TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2515 - (6) CHAPTER. If a dispute arises between the mortgagor and mortgagee, a proof is to be provided by plaintiff, otherwise the defendant has to take an oath (if he insists on denying the plaintiff's claim). - The book of mortgaging in places occupied by settled population. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 3 in this chapter
(6) CHAPTER. If a dispute arises between the mortgagor and mortgagee, a proof is to be provided by plaintiff, otherwise the defendant has to take an oath (if he insists on denying the plaintiff's claim).
راہن اور مرتہن میں اگر کسی بات پر اختلاف ہو جائے یا ان کی طرح دوسرے لوگوں میں تو گواہی پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہے ، ورنہ ( منکر ) مدعیٰ عل یہ سے قسم لی جائے گی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا فَقَرَأَ إِلَى عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة آل عمران آية 77 ، ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : فَحَدَّثْنَاهُ ، قَالَ : فَقَالَ : صَدَقَ لَفِيَّ ، وَاللَّهِ أُنْزِلَتْ كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ ؟ قُلْتُ : إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلَا يُبَالِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا إِلَى وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة آل عمران آية 77 .
Narrated Abu Wail: Abdullah (bin Mas'ud) said, Whoever took a false oath in order to grab somebody's property will meet Allah while Allah will be angry with him. Allah revealed the following verse to confirm that:-- Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant And their oaths...a painful torment. (3.77) Al-Ash'ath bin Qais came to us and asked as to what Abu Abdur-Rehman (i.e. Ibn Mas'ud) was telling you. We related the story to him. On that he said, He has told the truth. This verse was revealed about me. I had some dispute with another man regarding a well and we took the case before Allah's Apostle. Allah's Apostle said (to me), Produce two witnesses (to support your claim); otherwise the defendant has the right to take an oath (to refute your claim).' I said, 'The defendant would not mind to take a false oath. Allah's Apostle then said, 'Whoever took a false oath in order to grab someone else's property will meet Allah, Allah will be angry with him.' Allah then revealed what Confirmed it. Al-Ash'ath then recited the following Verse:-- Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant, And their oaths . . . (to) . . . they shall have a painful torment!' (3.77) (See Hadith No. 546)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص جان بوجھ کر اس نیت سے جھوٹی قسم کھائے کہ اس طرح دوسرے کے مال پر اپنی ملکیت جمائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔ اس ارشاد کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ آل عمران میں ) یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا‏» ”وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ دنیا کی تھوڑی پونجی خریدتے ہیں“ آخر آیت تک انہوں نے تلاوت کی۔ ابووائل نے کہا اس کے بعد اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہمارے گھر تشریف لائے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن ( ابومسعود رضی اللہ عنہ ) نے تم سے کون سی حدیث بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے حدیث بالا ان کے سامنے پیش کر دی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ بیان کیا ہے۔ میرا ایک ( یہودی ) شخص سے کنویں کے معاملے میں جھگڑا ہوا تھا۔ ہم اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ دوسرے فریق سے قسم لی جائے گی۔ میں نے عرض کیا پھر یہ تو قسم کھا لے گا اور ( جھوٹ بولنے پر ) اسے کچھ پرواہ نہ ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جان بوجھ کر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر نہایت غضبناک ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی۔ اس کے بعد انہوں نے وہی آیت پڑھی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا‏» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی پونجی خریدتے ہیں“۔ آیت «ولهم عذاب أليم» تک۔
2515
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

622
1
Chapter: The width of the road if there is a dispute about it
جب راستے کے بارے میں اختلاف ہو جائے تو اس کی پیمائش کرنا
Sahih Muslim
2
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
Musnad Ahmad
3
جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا
Musnad Ahmad
4
میاں بیوی کو جماع کے دوران والے امور کو دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے منع کرنا
Musnad Ahmad
5
(4) CHAPTER. What grants the Prophet (p.b.u.h) gave from the land of Bahrain, and what he promised to give (some people) from the Bahrain money resources and from Al-Jizya. And to whom should the Fai (i.e., booty gained without fight) and the Jizya be distributed?
