاں ان کے سامنے کر دیں۔ پھر فرمایا: ابومسور! یہ قباء میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لی تھی۔ مخرمہ رضی اللہ عنہ ذرا تیز طبیعت کے آدمی تھے۔ ابن علیہ نے ایوب کے واسطے سے یہ حدیث ( مرسلاً ہی ) روایت کی ہے۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے مسور رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں کچھ قبائیں آئیں تھیں ‘ اس روایت کی متابعت لیث نے ابن ابی ملیکہ سے کی ہے۔
Sahih Muslim
3873
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ، فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ، أَوْ يُؤْكَلَ، وَحَتَّى يُوزَنَ»، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا يُوزَنُ؟ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ: حَتَّى يُحْزَرَ
Abu Bakhtari reported: I asked Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) about the sale of dates. He said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade the sale of dates of the trees until one eats them or they are eaten (i. e. they are fit to be eaten) or until they are weighed (or measured). I said: What does it imply: Until it is weighed ? Thereupon a person who was with him (Ibn Abbas) said: Until he is able to keep it with him (after plucking them).
ابو بختری سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کھجور کی بیع کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ اس سے خود کھا سکے یا وہ کھائے جانے کے قابل ہو جائے ، اور یہاں تک کہ اس کا وزن کیا جا سکے ۔ میں نے کہا : اس کا وزن کیے جانے سے کیا مراد ہے؟ ان کے پاس موجود ایک شخص نے کہا : اس ( کے وزن ) کا اندازہ لگایا جا سکے