TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(6) CHAPTER. The dams of rivers. - نہر کا پانی روکنا - The book of watering. - Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Chapter 6 of The book of watering. in Sahih Bukhari. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 17 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ ، فَأَبَى عَلَيْهِ ، فَاخْتَصَمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ : أَسْقِ يَا زُبَيْرُ ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : اسْقِ يَا زُبَيْرُ ، ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65 .
Narrated `Abdullah bin Az-Zubair: An Ansari man quarreled with Az-Zubair in the presence of the Prophet about the Harra Canals which were used for irrigating the date-palms. The Ansari man said to Az-Zubair, Let the water pass' but Az-Zubair refused to do so. So, the case was brought before the Prophet who said to Az-Zubair, O Zubair! Irrigate (your land) and then let the water pass to your neighbor. On that the Ansari got angry and said to the Prophet, Is it because he (i.e. Zubair) is your aunt's son? On that the color of the face of Allah's Apostle changed (because of anger) and he said, O Zubair! Irrigate (your land) and then withhold the water till it reaches the walls between the pits round the trees. Zubair said, By Allah, I think that the following verse was revealed on this occasion : But no, by your Lord They can have No faith Until they make you judge In all disputes between them. (4.65)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک انصاری مرد نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے نالے میں جس کا پانی مدینہ کے لوگ کھجور کے درختوں کو دیا کرتے تھے، اپنے جھگڑے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ انصاری زبیر سے کہنے لگا پانی کو آگے جانے دو، لیکن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس سے انکار تھا۔ اور یہی جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ( پہلے اپنا باغ ) سینچ لے پھر اپنے پڑوسی بھائی کے لیے جلدی جانے دے۔ اس پر انصاری کو غصہ آ گیا اور انہوں نے کہا، ہاں زبیر آپ کی پھوپھی کے لڑکے ہیں نا۔ بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے زبیر! تم سیراب کر لو، پھر پانی کو اتنی دیر تک روکے رکھو کہ وہ منڈیروں تک چڑھ جائے۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ کی قسم! میرا تو خیال ہے کہ یہ آیت «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم‏» اسی باب میں نازل ہوئی ہے ”ہرگز نہیں، تیرے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے جھگڑوں میں تجھ کو حاکم نہ تسلیم کر لیں“ آخر تک۔
2359
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ ، فَأَبَى عَلَيْهِ ، فَاخْتَصَمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ : أَسْقِ يَا زُبَيْرُ ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : اسْقِ يَا زُبَيْرُ ، ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65 .
Narrated `Abdullah bin Az-Zubair: An Ansari man quarreled with Az-Zubair in the presence of the Prophet about the Harra Canals which were used for irrigating the date-palms. The Ansari man said to Az-Zubair, Let the water pass' but Az-Zubair refused to do so. So, the case was brought before the Prophet who said to Az-Zubair, O Zubair! Irrigate (your land) and then let the water pass to your neighbor. On that the Ansari got angry and said to the Prophet, Is it because he (i.e. Zubair) is your aunt's son? On that the color of the face of Allah's Apostle changed (because of anger) and he said, O Zubair! Irrigate (your land) and then withhold the water till it reaches the walls between the pits round the trees. Zubair said, By Allah, I think that the following verse was revealed on this occasion : But no, by your Lord They can have No faith Until they make you judge In all disputes between them. (4.65)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک انصاری مرد نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے نالے میں جس کا پانی مدینہ کے لوگ کھجور کے درختوں کو دیا کرتے تھے، اپنے جھگڑے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ انصاری زبیر سے کہنے لگا پانی کو آگے جانے دو، لیکن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس سے انکار تھا۔ اور یہی جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ( پہلے اپنا باغ ) سینچ لے پھر اپنے پڑوسی بھائی کے لیے جلدی جانے دے۔ اس پر انصاری کو غصہ آ گیا اور انہوں نے کہا، ہاں زبیر آپ کی پھوپھی کے لڑکے ہیں نا۔ بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے زبیر! تم سیراب کر لو، پھر پانی کو اتنی دیر تک روکے رکھو کہ وہ منڈیروں تک چڑھ جائے۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ کی قسم! میرا تو خیال ہے کہ یہ آیت «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم‏» اسی باب میں نازل ہوئی ہے ”ہرگز نہیں، تیرے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے جھگڑوں میں تجھ کو حاکم نہ تسلیم کر لیں“ آخر تک۔
2360
Sahih

Chapters

17
01
(1b) CHAPTER. Whoever things that giving water in charity, or as a gift or by way of a testament is permissible, whether it is divided or not.
پانی کی تقسیم
2 Hadith
02
(2) CHAPTER. Whoever said, The owner of the water has the right to drink till he is satisfied, as a Prophet said, Superfluous water should not be withheld from others.
اس کے بارے میں جس نے کہا کہ پانی کا مالک پانی کا زیادہ حقدار ہے
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. If one digs a well in his own land and somebody falls in it and dies, and owner is not reponsible.
جس نے اپنی ملک میں کوئی کنواں کھودا ، اس میں کوئی گر کر مر جائے تو اس پر تاوان نہ ہوگا
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. Disputes and controversies about wells and the settlement of such disputes and contraversies.
کنویں کے بارے میں جھگڑنا اور اس کا فیصلہ
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. The sin of him who withholds water from wayfarer and travellers.
اس شخص کا گناہ جس نے کسی مسافر کو پانی سے روک دیا
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. The dams of rivers.
نہر کا پانی روکنا
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. The land near the source of water has the right to be irrigated before the one that is farther.
جس کا کھیت بلندی پر ہو پہلے وہ اپنے کھیتوں کو پانی پلائے
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The land nearer to the source of water has the right to be covered with water up to the ankles.
بلند کھیت والا ٹخنوں تک پانی بھر لے
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. The superiority of providing water (to those who need it) .
پانی پلانے کے ثواب کا بیان
3 Hadith
10
(10) CHAPTER. Whoever thinks that the owner of a tank, or a leather water-containe has a more.
جن کے نزدیک حوض والا اور مشک کا مالک ہی اپنے پانی کا زیادہ حقدار ہے
4 Hadith
11
(11) CHAPTER. No Hima (private pasture) except according to what Allah and His Messenger did.
اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی اور چراگاہ محفوظ نہیں کرسکتا
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Drinking water by people and watering animals from the rivers.
نہروں میں سے آدمی اور جانور سب پانی پی سکتے ہیں
2 Hadith
13
(13) CHAPTER. The selling of wood and grass.
لکڑی اور گھاس بیچنا
3 Hadith
14
(14) CHAPTER. The uncultivated pieces of land (granted by the ruler to some individuals).
قطعات اراضی بطور جاگیر دینے کا بیان
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. Documentation of the land grants.
قطعات اراضی بطور جاگیر دے کر ان کو سند لکھ دینا
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. Milking she-camels at water places.
اونٹنی کو پانی کے پاس دوہنا
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. One may have the right to pass through a garden or to have a share in date-palms.
باغ میں سے گزرنے کا حق یا کھجور کے درختوں میں پانی پلانے کا حصہ
6 Hadith
No chapter matched that.