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بحرین سے ( مجاہدین کو کچھ معاش ) دینا اور بحرین کی آمدنی اور جزیہ میں سے کسی کو کچھ دینے کا وعدہ کرنا اس کا بیان اور اس کا کہ جو مال کافروں سے بن لڑے ہاتھ آئے یا جزیہ وہ کن لوگوں کو تقسیم کیا جائے ۔
Sahih Bukhari
6
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
Sahih Bukhari
7
Chapter: If The Imam Experiences An Excuse, From Illness, Or Travelling, Etc. He May Appoint Someone Else To Lead The People In Prayer; The One Who Offers Prayer Behind The Imam Sitting Because He Is Unable To Stand Must Stand If He Is Able To Do So; And The Abrogation Of Sitting Behind A Sitting Imam For Those Who Are Able To Stand
۔ جب امام کو مرض، سفر یا کسی اور وجہ سے عذر پیش آ جائے تو لوگوں میں سے کسی کو نماز پڑھانے کے لیے اپنا جانشیں (خلیفہ) مقرر کرنا ا
Sahih Muslim
8
Chapter: It is recommended for pilgrims and others to enter the Ka'bah and pray therein, and supplicate in all its corners
حاجی اور دوسرے لوگوں کے لیے کعیہ میں داخل ہونا ‘نیز اس میں نماز ادا کرنا اور اس کی تمام اطراف میں دعا کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
9
Chapter: The prohibition of a rich man delaying repayment. The validity of Hawalah (Transferal of Debts) and it is recommended to accept transferal of a debt if it is transferred to a rich man
مالدار کا ٹال مٹول کرنا حرام ہے ‘ِحوالہ (مقروض کی طرف سے اپنے ذمے قرض کو دوسرے کے ذمے )کرنا درست ہے جب (قرض )کسی (مالدار شخص )کے حوالے کیا جائے تو اسے قبول کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
10
Chapter:
اگر زاد راہ کم پڑ جائے تو اسے باہم ملا لینا اور اس کے ذریعےسے ایک دوسرے کی غمخواری کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
11
Chapter: If A Man Comes To A Gathering And Finds A Space. Let Him Sit There, Otherwise Let Him Sit Behind Them
جو شخص کسی مجلس میں آئے اور درمیان میں کوئی خالی جگہ دیکھے تو وہاں بیٹھ جائے ورنہ لوگوں سے پیچھے بیٹھے
Sahih Muslim
12
CHAPTER: If Two Parties Dispute, The Item Remains Where It Was.
باب: جب بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت میں اختلاف ہو جائے اور بیچی گئی چیز موجود ہو تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
13
Chapter: What Has Been Related About The Road: When There Is A Disagreement About It, How Should It Be Made?
باب: راستے کے سلسلہ میں جب اختلاف ہو تو اسے کتنا چھوڑا جائے؟
Jam e Tirmazi
14
باب: ان لوگوں کا بیان جن کی گواہی درست نہیں
Jam e Tirmazi
15
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
16
نیک لوگوں اور جن کی برکت کی امید رکھی جاتی ہو، کے واسطے سے بارش طلب کرنا
Musnad Ahmad
17
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
Musnad Ahmad
18
قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
Musnad Ahmad
19
میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
20
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
21
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
Musnad Ahmad
22
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
Musnad Ahmad
23
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
Musnad Ahmad
24
بیوقوفوں پر پابندی لگانے کا اور ان لوگوں کابیان، جن پر پابندی لگائی جائے گی
Musnad Ahmad
25
گواہی دینے والے کو لوگوں کے ڈر کی وجہ سے حق چھپانے سے ممانعت کا بیان اور (بغیر مطالبے کے) ثواب حاصل کرنے کے لیے شہادت دینے والے کی گواہی کا بیان
Musnad Ahmad
26
ان کافر میاں بیوی کا بیان کہ جب ان میں سے ایک دوسرے سے پہلے مسلمان ہو جائے
Musnad Ahmad
27
جب دو داعی جمع ہو جائیں تو کیا کیا جائے، نیز دوسرے اور تیسرے دن کی دعوت قبول کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے زمانۂ خلافت میں (ایک قراء ت کے مطابق) مصاحف لکھوانا، پھران کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرنا اور لوگوں کو اس پر پابند رہنے پر آمادہ کرنا اور اس کے مخالف قراء ت والے اور قدیم مصاحف کو جلا دینے کا بیان
Musnad Ahmad
29
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
Musnad Ahmad
30
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
Musnad Ahmad
31
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
Musnad Ahmad
32
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
Musnad Ahmad
33
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
Musnad Ahmad
34
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
Musnad Ahmad
35
امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
Musnad Ahmad
37
(44) CHAPTER. When a religious learned man is asked, “Who is the most learned person,” it is better for him to attribute or entrust absolute knowledge to Allah and to say, “Allah is the Most Learned (than anybody else) .”
اس بیان میں کہ جب کسی عالم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگوں میں کو ن سب سے زیادہ علم رکھتا ہے ؟ تو بہتر یہ ہے کہ اللہ کے حوالے کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا یہ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کو ن سب سے بڑا عالم ہے ۔
Sahih Bukhari
38
(40) CHAPTER. The using of the remaining water after ablution.
لوگوں کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا
Sahih Bukhari
39
(21) CHAPTER. To screen oneself from the people while taking a bath.
اس بیان میں کہ لوگوں میں نہاتے وقت پردہ کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
40
(88) CHAPTER. To clasp one's hands by interlocking the fingers in the mosque or outside the mosque.
مسجد وغیرہ میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے قینچی کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
41
(102) CHAPTER. A man facing a man while offering Salat (prayer).
نماز پڑھتے وقت ایک نمازی کا دوسرے شخص کی طرف رخ کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
42
(66) CHAPTER. If one offers Salat (prayer) and then leads the people in Salat.
ایک شخص نماز پڑھ کو دوسرے لوگوں کی امامت کرے
Sahih Bukhari
43
(72) CHAPTER. Facing of the Imam towards his followers while straightening the rows.
صفیں برابر کرتے وقت امام کا لوگوں کی طرف منہ کرنا
Sahih Bukhari
44
(158) CHAPTER. Whoever led the people in Salat (prayer) and remembered an urgent matter or necessity and had to pass over the people (to carry out that).
اگر امام لوگوں کو نماز پڑھا کر کسی کام کا خیال کرے اور ٹھہرے نہیں بلکہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا چلا جائے تو کیا ہے
Sahih Bukhari
45
(163) CHAPTER. The waiting of the people for the religious learned Imam to get up (after the prayer to depart).
لوگوں کا نماز کے بعد امام کے اٹھنے کا انتظار کرنا
Sahih Bukhari
46
(23) CHAPTER. The talk of the Imam and if the Imam is asked about something while he is delivering the Khutba.
عید کے خطبہ میں امام کا اور لوگوں کا باتیں کرنا
Sahih Bukhari
47
(24) CHAPTER. Whoever returned (after offering the Eid prayer) on the day of Eid through a way different from that by which he went.
جو شخص عیدگاہ کو ایک راستے سے جائے وہ گھر کو دوسرے راستے سے آئے
Sahih Bukhari
48
(48) CHAPTER. Whoever accompanies a funeral procession should not sit till the coffin is put down from the shoulders of men, and if someone sits before this, then he is to be ordered to stand up.
جو شخص جنازہ کے ساتھ ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ لوگوں کے کاندھوں سے اتار کر زمین پر نہ رکھ دیا جائے اور اگر پہلے بیٹھ جائے تو اس سے کھڑا ہونے کے لیے کہا جائے
Sahih Bukhari
49
(82) CHAPTER. Preacher delivering a lecture at a grave and the sitting of his companions around him.
قبر کے پاس عالم کا بیٹھنا اور لوگوں کو نصیحت کرنا اور لوگوں کا اس کے اردگرد بیٹھنا
Sahih Bukhari
50
(21) CHAPTER. To exhort one to give in charity and to intercede for the same purpose.
لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

31
Sahih Bukhari
2516
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا فَقَرَأَ إِلَى عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة آل عمران آية 77 ، ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : فَحَدَّثْنَاهُ ، قَالَ : فَقَالَ : صَدَقَ لَفِيَّ ، وَاللَّهِ أُنْزِلَتْ كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ ؟ قُلْتُ : إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلَا يُبَالِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا إِلَى وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة آل عمران آية 77 .
Narrated Abu Wail: Abdullah (bin Mas'ud) said, Whoever took a false oath in order to grab somebody's property will meet Allah while Allah will be angry with him. Allah revealed the following verse to confirm that:-- Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant And their oaths...a painful torment. (3.77) Al-Ash'ath bin Qais came to us and asked as to what Abu Abdur-Rehman (i.e. Ibn Mas'ud) was telling you. We related the story to him. On that he said, He has told the truth. This verse was revealed about me. I had some dispute with another man regarding a well and we took the case before Allah's Apostle. Allah's Apostle said (to me), Produce two witnesses (to support your claim); otherwise the defendant has the right to take an oath (to refute your claim).' I said, 'The defendant would not mind to take a false oath. Allah's Apostle then said, 'Whoever took a false oath in order to grab someone else's property will meet Allah, Allah will be angry with him.' Allah then revealed what Confirmed it. Al-Ash'ath then recited the following Verse:-- Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant, And their oaths . . . (to) . . . they shall have a painful torment!' (3.77) (See Hadith No. 546)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص جان بوجھ کر اس نیت سے جھوٹی قسم کھائے کہ اس طرح دوسرے کے مال پر اپنی ملکیت جمائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔ اس ارشاد کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ آل عمران میں ) یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا‏» ”وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ دنیا کی تھوڑی پونجی خریدتے ہیں“ آخر آیت تک انہوں نے تلاوت کی۔ ابووائل نے کہا اس کے بعد اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہمارے گھر تشریف لائے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن ( ابومسعود رضی اللہ عنہ ) نے تم سے کون سی حدیث بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے حدیث بالا ان کے سامنے پیش کر دی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ بیان کیا ہے۔ میرا ایک ( یہودی ) شخص سے کنویں کے معاملے میں جھگڑا ہوا تھا۔ ہم اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ دوسرے فریق سے قسم لی جائے گی۔ میں نے عرض کیا پھر یہ تو قسم کھا لے گا اور ( جھوٹ بولنے پر ) اسے کچھ پرواہ نہ ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جان بوجھ کر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر نہایت غضبناک ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی۔ اس کے بعد انہوں نے وہی آیت پڑھی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا‏» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی پونجی خریدتے ہیں“۔ آیت «ولهم عذاب أليم» تک۔
Sahih Bukhari
2669
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ إِلَى عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة آل عمران آية 77 ، ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا قَالَ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، لَفِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي شَيْءٍ ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ ؟ فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلَا يُبَالِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ .
Narrated Abu Wail: `Abdullah (bin Mas`ud) said, Whoever takes a (false) oath in order to grab some property (unjustly), Allah will be angry with him when he will meet Him. Allah confirmed that through His Divine Revelation: Verily! Those who purchase a little gain at the cost of Allah's covenant and their oaths . . . they will have a painful punishment. (3.77) Al-Ash'ath bin Qais came to us and asked, 'What is Abu `Abdur-Rahman (i.e. `Abdullah) telling you? 'We told him what he was narrating to us. He said, 'He was telling the truth; this Divine Verse was revealed in connection with me. There was a dispute between me and another man about something and the case was filed before Allah's Apostle who said, 'Produce your two witnesses or else the defendant is to take an oath.' I said, The defendant will surely take a (false) oath caring for nothing.' The Prophet said, 'Whoever takes a false oath in order to grab (other's) property, then Allah will be angry with him when he will meet Him.' Then Allah revealed its confirmation. Al-Ashath then recited the above Divine Verse. (3.77)
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا منصور سے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص ( جھوٹی ) قسم کسی کا مال حاصل کرنے کے لیے کھائے گا تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ اللہ پاک اس پر غضبناک ہو گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ( اس حدیث کی ) تصدیق کے لیے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم‏» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑی پونجی خریدتے ہیں۔ «عذاب أليم‏» “ تک۔ پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہماری طرف تشریف لائے اور پوچھنے لگے کہ ابوعبدالرحمٰن ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) تم سے کون سی حدیث بیان کر رہے تھے۔ ہم نے ان کی یہی حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے صحیح بیان کی، یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرا ایک شخص سے جھگڑا تھا۔ ہم اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا۔ میں نے کہا کہ ( گواہ میرے پاس نہیں ہیں لیکن اگر فیصلہ اس کی قسم پر ہوا ) پھر تو یہ ضرور ہی قسم کھا لے گا اور کوئی پروانہ کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا ”جو شخص بھی کسی کا مال لینے کے لیے ( جھوٹی ) قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔“ اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت نازل فرمائی تھی، پھر انہوں نے یہی آیت تلاوت کی۔
Sahih Bukhari
2670
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ إِلَى عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة آل عمران آية 77 ، ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا قَالَ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، لَفِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي شَيْءٍ ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ ؟ فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلَا يُبَالِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ .
Narrated Abu Wail: `Abdullah (bin Mas`ud) said, Whoever takes a (false) oath in order to grab some property (unjustly), Allah will be angry with him when he will meet Him. Allah confirmed that through His Divine Revelation: Verily! Those who purchase a little gain at the cost of Allah's covenant and their oaths . . . they will have a painful punishment. (3.77) Al-Ash'ath bin Qais came to us and asked, 'What is Abu `Abdur-Rahman (i.e. `Abdullah) telling you? 'We told him what he was narrating to us. He said, 'He was telling the truth; this Divine Verse was revealed in connection with me. There was a dispute between me and another man about something and the case was filed before Allah's Apostle who said, 'Produce your two witnesses or else the defendant is to take an oath.' I said, The defendant will surely take a (false) oath caring for nothing.' The Prophet said, 'Whoever takes a false oath in order to grab (other's) property, then Allah will be angry with him when he will meet Him.' Then Allah revealed its confirmation. Al-Ashath then recited the above Divine Verse. (3.77)
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا منصور سے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص ( جھوٹی ) قسم کسی کا مال حاصل کرنے کے لیے کھائے گا تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ اللہ پاک اس پر غضبناک ہو گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ( اس حدیث کی ) تصدیق کے لیے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم‏» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑی پونجی خریدتے ہیں۔ «عذاب أليم‏» “ تک۔ پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہماری طرف تشریف لائے اور پوچھنے لگے کہ ابوعبدالرحمٰن ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) تم سے کون سی حدیث بیان کر رہے تھے۔ ہم نے ان کی یہی حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے صحیح بیان کی، یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرا ایک شخص سے جھگڑا تھا۔ ہم اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا۔ میں نے کہا کہ ( گواہ میرے پاس نہیں ہیں لیکن اگر فیصلہ اس کی قسم پر ہوا ) پھر تو یہ ضرور ہی قسم کھا لے گا اور کوئی پروانہ کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا ”جو شخص بھی کسی کا مال لینے کے لیے ( جھوٹی ) قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔“ اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت نازل فرمائی تھی، پھر انہوں نے یہی آیت تلاوت کی۔
Sahih Bukhari
4549
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ يَمِينَ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لا خَلاقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ : فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، وَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قُلْنَا : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فِيَّ أُنْزِلَتْ ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ ، فَقُلْتُ : إِذًا يَحْلِفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانٌ .
Narrated Abu Wail: `Abdullah bin Masud said, Allah's Messenger said, 'Whoever takes an oath when asked to do so, in which he may deprive a Muslim of his property unlawfully, will meet Allah Who will be angry with him.' So Allah revealed in confirmation of this statement:-- Verily! Those who Purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and oaths, they shall have no portion in the Hereafter... (3.77) Then entered Al-Ash'ath bin Qais and said, What is Abu `Abdur-Rahman narrating to you? We replied, 'So-and-so. Al-Ash'ath said, This Verse was revealed in my connection. I had a well in the land of my cousin (and he denied my, possessing it). On that the Prophet said to me, 'Either you bring forward a proof or he (i.e. your cousin) takes an oath (to confirm his claim)' I said, 'I am sure he would take a (false) oath, O Allah's Messenger .' He said, 'If somebody takes an oath when asked to do so through which he may deprive a Muslim of his property (unlawfully) and he is a liar in his oath, he will meet Allah Who will be angry with him.'
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اس لیے قسم کھائی کہ کسی مسلمان کا مال ( جھوٹ بول کر وہ ) مار لے تو جب وہ اللہ سے ملے گا، اللہ تعالیٰ اس پر نہایت ہی غصہ ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس فرمان کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة» ”بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔“ آخر آیت تک۔ ابووائل نے بیان کیا کہ اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور پوچھا: ابوعبدالرحمٰن ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے آپ لوگوں سے کوئی حدیث بیان کی ہے؟ ہم نے بتایا کہ ہاں، اس اس طرح سے حدیث بیان کی ہے۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرے ایک چچا کے بیٹے کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا ( ہم دونوں کا اس بارے میں جھگڑا ہوا اور مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو ) آپ نے مجھ سے فرمایا کہ تو گواہ پیش کر یا پھر اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا۔ میں نے کہا پھر تو یا رسول اللہ وہ ( جھوٹی ) قسم کھا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال لے اور اس کی نیت بری ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا۔
Sahih Bukhari
4550
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ يَمِينَ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لا خَلاقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ : فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، وَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قُلْنَا : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فِيَّ أُنْزِلَتْ ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ ، فَقُلْتُ : إِذًا يَحْلِفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانٌ .
Narrated Abu Wail: `Abdullah bin Masud said, Allah's Messenger said, 'Whoever takes an oath when asked to do so, in which he may deprive a Muslim of his property unlawfully, will meet Allah Who will be angry with him.' So Allah revealed in confirmation of this statement:-- Verily! Those who Purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and oaths, they shall have no portion in the Hereafter... (3.77) Then entered Al-Ash'ath bin Qais and said, What is Abu `Abdur-Rahman narrating to you? We replied, 'So-and-so. Al-Ash'ath said, This Verse was revealed in my connection. I had a well in the land of my cousin (and he denied my, possessing it). On that the Prophet said to me, 'Either you bring forward a proof or he (i.e. your cousin) takes an oath (to confirm his claim)' I said, 'I am sure he would take a (false) oath, O Allah's Messenger .' He said, 'If somebody takes an oath when asked to do so through which he may deprive a Muslim of his property (unlawfully) and he is a liar in his oath, he will meet Allah Who will be angry with him.'
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اس لیے قسم کھائی کہ کسی مسلمان کا مال ( جھوٹ بول کر وہ ) مار لے تو جب وہ اللہ سے ملے گا، اللہ تعالیٰ اس پر نہایت ہی غصہ ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس فرمان کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة» ”بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔“ آخر آیت تک۔ ابووائل نے بیان کیا کہ اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور پوچھا: ابوعبدالرحمٰن ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے آپ لوگوں سے کوئی حدیث بیان کی ہے؟ ہم نے بتایا کہ ہاں، اس اس طرح سے حدیث بیان کی ہے۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرے ایک چچا کے بیٹے کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا ( ہم دونوں کا اس بارے میں جھگڑا ہوا اور مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو ) آپ نے مجھ سے فرمایا کہ تو گواہ پیش کر یا پھر اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا۔ میں نے کہا پھر تو یا رسول اللہ وہ ( جھوٹی ) قسم کھا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال لے اور اس کی نیت بری ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا۔
Sahih Muslim
355
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»، قَالَ: فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالُوا: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فِيَّ نَزَلَتْ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ أَرْضٌ بِالْيَمَنِ، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟» فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَيَمِينُهُ»، قُلْتُ: إِذَنْ يَحْلِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» فَنَزَلَتْ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
It is narrated on the authority of Abdullah (b. Umar) that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: He who perjured with a view to appropriating the property of a Muslim, and he is in fact a liar and would meet Allah in a state that He would be angry with him. He (the narrator) said: There came Ash'ath b. Qais and said (to the people): What does Abu Abdur-Rahman (the Kunya of Abdullah b. Umar) narrate to you? They replied: So and so. Upon this he remarked: Abu Abdur-Rahman told the truth. This (command) has been revealed in my case. There was a piece of land in Yemen over which I and another person had a claim. I brought the dispute with him to the Messenger of Allah (to decide) He (the Holy Prophet) said: Can you produce an evidence (in your support)? I said: No. He (the Holy Prophet) observed: (Then the decision would be made) on his oath. I said: He would readily take an oath. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) remarked: He who perjured for appropriating the wealth of a Muslim, whereas he is a liar, would meet Allah while He would be angry with him. This verse was then revealed: Verily those who barter Allah's covenant and their oaths at a small price... (iii 77).
اعمش نے ابو وائل سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’ جس نے مسلمان کا مال دبانے کے لیے ایسی قسم کھائی جس کے لیے عدالت نے اسے پابند کیا اور وہ اس میں جھوٹا ہے ، وہ اللہ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا ۔ ‘ ‘ انہوں ( وائل ) نے کہا : اس موقع پر حضرت اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( مجلس میں ) داخل ہوئے اور کہا : ابو عبد ا لرحمن ( عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) تمہیں کیا حدیث بیان کر رہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : اس اس طرح ( بیان کر رہے ہیں ۔ ) انہوں نےکہا : ابو عبد الرحمن نے سچ کہا ، یہ آیت میرے ہی معاملے میں نازل ہوئی ۔ میرے اور ایک آدمی کے درمیان یمن کی ایک زمین کا معاملہ تھا ۔ میں اس کے ساتھ جھگڑا نبی ﷺ کےہاں لے گیا تو آپ نے پوچھا : ’’کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ( یا ثبوت ) ہے ؟ میں نے عرض کی : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ تو پھر اس کی قسم ( پر فیصلہ ہو گا ۔ ) ‘ ‘ میں نے کہا : تب وہ قسم کھا لے گا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے کسی مسلمان کا مال دبانے کے لیے ایسی قسم کھائی جس کا فیصلہ کرنے والے نے اس سےمطالبہ کیا تھا اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ کےسامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا ۔ ‘ ‘ اس پر یہ آیت اتری : ’’بلاشبہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کیے گئے وعدے اور اپنی قسموں کا سودا تھوڑی قیمت پر کرتے ہیں ..... ‘ ‘ آیت کے آخر تک ۔
Jam e Tirmazi
1269
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ . فَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ:‏‏‏‏ فِيَّ وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ:‏‏‏‏ احْلِفْ ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِذًا يَحْلِفُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَذْهَبُ بِمَالِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهَ تَعَالَى:‏‏‏‏ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever takes a false oath to deprive a Muslim of his wealth, he will meet Allah while He is angry with him. Al-Ash'ath bin Qais said: It is about me, by Allah! There was a dispute about some land between myself and a man from the Jews who denied my ownership of it, so I took him to the Prophet (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Do you have any proof ?' I said: 'No'. So he said to Jew: 'Take an oath.' I said: 'O Messenger of Allah! If he takes an oath then my property will be gone!' So Allah, Most High revealed: Verily those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths.. until the end of the Ayah. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Wa'il bin Hujr, Abu Musa, Abu Umamah bin Tha'labah Al-Ansari, and 'Imran bin Husain. The Hadith of Ibn Mas'ud is a Hasan Sahih Hadith.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جھوٹی قسم کھائی تاکہ اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا“۔ اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آپ نے میرے سلسلے میں یہ حدیث بیان فرمائی تھی۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصے کا انکار کیا تو میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پاس لے گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ نے یہودی سے فرمایا: ”تم قسم کھاؤ“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو قسم کھا لے گا اور میرا مال ہضم کر لے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”اور جو لوگ اللہ کے قرار اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑا سا مول حاصل کرتے ہیں...“ ( آل عمران: ۷۷ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں وائل بن حجر، ابوموسیٰ، ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2996
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ:‏‏‏‏ فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ:‏‏‏‏ احْلِفْ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِذَنْ يَحْلِفُ فَيَذْهَبُ بِمَالِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:‏‏‏‏ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى.
Narrated 'Abdullah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever takes a false oath to deprive a Muslim of his property, he will meet Allah while He is angry with him. So Al-Ash'ath bin Qais said: By Allah! This was about me. There was a dispute between myself and a Jewish man who denied my right, and I complained against him to the Prophet (ﷺ). So the Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Do you have any proof?' I said: 'No.' So he said to the Jew: 'Take an oath.' I said: 'O Messenger of Allah! If he takes an oath then I will lose my property.' So Allah, Blessed and Most High, revealed: Verily those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant and their oaths... until the end of the Ayah. (3:77)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور وہ جھوٹا ہو اور قسم اس لیے کھائی تاکہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناحق لے لے تو جب وہ ( قیامت میں ) اللہ سے ملے گا، اس وقت اللہ اس سخت غضبناک ہو گا“۔ اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے بارے میں ہے۔ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان ایک ( مشترک ) زمین تھی، اس نے اس میں میری حصہ داری کا انکار کر دیا، تو میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی دلیل و ثبوت ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، پھر آپ نے یہودی سے فرمایا: ”تم قسم کھاؤ“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ۱؎ نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Sahih Bukhari
2088
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا أَقَامَ سِلْعَةً وَهُوَ فِي السُّوقِ ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ ، لَقَدْ أَعْطَى بِهَا مَا لَمْ يُعْطِ لِيُوقِعَ فِيهَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَنَزَلَتْ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 الْآيَةَ .
Narrated `Abdullah bin Abu `Aufa: A man displayed some goods in the market and swore by Allah that he had been offered so much for that, that which was not offered, and he said so, so as to cheat a Muslim. On that occasion the following Verse was revealed: Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant and their oaths (They shall have no portion in the Hereafter ..etc.)' (3.77)
ہم سے عمرو بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عوام بن حوشب نے خبر دی، انہیں ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ بازار میں ایک شخص نے ایک سامان دکھا کر قسم کھائی کہ اس کی اتنی قیمت لگ چکی ہے۔ حالانکہ اس کی اتنی قیمت نہیں لگی تھی اس قسم سے اس کا مقصد ایک مسلمان کو دھوکہ دینا تھا۔ اس پر یہ آیت اتری «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلہ میں بیچتے ہیں۔“